Tuesday, December 8, 2015

impact of protest

LATE
What about other group members? 
U are filing it late.
Some pix are also required.  grammatical and language mistakes

Investigative Report
Press conference versus protest /Impact of protest on people and administration                                                                                                                                
Muhammad Younis Malano, 2K13/ MC / 74
Bs Part III

Press conference is the presentation or representation of your problem  matter or subject in front of media  just as formal progress. You come and speak about your matter and the journalists are allowed to ask question or they will ask on their own or sometime they even don’t.

In way the matter is showed on electronic media and written in print media just as formality. Your speaker words in press conference are copied as it is while it’s said that action speaks louder than words.                      
                                                                                                    
A meeting organized for the purposes of distributing information to the media and answering question from reporters.

The protest are much more stronger way to enhance your voice, in protest may the protesters march from one place to another place  of city , or province, even of country to another place, or they can arrange a sit-in and block the road, they can also step the infrastructure and Management by getting around or getting a Governmental or semi –Governmental and even non-Governmental place, compound or building .against whom the protest is going on ,against whom who is supposed to do something isn’t his responsibilities, and besides getting in their they can also make  some break ups in the building. In this method, is taken on a very t

This your work will be shown as a hard material  challenging the whole system, but sometime ,due to a protests going aggressive, and the management also can even more aggressive and can order the police to hold lathe- charge  on the protesters ,arrest  them, throw gas shells on them and even send them to lock up but at some-very violent ,protests ,bullet shooting  is also allowed,
These both methods have their own merit and at the same time de-merits.

In press conference, you can speak what so over, you like no one can touch you because you are making no harm to any Governmental building institution or any other place with your own hands. Thus you can make press conference, and go safe and sound to your home, and your subject  will be highlighted  on media ,but in protests ,you are harming the system and management,  in every way like blocking the traffic ,making sit-ins ,arranging marches ,breaking into building  ,in all these you are subject to cause  harm, so you may be arrested, Lathi-charge ,bashed up on road ,and even worse can happen wit, but your cause or matter will be shown  on media as breaking or branded news and may be you can get live coverage on spot ,or talk shows may take your subject as a topic and then your case can be solved due to the pressure a civil society and useful organizations.

If these both are compared to one another, I would say the protests are more better than press conference but the condition is that you get too much aggressive or violent. If you manage your temper during the protests, and do not cause any bid damage or harm then your protest is successful and it is better to show your cause then press conference.

Impact of protest on the people and administration
Protest is the right of everyone in democracy. In this people give their views about their issues in front of media persons. It means what is happening with them protest can be done by individual person or group of person. When someone protests for his or her sharing information in front of media, public and administration. While print and electronic print so public read or watch the protesters news which people done in T.V, radio, print and social media. So public reacts on that issue and also talk about fever of protesters, and also help them in different shapes to resolve the issue. Impact on administration because of protesters on any issue through the media administration in the action, and administration takes the action on that issue and resolve it. That is why protest is one of the big source to resolve the issue through media.

Dec, 2015
The work was carried under supervision of Sir Sohail Sangi 

Sunday, December 6, 2015

career counselling in Hyderabad

There are composing and spelling mistakes which were not corrected despite repeated reminders.

انویسٹیگیٹو رپورٹنگ
 حیدرآباد میں کریئر کونسلنگ کی صورتحال
عبیدالحق قریشی، محمد مہد قریشی، محمد اسد عباسی اور محمد نعمان

 بی ایس سال سوئم، سیکنڈ سیمسٹر
میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز سندھ یونیورسٹی

گروپ ممبرز کے نام 
٭ عبےد الحق قرےشی 113 
٭ محمد مہد قرےشی122 
٭ محمداسد عباسی 65  
 محمد نعمان الدےن قرےشی 73 

Ubaid-ul-haq Qureshi  

کیرئیر کونسلنگ

دنیا میں بسنے والے 7.3سات عشاریعہ تین ارب سے زائد انسان کچھ نہیں جانتے کہ وہ کس مقصد کو پورا کرنے میں اس دنیا کی پیچیدگیوں میں گم ہیں۔بے شمار لوگ اس دنیا میںایسے گزرے جو اپنی شناخت ،موجودگی کے نشانا ت ا س دنیا پر چھوڑگئے ہیں جو اس زمین کے فنا ہونے تک ہمیشہ یاد رکھیں جا ئنگے اور انہی حضرات وشخصیات کو مد نظررکھتے ہوئے بے شما ر لوگ ان شخصیات کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ کامیابی و کامرانی اب ان کے قدم چومے اور بہتر ین و محفوظ مستقبل سے ہمکنار
ہو سکے ۔کیا آ پ کو معلوم ہے کہ دنیا میں ہونے والی سب سے بڑی ریس کامیابی پا نے کے لیے بھاگنا ہے اور دنیا میں رہنے والا ہر فرد اس دوڑ میں شامل ہے ۔جو چاہتا ہے کہ کامیابی صرف ان کاہی بہترمستقبل بن جائے اور اسی کامیابی کے سبب ہر شخص ایک دوسرے کو پیچھے دھکلنے کی مشقت میںلگاہواہے تو اسی مشقت سے لوگو ںکو نکالنے کے لیے کےرئےر کونسلنگ کا آغاز ہوا۔

کیریئرکونسلنگ کا آغاز:

کیریئرکونسلنگ کی شروعات بھی ایک انگریز کی ایجاد کا نام ہے۔ فرینگ چارلسن نامی انگریز نے 1909میں اپنی ہی قابلیت کو مزید نکھارنے کے لیے جو قابلیت بڑھانے((skill developing اسکل ڈولپنگ کی آج لوگ اسے ہی کیریئرکونسلنگ کے نام سے جانتے ہیں ۔کیریئرکونسلنگ کا اصل مقصد انسان کے اندر چھپی وہ خصوصیات ہیں جو وہ خود نہیں جانتا یا ان خصوصیات کو اپنے اندر سے نکالنے کی کوشش ہی نہیں کرتا تو ایسے حضرات کی skill developingکی جاتی ہے جو کیریئرکونسلنگ کہلاتی ہے۔ کیریئرکونسلنگ کے لغوی معنی یہ بھی ملتے ہیںکہ (کسی بھی انسان کو زندگی گزارنے کی بہتر تربیت دینا یا کامیابی حاصل کرنے کے لیے صحیح طریقہ کار بتانا بھی اسی ذمرے میں آتا ہے۔)
کیریئر کونسلنگ کی کچھ اہم اقسام ہیں:
 (1) مقامی تعلیم ۔
(2)بیرون ملک میں تعلیم کے حصول کے لئے جانا۔
(3)عمومی تعلیم یعنی (general)جنرل ایجوکیشن۔
(4) تعلیم روزگار کے حصول کے لئے ۔

(1)مقامی تعلیم:
مقامی تعلیم میں ایسے تعلیمی ادارے جن میں اسکول،کالجز اور ایسی یونیورسٹیزشامل ہیں جن میں طلباہ کو اکثیریت میں کیریئر کونسلنگ کا مطلب ہی نہیں پتا ہوتا اس بات سے اندازہ لگا لیجیئے کہ کیریئر کونسلنگ کروانی تو بہت دور کی بات ہے۔جبکہ اصل اہمیت ہی مقامی تعلیمی اداروں کی ہوتی ہے کیونکہ سب سے زیادہ طلبا کی تعداد مقامی اداروں میں ہی پروان چڑھتی ہوتی ہے اور اگر بات کی جائے پاکستان کی اس80%فیصد تبکے کی جو کے اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیز کی فیس ادا کرنے میں ہی کئی مشکلات کا سامنہ کرنا پڑتا ہے تو یہ لوگ اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے بیرون ممالک یا اچھی یونیورسٹیزمیں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں؟
 (2)بیرون ملک میں تعلیم کے حوصول کے لئے:
    پاکستان میں کیریئر کونسلنگ کروانے والے سینٹروں کی تعداد طلبا کو بیرون ملک کے لئے کیریئر کونسلنگ کرواتے ہیں جن کی فیس بھی ہزاوں ،لاکھوںکی مدمیں وصول ہوتی ہیں جو کہ ہر ایک طلبہ برداشت نہیں کر سکتا اور پھر وہ ہی طلبہ پیچھے رہ جاتے ہین اور اپنے تعلیمی سفر کو صحیح طریقے سے جاری نہیں رکتھے ہیں اور کامیابی حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔

(3) عمومی تعلیم یعنی جنرل تعلیم ۔
عمومی تعلیم کو جنرل ایجوکیشن بھی کہا جاتا ہے جس میں طلبہ کو ایسی تعلیم سے آراستہ کیا جاتا ہے جو کہ عام طور پر طالب علم کے لئے مشکل کا سبب بنتی ہے جس کے بعد طالب علموں کو کیریئر کونسلنگ کا رخ کرنا پڑتا ہے کیونکہ جنرل ایجوکیشن میںطلبا کو اپنی پسند کا شعبہ لینے میں بہت مشکلات کا سامناہوتا ہے اور صرف 20 فیصد طلباءہی اپنے پسندیدہ شعبہ جات میں داخلہ لے پاتے ہیںاور باقی دوسرے ڈیپارٹمنٹز کی خاک چھنتے ہیں۔
(4)تعلیم روزگار کے حصول کے لئے۔
    اس کونسلنگ میں طالب علموں کو ان کی تعلیم کے معیار کے تحت روزگار کی فراہمی کے لئے آگاہی فراہم کی جاتی ہے ۔جس میں طلبہ کو بتایا جاتا ہے کہ کس تعلیم کو حاصل کر کے وہ بہتر روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔لیکن ایسا روحجان پاکستان میں بہت حد تک نہ ہونے کے برابر ہے۔
پاکستان میں کیریئرکونسلنگ بہ نسبت بیرونِ ممالک:
     اگر بات کی جائے سپر پاور امریکہ کی تو وہاں کیریئرکونسلنگ میں بے شمار دوسری کیریئرزشامل ہوتے ہیں۔ جن میں میرج کونسلنگ، فیملی کونسلنگ، پیرنٹس کونسلنگ، ڈرگ الکول کونسلنگ، جاب کونسلنگ، ایجوکیشن کونسلنگ و دیگر شامل ہیں اور وہاں کونسلنگ کی سہولت سرکار(government (کی طرف سے بھی مہیا کی جاتی ہے ۔ جبکہ بات کی جائے پیار ے وطن پاکستان کی تو یہاں فقط ایک ہی کونسلنگ موجود ہے جسے کیریئرکونسلنگ ایجوکیشن سے منسلک کیا جاتا ہے۔ وہ بھی طلباءکو ملک سے بیرونِ ممالک بھیجنے پر زیادہ زور دیا جاتا ہے اور میرج کونسلنگ کے نام پر بھی دھوکے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اگر ایجوکیشن ، تعلیم، علم و فنون کی کونسلنگ کی جانب آئیں تو چند بڑے شہروں جن میںکراچی،لاہور،اسلام آبادو دیگر شامل ہیںاور انِ شہروں کے علاوہ دوسرے درجہ کے شہر تو کسی گنتی میں ہی نہیں آتے جس میں حیدرآبادبھی صفہ اول میں شامل ہے۔ پاکستان میں کونسلنگ کا رجحان سن 2000سے باقاعدہ طور پر سامنے آیا جب پرائیویٹ چینلز نے اپنا آغاز کیا۔ الیکٹرنکس میڈیا نے تعلیم کے خدوخال کچھ اس طرح بیان کیے جن میں میڈیا نے تعلیم کے زاویے لوگوں کے سامنے کچھ اس طرح بیان کیے جن میں جیو نیٹ ورک نے ذرا سوچئے کہ نام سے ایک مہم کا آغاز کیا جس میں صرف و صرف تعلیم کی روشنی سے آشنا لوگوں کو دکھایا گیا جنہوں نے تمام کاموں کے پیش نظر تعلیم کو ذیادہ اہمیت دی اور دنیا میں اپنا لوہا بنوایاجس میں قیصر عباس جو ایک چائے کی کینٹین پر کام کیا کرتے تھے لیکن تعلیم کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور آج پاکستان کے چند ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جو ہرفردکوخواب دیکھنا اور اس کی تکمیل کا راستہ بتاتے ہیں جسے ہم لوگ کیریئرکونسلنگ کے نام سے جانتے ہیں۔ لیکن آج بھی پاکستان میں کیریئرکونسلنگ کا محمول بہتر طریقے سے آگے نہیں جارہا کیونکہ حکومتی سطح پر کوئی سرپست اعلیٰ موجود نہ ہونے کے سبب یہ بیڑا صرف پرائیویٹ سیکٹر کی ملکیت ہے اور اس کے عوض لاکھوں کا کاروبار سرگرم ہے۔

M.Mahad Qureshi       
حےد رآباد کی آبادی اور کےرئےر کو نسلنگ:
اس وقت شہر حےدرآباد کی آبادی چوبےس لاکھ 24,00000سے تجاوز کر گئی ہے اور پورے حےدرآباد کی کل آبادی تقر ےباً چالےس لاکھ پچاس ہزار40,50000 ہے ۔جبکہ حےدرآبا د مےں سرکاری اور غےر سرکاری چھوٹے اور بڑے 4000 سے ذائد اسکول موجود ہےں جن میں حےدرآبادکے سب سے زےادہ اسکول پھلےلی، پرےٹ آباد اورلطےف آباد مےں واقع ہےں اور لطیف آباد میں اس وقت پڑھائی کا رحجان سب سے زیادہ ہے جسے (literacy)بھی کہا جاتا ہے۔ اسی طرح سرکاری اور غےر سرکای کالجز اور ڈگری بوائز اور گرلز کالجز بھی تقرےباً 1000سے زائد ہےں۔ اگر بات کی جائے اسکولوں کی تو ہر اسکول کی کلاس مےں تقرےباً 30سے 50 طلبہ و طالبات زےر تعلےم ہوتے ہےں لیکن طلبا کو کیٹیگریز میں تقسم کر دیا جاتا ہے جس سے طلبا کے زہین پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اور کیمبرج کی ہر کلاس میں2 سے 3سےکشن ہےں ۔تو اےک اسکول مےں تقرےباً 700سات سو سے تقرےباً 900نوسو طلبہ وطالبات تعلےم حاصل کر رہے ہےں اور اگر اسی طرح بات کی جا ئے کالجز کی تو ہر کالج مےں بھی تقرےباً500پانچ سو سے زائد طلبہ وطالبات زےر تعلےم ہےں ۔ اگر بات کر لےں اےک ہی کلاس کی تو اےک کلاس مےں تقرےباً50 سے زائد طالب علم زےر تعلےم ہوتے ہےں اور ان پچاس 50مےں سے 5طلبہ ایسے ہوتے ہےں جو کہ خو د سے ےا ےہ کہہ لیجئے خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے بغیر کسی کے بتائے آگے نکل جاتے ہیں ۔ ان میں سے 45بچے یعنی 85%طلباءایسے ہوتے ہیںجنہیں اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں پتہ ہوتا ان میں سے نکالنا پڑتا ہے کہ وہ کیا بہتر کرسکتے ہیں اورایسے بچوں کا مستقبل یا تو ان بچوں کے والدین بہتر بناسکتے ہیں یا ان بچوں کے کریئر کونسلر ان بچوں کی درست طریقے سے بہتر رہنمائی کرسکتے ہیں۔
کیریئر کونسلر سے بات چیت:
جب ہم نے کیریئر کونسلر سے بات کی کہ اوالدین کا عمل دخل بچے کی پرورش میں کتنا فیصد ہوتا ہے ےا بچے کی کیریئر کونسلنگ میں ؟ تواس پر کیریئر کونسلر نے ہمیں بتایا کہ اصل کردار بچے کی زندگی میں بچے کے والدین کا ہی ہوتا ہے اور بچے کے والدین ہی بچے کے پیدا ہونے کے بعد بچے کے اصل استاد اور اس کے بہترین رہنما ہوتے ہیں جن سے بچا چلنے سے لے کر کھانا ، پینا، بولنا اور کپڑے پہنے تک اپنے والدین سے ہی سیکھتا ہے اور والدین کی کیر یئر کونسلنگ بچے کے زندگی میں95% ہوتی ہے۔ اسکے بعد ہم نے پوچھا کہ بچے کی کیریئر کونسلنگ کس عمر سے شروع ہوجانی چاہئے؟ تو اس سوال پر انہوں نے ہمیں جواب دیا کہ بچے کی کیرئیر کونسلنگ اس کے اسکول جانے سے شروع کردینی چاہیے تاکہ بچے کا شروع سے ہی ایک AIM(ٹارگٹ) بن جائے اور بچا شروع سے ہی اس پر محنت کرکے Specializationیعنی اس شعبے میں ماسٹر بن جائے۔ 
اسکے بعد ہم نے کیریئرکونسلر سے پوچھا کہ بچے کی کیرئیر کونسلنگ میں اساتذہ کا کتنا کردار ہوتا ہے؟تو اس سوال پر کیرئیر کونسلر نے ہمیں جواب دیا کہ بچے کی زندگی میں اسکے والدین ہی بچے کے اصل کیریئر کونسلر ہوتے ہیں کیونکہ بچے کو اسکول لگانے سے کیریئرکونسلنگ شروع ہوجاتی ہے ۔ اسکول لگانے کے بعد اساتذہ ےا اسکول تبدیل کروانے میں اسکے والدین ہی اسکے کیریئرکونسلنگ کرتے ہیں۔ 

