Showing posts with label انٹرویو. Show all posts
Showing posts with label انٹرویو. Show all posts

Saturday, September 12, 2015

سعدعلی سے انٹرویو


نظر ثانی شدہ

محمد اسد عباسی 2k13/MC/65 3rd Piece

ڈی جے سعد علی سے انٹرویو

تعارف:

سعد علی ایف ایم 101 پر تقریباً 14 سال سے بحیثیت ڈی جے کام کررہے ہیں۔ سعد علی 6جون 1988 کو حیدرآباد کے کھا ئی روڈ کے علاقے میں پیدا ہوئے۔ آپ نے جامع سندھ سے اسلامک اسٹڈی میں ماسٹرس کیا ۔ انہوں نے بچپن سے ہی ریڈیو سے تعلق ہونے کی وجہ سے انٹر کے بعد ریڈیو کے سیمی چینل ایف ایم میں بطور ڈی جے کام کرنا بہتر سمجھا۔ 

س ڈی جے کسے کہتے ہیں؟

جواب ڈسک جو گی کو کہتے ہیں جس نے سب سے پہلے ایف ایم 101کو متعارف کرایا اس لیے اس کا نام ڈی جے دیا۔ ڈی کا مطلب لوگوں کو انٹر ٹینمنٹ فراہم کرنا ۔ مثال کے طور پر کرنٹ افےئرز کے ٹاپکس پر بات کرنا ۔ 


س ڈی جے اور آر جے میں کیا فرق ہے ؟

جواب ڈی جے کہتے ہیں ڈسک جو گی کو اور آرجے کہتے ہیں ریڈیو جوگی کو ریڈیو جوگی کے تمام پروگرام اسکرپٹ ہو تے ہیں کیونکہ وہ ایک سرکاری ادارہ ہے ۔ 

س آپ ڈی جے کیسے بنے؟

جواب میں نے اپنا آغاز بچوں کے پروگرام پھول واری سے کیا اور اس پروگرام میں ایک سیگمینٹ ہوا کرتا تھا سائنس کی دنیا جس میں میں بچوں کی پڑھائی کی اصلاح کرتا تھا ۔ اس کے بعد میں نے ڈومیسٹک کھیلوں کی خبریں پڑھی اورکھیلوں کے پروگرام کیے ۔انٹر کے بعد میں نے ایف ایم 101 پر اپنا پہلا پروگرام کیا ۔

س ڈی جے کو کن کن باتوں کا خیال رکھنا چاہئے؟

جواب سب سے پہلے آپکو پتہ ہونا چاہئے کہ آپ کس ٹائم پر پروگرام کررہے ہیں ۔ ڈی جے کے پاس 4 طرح کے وقت ہوتے ہیں۔ اس کو ان وقتوں کے مطابق پروگرام کرنا چاہئے۔ ڈی جے جس ٹاپک پر بات کاررہا ہے اس کو اس ٹاپک کے بارے میں مکمل معلومات ہونی چاہئے۔ ایک ڈی جے کو لفظوں کا تناؤ اچھی طرح آنا چاہئے۔ 



س ڈی جے بننے میں کتنا وقت درکار ہوتا ہے؟

جواب ایک اچھا ڈی جے بننے کے لئے خود کی محنت ضروری ہوتی ہے۔ اسکو اپنا سیلف مطالعہ اچھا کرنا چاہئے تا کہ وہ تمام ٹاپکس میں کھل کر بول سکے ۔آج سے دس بارہ سال پہلے ایف ای کے ڈی جے کو بہت سے مسائل ہوا کرتے تھے ۔ کیونکہ پاکستان میں چند سنگر ہوا کرتے تھے اور سال میں اپنا ایک ایلبم نکالا کرتے تھے ۔ اس لیے لسنر کی فرمائش کو پورا کرنا مشکل ہوتا تھا ۔لیکن اب کمپیوٹر سے پلے کیے جا تے ہیں تو دو مہینوں کی ٹریننگ بہت ہے ۔ 