کیریئرکونسلر کے مطابق کونسلنگ میں اساتذہ کا کردار:
 اساتذہ کا تعلق بچے سے بہتر سے بہتر ہونا چاہیے اور تقریبا اسکولوں میں بچوں سے اساتذہ کا تعلق خاصہ ٹھیک نہیں ہوتا اور اس بات کا اندازہ کلاس کے رپورٹ کارڈ سے لگایا جاسکتا ہے۔ جس میں صرف ایک بچا ہی پہلی پوزیشن حاصل کرتا ہے جبکہ چار سے پانچ طلباءدوسرے اور تیسری پوزیشن حاصل کرتے ہیں اور بقیا طلباءمیں سے بہت سے Averageنمبر لے کر پاس ہوجاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ فیل ہوجاتے ہیں جس میں آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کچھ تو بہت اچھے ہونگے جو پوزیشن لے کر پاس ہوئے اور کچھ کم اچھے ہونگے جو کہ پاس ہوگئے اور فیل ہونے والے طلباءمیں سے کچھ تو پڑھنا ہی نہیں چاہتے اور ان Averageطلباءاور فیل ہونے والے طلبہ میں سے ہی کچھ ایسے طلباءہوتے ہیں جو کہ اچھا پڑھنا چاہتے ہیں مگر ان کے اچھا نہ پڑھنے کی وجہ اساتذہ کا طلباءسے بہتر تعلق نہ ہونا ہے کیونکہ اساتذہ صرف پوزیشن حاصل کرنے والے یا اچھا پڑھنے والے طلباءکو ہی اہمیت دیتے ہیں جس سے پاس ہونے والے یا فیل ہونے والے طلباءاحساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں اگر اساتذہ سب پاس یا فیل ہونے والے بچوں کو ایک ہی نظر سے دیکھیں تو سب بچے بہتر سے بہتر نمبر لے سکتے ہیں۔ 

حیدرآباد میں تعلیمی معیار اور کیریئر کونسلنگ:
  پھر اسی طرح بات کی جائے تعلیم ہی کی تو حیدر آباد میں بھی دو طرح کے تعلیمی نظام ہیں ۔ ایک وہ نظام ہے جہاں بچوں کو Cambridgeسسٹم کے تحت تعلیم مہیا کی جارہی ہے اور ایک وہ نظام جہاں اسکول پرائیویٹ اور لوکل تو ہیں مگر نام کے اور فیسوں کے لحاظ سے جہاں بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلا جارہا ہے اور جبکہ بڑے اسکولوں کی بات کی جائے جیسے آرمی پبلک اسکول، سٹی فاﺅنڈیشن ، دی ایجوکیٹر، سپیرئیر ،پبلک فائڈیشن اور پرسٹن جیسے بڑے نام شامل ہیں ۔جہاں پر بچوں کو شروع سے ہی بہتر تعلیم معیار دیا جاتا ہے۔ ایسے اسکول بھی ہیں جو کہ نام نہاد پرائیویٹ ہیں جہاں بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ جس میں والدین بچے کو داخلہ دلوادیتے ہیں اور یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے ۔جس میں تعلیمی اداروں کی خوب کمائی ہوتی ہے اور پھر بچہ ان کے تعلیمی اداروں میں پڑھ نہیں پاتا یا وہ پڑھا نہیں سکتے تو ایسے تعلیمی ادارے سارا الزام بچوں پر تھوپ کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں ۔ ایسے بچوں کے لیے ایک کیریئرکونسلر یا پھر ماہر نفسیات نہیں رکھتے جو کہ بچوں کی بہتر رہنمائی کریں جس سے بچہ کامیابی حاصل کرسکے، اور پھر اسی طرح بچہ اپنے اسکو ل کے مراحل کو بہتر طریقے سے طے کرسکے۔

طالب علموںکا کالج کا سفر:
  والدین یا پھر سر پرست اعلیٰ کسی کے کہنے پر ہی طالب علم کو تعلیمی سفر آگے بڑھانے کے لیے کالج میں داخلہ دلوا دیتے ہیں۔ بغیر کیریئرکونسلنگ کروائے ہی میڈیکل ، انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس میں داخلہ لینے والے طلباءکو مشکلات کا سامنا رہتاہے اور صرف ان تین شعبوں میں ہی کالجزطالب علم کو بغیر کیر یئر کونسلنگ کروائے داخلے جاری کر دیتے ہیں۔ پھر تمام کالج بچوں کو تعلیم مہیاءکرتے ہیں جس میں سے کچھ کالج اپنے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے تعلیم مہیا کرنے کی تگ ودو میںلگ جاتے ہیں۔ کچھ کالج بس پڑھا رہے ہوتے ہیں ایسے کالجوں کو صرف فیسوں سے مطلب ہوتا ہے جب طالب علموں کا امتحان کا وقت آتا ہے تو تقریبا تمام طلباءہی اپنے اپنے پرچیں نکل(cheating) سے کرتے ہیں ۔ آپ نے بھی سنا تو ہوگا کہ( نکل کے لئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے)جی ہاں جو طالب علم اچھے کالجز کے ہوتے ہیں وہ نکل بھی عقل سے کرتے ہیں ۔ جو ایسے کالجز کے طلبہ ہوتے ہیں جنہیں صرف اور صرف فیسوں سے مطلب ہوتا ہے پھر انکے طلباء پیپر بھی ایسے ہی دیتے ہیں۔ جب رزلٹ سامنے آتا ہے تو دونوں طرح کے کالجزکے طالب علموں کے رزلٹ میں خاصہ فرق نظر آتا ہے اور ایسے کالجز کے 20 فیصد طلباءتقریبا فیل ہو جاتے ہیں اور اچھے کالجز کے طلبہ بھی صرف 60 فیصد ہی ایسے ہوتے ہیں جو کہ آگے بڑھ سکتے ہیں ۔اور اسی طرح طالب علم اپنے دو سالہ تعلیمی سفر کو رخصت کر تے ہیںجبکہ 74%طلباءایسے ہوتے ہیں جو کہ انٹر کے بعد ہی اپنے تعلیمی سفر کو خیرباد کہہ دیتے ہیں۔ کیونکہ انکی کیریئر کونسلنگ نہ ہونے کی وجہ سے وہ طلباءپریشان رہتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور وہ کیا بہتر کر سکتے ہیں جس کے باعث طلباءانٹر کے بعد ہی اپنے تعلیمی سفر کو خیر بعد کہہ دیتے ہیں اور صرف 26% فیصدہی آگے بڑھ جاتے ہیں۔

طالب علموں کا انٹری ٹیسٹ کی طرف رجحان:
  طالب علم فرسٹ ایئر اور انٹر کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھنے کی چاہت میں انٹری ٹیسٹ کی تیاری کروانے والے اداروں کا رخ کرلیتے ہیں ۔ انٹری ٹیسٹ کروانے والے ادارے بھی بغیر کچھ سوچھے سمجھے اور بغیر انٹرویو لیئے اور طالب علم کا ٹیسٹ لئے بغیر طالب علموںکو داخلے جاری کر دیتے ہیں۔ جبکہ حیدرآباد میں انٹری ٹیسٹ کی تیا ری کروانے والے اداروں کی تعداد بھی حیدر آباد میں بڑھتی جارہی ہے۔ آج سے تقریباً آٹھ سے دس سال پہلے کی بات کی جائے تو انٹری ٹیسٹ کی تیاری کروانے والے اداروں کی تعداد مشکل سے بیس کے لگ بھگ تھی ۔جبکہ آج2015کی بات کی جائے تو ایسے انٹری ٹیسٹ کی تیاری کروانے والے اداروں کی تعداد دو گنا سے بھی تجاوز کر گئی ہے اور یہ تعداد چالیس سے پچاس سے زائد ہوگئی ہے۔ جو کہ طلباءکی بغیر کیریئرکونسلنگ کے ہی داخلہ جاری کردیتے ہیں اور پندرہ ہزار سے پچیس ہزار کے لگ بھگ فیسوں کی مد میں وصول کیے جاتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ تین سے چار ماہ میںبچوں نے جو پورے دو سال پڑھا ہوا ہوتا ہے اس کی مکمل تیاری کرواتے ہیں۔ ایسے سینٹروں کے نام پر ہی پورے پاکستان میں تقریباً ایک سے ڈیڑھ لاکھ طلباءانٹری ٹیسٹ کی تیاری کرتے ہیںجبکہ یہ وہ 26%طلباءہوتے ہیں جو کہ ڈاکٹر ، میڈیکل یا پھر انجینئربننے کی چاہت میں یونیورسٹیوں کا رخ کرتے ہیں۔ ہر سال انجینئرنگ یونیورسٹی یعنی مہران یونیورسٹی کی ہی بات کی جائے تو صرف مہران کے ٹیسٹ کے لیے ہی گیارہ ہزار سے تیرہ ہزار طلباءانٹری ٹیسٹ میں حصہ لیتے ہیں۔ جبکہ مہران میں تمام کیمپس کی نشستوں کو ملا کر اکیسوں نشستیں بنتی ہیں۔جس میں صرف 2100طلباءہی داخلہ حاصل کرپاتے ہیں اور اسی طرح ڈاکٹر بننے کی چاہت میں میڈیکل کے ٹیسٹ میں تقریباً پندرہ ہزار طلباءحصہ لیتے ہیں اور جن میں سے صرف بمشکل پچاس ہی ڈاکٹر بن پاتے ہیں۔ اگر بات کرلی جائے پورے پاکستان کی تو انجینئرنگ کے ٹیسٹ میں تمام یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے درخواست دینے والے طلباء70 ستر ہزار سے 90 نوے ہزار تک ہوتے ہیں ۔ اگر میڈیکل کی بات کی جائے تو پورے پاکستان کی یونیورسٹیوں میں 41ہزار سے 50ہزار درخواست موصول ہوتی ہیں اور اسی طرح طلباءمیڈیکل یا انجینئرنگ میں داخلہ حاصل کرتے ہیںاور پورے پاکستان سے انجینئرنگ میں داخلہ حاصل کرنے والے طلباءکی تعداد تقریباً ساڑھے سات ہزار اورمیڈیکل میں داخلہ حاصل کرنے والے طلباءکی تعداد تقریباً پانچ ہزار ہوتی ہے۔ جبکہ بقایا ایک لاکھ سے تقریبا سو لاکھ تک طلباءاپنے مستقبل کو لے کر پریشان ہوجاتے ہیں جن میں کچھ دوبارہ تیاری کرتے ہیں۔ 

 دیگر یونیورسٹیوں کا رخ کرنے والے طلبائ:
  یہ وہ طلبہ ہوتے ہیں جو کہ میڈیکل میںڈاکٹر بنے کے لئے یا پھر انجینئرنگ میں انجینئربنے کی چاہت میں میں میڈیکل یا پھر انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں داخلہ حاصل نہیں کر پاتے تو تقریباایک سے ڈیڑھ لاکھ تک طلبہ بغیر کیریئرکونسلنگ کے ہی دیگر یونیورسٹیوں میں Applyکرتے ہیں اور میڈکل کے طلباءصرف ڈی فارمیسی ،مائیکروبائیولجی،بوٹنی،کمیسٹری اور بائیو کیمسٹری جسے چند شعبوں میں ڈاخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ انجینئرنگ کے طلبہ آئی ٹی کے شعبوں میں یا پھر کمپیوٹرسائینس، بی بی اے،انگلیش،فیزکیس جیسے شعبوں میں داخلہ حاصل کر کے پڑھنا چاہتے ہیںمگر یونیورسٹی ہر ایک طالب علم کو ان شعبوں میں داخلہ نہیں دے سکتی جس کے باعث طلباءکو دیگر جرنل شعبوں میں داخلہ دے دیتی ہیں۔

جرنل یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے والے طلباءسے بات چیت:
  جب ہم نے یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے والے طلباءسے بات کی تو انکا کہنا تھا کہ ہم انجینئربننا چاہتے تھے مگر ہمارے پاس کچھ اور Choiceنہیں تھی اس لیے ہم نے یہاں Applyکیا تھا اور ہمیں یہاں بھی من پسند شعبہ نہیں دیا گیا ہم انجینئرنگ کے طالب علم تھے مگر ہمیںITیا Softwareدینے کے بجائے اردو ، ایکونامیکس، انٹرنیشنل ریلیشن ،جرنل ہسٹری مطالعہ پاکستان یا پھر ماس کوم جیسے شعبے دے دیئے ہیں۔اور ایسی طرح میڈیکل کے طلباءنے بھی ہمیں بتایا کہ وہ ڈی فامیسی یا پھر بایﺅکیمسٹری اور فیزکیس جیسے شعبے دینے کے بجائے انہیں بھی ماس کوم، اردو،مطالعہ پاکستان جیسے شعبوں دے دیئے جاتے ہیں جبکہ داخلہ حاصل کرنے والے 30% طلباءکو انکا من پسند شعبہ دیا جاتا ہے جبکہ ان میں سے بھی 70% فیصد طلباءکو انکی مرضی کے مطابق شعبے نہیں دیئے جاتے۔

طلباءکو بہتر مستقبل نظر نہ آنے کی بڑی وجہ : 
جب ہم نے ماس کوم میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباءسے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ہمیں صرف اور صرف جرنل پڑھایا جارہا ہے یا صرف پرنٹ میڈیا کا پڑھایا اور پریکٹیکل کروایا جارہا ہے جبکہ ہمیں الیکٹرانک میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے شعبوں میں میںSpecializationنہیں کروائی جا رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایسے بہت سارے طلباءجو کہ پروڈیوسر ،ڈاریکٹر،کیمرہ مین ،ہوسٹ یا پھر نیوز کاسٹر بنا چاہتے ہیں اور نہیں بن پاتے اور یہ ہی بڑی وجہ ہے جس کے باعث تمام طلباءایک ہی فیلڈ میں نہیں جا سکتے اور زیادہ تر طلباءکی کامیابی حاصل نہ کر پانے کی بڑی وجہ یہ ہی سامنے آتی ہے اور ایسیا ہی ہوتا ہے کہ ان تمام طلباءمیں سے بہت سارے کسی این جی او ، کوئی میڈیکل ریپ اور کوئی ٹیچنگ اور دیگر مختلف شعبوں کی طرف نکل جاتے ہیںجو کہ انکی فیلڈ کے بلکل مطرادف ہوتی ہیں اور ان وجوہات کے باعث ہی ان 100%فیصدطلباءمیں بھی صرف دس فیصد طلبہ اپنی فیلڈ یعنی میڈیا میں جاپاتے ہیں اور یہ سب کیریئرکونسلنگ نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے 