س ایک ریڈیو کے ڈی جے اور پرائیوٹ چینل کے ڈی جے میں کتنا فرق ہوتا ؟

جواب ڈی جے میں کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ لیکن رولز اور ریگولیشن مختلف ہوتے ہیں۔ کیونکہ ایف ایم 101ایک سیمی گورنمنٹ ادارہ ہے جس میں آپ پاکستان کے علاوہ کسی اور کنٹری سانگ پلے نہیں کرسکتے۔ پہلے کی نسبت ہمیں بہت آسانیاں ہوگئیں ہیں کیونکہ پچھلے وقتوں میں چند ایک سنگر ہوا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے ایک سانگ کو بار بار پلے کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن اب نیو آنے والے سنگرز نے آسانیاں کردی ہیں۔ 


س ڈی جے کو لسنرز کی کن باتوں کا خیال رکھنا چائے؟

جواب سب سے پہلے ڈی جے کو لسنرز کے موڈ کا پتا ہونا چائے کہ وہ کیا سننا پسند کرتے ہیں۔ ہمارے پاس UN نمبرز ہوتے ہیں جس سے ہم لاؤ کال لیتے ہیں اور لسنرز کے ریکویسٹ پر سانگ پلے کرتے ہیں۔ 

بی ایس پارٹ تھری سیکنڈ سیمسٹر،

ستمبر 2015 
Key words: FM 
Hyderabad, DJ Saad Ali, Muhammed Asad Abbasi, Sohail Sangi,
This practical work was carried under supervision of Sir Sohail Sangi


------------------ FIRST VERSION ---------------------------

Refer back
Kaprra amrket ka elaqa? Specify, Bachpan se Q shoq tha? koi wajh? D.J aur RJ main kia farq hota hae? 
محمد اسد عباسی 2k13/MC/65 3rd Piece

ڈی جے سعد علی (انٹرویو)

تعارف:

سعد علی ایف ایم 101 میں تقریباً 14 سال سے ڈی جے کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔ سعد علی 6جون 1988 کو حیدرآباد کے علاقے کپڑا مارکیٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے جامع سندھ سے اسلامک اسٹڈی میں ماسٹر کیا اور بچپن سے ہی ریڈیو سے تعلق ہونے کی وجہ سے آپ نے انٹر کے بعد ریڈیو کے سیمی چینل ایف ایم میں بطور ڈی جے کام کرنا بہتر سمجھا۔ 



س ڈی جے کسے کہتے ہیں؟

جواب ڈسک جو گی کو کہتے ہیں جس نے سب سے پہلے ایف ایم 101کی بنیاد رکھی اس کا نام ڈی جے تھا۔ ڈی کا مطلب لوگوں کو انٹر ٹینمنٹ فراہم کرنا ۔ مثال کے طور پر کرنٹ افےئرز کے ٹاپکس پر بات کرنا ۔ 



س آپ ڈی جے کیسے بنے؟

جواب میں نے اپنا آغاز بچوں کے پروگرام پھول واری سے کیا اور اس کے بعد ایک پروگرام کرتا تھا سائنس کی بنیاد۔ اس وقت میں میٹرک کلاس میں تھا۔ اور بچوں کے کھیلوں کے پروگرام کیا کرتا تھا۔ انٹر کے بعد میں نے اپنا پہلا شو ایف ایم پر کیا۔ 



س ڈی جے کو کن کن باتوں کا خیال رکھنا چاہئے؟

جواب سب سے پہلے آپکو پتہ ہونا چاہئے کہ آپ کس ٹائم پر پروگرام کررہے ہیں ۔ ڈی جے کے پاس 4 طرح کے وقت ہوتے ہیں۔ اس کو ان وقتوں کے مطابق پروگرام کرنا چاہئے۔ ڈی جے جس ٹاپک پر بات کاررہا ہے اس کو اس ٹاپک کے بارے میں مکمل معلومات ہونی چاہئے۔ ایک ڈی جے کو لفظوں کا تناؤ اچھی طرح آنا چاہئے۔ 