طالب علم کے داخلہ حاصل کرنے سے پاس آﺅٹ کرنے تک کے مراحل:
  ایسے 70% فیصدطلباءان جرنل فیلڈ میں داخلہ حاصل کر تولیتے ہیں مگر ایسے طلباءان شعبوں میںپڑھ نہیں پاتے اور 70% طلباءصرف ڈگری حاصل کرنے کے لئے ہی ان شعبوں میں پڑھ رہے ہوتے ہیں اور صرف 20% طلباءہی ایسے ہوتے ہیں جو کہ ان جرنل فیلڈ میں داخلہ حاصل کر کے بہتر طریقے سے پرھتے ہیں اور آگے اپنی اپنی فیلڈ میں نکل جاتے ہیں اور 10% دس فیصد طلباءایسے ہوتے ہیں جو کہ دل برداستہ ہو کر پڑھائی کو چوڑ دیتے ہیں اور اگر بات کی جائے ان 70% ستر فیصد طلباءکی تووہ طلباءپڑھائی کر نہیں سکتے یا پھر پڑھائی کرتے ہیں تو ان 70% طلباءکو اپنا مستقبل نظر نہیں آرہا ہوتا جس کے باعث ایسے طلباءمیں سے کچھ تو ٹیچنگ کی طرف نکل جاتے ہیں اور کچھ طلباءاین جی اوز کی طرف اور کچھ طلباءمیڈیکل ریپ کی طرف نکل جاتے ہیں اور یہ سب کیریئر کونسلنگ کے نا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے اگر شروع میں ہی کیریئر کونسلنگ کی جائے تو طلباءکو ان سب مشکلات کا سامنہ نہ کرنا پڑے ۔

M.Asad Abbasi           
کیرئےر کونسلنگ میں میڈیا کا کردار:
پاکستان کا میڈیا جو کہ اپنے میڈیا اداروں کو پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپوں میںسے ایک کہلواتا ہے اور کیوں نہ کھلوائے؟ کیوں کے پاکستانی میڈیا ہر لحاظ سے بہتر سے بہتر خبر اور رپورٹ دینے کی کوششوں میں لگا رہتا ہے مگر کچھ مسئلے پاکستان کے نوجوانوں کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔۔۔ جن میں سے ایک بہت بڑامسئلہ پاکستان میں کرئےر کونسلنگ کا بھی ہے جس کی وجہ سے ایسے بھٹکے ہوئے طالب علم جو کہ انٹرمیڈیٹ کے بعد اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھنے اور بہترین فیلڈ کی چوائس میں الجھ کر رہ جاتے ہیںجس کے باعث ہر سال لاکھوں طلبہ و طالبات کا مستقبل تباہ ہو جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں صرف جنگ گروپ ہی اپنے جنگ اخبار کے ذریعے کرئیر کونسلنگ کے لئے کچھ کاوشیں کرتا نظر آرہا ہے جس میں جنگ گروپ کے سید اظہر حسنین عابدی طالب علموں کی کرےئر کونسلنگ اور طالب علموں کی رہنمائی اپنے جوابات کے ذریعے ہر جمعرات کو شائع ہونے والے اخبارات میں دیتے ہیں جن سے کئی طلباءکو انکا برائٹ فیوچر نظر آ ہی جاتا ہے اور وہ سب طالب علم سید اظہر حسنین عابدی صاحب سے اپنی اپنی کر ئیر کونسلنگ کروانے کے بعد کسی حد تک مطمعین بھی ہو جاتے ہیں ۔اگر آپ کے پاس بھی کوئی کرئیر کونسلر موجود نہیں ہے تو آپ بھی بذریعہ ایس ایم ایس#HAC(space)message & send to 8001 یا پھر abidi@janggroup.com.pk پر بھی آپ باآسانی اپنی کرئیرکونسلنگ کرواسکتے ہیں اور اپنے کرئیر کو تباہ ہونے سے بچا سکتے ہیں ۔ جب کہ جنگ گروپ کے علاوہ بھی دیگر کئی میڈیا گروپوں کو بھی ایسے اقدامات اٹھانے چاہیے جن سے پاکستان کے نوجوانوں کو اپنے بہتر کرئیر بنانے کا موقع ملے سکے گا اورہر 5 میں سے تقریبا4 طلبہ اپنے کرئےر کو بہتر بنا سکتے ہیں جس سے
 پاکستان ہر طرح کی برائیوں سے بھی بچ سکے گا ۔

حےتمی رائے:
اس تمام رپورٹ کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیریئرکونسلنگ نہ صرف طلباءبلکہ اساتذہ کی بھی ہونی چاہئے اور کیریئرکونسلر نہ صرف یہ کہ ایک اسکول ، کالج، یونیورسٹی بلکہ ہر ایک شعبے میں ہونے چاہیے تاکہ طلباء کی درست سمت سے رونمائی ہو۔ جبکہ حیدر آباد میں کیریئرکونسلنگ کروانے والے ایسے تقریباً پندرہ سینٹرز موجود ہیںجن میں APEX، جیمس، مصطفی احمداینڈ کو،ٹائم کنسلٹنسی جیسے سینٹرز شامل ہیں۔ اور ان سینٹرز میں بھی زیادہ تر Abroadکے لیے کیریئرکونسلنگ کروائی جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لوکل ایجوکیشن جرنل ایجوکیشن اور ایمپلائمنٹ کے حوالے سے کیریئرکونسلنگ کروانی چاہیے اور ہر اسکول ، کالج اور یونیورسٹی میںایک کونسلٹنٹ کا ہونا لازمی ہے جبکہ حکومت پاکستان کو بھی کیریئرکونسلنگ کے حوالے سے اقدام اٹھانا چاہیے اور ہر ایک یونین کونسل میں تقریباً ایک سے دو سینٹرز قائم ہونے چاہیے تاکہ ہر علاقے کے طلبا ءکی بہتر رہنمائی ہوسکے جس سے نہ صرف طلباءبلکہ اساتذہ اور والدین کی بھی کیریئرکونسلنگ لازما µ ہو ناچاہیے تاکہ طلبا باآسانی اپنے مستقبل کو بہتر سے بہتری کی طرف گامزن ہوسکیں۔
The work was carried under supervision of Sir Sohail Sangi  

Entry test business

Which part is done by which group member?  Same type of article was published in Urdu section during this semester
Referred back. check ur mail for details. fotos also needed
 It lacks profile of this sector

The work was carried under supervision of Sir Sohail Sangi 
Investigative report by 
Rahmat Ali Roll# 86
 Abdul Salam Soomro Roll#  05
 Zafarullah Soomro Roll# 43

انٽري ٽيسٽ تياري
پاڪستان اندر تقريبن سمورين يونيورسٽين ۾ بيچلرس توڙي ماسٽرس جي داخلا لاءِ شاگردن کان انٽري ٽيسٽ ورتي وڃي ٿي جيڪا کين لازمي پاس ڪرڻي پوي ٿي. ملڪ ۾ ٽوٽل پبلڪ توڙي پرائيويٽ يونيورسٽين جو انگ 132 آهي، جن مان 73 پبلڪ ۽ 59 پرائيويٽ يونيورسٽيون آهن. سنڌ ۾ پرائيويٽ يونيورسٽين جو تعداد 24 آهي جيڪو ٻين صوبن جي ڀيٽ ۾ وڌيڪ آهي ۽ پبلڪ  15 يونيورسٽين سان ٽئين نمبر تي آهي.

جيئن ته يونيورسٽين ۾ داخلا لاءِ انٽري ٽيسٽ ڏيڻ لازم آهي، ان سلسلي ۾ هر شاگرد چاهيندو آهي ته هو اها ٽيسٽ پاس ڪري ته
 جيئن کينس سٺي شعبي ۾ داخلا ملي. انڪري هر شاگرد وسان ڪونه گهٽائيندو آهي. 
شروع شروع ۾ يونيورسٽن ۾ داخلا لاءِ انٽري ٽيسٽ نه ورتي هوندي هئي ۽ انٽرميڊيئيٽ جي مارڪن آڌار ميرٽ  جي بنياد تي داخلا ڪئي ويندي هئي پر وقت گذرڻ سان گڏوگڏ انٽري ٽيسٽ جو نطام متعارف ڪرايو ويو،۽ ايئن هر سال انٽري ٽيسٽ ورتي وڃي ٿي. جيڪڏهن ان تي غور ڪجي تـ اهيو قدم ڪجھ قدر صحيح بـ آهي تـ غلط پڻ.هڪ ڳالھ تـ ان ۾ شاگرد جي ذهانت سان گڏوگڏ عام معلومات جي بـ خبر پوي ٿي. پر جڏهن ٻئي پاسي کان ڏِسجي تـ جڏهن شاگرد ٻارنهن درجا پاس ڪري اچي ٿو تـ ظاهر آهي تـ انکي معلومات ۽ ذهانت پڻ هوندي تڏهن ئي تـ ايترا درجا پڙهي اچي ٿو. سو انٽري ٽيسٽ بجاءِ انٽرويو ورتو وڃي تـ بهتر آهي. انٽري ٽيسٽ جي چڪر ۾ڪيترن ئي شاگردن کي مالي خساري سان گڏوگڏ ٻيون ڪيتريون ئي ڏکيائيون درپيش اينديون رهن ٿيون. ڇو ته شاگردن جي اڪثريت هيٺئين طبقي سان واسطو رکندڙ آهي، کين ايترو پئسو نه آهي ته هو ڪنهن سٺي سينٽر تي انٽري لاءِ تياري ڪري وٺن. ڪي اهڙا به شاگرد آهن جيڪي گهر ايٺي سخت محنت ڪري ٽيسٽ پاس ڪري وٺن ٿا. پر وري تعليمي بورڊ جي بد عنوانين ۽ ڪرپشن سبب مئٽرڪ ۽ انٽرميڊيئٽ جي امتحانن ۾ گھٽ مارڪن جي يونيورسٽي ۾ داخلا لاءِ رهجيو وڃي.

جيڪڏنهن دنيا جي ٻين ملڪن ۾ يونيورسٽين تي نظر وجهبي تـ اتي به يونيورسٽين ۾ داخلا لاءِ انٽري ٽيسٽ ورتي ويندي آهي پر انهن ۾ يونيورسٽين جي اڪثريت انٽرميڊيئيٽ جي بنياد تي انٽري ٽيسٽ کانسواءِ داخلائون ڏئي ٿي.ان جو مثال جهڙوڪ؛ انڊيا جي رياست مهاراشٽرا آهي. جنهن ۾ يونيورسٽي جي داخلا لاءِ انٽري ٽيسٽ ورتي نـ ويندي آهي. اهڙي طرح روس ۾ يونيفائيڊ ريپبلڪ يونيورسٽي ۾ به ٽيسٽ نه ورتي ويندي آهي ايئن ڪيترن ملڪن ۾ داخلا جو عليحده طريقيڪار آهي.
هتي اسان وٽ پاڪستان ۾ بـ ڪجھ يونيورسٽين ۾ انٽري ٽيسٽ ناهي ورتي ويندي.جيئن قائد اعظم يونيورسٽي اسلام آباد ۾ ڪيترن ئي شعبن ۾ جهڙوڪ؛ نيچرل سائنس فيڪلٽي ۾ داخلا لاءِ انٽري ٽيسٽ نه ورتي ويندي آهي. ان سان گڏوگڏ ٻين ڪيترن ئي ملڪن اندر انٽري ٽيسٽ نظام کي ختم ڪيو ويو آهي، جنهنجي بدولت ٻاهرين ملڪن جا وڏي تعداد ۾ پڙهڻ اچن ٿا.

  پر خاص ڪري سنڌ جي سڀني يونيورسٽين ۾ داخلا لاءِ انٽري ٽيسٽ لازمي قرار ڏنل آهي. انڪري اندرون سنڌ جا ڪيترائي شاگرد اعلٰي تعليم پرائڻ کان رهجيو وڃن ٿا. پنجاب ۾ تازو ئي 08 سيپٽمبر 2015 تي ايم پي اَي نبيل حاڪم علي ۽ ٻين طرفان پنجاب اسيمبلي ۾ انٽري ٽيسٽ جو نظام ختم ڪرڻ لاءِ قرارداد جمع ڪرايو ويو آهي، جنهن ۾ چيو ويو آهي ته داخلا  ميڊيڪل اِدارن ۾ ميرٽ جي بنياد تي انٽري ٽيسٽ کانسواءِداخلا ڏني وڃي.عام طرح ڏٺو وڃي ته اهو هڪ سٺو قدم آهي جنهن سان هر شاگرد آساني سان داخلا وٺي سگهندو. ان جو فائدو اهو ٿيندو جو غريب شاگردن کي انٽري ٽيسٽ جي تياريءَ لاءِ سينٽرن جون ڳريون فيسون ادا نه ڪرڻ ۽ شهر ۾ رهائش سان گڏوگڏ ٻين خرچن کان بچي پوندا.
هر هڪ يونيورسٽي ۾ هر ضلعي لاءِ شهري توڙي ٻهراڙي جي شاگردن لاءِ سيٽون مخصوص ٿيل هونديون آهن.