س ڈی جے بننے میں کتنا وقت درکار ہوتا ہے؟

جواب ایک اچھا ڈی جے بننے کے لئے خود کی محنت ضروری ہوتی ہے۔ اسکو اپنا سیلف مطالعہ اچھا کرنا چاہئے تا کہ وہ تمام ٹاپکس میں کھل کر بول سکے ۔




س ایک ریڈیو کے ڈی جے اور پرائیوٹ چینل کے ڈی جے میں کتنا فرق ہوتا ؟

جواب ڈی جے میں کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ لیکن رولز اور ریگولیشن مختلف ہوتے ہیں۔ کیونکہ ایف ایم 101ایک سیمی گورنمنٹ ادارہ ہے جس میں آپ پاکستان کے علاوہ کسی اور کنٹری سانگ پلے نہیں کرسکتے۔ پہلے کی نسبت ہمیں بہت آسانیاں ہوگئیں ہیں کیونکہ پچھلے وقتوں میں چند ایک سنگر ہوا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے ایک سانگ کو بار بار پلے کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن اب نیو آنے والے سنگرز نے آسانیاں کردی ہیں۔ 



س ڈی جے کو لسنرز کی کن باتوں کا خیال رکھنا چائے؟

جواب سب سے پہلے ڈی جے کو لسنرز کے موڈ کا پتا ہونا چائے کہ وہ کیا سننا پسند کرتے ہیں۔ ہمارے پاس UN نمبرز ہوتے ہیں جس سے ہم لاؤ کال لیتے ہیں اور لسنرز کے ریکویسٹ پر سانگ پلے کرتے ہیں۔ 

Wednesday, September 9, 2015

بشارت علی بلوچ انٹرویو



اسدعلی 

رول نمبر :2K13/MC/17 انٹرویو 

بشارت علی بلوچ لائبریرین 
حسرت موہانی ڈسٹرکٹ سینٹرل لائبریری 

تعارف:۔
بشارت علی بلوچ کا تعلق حیدرآباد سے ہے، آپ نے جامعہ سندھ سے لائبریری سائنس میں ایم ۔ایس ۔ سی کی اور اس کے بعد جامعہ سندھ شعبہ سندھ ڈولپمنٹ اسٹڈی سینٹر میں بطور اسٹنٹ لائبریرین مقرر ہوئے ۔ 2004سے 2010تک اپنے فرائض سرانجام دیئے، 2011میں کمیشن حاصل کرتے ہوئے کلچر ٹوریزم اینڈ اینٹی کو ٹیس جوائن کیا اور اس وقت آپ حسرت موہانی ڈسٹرکٹ سینٹرل لائبریری میں بطور لائبریرین اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔

سوال : یہ لائبریری کب قائم ہوئی؟ اس کی خصوصیات کیا ہیں؟ کس طرح کے لوگ یہاں آتے ہیں؟
جواب ۔ 1905میں یہ لائبریری قائم ہوئی، یہاں کا ماحول انہتائی پر سکون ہوتا ہے جس کے باعث پڑھنے والے اچھا محسو س کرتے ہیں، یہاں بزرگوں، نوجوانوں بچوں کے علاوہ خواتین بھی اس لائبریری کا رخ کرتی ہیں جن کے لیے مختلف سیکشن تشکیل دیئے گئے ہیں جس کے ذریعے وہ با آسانی اپنی پسندیدہ کتابوں تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں 



سوال  : کتابوں کی تعداد کتنی ہے؟کیا نایاب کتابیں نسخے وغیرہ بھی موجود ہیں ؟

جواب ۔ لائبریری میں کتابوں کی تعداد 28ہزار کے قریب ہے جس میں پرانی اور نئی کتابیں شامل ہیں ستمبر 2011سے پہلے اس کی تمام تر ذمہ داریاں بلدیہ کے پاس تھیں جبکہ اس وقت اس کی ذمہ داریاں کلچر اینڈ ٹوریزم ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہیں جس کے ڈائریکٹرجنرل منٖظور احمد کناسرو نے ہمیں نئی کتابیں فراہم کی ہیں اور مزید ہماری ضرورت کے مطابق کتابیں فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔



سوال : آج کے ڈیجیٹل دور میں اس طرح کی لائبرریوں کی اہمیت کم ہور ہی ہے تو اس کو کس طرح سے نمٹا جارہا ہے؟ کیا آپ کی لائبریری یا سندھ کی دیگر لائبریریاں ڈیجیٹل ہور ہی ہیں ؟

جواب ۔ ان لائبرریوں کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے جہاں تک ڈیجیٹل لائبریری کا تعلق ہے تو جامعات کی لائبرریاں ڈیجیٹل ہیں کیونکہ ایچ ۔ ای ۔ سی نے انہیں اپنے ٹیکسٹ تک رسائی دی ہے جس کی بنیاد پر وہ ڈیجیٹل لائبریریاں کہلاتی ہیں ، جہاں طلباء با آسانی تمام مفامین سے متعلق کتابیں پڑھ سکتے ہیں ، سیکریڑی کلچر ڈاکٹر نیاز عباسی نے گزارش تیار کی ہے اور وہ ایچ ۔ ای ۔ سی سے رابطہ کریں گے کہ وہ لائبریری کو اپنے ٹیکسٹ تک رسائی دیں جس سے لائبریری میں آنے والے طلباء استفادہ حاصل کرسکیں گے۔


سوال : ایک لائبریرین کی ڈیوٹی میں آپ کو کیا کیا کرنا پڑتا ہے؟
جواب۔ ایک لائبریرین کے ذمے جو کام آتے ہیں ان میں رجسٹر کو ترتیب دینا، لائبریری میں موجود کتابوں کی درجہ بندی (Classification)کرنا، یہ درجہ بندی بین الاقوامی طریقہ کار DDCکے تحت کی جاتی ہے،99فیصد لائبریریوں میں اسی طریقہ کار کے تحت درجہ بندی کی جاتی ہے اس کے علاوہ ببلو گرافی، انڈیکسنگ اور کیٹلوگنگ کا کام بھی سر انجام دیتا ہوں جبکہ ایڈمنسٹریشن کے حوالے سے ملازمین کو ان کے کام میں مہارت کو مدنظر رکھتے ہوئے تعینات کرنا بھی میری ذمہ داری میں شامل ہے ۔



سوال : کتابوں کی خریداری کس طرح ہوتی ہے؟ کیا یہ خریداری مقامی ضروریات کو سامنے رکھ کے کی جاتی ہے؟

جواب۔ لائبریری کی تمام کتابیں ہمیں کلچر ڈیپارٹمنٹ فراہم کرتا ہے جبکہ طلبا ء کو جو کتابیں یہاں میسر نہیں ہوتیں وہ مجھے ان کتابوں کے نام بتاتے ہیں میں ان کی فہرست تیار کرکے ہیڈ آفس بھجتا ہوں جس کے بعد ہمیں کتابیں فراہم کی جاتی ہیں ۔



سوال : طالبعلموں کے لیے کوئی خاص پیغام؟

جواب ۔ 2011میں کمیشن حاصل کرنے کے لیے تیاری ہم نے انہی لائبریریوں جامعہ سندھ کی لائبریری اور حسرت موہانی لائبریری میں بیٹھ کر کی نتائج آپ کے سامنے ہیں کہ جس لائبریری میں بیٹھ کر پڑھتا تھا آج اس کا لائبریرین ہوں میرا طالبعلموں کو یہی پیغام ہے کہ وہ ان علم کے خزانوں میں آکر اپنی تعلیمی قابلیت کو مزید بہتر بنائیں تا کہ زندگی میں کامیابیاں سمیٹنے میں آسانی ہو ۔