انٽري ٽيسٽ جي تياري ڪرائيندڙ سينٽرن تي ڪرپشن:
ٻارهين پاس ڪرڻ کانپوءِ ھر شاگرد جلد ئي ڪنھن نه ڪنھن شھر وڃي ڪنھن سٺي سينٽر تي ماھر استادن جي نگراني ۾ داخلا وٺي تعليم حاصل ڪندا آھن، اھي استاد صرف انهن سينٽرن تي ئي نه پڙهائيندا آهن پر سرڪاري ڪاليجن ليڪچرر، پروفيسر جا ھوندا آھن، جيڪي ڪاليج کانپوءِ انهن سينٽرن جو رخُ ڪندا آهن ۽ جتي ھو صرف ۽ صرف 40 کان 50 منٽ جا 2 ڪلاس وٺندا آھن انھن ٻن ڪلاس جا سينٽر انتظاميا کان ھر مينھني دل گھريا پيسا وٺندا آھن خاص ڪري انٽري ٽيسٽ جي ڪلاسن جي وقت استاد سينٽر انتظاميا سان پيڪيج جي حساب سان 40 يا 50 سيڪڙو وٺندا آھن ۽ سڌو چوندا آھن ته جيڪڏھن توھان ايترا سيڪڙو في ٻار تي نه ڏيندا ته مان توھان جي سينٽر تي نه پڙھائيندس ۽ ڪجھ خاص شاگرد ھتي صرف منھجي لاءِ ايندا آھن انھن کي به پاڻ سان گڏ ويندس. پوءِ آخر ڪار سينٽر انتظاميا مجبور ٿي کين ھر ڳالھ ۾ ھا ۾ ھا ملائيندا آھن، ڇاڪاڻ جو سينٽر تي انھن استادن جي ڪري ئي تمام گھڻا شاگرد ايندا آھن جيڪڏھن اھي جڳ مشھور استاد ان سينٽر تي نه ھوندا ته شاگردن جي تعداد به گھٽ ھوندو آھي جتي اھي استاد پڙھائيندا آھن شاگرد استادن کي ڳولي ان سينٽر تي پڙھڻ لاءِ وڃي پھچندا آھن. يونيورسٽن مان بيچلر ،ماسٽر ۽ ايم فل ڪري جيڪي نوجوان بي روزگار ويٺا ھوندا آھن اُھي پنھنجي شھر جي بھترين ۽ مشھور استادن سان ملندا آھن جيڪي سرڪاري ڪاليج يا وري ڪنھن مشھور پرائيوٽ ڪاليج ۾ پڙھيندا آھن ۽ انھن سان گڏ ٿي  ڪري يارھين ٻارھين جي  ڪوچنگ ڪلاس  ۽ انٽري ٽيسٽ جي تياري ڪرائڻ جا سينٽر کوليندا آھن، شاگرد اڪثر ڪري انھن سينٽرن تي ويندا آھن جتي پڙھائڻ وارو اسٽاف سٺو ھجي ۽ ان علائقي جا مشھور استاد اُتي  پڙھائيندا ھجن. 
پاڪستان جي ٻين وڏن شھرن لاھور،ڪراچي، حيدرآباد جي ڳالھ ته پري رھي جيڪڏھن اسان لاڙڪاڻي ضلعي تي نظر وجهنداسين اتي  بي يارھين، ٻارھين درجي ۽ انٽري ٽيسٽ جي تياري وارا سينٽر اٽڪل 10 ٿي ويندا پر انھن مان 5 اھڙا سينٽر آهن جن جي وچ ۾ مقابلو رھندو آھي جتي شاگرن جي اڪثريت ھوندي آھي انھن ۾ ٽيلينٽ ،يونيڪ، ميپس، سَم ۽ اولڊ سنڌ سائنس ڪاليج سينٽر مشھور آھن، جتي شاگردن کي انٽري ٽيسٽ کان اڳ عام ڪلاسن جي ڪوچنگ ڏني ويندي آھي انھن مينھن ۾ ھر ماه 1500 روپيا فيس ورتي ويندي آھي، ۽ جون جولاءِ آگسٽ ۾ انٽري ٽيسٽ جي تياري ڪرائي ويندي آھي، جتي ٽن مهينن جو پيڪيج ٻاويھ کان پنجويهن هزارن تائين آهي. انھن سينٽرن تي صرف لاڙڪاڻي جا شآگرد نه پڙھندا آھن پر ڀرپاسي جي ضلعن قمبر شھدادڪوٽ، جيڪب آباد جا شاگرد لاڙڪاڻي ۾ اچي مٽن مائٽن وٽ رھي ڪري سينٽرن تي تعليم حاصل ڪندا آھن انھن پري کان آيل شاگردن سان ھمدردي ڪرڻ ته ٺھيو مٿس کيس ماحول کان اڻ ڄاڻ سمجهي ڪري ايڊميشن فارم ۽ ايڊميشن جا پيسا وڌائي وٺندا آھن، انھن انٽري ٽيسٽ جي تياري ڪرائڻ وارن سڀني سينٽرن تي ھر سال اٽڪل450 کان 500 شاگرد انٽري ٽيسٽ جي تياري ڪندا آھن جن ۾ يارھين جماعت جا شاگرد به ھوندا آھن ڇاڪاڻ جو لڳاتار 2 سال انٽري جي تياري سان  کين سٺو سکڻ کان ملندو آھي. انٽري ٽيسٽ جا سينٽر اڄ ڪلھ صرف ڪمائي جو ذريعو بڻجي ويا آھن. اسان جي شھرن ۾ ڪجھ اھڙا به استاد آھن جيڪي سڄو ڏينھن ٻارن کي پڙھائڻ ۾ گذاريندا آھن.

 مٿي ذڪر ڪيل اهڙن استادن مان سائين رام چند ھڪ آھي. سائين پاڻ ڊگري ڪاليج (بوائز) لاڙڪاڻي ۾  ڪيمسٽري جو ليڪچرار آھي ھو صبح جو ڊگري ڪاليج ٽائيم ٽيبل جي حساب سان پنھنجا ڪلاس وٺڻ کانپوءِ 3 وڳي کان 5 وڳي تائين سم سينٽر تي ڪيمسٽري پڙھائڻ لاءِ ويندو آھي ۽ ان کانپوءِ سائين چپ ڪري نه ويهندو آھي پر ڪاليج ۽ سينٽر تي پڙھائڻ کانپوءِ به سائين شام جي پھر ۾ پنھنجي گھر ۾ پنھنجي ڪجھ شاگردن کي سِيپريٽ ٽيوشن پڙھائيندو آھي ۽  شاگردن کي ڌار ڌار ڪيمسٽري  سبجيڪٽ جا پڙھائڻ جا 8000 ھزار وٺندو آھي، سائين جن ڪاليج کان وڌيڪ ٽائيم سينٽر ۽ خاص ڪري گھر ۾ ايندڙ سِيپريٽ ٽُيوشن پڙھڻ وارن ٻارن کي ڏيندا آھن، ڇاڪاڻ  ته جيترو پيسو ڪاليج جي پگھار مان ملندو آھي ان کان 2 ڀيرا وڌيڪ ھو سينٽر ۽ سيِپريٽ مان ڪمائي ويندو آھي ۽ ڪاليج ۾ صحيح ٽائيم ڏئي يا نه پوءِ به سندس جي پگھار ته کري آھي.

اھڙو ئي ھڪ ٻيو به زنده مثال آھي جيڪو بلڪل سائين رام چند جيان آھي اھو ميڊيڪل جي شاگردن کي پڙھائيندو آھي سائين پاڻ لاڙڪاڻي ڊگري ڪاليج  زوولاجي جو ليڪچرار آھي. سائين به ڪاليج ۾ ڪلاس وٺڻ کانپوءِ يونيڪ سينٽر تي ميڊيڪل جي شاگردن کي زولاجي پڙھائيندو آھي سينٽر کانپوءِ سائين پنھنجي ساٿي استادن جي رسم کي زنده رکندي ٻين استادن وانگر سيپريٽ ٽويشن پڙھائيندو آھي، سائين نه رڳو انٽر جي شاگردن کي سيپريٽ پڙھائيندو آھي پر ھو يارھين درجي جي شاگردن کي به انھي وقت پڙھائيندو آھي. ڪجھ استاد صاحب ته اھڙا به آھن جيڪي صبح جي وقت  پنھنجي ڪاليج ۾ ڪلاس وٺڻ بعد ڳوليا نه ملندا آھن ۽ ملندا به ڪيئن ڇو جو ھو ھڪ يا ڪڏھن ڪڏھن ٻه ڪلاس وٺڻ کانپوءِ شھر جي ٻين ڪاليجن ۾ ھفتي تي 2 کان 3 ڏينھن ڪلاس وٺندا آھن انھن ٽن ڏينھن جا ان ڪاليج جي انتظاميا کان 10000 ته پڪا وصول ڪندا آھن. اڪثر ڪري انھن استادن وٽ سيپريٽ ٽيوشن ۽ سينٽرن تي اميرن جا ٻار ويندا آھن ڇاڪاڻ جو انھن سينٽرن جي فيس غريب جي پھچ کان سئو ميل ڏور تي ھوندي آھي. ۽ استاد ڪاليج ۾ اھڙو نه ٿا پڙھائين جهڙو سينٽر تي پڙھائن ٿا، تنھن ڪري غريب ٻار کي اڳتي نڪرڻ ۾ وڏيون ڏکيايون پيش اچن ٿيون.


سينٽرن تي موجود ڪجھ سٺيون ڳالهيون؛
انٽري ٽيسٽ جا سينٽر جتي ڪجھ غريبن جي لاءِ ھڪ وڏو مسئلو آھن اتي ٻئي طرف استادن ۽ سينٽر اسٽاف لاءِ ھڪ سٺو ڪمائي جو ذريعو پڻ آھي .شھر اندڙ سينٽر ھجڻ سان ڪجھ سھولتون به آھن ، پھريان صرف ڇوڪرا ڳوٺن ۽ ننڍن شھر کان نڪري ڪري ٻين شھرن ۾ انٽري ٽيسٽ جي تياري ڪندا ھئا. پر پنھنجي شھر ۾ سينٽر قائم ٿيڻ سان ڇوڪرين کي به اڳتي نڪرڻ جو موقعو ملي ويو آھي، ان سان گڏوگڏ سينٽر ۽ سيپريٽ ٽيوشن جي ڪري تمام گھڻو فائدو پري کان ايندڙ ٻاھرن کي ملي ٿو ڇاڪاڻ جو صبح جو سوير ھو ڪاليج ٽائيم تي نه پھچي سگھندا آھن ته پوءِ شام جي پھر م سينٽرن تي وڃي ڪري پنھنجو ڪورس مڪمل ڪندا آھن، سينٽر ۽ سيپريٽ ٽيوشن خاص ڪري انھن شاگردن لاءِ فائديمند ھوندي آھي جيڪي اڪثر ڪري ليڪچر ھڪ دفعي ۾ نه سمجي سگھندا آُھن  پر جيڪڏھن اسان سينٽر استادن وٽ سيپريٽ پڙُھندڙن تي غور ڪيون ته اسان کي اڪثريت انھن شاگردن جي ملندي جيڪي پرائيوٽ ڪاليج جا ھوندا اھن  ڇاڪاڻ جو انھن شاگردن وٽ انھن ڪاليجن ۾ اھڙا تجريبڪار استاد نه ملندا آھن پوءِ ھو سينٽر تي انھن استادن جي نگراني ۾ اچي پڙھندا آھن.

تعليمي بورڊن جي ذميواري 
  هر ايندڙ سال هزارين شاگرد انٽرميڊئيٽ جو امتحان پاس ڪرڻ کانپوءِ ڪنهن نه ڪنهن اعليٰ تعليمي اداري يعٰني يونيورسٽين ڏانهن رخ ڪن ٿا پر الميو اهو آهي جو تعليمي بورڊن ۾ ڪرپٽ ۽ سفارشي عملو موجود هئڻ ڪري ميرٽ جي لتاڙ ڪئي پئي وڃي جو هوشيار ۽ اهل شاگردن کي سٺن گريڊن ۽ مارڪن ملڻ بجاءِ جيڪي شاگرد مڪمل پڙهائي کان ڪٽيل رهن ٿا اهي سفارش ۽ پئسن عيوض سٺن گريڊن سان  نوازيا وڃن ٿا ۽ اسان جي يونيورسٽين جي سليڪشن جو نظام به ڪجھ اهڙو رکيل آهي جو جيڪي شآگرد انٽرميڊيئيٽ ۾ سٺيون مارڪون کڻي اچن ٿا، انهن جي سليڪٽ ٿيڻ جا موقعا وڌيڪ هوندا آهن، نتيجي ۾ اهل شاگرد نه جي برابر ۽ باقي پئسن ۽ سفارش تي مارڪون وٺي پاس ٿيل شاگرد يونيورسٽين تائين پهچن ٿا ۽ يونيورسٽين ۾ داخل ٿيڻ بعد به سندن ساڳيو حال آهي جنهنڪري اڏن ادارن ۾ رهندي به ڪجھ خاص پرائي نه ٿا سگهن يقينن ان سان سنڌ جي شعور کي ڪاپاري ڌڪ لڳي ٿو. 

تعليمي ادارن، بورڊن ۽ عملي تي صحيح نموني نطرثاني نه هئڻ ڪري ڪرپٽ ماڻهن ڪنهن سبزي منڊيءَ ۾ هلندڙ واڪ جيان مارڪون ۽ گريڊ وڪڻڻ لاءِ پڻ واڪ ٺاهي رکيا آهن، انٽرميڊئيٽ ۾ “اي ون” گريڊ  لاءِ 50 کان 70 هزار ۽ مئٽرڪ ۾ “اي ون” گريڊ لاءِ 25 کان 30 هزار وٺي گريڊ ڏنا وڃن ٿا. مثال؛ 

1 مهراڻ يونيورسٽي ڄامشورو ۾ داخلا جا خواهشمند شاگرد هزارين روپيا خرچ ڪري مارڪون وٺندا آهن ته جيئن سندن
 سليڪشن جو وڌيڪ موقعو ملي.

2 چانڊڪا ميڊيڪل ڪاليج لاڙڪاڻو هاڻي جنهن جي سيٽ لکين روپين ۾ پئي وڃي اتي داخله جي خواهش رکندڙ شاگرد پڻ پنجاھ پنجاھ هزار کان وڌيڪ پئسا ڀري گريڊ وٺي ٽيسٽ ڏيندا آهن.

هاڻي غريب شاگرد جيڪو محنت ڪري پڙهي ۽ امتحانن جي تياري ڪري ۽ اهل هجڻ باوجود به سندس مارڪون ڪريل رهن ٿيون ڇاڪاڻ ته ان وٽ ڪا خاص سفارش به نه آهي ۽ معاشي طور به سگهارو ڪين آهي انڪري سٺيون مارڪون کڻن صرف سفارشي ۽ پئسي وارن ماڻهن جي ورثي ۾ آهن. مجموعي طور تي ڏٺو وڃي ته نائين کان ٻارهين ڪلاس تائين هاءِ اسڪولن ۽ ڪاليجن ۾ ورتا ويندڙ امتحانن ۾ عام جام ڪاپي هلندي رهندي آهي ۽ شاگرد ڪاپي ڪري مارڪون کڻندا آهن جيڪا ڳالھ بورڊ اختيارين کان ڳجهي نه آهي پر تنهن هوندي به مڙئي پنهنجي ذميواري (فارملٽي) پوري ڪرڻ لاءِ امتحانن دوران بورڊ ٽيمون ٺاهي مختلف امتحاني سينٽرن ڏانهن روانيون ڪيون وينديون آهن پر ڪاپي هلندي رهندي آهي ڪو به کڙ تيل ڪونه نڪرندو آهي.

هر سال ساڳيو ئي سلسلو هلندو پيو اچي، “ساڳيا لاٽون ساڳيا چگھ”  وارو جهان لڳو پيو هوندو آهي هڪڙا ڪاپي ڪري اڳتي هلندا پيا وڃن وري ٻيا!! پر بهتريءَ طرف ڪو به قدم کڻڻ لاءِ تيار نه آهي ڇاڪاڻ ته انهيءَ سلسلي جي روان دوان هجڻ سان مٿي ويٺل ڪارين رڍن جا پيٽ پيا ڀرجن. ظاهر ڳالھ آهي ته جيڪڏهن مارڪون صاف شفاف نموني ميرٽ جي آڌار ڏنيون وڃن ته ڪير به پئسا کڻي مارڪن لاءِ منٿون ڪونه ڪندو انڪري انهيءَ ڪاروهنوار جي هلڻ سان کين ڪو الڪو ته ڪين آهي پر دلي طور خوش ويٺل آهن.
   
جيڪڏهن اسان پنجاب جي تعليمي نظام تي نظر وجهنداسين ته اهو سنڌ جي تعليمي نظام کان تمام گهڻو اڳتي آهي جنهن جو مکيه سبب اهو آهي جو اتي جو شاگرد ڪاپي ڪري اڳتي نه وڌندو آهي ۽ تعليمي بورڊن ۾ پڻ ميرٽ جي بنياد تي مارڪون ڏنيو وينديون آهن، ان جو فائدو اهو ٿئي ٿو جو جيڪو شاگرد هوشيار ۽ وڌيڪ محنتي آهي ان کي وڌيڪ ترجيع ڏني وڃي ٿي جنهڪري هر شاگرد ۾ محنت ڪرڻ جو جذبو پيدا ٿئي ٿو، اهو ئي مکيه سبب آهي جو اتي جا شاگرد  اسانجي شاگردن کان وڌيڪ هوشيار ۽ محنتي آهن.

تعليمي کاتي کي گهرجي ته تعليمي بورڊن جي عملي ڏانهن مناسب توجھ ڏنو وڃي ته جيئن  نائين کان ٻارهين ڪلاس تائين ورتا ويندڙ امتحانن مان ڪاپي ڪلچر کي ختم ڪري سٺو تعليمي نظام متعارف ڪرايو وڃي ۽ ان سان گڏوگڏ استاد صاحبان جي قرتوتن ڏانهن پڻ هڪ نظر ڦيرائي کانئن سختي سان ڊيوٽي ورتي وڃي ته جيئن ڪو به استاد ويزا تي ويٺل نه رهي، ان سان اهو فائدو ٿيندو ته جيڪڏهن اسان جي اسڪولن ۽ ڪاليجن ۾ بهتر پڙهائي جو نظام هوندو ته شاگرد سينٽرن جي ڳرين فيسن ڀرڻ کان بچيل رهندا ۽ جيڪي استاد اسڪولن ۽ ڪاليجن ۾پڙهائڻ بجاءِ ڪمائيءَ جو ذريعو بڻيل سينٽرن جي صورت ۾ کليل دڪان پڻ بند ٿي ويندا ۽ اهي ئي استاد پوءِ سرڪاري ادارن ۾ پڙهائڻ تي مجبور ٿي پوندا ۽ جڏهن استاد سٺي نموني سرڪاري ادارن ۾ ئي پڙهائيندا ته اعلٰي تعليمي ادارن ۾ پڙهڻ جي خواهش رکندڙ شاگردن جي انٽري ٽيسٽ جي تياري پڻ ٿي ويندي ۽ ان انٽري ٽيسٽ جي تياري جي لاءِ تمام گهڻين تڪليفن کان پڻ بچي سگهبو.

تعليم کاتي کي گهرجي ته سرڪاري ڪاليجن جي ليڪچررن، پروفيسرن ۽ اسڪولي استادن کي پرائيويٽ  ٽيوشن سينٽرز کولڻ تي پابندي مڙهي سرڪاري ادارن ۾ سندن صلاحيتون اجاگر ڪرڻ تي زور ڏنو وڃي ڇاڪاڻ ته اهي سڀئي سرڪاري ملازم آهن ۽ عوام جي ٽيڪسن مان کين هر مهيني پگهار ڏنو وڃي ٿو. ان جو مثال اسان صحت کاتي جي ڊاڪٽرز مان وٺي سگهون ٿا جيئن پي پي ايڇ آءِ جي پليٽ فارم تان ڀرتي ٿيل ڊاڪٽرس کي پرائيويٽ ڪلينڪ کولڻ جي اجازت نه هوندي آهي، ان جو سبب اهو آهي جو جيڪڏهن ساڳيا ئي ڊاڪٽر ٻن يعٰني سرڪاري ۽ پرائيويٽ  جڳهن تي ڪم ڪندا ته پنهنجي پرائويٽ ڪلينڪ کي وڌيڪ ترجيع ڏئي سرڪاري اسپتالن ۾ مريضن جي صحيح چڪاس نه ڪري کين پنهنجي نجي (پرائيويٽ) ڪلينڪن تي رِفر ڪندا. تعليم کاتي کي پڻ اهڙا قدم کڻڻ گهرجن ته جيئن استاد سرڪاري ادارن ۾ صحيح نموني پڙهائن ۽ ان مان ئي وڌيڪ پڙهائي جي خواهش رکندڙ شاگردن جي مختلف يونيورسٽين ۾ داخلا لاءِ ٿيندڙ انٽري ٽيسٽن جي تياري پڻ ٿي وڃي. 

Suggested Outline: 
Topic: Entry test preparation Group members: Rahmat  Ali, 2) Abdul S alam, 3) Zafarullah 
Sub topic: 1, entrance in universities in Punjab and others.2. comparison. 3. good things. 4. corruption. characters.6, responsibility of ( board, students, teachers) .6. conclusion. 
first two points by Rahmatullah, other 3 to 4 by Zafar and 5 to 6 by Ab Salam.   


Beggars of Hyderabad

Referred back 
Send ur names in sindhi with roll numbers
Alos let me know are they from Hyd or some other city? This hould not only be written but be clearly refleted in the writting. 
Investigation Report by Manzar Ali Bhatti, Asghar Narejo, Anus Buriro 
پينو فقير
فقير اهو آهي جيڪو ٻين جي آڏو هٿ ٽنگي.مجبوري، لاچاري به نه هوندي يا مجبوري هوندي، اسان جي ملڪ ۾ پنڻ ڪاروبار سمجهي ڪيو ٿو وڃي. پنڻ جي ڪنهن به مذهب ۾ اجازت نه آهي پنڻ جائز ناهي، پينو فقيرن جو تعداد ڏينهون ڏينهن ملڪ ۾ وڌنڌو ٿو وڃي انهي جا ڪهڙا سبب آهن .فقير ڇو ٿا پنن ؟ فقيرن جا قسم، فقيرن جي روپ ۾ ٻيا ڪهڙا ڪمپيا ٿين، فقيري آهي يا ڪاروبار ؟ اچو تـ انهن سوالن جا جواب ڳوليون ۽ خبر پئي تـ آخر انجا ڪهڙا سبب آهن؟

فقير ڇو ٿا پنن
فقيرن جي اڪثريت ۾ اها ڳالھ هوندي آهي ته اهي ڪمائي نٿا سگهن. اهو انهن جو خانداني پيشو آهي اهي ٻين جي آڏو هٿ ٽنگڻ ۾ شرمندگي محسوس نٿا ڪن، اهي ڏنڊا ڏوٽا، نوجوان، بنا معذوريجي، ڪمائڻ جهڙا هوندي به ڪو بـ ڪم ڪار نـ ڪن سوائ پنڻ جي.هتي اسان کي گھڻائي ۾ عورتو پنڻ ۾ نظر اينديون. ان پٺيان ڪيترائي ڪارڻ آهن جن ۾ ڪن عورتن جا مڙس انهن کي طلاق ڏين ته پوءِ اهي به پننديون وتن،  ۽ انهن کي بد پيشي لاءِ ماڻهو پويان به لڳن ۽ ڏوڪڙ بـ ڏين ٿا.  ۽ گھڻيون شادي نه  ئي نـ ڪنديون آهن انهن جو گذر سفر پنڻ تي هلي ٿو پوءِ انهن کي ڪمائڻ، مزدوري ڪرڻ جي ڪهڙي ضرورت. اهي پاڻ به پنن پر پنهنجي ننڍن معصوم ٻارن کي به اسڪول موڪلڻ جي بجاء ِپاڻ سان گڏ پنائن ٿا. 

.پينو فقير بس ڪنهن ڳالھ جو بهانو ڪري پيا مرڻ تائين پنندا. جيئن پاڻ پيا ڪن تيئن نئين نسل کي به اهو ڪم ورثي ۾ ڏئي هليا وڃن. ڪن جا مڙس مري ويندا آهن يا انهن کي مڙس ڇڏي ويندا آهن ته اهي  رن زال عورتون به پني گذارو ڪن ٿيون انهن جا ننڍا ننڍا ٻآر هوندا آهن تن کي گهر ڇڏي يا وري پاڻ سان گڏ پنڻ تي وٺي اچن اهي ٻئي جهان کي چڏي بس رڳو پنندا آهن.

انهن جا مرد تاس،شرط ،شراب،ڀنگ ۽ ٻيا جواري جو ڪم ڪندا آهن اهي شرطون هارائڻ کان پوءِ ،پئسن جي پورائي لاءِ پنهنجن گهروارين ۽ گهر وارن کي پني اچڻ لاءِ جهيڙو ڪري پنائيندا اٿن.عورت فقيرياڻيون چون اسان هنر نه ڄاڻُون.نه ئي ڪٿي ڪنهن گهر ۾ ڪم ڪار ،ڪٿي ڪارخاني جو ڪم نه نه ڪن ۽ نه ئي ڪو ڪم ڪرڻ پڃين ته پوءِ ڪستو ۽ جهوليون کڻي پنن. فقيرن ج ڳوٺن جا ڳوٺ ئي پنڻ جي پورهيئي سان صبح سوير نڪرن وري شام جو واپسي ڪن .حڪومت به سندن سهاري سهڪار لاءِ ڪي جوڳا قدم ،فنڊ، وظيفا به مقرر نه پئي ڪري فقير اهو جواز ڄاڻآ ئي پنن ٿا. اسان کي حڪومت ڪجح به نه پئي ڏئي ۽ سمجي جو اسان پنڻ بند ڪيون . 

ٻيو اسان کان ڌنڌو نه ڌاڙي ،ٻني نه ٻآرو،ٽرانسپورٽ ،هٿ جو هنر به نه ڄاڻون ته ٻيو ڇا ڪيون انهي کان بهتر آهي پني پنهنجي ٻارن آل اولاد سميت گهر جو خرچ سڀ ضرورت زندگي انهي پنڻ مان هلايون .فقيرن کي ابن ڏاڏن جي ورثي مان ئي پنڻ جي وراثت مليل آهي اهي پنڻ سواءِ ڪجھ نه ڪن. انويسٽيگيشن دوران نقاب پوش نوجوان حسين عورتون به پنندي ڏٺيون جيڪي  مجبور ي لاچاري  جو بهانو ڪر ي پنن ٿيون،اهي چون پيون ته اسان جو والد وفات ڪري ويو آهي،ڀائر ننڍا آهن انهي ڪري پنئون ٿيون يا وري اهو به چون پيون گهر ۾ ڪجھ به ناهي اسان کي پنڻ کان سوءِ ٻيو ڪو چارو ناهي.


ڪٿي سمهندا آهن
فقير جي زندگي مولا ڪنهن کي نه ڏئي
نه پنهنجو گهر نه گهاٽ ،مال نه ملڪيت،اجهو نه لٽو.
فقيرن کي پنهنجا گهر،ڳوٺ  ڦٽل به به هوندا آهن ته ڪي روڊن رستن تي پارڪن ۾ سمهندا آهن. شديد گرمي هجي يا سخت سردي فقير،بيماري هجي يا چاڪائي ته به پيا هت هت رلندا سمهندا آهن گهرن کان بي گهر هوندا آهن .شهر جي مئن مرڪزي مشهور هنڌن،تفريحي ماڳن ۽ درگاهن تي ئي ياا انهن جي آسپاس سمهي رهندا آهن.بس اسٽينڊش جي ڀرسان به ننگي آسمان هيٺان انگ اگهاڙا ۽ ڦاٽل ڪپڙن سان به ترسي رات گذاريندا ۽ سمهندا آهن. سندن واهر وسندي وارو ڪير به نه هوندو اٿن .ائين پاڻ ۽ پنهنجي اولاد سميت زندگي جا ڏينهن گذاريندا آهن.اتي رستي تي گاڏين جي شور ،ماڻهن جي هجوم ۾ به پيا ليٽِي رات گذاريندا آهن .سندن تن جي هيٺيان فرش،زمين تي ڪا به رلي،ڪارپيٽ،تونئري وڇايل نه هوندي اٿن جتي آيو اتي سمهي پوندا ،گندگي جي ڍير،گندي پاڻي جي ڀرسان به سمهي پوندا آهن

برسات
فقيرن  جا اڀا جهوپڙا،لهوارا گهر، هيٺيان واري مٿي اس مينهن وسي ته سڀ گهر ۾ پئي ،اگر مينهن سندن شهرن،روڊن رستن تي پنندي وسي ته پوءِ ڪنهن دڪان ۾ هليا  وڃن وري ڀڃندي ڊگهندي گهر پهچن.مينهن هجي ته سندن گهر۾ پاڻي ڇپر مان پيو وسندو اٿن. ڪڏهن وقت تي جهوپڙي مٿان ڪلي (مينهن جي بچاءَکان) استعمال ڪندا آهن .اڪثر ڪري فقيرن جا گهر گندي پاڻي جي وهڪرن وٽ به هوندا آهن جيئن حيدرآباد هنڊا پليس جي سامهون فقيرن جا گهر ۽ ڄامشورو ڦاٽڪ ڪوٽڙي روڊ وارا فقير به گندي پاڻي جي ڀرسان رهائش پذير آهن.

فقيرن سان عوام جو رويو
فقيرن سان عوام جو رويو گهڻي قدر نارروا سلوڪ هوندو آهي جيڪي انهن سان اهڙو رويو رکندا آهن ته فقير انهن کي بددعائون به ڏيندا آهن ته ڪڏهن ڪجھ نه چوندا آهن  اها ماڻهن جي مرضي آهي ته اهي انهن سان ڪهڙو رويو رکن. گهٽ ۾ گهٽ ڏين ته نه پر ڏکاين به نه.ڪي ماڻهو هروڀرو فقير کي پري کان ڏسندي ئي يا ويجهو ايندي ئي انهن کي ڇڙٻون ڏيندا آهن هلو اسان وٽ پئسا آحن ڪونه وري اوهان کي ڏيون،شاگرد وري چون اسان اڃا پڙهون ٿا جڏهن ڪمايون تڏهن وٺجو ،اسان پاڻ وڏن کان گهري (پني ) وٺون انهي مان اوهان کي ڏيون ڇڏيو ڀڄي وڃو هتان .وڏين گاڏين وارا وڏا ماڻهو ڪڏهن خيرات ڏيندا اٿن يا اڪثر ڪري ان سان گڏ آيل گارڊ ئي فقيرن کي ڏڙڪا ڏئي موٽائن تن صاحب ڪم سان آهي ڇڏيو صاحب کان خرچي ٻيهر وٺجو. 

فائيو اسٽآرهوٽل ،شاپنگ سينٽر شاپنگ مال تي دڪاندا ر۽ انهن جا پرائيويٽ گارڊ به ڏڙڪا ڏڪا ڏئي انهن کي واپسي ڪري ڇڏين.ڪي خير انهن کي ڏين يا نه به ڏين   ته به ڇڙٻون گهٽ وڌ ڳالهائيندا اٿن.انهن کي مختلف روايتي جملا چوندا آهن جيئن فقير ته ڦند نسورو گند .هوٽلن وارا فقيرن کي ڪا ڌڙڪا ڏيندا ته به وري اڳ کان اڳرا انهي هوٽل جي سامهون عوام کان خيرات گهرندا آهن.

پينو فقيرن سان پوليس، رينجرز ۽ گارڊن  جو رويو.
پوليس رينجرز ۽ مختلف فورسز يا وري سيڪيورٽي گارڍز جيڪي پرائيويٽ رکيا ويندا آھن اهي پنڻ وارن سان عجيب و غريب سلوڪ ڪندا آهن خاص طور تي جڏهن اهي فقير وڏن وڏن شاپنگ سينٽرن، مختلف ھوٽلن، فروٽ وارن ريڙهن تان مجبوري جي حالت ۾ پنندا آهن تڏهن کين انهن جڳهن جي مالڪن جي ڌڪن سان گڏوگڏ پوليس وارن جون ڇڙٻون پڻ سهڻيون پونديون آهن پر ان پنڻ پٺيان سندن لاچاري ۽ بيوسي جو ذرو به احساس نه ڪيو ويندو آهي. ان جو سبب اهو آهي جو فقير مجبوري يا لاچاري جي ڪري انهن وڏين جڳهن تي ويندڙ گراهڪن کان خيرات گهرندا آهن ته کين ڌڪاريو ۽ نفرت جي نگاھ سان ڏٺو وڃي ٿو پر ان باوجود به فقير انهي ڌنڌي کي نه ٿا ڇڏين. 

اڪثر پنڻ وارن فقيرن پنڻ کي ڌنڌو بڻا ئي ڇڏيو آھي. اھو سڀ ڪجھ ھوندي به پنڻ کي نٿا ڇڏين ڇو جو انھي کي پنڻ کان سواءِ ٻيو ڪو ٻيو  ڌنڌو نه ٿوڪرڻ اچي.جيئن پاڻ عام لفظن  ۾ اسين انھي کي ٽُوٽي يا ڪم چور چئون ٿا اھي سڀ ڪم چُور آھن.ھڪ ته شھرن ۾ فقير پنندا آھن .جن جو خانداني ڌنڌو اھو  آھي جيڪي گهڻي عرصي کان اھو ڪم ڪندا پيا اچن يا وري اھي جيڪي گهڻي عرصي کان اھو ئي ڪم ڪندا پيا اچن.يا ٻيا وري اھي جيڪي مختلف علائقن کان  ڪمائڻ جو چئي گهران نڪرن ٿا پر ھتي ڪو ڪم ڪرڻ نه پُڄندو اٿن.يا وري ڪو خاص ڪم ڪرڻ لاءِ مطلب پرائيويٽ نوڪري يا وري ٻي من پسند مزدوري نه ملڻ يا وري گهٽ مزدوري ملڻ ڪري ھتي اچي پنندا آهن.

فقير جي روپ ۾ مختلف ڪم
گهڻا فقير پنڻ جي بهانن سان ٻيا به ڪيترائي ڪم ڪندا آهن.جن ۾ ڪجھ ايجنسين جا ماڻهو به هوندا آهن.جيڪي روپ مٽائي جاسوسي به ڪندا آهن.ٻيا وري اهي جيڪي ٻين خاطر پرائيويٽ جاسوسي ڪندا آهن.يا وري ٻين خاطر قتل ڪرڻ لاء به تيار هوندا آهن.اڪثر پنڻ وارا فقير وري پنڻ جي بهاني چوريون ڪندا آهن.اصل ۾ اهي فقيرن جي روپ ۾ چور هوندا آهن.ٻيا وري جيڪي بسن ۾ سفرجي دوران پنڻ جي بهاني سان مسافرن  جا کيسا ڪٽي ويندا آهن جن کي اسان  جيب ڪاترو چوندا آهيون ٻيا وري موبائل چور جيڪي دڪانن تان الله جي نالي خيرات وٺڻ سان گڏوگڏ دڪانن تي رکيل موبائل فونون به چورائي ويندا آهن ۽ ٻين ،مختلف ڌنڌن ۾ پڻ شامل هوندا آهن. 

  عورتون جيڪي  پنديون آهن  اڪثر ڪري جن جا مڙس مري ويندا آهن۽اهي پنهنجن ٻچن جي پورائي ڪرڻ خاطر،جنهن ۾ ڪجھ فقيرياڻون پنهنجي نياڻين جون شاديون ڪرائڻ يا وري پنهنجي بيمار ٻارن جي علاج ڪرائڻ   خاطر پننديون آهن ۽ اڪثر ڪري عورتون پنڻ جي بهاني سان گهرن ۾ گهڙي وينديون آهن پنهنجي بيوسي ۽ مجبوري جو ڍونگ رچائي گهر مالڪن کي بيوقوف بڻائي ڌاڙو هڻي وينديون آهن. جن ۾ اڪثر ڪري اهي جهلجي  پونديون آهن فقيري جي ويس ۾ اهڙا جاسوس به هوندا آهن جيڪي پنهنجي ٽارگيٽ کي پورو ڪرڻ لاءِ اهڙو روپ ڪندا آهن ته جيئن عوام انهن کي نه سڄاڻي نه سگهي.

پئسا وٺو ٿا پر ملڪيت ڪٿي آهي  
                                                               هن ملڪ ۾ فقيري کي ڪاروبار سمجهو وڃي ٿو ڇو جو فقيرن کي پنهنجا گهر گهاٽ، گاڏيون آهن پوءِ به اهي انهي ڪڌي ڪم ۾ مصروف آهن.ڪجھ فقيرورياهڙا به هوندا آهنجيڪي پني پني وڏي ملڪيت جمع ڪري وٺندا آهن ۽ ظاهر ناهن ڪندا،پر ايتري ملڪيت هئڻ جي باوجود به پنڻ نه ڇڏيندا  آهن  جڏهن ته انهن جي گهرن ۾ ڪروڙن جون  ملڪيتون ھونديون آهن .۽ پنهنجي علائقن کان اچي ڪري ٻين وڏن وڏن شهرن ۾ ڪمائيندا آهن..ڪجھ فقير اهڙا به آهن جن جا ھوٽلن تي يا مسافر خانن ۾ ڪرائي  جا ڪمرا  وٺي رهيا پيا هوندا آهن  سڄو ڏينهن ڪمائي رات جو اچي انهن ڪمرن ۾ رهي پوندا آهن.ڪجھ ته وري سڄو سڄو ڏينهن پني  رات جو ڪنهن فٽ پاٿ تي سمهي پوندا آهن

 گهڻي قدر فقيرن جو ڪم به ٺيڪي تي آهي انهن جا وڏا وڏا ٺيڪيدار به آهن جيڪي هنن جي اڳواڻي ڪري  حصو پتي به وٺندا آهن.معصوم ٻارن کي اغوا ڪري انهن کي نشي آور شيون دوائون استعمال ڪرائي سندن هوش حواس ،يادگيري ختم ڪرائي انهن کي به پنرائيندا آهن.۽ جيڪو پني گڏ  ڪن اهو  هنن جا ٺيڪيدار کڻي وڃن.

روزانو ،هفتي مهيني جي ڪمائي.
ڪجھ فقيرن جو چوڻ آهي ته اسان کي ڪمائڻ (مزدوري)کان
وڌيڪ پنڻ ۾ پئسا ملن ٿا ان ڪري هو پنن ٿا ان ڪري جو پنڻ ۾ انهن 400کان 1000 تائين روزانه جي بنياد تي پئسا ملن ٿا ان کان علاوه ڪو ماني به پن يعني  مفت  ۾ حاِصل ڪري وٺندا آهن جڏهن ته انهن جو رهن جو ڪو به خرچ ڪونه  هوندوآهي ،اڪثر ته فُٽ پاٿن تي سمهي رهندا آهن ڪي وري سرڪاري پلاٽن تي قبضو ڪيو ويِٺا هوندا آهن ۽ پنهنجون جھوپڙيون اڏي اُٿڻ جو ناءُ به نه وٺندا آهن جنهن جاهڪ ڏينهن ۾  400 کان 1000تائين هفتي   ۾ 2000 کان 5000 تائين ٿي ويندا يا مهيني ۾ هي گھٽ ۾ گھٽ  20000 جي لڳ ڀڳ پئسا ڪمائيندا آهن،

ڪجھ فقيرن جو چوڻ آهي ته ڪي ڪي سخي مرد اسان کي 500 يا 1000 جو نوٽ به ڏئي ويندا آهن اُن ڪري ڪمائي سٺي ٿي ويندي آهي ۽ اسان کي ڪمائڻ جي ضرورت ئي نه پوندي آهي.

فقيري يا ڪاروبار
فقير خيرات غربت جي حالت ۾ به وٺندا آهن ته ڪي فقير ته وري انهن کي ڪاروبار ٺاهيو ويٺا آهن.هڪ غريب ماڻهو سڄو ڏينهن مزدوري ڪري 300 کان 400 تائين ڏهاڙي روپيا ڪمائي ٿو ۽ ان مان ئي پنهنج گهر هلائي ٿو پر هڪ فقير سڄو ڏينهن پني ٿو گهٽ ۾ گهٽ 500 کا 1000 تائين ڏهاڙي پني گڏ ڪري ٿو ۽ وري به هر روز ساڳئي ڪم سان لڳي وڄي ٿو ان جو خرچ به ايترو ناهي هوندو ڪپڙآ به خيرات ۾ ملندا اٿن ته کائڻ لاءِ اٽو به خيرات ۾ ملندو اٿن ان جي باوجود به هڪ شادي شدھ فقير پاڻ به پني ٿو پنهنجي گهر واري کي پنائي ٿو ۽ جڏهن ان جا ٻار 6 کان 7 سال جا ٿين ٿا ته انهن کي به پنائي ٿو هاڻي اها غربت آهي يا خانداني ڪاروبار .

فقير چون ٿا اها غربت آهي ۽ غريب هئڻ ڪري پنون ٿا اگر اها غربت آهي ته هر روز جا پئسا ڪيڏانهن ٿا خرچ ٿين انهن جو خرچ ايترو ناهي هوندو.فقير چوي ٿو انهن پئسن مان روز جو گهر لاءِ سامان وٺندا آهيون اسان جو ايترو خرچ ٿي ويندو آهي هڪ فقير جنهن جو نالو وسيم رند هو اهو نوجوان هو ۽ ڏسڻ ۾ به صحتمند نظر پئي آيو ان کان پنڻ جو سبب پڇيو ته تون پنيين ڇوٿو تون مزدوري ڪرڻ لائق آهين ته ان وراڻيو مان ننڍي هوندي کان پنان پيو مون کي ماءُ پيءُ پڙهايو ڪون پنڻ سيکاريو هاڻي پنڻ جي عادت ٿي وئي آهي اسان کان ڪمائڻ پڄي ڪونه..

فقيرن جا قسم
فقيربه مختلف قسمن جا ٿيندا آهن ڪي خانداني فقير هوندا آهن جيڪي جيڪي ابن ڏاڏن کان وٺي پنندا پيا اچن .ڪي ننڍا ٻار پنندا آهن ته ڪن والدين پنڻ لاءِ موڪيندا آهن  ڪي وري مزدوري نه ڪري سگهندا  آهن ۽ پنڻ شروع ڪندا آهن ڪي معذور انسان هوندا آهن ته اهي معذوري جو سبب ڄاڻائي پنڻ شروع ڪندا آهن ڪي  وري يتيم ٻار هوندا آهن ته جن جو هن دنيا ۾ ڪير به نه هوندو آهي ته پوءِ اهي پنڻ شروع ڪندا آهن هو پنڻ ۾ فخر محسوس ڪندا آهن ۽ چوندا آهن هي ڌنڌو اسان جي وڏن کان هلندو پيو اچي اسان ٻيو ڪم نه ڪنداآهيون پنڻ اسان جو پيشو آهي .

ننڍا ٻا ر جن کي والدين پنڻ لاءِ موڪلن ٿا اهي ويچارا سڄو ڏينهن ماڻهن جي اڳيان مٿصوم چهرو کڻي هٿ ٿا بڌن ته الله جي نالي تي پئسا ڏيو والدين پنهنجي ٻارن کي پڙهڻ بجاءِ يا هنر سيکارڻ جي بجاءِ پنڻ لاءِ ٿا موڪلن .والدين کي پنهنجي ٻارن جي پنڻ جي پرواھ ناهي هوندي ته هو سڄو ڏينهن ڪيئن ٿا گذارين.

پرو فائل 
اسان انويسٽيگيشن رپورٽ دوران مختلف فقيرن سان ملياسين ۽ انهن کان پڇا ڳاڇا به ڪئي سين انهي دوران سٺو تجربو رهيو،اسان کي ان رپورٽ دوران مختلف شڪلين رنگ ۽ نسل وارا فقير مليا، هر ڪنهن جا پنهنجا پنهنجا روپ هئا ڪي معذور هئا ته ڪي هٿ ٺوڪي معذوري ڪيو پئي هليا، ڪي وري پنهنجن ٻارن کي هٿ ۾ پرچي کنيون ڪلهن تي هليا،سندن دوا لاءِ پئسا ناهن برحال هر هڪ فقير جو پنهنجو ڍونگ رچيل هو، 

 مزيدار ڳالھ اها آهي اسان جڏهن پيادل آٽو ڀان روڊ جي آسپاس ريلوي پل جي ڀرسان هڪ فقير کي پنندي ڏٺو جيڪو جوان جماڻ هئو اکيون چمڪيليون ،ڪارا ڇهپر ۽ ڪاري ڏاڙهي ڪارو وڳو پاتل هٿ ۾ ٿلهو ڪارو ڏنڊو مٿي تي رلي جهڙي ٽڪرين واري ٽوپي، ڳچي ۾ ڪنٺا ڪولابا ۽ تسبيحون هٿ ۾ ڪارو ڪستو جنهن ۾ ڪجھ سڪا پيل هئا، ڪنڌ ۾ گودڙي لٽڪيل هئس عمر لڳ ڀڳ 40کان 45 سال پئي لڳي صفا ٺٺ جوان پئي لڳو پر هلڻ ۾ ڦڙتيلو وڏي ڳاڙهي اک ڄڻ شعلا پيا ٻرن مٿان وري کيس سرمي ڏوئي سان پاتل ڄڻ سٺو ڀلو زميندار پئي لڳو. 

اسان کي لڳو پئي ته هي فقير نه ڍونگي آهي اسان به دل ٻڌي سڏ ڪري پنهنجو تعارف ڪرائي هن جو حال پڇيوسين ،پنهنجو نالو شايد نور محمد ٻڌايائين ذات پڇڻ تي ڪڙِڪي آواز ۾ چيائين ٻروچ آهيان، اهڙي چٽي آواز ان مان ٻروچڪي ظاهر ٿي پئي، ٻروچ پر ذات جو کوسو آهيان. مان اصل رهاڪو لاڙڪاڻي جو آهيان. هتي پنڻ لاءِ آيو آهيان، گهر ۾ ٻارن ٻچن جي کائڻ پيئڻ لاءِ ڪجھ به نه آهي، ٽي پٽ ۽ چار نياڻيون آهن هڪ پٽ الڳ  رهندو آهي ۽  ٻه ننڍڙا پٽ  اسڪول  ۾ پڙهندا آهن،

ملڪيت ٽڪو به نه ٻڌايائين پر ان جي چهري مان ظاهر پئي ٿيو ته خاصي ڪا ملڪيت جو  مالڪ آهي پر ظاهر ذري به نه پيو ڪري، پنڻ جو سبب ٻڌايائين ته ڪم نٿو ڪري سگهان، تون ته صحت مند ۽ هٽو گهٽو ٿو لڳين. جڏهن ته ڳالهائڻ ۾ چالاڪ پيو لڳين پر ڪمائڻ کان ٻرو رڳو پنڻ تي زور، پوءِ مزدوري ڇو نه پيو ڪرين ڪک تي هٿ لاهيندي چيائين ته هتي سور آهي ان جي اسپتال مان دوا ڪرائي ،ڪنهن جي آڏو هٿ ٽنگڻ کان بهتر آهي ته عزت جي روزي  ڪر. ڪمائڻ مونکان پڄي ئي نه 15 سالن کان پنندو آهيان . انهي ڪري لاڙڪاڻو ڇڏي روپ مٽائي هتي پنڻ آيو آهيان. ڳوٺ ٻارن سان موبائل تي ڳالهائيندو آهيان 
موبائل به ٽچ اسڪرين واري هئس 400 کان 700  تائين روزانو پني گڏ ڪندو آهيان ڪي سخي مرد مومن 500 يا 1000 هزار جا نوٽ به ڏيندا آهن. اسان کي موبائل ڏسندي چيائين ته منهنجو آوز ريڪارڊ نه ڪيو، منهجو آواز رڪارڊ ڪري منهنجي رشتيدارن کي ٻڌائيندو، مان انهن کي حيدرآباد ۾ نوڪري ڪرڻ جو ٻڌائيندو آهيان، اگر پنڻ جي خبر پين تي منهجي بيعزتي ٿيندي. 
Dec 2015
Manzar Ali Bhatti, Asghar Narejo, Anus Buriro 
The work was carried under supervision of Sir Sohail Sangi  

Saturday, December 5, 2015

Recycling of waste in Hyderabad

Referred back. Ur composing is not correct. 
انویسٹیگیٹو رپورٹنگ

 کچرے سے کارآمد چیزیں بنانا یا ری سائیکلنگ 

گروپ ممبر کے نام 
٭ بلال حسن  28 
٭ اسد علی17  
٭ سلمان نظر 99 
٭ محمد حماد خان 68

 بی ایس سال سوئم، سیکنڈ سیمسٹر
میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز سندھ یونیورسٹی
تحقیقاتی رپورٹ
ناکارہ اور استعمال شدہ اشیاءکو کس طرح قابل استعمال بنایا جاتا ہے
اگر بے کار چےزوں کو کارآمد بنانے کی بات کی جائے تو سب سے پہلا سوال ےہ پےدا ہوتا ہے کہ ےہ بےکار چےزےں کون سی ہےں اور کہاں کہاں سے جمع کی جاتی ہےں۔ اس مےں پلاسٹک، لوہا، کاغذ، گتا اور اس اگر اور واضح کرےں تو ہمارے روزانہ کے معاملات مےں چےزےں استعمال استعمال ہوتی ہےں انکا کچڑا ےا ضائع بچتا ہے وہ اےک عمل کے تحت جمع کر کے کار آمد بناےا جاتا ہے اگر بے کار اور ضاےع چےزوں کو جمع کرنے پر نظر ڈالی جائے تو اس مےں گھر، بازار، کارخانے ، سڑکوں ، بازار مندرجہ ذےل ہےں۔ 
ےہاں سوال ےہ پےدا ہوتا ہے کہ تمام ضےاع چےزوں کا اصل ذرےعہ کےا ہے اگر ہم روز مرہ کی زندگی پر نظر ڈالےں تو بہت سی اےسی چےزےں ہےں جو ہم استعمال کر کے پھےنک دےتے ہےں جو اےک عمل کے تحت جمع ہو کر کباڑی تک پہنچتی ہےں جےسے اگر ذرےعے کی بات کی جائے تو 60% ضےاع چےزےں ہماری روز مرہ کی استعمال شدہ چےزےں سے آتی ہےں ۔ جےسے پلاسٹک کی بوتل ، ڈھکن، چپس اور کنفےکشنری بےگ ، شاپنگ بےگ، جوس کے ڈبے ، بسکٹ کے پےکٹ، کارٹنز ، اخبار ، کاپےز ، کاغذ ، اسٹےشنری کا سامان، وعےرہ شامل ہےں۔ اور باقی 40% کارخانے ہسپتال اور دےگر ذرائعے مےں استعمال ہونے والی چےزوں سے آتی ہے۔ 
بےن الاقوامی سطح پر ضےاع چےزوں کو جمع کرنے پر نظر ڈالےں تو وہاں اےک منظم اور بہترےن اقدام نظر آتا ہے وہاں کی سوسائےٹی مےں سڑکوں اور بازاروں مےں کچرے کے ڈبے موجود ہوتے ہےں اور تمام ضےاع چےزےں ان ڈبو مےں جمع ہوتے ہےں پھر اےک کچرے کی گاڑی اسکو ہر ہفتے جمع کر کے رےسائےکلنگ کے لئے لےجاتے ہےں اور اس کچرے مےں سے پلاسٹک لوہا اور کاغذ اور دےگر کار آمد چےزوں کو جمع کر کے اسکرےپ ڈےلر کو دی جاتی ہے پھر وہ اےک عمل کے تحت اس کو رےسائےکل کرتے ہےں۔ جب کہ پاکستان پر نظر ڈالی جائے تو ےہاں اس چےز کا الگ نظام نظر آتا ہے ےا ہم اگر پورے اےشےاءکی بات کرےں تو رےسائےکلنگ کا نظام باقی ملکوں سے کافی مختلف ہے۔ 
اب گھروں سے ضےاع چےزےں جمع کرنے کی بات کی جائے تو عموماً گھرےلو صارفےن اپنے گھرون کی بےکار اور ضےاع چےزےں سستے دام مےں کباڑی کو بےچ دےتے ہےں اور بازار اور سڑکوں کی بات کی جائے تو سڑک پر چلتے پھرتے کچڑا بےننے والے جنہےں ہم عموماً کوہلی بھی کہتے ہےں ےہ بازاروں اور سڑکوں سے گتا، پلاسٹک، لوہاوغےرہ جمع کر کے کباڑی کو بےچ دےتے ہےں اب کارخانوں کا رخ کےا جائے تو عموماً کباڑےوں کا تعلق ان کارخانوں سے ہوتا ہے کے جتنا کارخانوں کا ضےاع اور بےکار سامان بچتا ہے وہ کارخانے والے کباڑی کو سستے دام مےں بےچ دےتے ہےں۔اب ہسپتالوں کا رخ کےا جائے تو ےہاں کی بچی ہوئی ضےاع چےزےں جو کہ عموماً فضلا کے نام سے جانی جاتی ہےں جےسے کہ استعمال شدہ سرنج کی بوتل ، ڈرپ کی بوتل ، دوائےوں کی بوتل وغےرہ شامل ہے۔ مگر ےہ ضےاع سامان عموماً کباڑی نہےں لےتے کےونکہ اس سے بےماری اور جراثےم پھےلنے کا خدشہ لےتا ہے ۔ ےہ ضےاع سامان چند کباڑی لےتے ہےں جن کا فارمےسی کمپنےوں سے اشتراک ہوتا ہے جو کہ ےہ ہسپتالوں سے لےکر ان کمپنےوں کو بےچ دےتے ہےں ۔ اب ضےاع چےزوں کی شرح پر نظر ڈالی جائے تو گھروں سے 20% ، سڑکوں اور بازاروں سے 15%، ہسپتالوں سے 20%، اور کارخانوں سے 45% فےصد جمع کےا جاتا ہے۔                

      
گھر 
بازار /سڑکےں 
ہسپتال 
کارخانے 
دےگر 
20%
15%
20%
40%
5%

اب دوسری طرف دےکھا جائے تو ےہ ضےاع چےزےں کاروبار کرنے کا بھی بہترےن ذرےعہ ہے ۔ معاشرے کی نظر مےں ےہ اےک گندگی اور بےکار چےز ہے مگر ےہی رےسائےکلنگ لاکھوں لوگوں کا ذرےعہ معاش فراہم کرتی ہے۔ ان ضےاع چےزوں کی خرےدو فروخت کی قےمتوں پر نظر ڈالی جائے تو ہر چےز کے مختلف دام نظر آتے ہےں۔ پلاسٹک کی بات کی جائے تو پلاسٹک مےں تےن سے ذائد اقسام موجود ہےں جس مےں رنگےن پلاسٹک سفےد پلاسٹک ، سےاہ پلاسٹک شامل ہے ۔ اور ان کے دام بھی مختلف ہےں کباڑی عموماً اسکی خرےد 20 روپے فی کلو سے لےکر 35روپے فی کلو تک کرتے ہےں۔ اور کباڑی اس کو آگے 30 سے لےکر 50 روپے فی کلو تک فروخت کرتے ہےں ۔ اسی طرح لوہے کی بات کی جائے تو موجودہ قےمت 20 روپے سے لےکر 35 روپے کلو تک ہے ۔ اور کباڑی ان کو 40 روپے فی کلو سے لےکر 60روپے فی کلو تک فروخت کرتے ہےں اور اب کاغذ ےا ردی پر نظرڈالی جائے تو اس کی موجودہ قےمت 10 سے 12روپے فی کلو ہے اور کباڑی اس کو15 سے 20 روپے فی کلو فروخت کرتے ہےں۔ اور ےہ سب ضےاع چےزےں جمع کر کے کباڑی بڑے اسکرےپ ڈےلر تک پہنچا دےتے ہےں جہاں سے پھر رےسائےکلنگ کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے ۔                      
© © © © ©کس طرح استعمال شدہ چیزوں کو دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جاتا ہے اور جس عمل کے تحت انہیں بنایا جاتا ہے اسے ہم ری سائیکلنگ کہتے ہیں۔       © ©                         
ری سائےکلنگ سے مراد وہ عمل جس مےں وہ تمام چےزےں جنہےں ہم ناکارہ اور ناقابل استعمال سمجھ کر اپنے گھروں کے کوڑا دانوں سڑکوں گلی کے کونوں ﷲر رکھے ہوئے کوڑا دانوں مےں ےہ سمجھ کر پھےنک دےتے ہےں کہ شاےد ان کی منزل صرف کوڑا دان ہی ہےں، در اصل اےسا بلکل نہےں ہے بلکہ ان تمام اشےاءکو دوبارہ استعمال کے قابل بناےا جاسکتا ہے، اور اس عمل کو ری سائےکلنگ کےا جاتا ہے۔ 
ابتداءمےں مختلف ذرائع سے جمع شدہ مواد جس مےں پلاسٹک، ردی، اسکرےپ شامل ہوتا ہے، اس مواس کو علےحدہ علےحدہ کر کے بنڈل بنا کر مختلف ری سائےکلنگ فےکٹرےوں مےں منتقل کردےا جاتا ہے۔ 
پلاسٹک ری سائےکلنگ ۔
پلاسٹک ری سائےکلنگ فےکٹری مےں آنے والے پلاسٹک کو سب سے پہلے چھانٹنے کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے، اس مرحلے مےں پلاسٹ کو اس کی کوالٹی، قسم اور رنگت کی بنےاد پر الگ الگ کےا جاتا ہے، پلاسٹک بنانے والی کمپنےوں نے پلاسٹک کو 1 سے 7تک مختلف درجہ بندےوں مےں تقسےم کےا ہے، اور ہر پلاسٹک کی نشاندہی کے لےے اےک نشان ( ) مقرر کےا ہے، جو پلاسٹک سے بننے والی اشےاءپشت کر چھاپ دےا جاتا ہے، جس سے پلاسٹک کو پہچانے مےں مدد ملتی ہے۔ دوسرے مرحلے مےں چھانٹے جانے والے پلاسٹک کو فلٹر مشےن سے گزارہ جاتا ہے، جہاں بوتلوں اور پلاسٹک مےں لگا کر صاف ہو جاتا ہے، اس کے بعد پلاسٹک کو گرےنڈ کر کے اس کے چھوٹ ¸ چھوٹ ¸ ٹکڑے کر لئے جاتے ہےں جس کو بعد ازاں پانی مےں کےمےکل (Coustic Soda) ڈال کر اچھی طرح دھوےا جاتا ہے، تا کہ اس مےں کوئی مےل باقی نہ رہے، اس مرحلے کے بعد اسے کچھ دےر خشک ہونے کے لےے رکھ دے اجاتا ہے، جس کے اسے (Heated Mixture) مےں ڈالا جاتا ہے تا کہ رہ جانے والی نمی کو مکمل ختم کر کے خشک کے سکے، پلاسٹک کا اگلا قدم (Mother Baby) مشےن ہوتا ہے، جس مےں پلاسٹک کے ٹکڑوں کو اےک خاص درجہ حرارت پر پگھلاےا جاتا ہے، پگھلا ہوا پلاسٹک تاروں کی شکل مےں مش ¸ن سے باہر آتا ہے، اور پانی سے ہوتا ہوا (Cutter Machine) مےں چلا جاتا ہے، پانی کا کام پلاسٹک کے درجہ حرارت کو کم کرنا ہوتا ہے، کٹر مشےن مےں پلاسٹک کی تاروں کے چھوٹے چھوٹ ¸ ٹکڑے کئے جاتے ہےںجنہےں ہم عام زبان مےں جانا کہتے ہےں اس دانے کے ذرےعے آپ پلاسٹ کہ بہت سی اشےاءبنا سکتے ہےں۔ 

پےپر ری سائےکلنگ 
پےپر سائےکلنگ فےکٹری مےں آنے والے استعمال شدہ کاغذ کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کے لئے مختلف مرحلوں سے گزارنا پڑتا ہے، اس عمل کی شروعات جمع شدہ پےپر کو چھانٹنے سے ہوتی ہے۔ جےسے اخبارات کمپےوٹر پر نئے مےں استعمال ہونے والا سفےد کاغذ اور دےگر رنگےن کاغذوں کو علےحدہ کےا جاتا ہے، اس دوران کاغذ کو دےگر غےر ضروری اشےاءپن ، پلاسٹک وغےرہ سے پاک کےا جاتا ہے، دوسرے مرحلے مےں چھانٹے جانے والے کاغذ کو بڑے بڑے ڈرم نماں برتنوں مےں ڈالا جاتا ہے، جس مےں موجود پانی اور دےگر کےمےکل کاغذ کو گودے ےعنی (Pulp) مےں تبدےل کردےتے ہےں، جس کے بعد گودے کو (Heating Mixture) جس کا اےک خاص درجہ حرارت ہوتا ہے وہ کاغذ کے گودے کو رےشوں مےں تبدےل کردےتا ہے، تےسرے مرحلے مےں گودے کو (Pulp CLeaning Machine) سے گزارہ جاتا ہے جس مےں بنے چھوٹے چھوٹ ¸ سوراخوں سے گودہ بہتا ہے اور غےر ضروری اشےاءعلےحدہ ہوجاتی ہےں جس سے گودہ مزےد صاف ہوجاتا ہے، اگلے مرحلے مےں گودے ےعنی (pulp) کو اےک اور عمل سے گزارا جاتا ہے جس مےں مختلف کےمےکل کے ذرےعے (Ink) سےاہی کو ختم کےا جاتا ہے جس کے نتےجے مےں گودہ مزےد صاف و شفاف اور دوبارہ استعمال کے قابل بن جاتا ہے، رنگےن کاغذ گودے مےں مختلف رنگ اتارنے والے کےمےکل دڈالے جاتے ہےں، جس کے بعد ہمےں براﺅن کاغذ ملتا ہے جبکہ سفےد کاغذ کے گودے کی (Bleaching)، hydrogen peroxide) ےار (Chlorine dioxide کے ذرےعے کی جاتی ہے جس کے ذرےعے کاغذ صاف اور چمکدار بنتا ہے، آخری مرحلے مےں گودے کو پےپر مشےن مےں ڈالا جاتا ہے، جس مےں گودے (pulp) مےں موجود پانی علےحدہ ہو کر بہہ جاتا ہے جبکہ رےشے مل کر شےت بناتے ہےں، اور شےت کو بڑے (Press roller) سے گزارہ جاتا ہے، جہاں باقی رہ جانے والے پانی کو بھی نچوڑ لےا جاتا ہے، اور بڑی پےپر شےٹ تےار ہوجاتی ہے۔ 

دھاتوں کی ری سائےکلنگ :
استعمال شدہ دھاتوں، لوےا اسٹےل، تانبہ اور اےلومنےن وعےرہ کو دوبارہ استعمال کے قابل بناےا جاتا ہے، اےک سوئی سے لےکر کار اور مشےن سے لےکر ہوائی جہاز تک کے دھاتوں کو دوبارہ استعمال کے قابل بناےا جاسکتا ہے، ابتدائی مرحلے مےں گھروں ، فےکترےوں اور کارخانوں سے جمع شدہ اسکرےپ کو اس کی کوالٹی اور قسم کی بنےاد پر علےحدہ علےحدہ کےا جاتا ہے، لوےا، اسٹےل، اےلومنےم وعےرہ جس کے بعد علےحدہ کردہ دھاتوں کو (Squashed Machine) سے گزارہ جاتا ہے جہاں اےک خاص دباﺅ کے ذرےعے دھاتوں کو سوکےڑ کر ان کا آکار (سائز) چھوٹا کےا جاتا ہے، اور بعد مےں (Crushing Machine) کے ذرےعے ان کے چھوٹے ٹکڑے کئے جاتے ہےں۔ اگلا مرحلہ دھاتوں کو پگھلانے کا ہوتا ہے، دھاتوں کو بڑی بڑی بھٹےوں مےں ڈال کر پگھلا نے کا عمل ہوتا ہے جہاں اےک خاص درجہ حرارت پر دھاتوں کو پگھلاےا جاتا ہے اور دھاتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بھٹےوں کو تشکےل دےا جاتا ہے جس کو پگھلاتے ہےں جےسے لوہے اور اسٹےل کو 1500oC درجہ حرارت جبکہ اےلمونےم مےں موجود (impurities) ےعنی غےر ضروری اشےاءکو مختلف طرےقوں سے نکال کر پےور کےا جاتا ہے جس کے بعد اےلمونےم کی شےت جبکہ دےگر دھاتوں ےعنی لوہا، اسٹےل وعےرہ کے بنڈل بنا کر فےکٹرےوں کو بھجوا دئےے جاتے ہےں جہاں انہےں نئی شکل دی جاتی ہے

       استعمال شدہ چیزوں سے بننے والی اشیاء 
(Poly ethylene teraphatale) PET اس کے ذرےعے پولسٹر فائبر مسڑوبات اور پانی وغےری کی بوتلےں بنائی جاتی ہےں اس کے علاوہ فرنےچر کارپےٹ شےٹ اور نئی بوتلےں بنائی جاتی ہےں جب کہ HDPE (High Denstiy Poly Ethylene) کے ذرےعے بوتلےں سامان کے لئے استعمال ہونے والے شاپر کوڑا دان اور دےگر گھرےلو سامان کی چےزےں بنائی جاتی ہےں۔ اس کے علاوہ دےگر اہم پلاسٹکوں مےں PVC (Poly Vinyl Chloride) جس کے ذرےعے بچوں کے کھلونے وغےرہ بنائے جاتے ہےں جبکہ LDPE (Low Density Poly Ethylene) کے ذرےعے لےبارٹری مےں استعمال ہونے والے آلات اور دےگر لےبارٹری مےں استعمال ہونے والا معےاری سامان بناےا جاتا ہے۔

استعمال شدہ دھاتوں سے بننے والی چےزےں۔ 
استعمال شدہ دھاتوں کو کس طرح استعمال کے قابل بناےا جاتا ہے ۔ استعمال شدہ دھاتےں جےسے لوہا ،اےلومنےم، تانبا اور اسٹےل وغےرہ کو دوبارہ استعمال کے قابل بنا کر مختلف نئی اشےاءبنائی جاسکتی ہےں اس کے دوبارہ استعمال کے ذرےعے نہ صرف غےر ضروری اشےاءکو استعمال کے قابل بناےا جاتا ہے بلکہ انہےں کم کر کے دوبارہ استعمال کےا جاسکتا ہے اس کے استعمال کے ذرےعے ہمےں نئی دھاتوں کو حاصل کر نے کے لئے مزےد کھدائی نہےں کرنی پڑتی۔ اور ہم استعمال شدہ چےزوں کے ذرےعے نا صرف گھر مےں استعمال ہونے والی چےزےں بلکہ فےکٹرےوں اور کارخانوں مےں استعمال ہونے والے پرزے وغےرہ بھی بنا سکتے ہےں جو ہمارے لئے نہاےت کار آمد ثابت ہوسکتے ہےں۔ استعمال ہونے والی اشےاءکے ذرےعے ہم نےا مواد بنا سکتے ہےں جےسے گھروں کی تعمےر کے دوران استعمال ہونے والا سرےا اور دےگر سامان بناےا جاتا ہے اس کے علاوہ کار، ٹرک اور جہاز تک کے لئے پرزے اسی استعمال شدہ ددھاتوں کے ذرےعے بنائے جاتے ہےں ۔ آئل ٹےنکر اور دےگر اہم ضرورت کی اشےاءبھی انہی دھاتوں کے ذرےعے بنائی جاتی ہے۔ اےلومنےم اور اسٹےل کے استعمال شدہ اسکرےپ کے ذرےعے مشروبات کی پکجنگ کے لئے کےن اور دےگر جےسے گھی اور آئل کے لئے بھی ان ہی استعمال شدہ اسٹےل اور اےلمونےم سے بناےا جاتا ہے ۔
رےسائےکل دھاتوں سے بنی مصنوعات مےں شامل ہےں سڑکےں، رےلوے، عمارتوں کے بنےادی ڈھانچے اور انکے مواد، بجلی کے آلات، کےن اور کنٹےنرز، گاڑےوں اور آمدو رفت کے استعمال مےں آنے والی دےگر ذرائے کے پرزے، دفتری سامان اور ہارڈوےئرجےسے بولٹس ، نٹس ، پےنچ وغےرہ۔ 

پےپر 
% in 2015
2015
2014
2013
2012
2011
2010
Type
12.3%
3219
3254
3211
3349
3455
3680
Newsprint Paper
32.7%
8576
8420
8765
9547
9120
11501
Printing / Communication Paper
3.4%
880
871
901
904
786
1010
Packaging paper 
6.7%
1747
1766
1780
1792
1776
1805
Hygienic paper 
2.9%
760
755
789
794
695
831
Other
57.9%
15181
15067
15446
16387
15832
18828
Paper total
33.6%
8805
8637
8811
8647
8212
9219
Cardboard base paper 
6.1%
1597
1614
1696
1673
1637
1819
Paper vessel board
2.5%
657
638
658
656
587
761
Other
42.1%
11059
10890
11163
10977
10436
11800
Paper Board total 
100.0%
26240
25957
26609
27363
26268
30627
Paper and board total 

سفےد کاعذ ، اخبارات، گتے اور دےگر رنگےن کاغذ جو ہمارے استعمال کے قابل نہےں ہوتے ہےں ہم ردی کے بھاﺅ بےچ دےتے ہےں جس کو کاغذ بنانے والی فےکٹرےوں مےں بھجواےا جاتا ہے۔ جہاں ان کو دوبارہ استعمال کے قابل بناےا جاتا ہے۔ کاغذ بنانے والی فےکٹرےاں مختلف قسم کے کاغذ بناتی ہےں جو کہ استعمال شدہ کاغذ کے ذرےعے بنائے جاتے ہےں جس مےں سفےد کاغذ tissue پروڈکٹس اخبارات کے استعمال ہونے والا کاغذ ، کاغذ کے بنے تھےلے، پےنٹنگ کے لئے استعمال ہونے والا گتا، امتحان گتے اور دےگر کاغذ و غےر بنائے جاتے ہےں ےہ اےک دوبارہ استعمال کے قابل اور سستے پےپر ہوتے ہےں جنہےں عام عوام لےنا پسند کرتی ہے جو انہےں آسانی اور سستے مل جاتے ہےں۔ ےہ تمام کاغذ (pulpeg) کے ذرےعے بنائے جاتے ہےں۔ ےہ کاغذ کے لئے مختلف طرح سے (puppling) کی جاتی ہے کاغذ کو دوبارہ استعمال کرنے پر اس کے رشتے مزےد چھوٹے ہوجاتے ہےں جس کے باعث ہم استعمال شدہ کاغذوں کے ذرےعے صرف 6 سے 7 مرتبہ کاغذ تےار کرسکتے ہےں۔ جو ہمارے لےے نہاےت مفےد ہےں۔ 

Generation & Recovery of Metal, Plastic & Paper 
%
Paper Recovered
Paper Generated
%
Plastic Recovered
Plastic Generated
%
Metal Recovered
Metal Generate
Year
16.94%
5.08
29.99
-
-
0.39
1.48%
0.1
6.72
1960
15.28%
6.77
44.31
-
-
2.90
1.25%
0.16
12.74
1970
21.28%
11.74
55.16
0.293%
0.020
6.83
4.96%
0.75
15.13
1980
27.82%
20.23
72.73
2.16%
0.370
17.13
20.08%
2.63
13.10
1990
42.81%
37.56
87.74
5.79%
1.48
25.55
22.55%
2.88
12.77
2000
62.50%
44.57
71.31
7.99%
2.50
31.29
27.15%
3.13
11.53
2010
65.55%
45.90
70.02
8.35%
2.66
31.84
27.64%
3.17
11.47
2011
64.65
44.36
68.65
8.82%
2.80
31.75
27.66%
3.20
11.57
2012

اگر رےسائےکلنگ کے فوائد کی بات کی جائے تو ےہ بات بہت واضح ہے کہ ےہ ہمارے معاشرے مےں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے قدرتی وسائل (مثلاً اےندھن، دھاتےں، وغےرہ) جس خطرناک مقدار سے استعمال کےا جارہا ہے لوگ اس خطرے سے دو چار ہےں کہ آنے والے وقت مےں ےہ مقدس نہ ہوجائے۔ 
اب اگر رےسائےکلنگ سے توانائی اور قدرتی وسائل کو بچانے کی بات کی جائے تو رےسائےکلنگ کی افادےت کا بہتر انداہ ہوتا ہے ۔ صنعتےں کسی بھی چےز کی تشکےل کرتی ہےں آےا وہ اےک کمےز ہو کاغذ کا ٹکڑا اس کے لئے خام مادے مےں سے بہت سارے وسائل کو استعمال کےا جاتا ہے۔ جس مےں سر فہرست آب، درخت، جےوشےم اےندھن اور کوئلہ وغےرہ کرنا پڑتا ہے ۔ جس کی وجہ سے زمےن پر سے وسائل کی کمی کا خطرہ لاحق ہے۔ جبکہ رےسائےکلنگ کے ذرےعے ہم نا صرف ہم اپنے خام وسائل کو بچا سکتے ہےں بلکہ اس کے ذرےعے ماحولےاتی آلودگی کو بھی کم کرسکتے ہےں۔ 
رےسائےکلنگ کاغذ بمقابلہ نےا کاغذ 
توانائی کی کھپت کی بات کی جائے تو اےک ٹن کاغذ بنانے مےں 33 ملےن BTU (British Thermal Unit) لگتی ہے۔ برعکس اسکے اگر کاغذ کی رےسائےکلنگ کی جائے تو کھپت 33 فےصد کم ہو کر 22 ملےن BTU ہوجاتی ہے۔ 
اےک ٹن کاغذ بناتے ہوئے گرےن ہاﺅس گےسز 5,601پاﺅنڈز خارج ہوتی ہے اگر اتنا ہی پےپر رےسائےکلڈ کےا جائے تو ےہ اخراج 3,533 پاﺅنڈز ہوجائے گا ۔ جو کہ 37% فےصد کم ہے۔ 
اےک ٹن کاغذ کو بنانے کے لئے 24درخت درکار ہوتے ہےں اگر اتنا ہی کاغذ رےسائےکلنگ سے بناےا جائے تو ےہ مقدار 24درخت سے صفر درخت ہوجاتی ہے ۔ جو کہ پورے 100%بچت کے برابر ہے ۔ 
گلوبل وارمنگ اور اوزون لےئر کو نقصان پہچانے والی گےسز بھی سب سے زےادہ صنعتوں سے خارج ہوتی ہےں ، سن 1800 جو کہ صنعتوں کی ترقی کا صدی کہا جاتا ہے، اس مےں اوزون لےئر کو سب سے زےادہ نقصان پہنچاےا گےا۔ صنعتوں مےں سے گرےن ہاﺅس گےسز کے اخراج کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو کاربن ڈائی اکسائےڈ (CO2) جو کہ جےواشم اےندھن کے استعمال سے خارج ہوتی ہے۔ 

چھ گرےن ہاﺅس گےسز مقدار 
گےس 
زرےعہ 
عالمی اخراج کا تناسب مےں 
کاربن ڈائی آکسائےڈ(CO2) 
ےہ حےاتےاتی اےندھن کو جلانے سے وجود مےں آتی ہے اور درختوں کی کٹائی سے 
76.7%اور 56.6% حےاتےاتی اےندھن سے 
مےتھےن(CH4)
زراعتی سرگرمےوں، توانائی کی پےداوار اور فضلہ سے 
14.3%
نٹرس آکسائےڈ (N2O)
زےادہ تر زراعتی سرگرمےوں سے 
7.9%
ہائےڈرو فلورو کاربن(HFCS)
اوزون لےئر کو ختم کر کے وجود مےں آتی ہے 
1.1%
سلفر ہےگزا فلورائےڈ (SF6)
صنعتی عمل اور بجلی کے آلات کی وجہ سے 


گرےن ہاﺅس گےسز (GHG) اخراج مےں چائےنہ ، امرےکااور انڈےا سر فہرست ہےں اور پاکستان اس مےں 304.85 مےٹرک ٹن جو کہ پاکستان کا 0.7% ہے۔ 
پبلک رےسائےکلنگ آفےشلز آف پےنی پنسلوانےا کے مطابق ہر اےک تن پےپر جو رےسائےکلڈ کےا جاتا ہے مندرجہ ذےل خام وسائل کو بچانے کی وجہ سے بنتا ہے۔ 
٭ 275پاﺅنڈ زسلفر کے 
٭ 350پاﺅنڈز چونا پتھر کے 
٭ 900 پاﺅند بھاپ کے۔ 

٭ 60,000گےلنز پانی کے 
٭ 225 کلو واٹ گھنٹے 
٭ 3.3کےوبک ےارڈز زمےن کی جگہ 

معاشی فائدے 
پاکستان جےسے ممالک جو پہلی ہی معاشی مسائل سے پرےشان ہےں ۔ اےسے ممالک رےسائےکلنگ کے کارخانوں کو لگانے کے لئے نوجوانوں کی پذےرائی کرےں تو ےہ نا صرف ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے مےں فائدہ مند ہوگا بلکہ روزگار پےدا کرنے مےں بھی فائدہ مند ہوگا۔ 

ہم اپنے مستقبل کی نسلوں کو ےہ پےغام دےنا چاہتے ہےں کہ رےسائےکلنگ آچ کی دنےا مےں دنےا مےں بہت اہم کردار رکھتی ہے۔ اور ےہ ہمارے معاشرے کے لئے بہت ضروری ہے اور ہمارے ملک کی حکومت کو اس کی آگاہی کے لئے اےسے اقدامات عمل مےں لانے چاہئےں کہ جس سے پاکستان مےں زےادہ سے زےادہ رےسائےکلنگ کے کام کو ترجےح دی جائے کےونکہ آج بھی دےکھا جائے تو پاکستان مےں کاغذ کی رےسائےکلنگ کی شرح بہت کم ہے اور پاکستان آج بھی دوسرے ملکوں سے روز مرہ کے استعمال کے لئے کاغذ برآمد کرتا ہے۔ اور اسی طرح دوسری چےزےں جےسے پلاسٹک لوہا اور دےگر دھاتےں جن کی پاکستان مےں رےسائےکلنگ کی شرح کافی کم ہے تو حکومت کو چاہئے کہ وہ معاشرے مےں اےسی آگاہی کو برپا کرےں جس سے معاشرے مےں رےسائےکلنگ کو اچھی چےز سمجھا جائے۔ 

پروفائل 
اس تحقےق کے سلسلے مےں جب اےک کباڑی نظام درباری سے بات کی گئی جو کہ اس پےشے مےں پچھلے 28 سال سے کام کررہے ہےں تو انہوں نے اپنی پےشہ ورانہ زندگی سے بہت سی اےسی باتےں بتائےں جو کہ ہمارے معاشرے کو اور بہتر بنانے مےں بہت کام آسکتی ہےں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے مےں اس کو اےک گندی اور بےکار چےز سمجھا جاتا ہے جبکہ ےہ بات سچ ہے کہ قدرت نے کوئی چےز بےکار نہےں بنائی ہر اےک ذرہ اہمےت کا حامل ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ رےسائےکلنگ اےک اےسا کام ہے جو کچرے کو قابل استعمال بناتا ہے اگر رےسائےکلنگ کو روک دےا جائے تو چند دنوں مےں ہم کچڑوں کے ڈھےر کے درمےان ہونگے جو کہ اےک صحت مند معاشرے کی نشانی نہےں ہے۔ اور ان کا کہنا تھا کہ ےہ اےک کاروبار کا بھی بہترےن ذرےعہ ہے ۔ 
    جہاں ہمارا ملک دوسرے کئی شعبوں میں دیگر ترقی یافتہ ممالک سے الگ تھلگ تنہا کھڑا نظر آتا ہے وہیں ہمیں ری سائیکلنگ کے شعبے میں بھی تنہائی کا سامنا ہے ہمارے ملک میں وسائل کی بھرمار ہوتے ہوئے بھی ہم ان وسائل کو استعمال کرنے سے قاصر ہیں ہمارے ہمسائے ممالک ہم سے کہیں زیادہ اس صنعت کو فروغ دے چکے ہیں بلکہ اس صنعت کا ان کی معیشت میں بھی اہم کردار ہے اگر ہمارے حکمران بھی اس پر توجہ دیں تو ہم بھی اس سے اپنی معیشت کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

The work was carried under supervision of Sir Sohail Sangi