Showing posts with label شاہ رخ عباسی. Show all posts
Showing posts with label شاہ رخ عباسی. Show all posts

Saturday, December 5, 2015

Shahrukh- Malishi Report

ٍمالشیوں کو درپیش مسائل اور ان کی زندگی
شاہ رخ عباسی

محسن ٹالپر اور راشد لغاری بھی اس گروپ میں ہیں۔

سندھ کا دوسرا بڑا شہر حیدرآباد جو کہ چوڑیوں کی سب سے بڑی پیداوار اور اپنی ٹھنڈی راتوں کی وجہ سے معروف ہے ا سی شہر حیدرآباد کے مختلف سڑکوں، معروف پوش علائقوں اور عوامی فٹ پاتھوں پر شام ڈھلتے ہی آہستہ آہستہ مالیشیوں کی مخصوص چھن چھن کی آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ مالشی اپنی قسمت دو طریقوں سے سر انجام دیتے ہیںکچھ نوجوان مالشی اپنے ٹھیے جمانے کی جگہ شہر کے مختلف علائقوں اور سڑکوں پر گھومتے پھرتے اپنے گاہکوں کو ڈھونڈتے ہیں۔

 ریلوے اسٹیشن، چائے کی ہوٹل شمار بھی انہی جگہوں میں ہوتا ہے جہاں مالشی دیر رات تک اپنے گاہکوں کی راہ دیکھتے ہیں دوسرے بیشمار مالشی مختلف پارکوں، شاہراہوں اور ریلوے اسٹیشن پر سرِ شام اپنے ٹھئیے آباد کر لیتے ہیں اور یہاں سر سے لے کر پاوں تک کی مالش کی جاتی ہے۔ مالشی جسم کی رگوں، پٹھوں کو اس مشاکھی کے ساتھ دباتے ہیں کہ دن پھر کی محنت اور مشقت کرنے والے مزدور، ہنرمندوں اور عام افراد میں خون کی گردش اس قدر رواں دواں ہو جاتی ہیں کہ وہ خود کو دوبارہ تر و تازہ محسوس کرتے ہیں ۔ 

حیدرآباد کا ریلوے اسٹیشن مالشیوں کا قدیم گڑھ ہے، یہاں کے مالشی ۵۱ ۰۲ برس سے کام کر رہے ہیں ۔

مالشیوں کو یہ کام سیکھنے میں دو سال لگتے ہیںجس کو سیکھ کے وہ اپنا اور اپنے گھر والوں کا گزارا کرتے ہیں۔

 جب ہم مالشیوں سے بات چیت کر رہے تھے اس وقت ہمیں اندازاہ ہوا کہ مالشیوں کو کیسے کیسے مسائل درپیش ہیں۔ زیادہ تر مالشیوں کا تعلق پاکستان کے صوبے پنجاب کے مختلف شہروں سے ہوتا ہے جو اپنا گھر بار چھوڑ کرروضی کی تلاش میں آتے ہیں یہ مالشی غربت کی وجہ سے سیلانی ویلفیئر سے اپنا گزارا کرتے ہیں کیونکہ یہ کام رات میں زیادہ ہونے کی وجہ سے دن میں اپنا پیٹ پالنے کے لیئے دوسرے کام کرتے ہیں۔  

 مالشی مالش کے استعمال کے لیے مختلف تیل استعمال کرتے ہےں۔ جیسا کہ چمبیلی،موتےاں،رات کی رانی، سر سوں اور دوسرے کئی خوشبودار تیل ہوتے ہے جس میں سرسوں کا تیل عام طور پر مالش میں استعمال کیا جاتا ہے۔ 

مالشیوں کا کہنا ہے کہ بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو روزانہ مالش کروانے کے لیے آتے ہیں ان لوگوں میں ذیادہ تعداد مزدوروں کی ہوتی ہے جو دن بھر محنت کر کے اپنی تھکاوٹ کو دورکروانے کے لیے آتے ہیںاور لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ مالش کے بعدخود کو ترو تازہ محسوس کرتے ہیں۔

 مالش اور مساج ایک باقائدہ ہنر ہے جبکہ بیرونِ ملک یہ کام بہت اچھے انداز سے کیا جاتا ہے تاہم ہمارے ہاں گاوں گوٹھوں کی طرح اب بڑے شہروں میں مالشیوں کا ایک منظم نیٹ ورک نچلی سطح پر ہونے لگا ہے۔ 

 اسی کام کی آڑ میں بہت سے دو نمبری کام بھی ہوتے ہیں اسی طرح شہر حیدرآباد کے علائقے حالی روڈ پرانی سبزی منڈی کے پاس ایک مالشی نے ایک شخص کو مالش کرتے کرتے بےہوش کر دیا اور اس کے بعد تمام رقم لے کر فرار ہو گیا۔ 

ہنر کوئی بھی ہو پیشہ کوئی بھی ہو محنت کے ذریعے روزی روٹی کمانا یقینن ایک قابل ستائش عمل ہے تاہم مالیشیوں کو نیک نامی بنانے کے ساتھ ساتھ نئے انداز بھی اپنانے ہونگے تا کہ ان کا ہنر بھی چمکے اور کسی بھی قسم کا دو نمبری کام نہ کرنا پڑے ´
 جدید ریسرچ کے بعد معلوم ہوا ہے کی مالش انسانی جسم میں ٹیونیگ کا کام کرتی ہے مالش سے بیشمار بیماریا ں بھی ختم ہو جاتی ہے۔مالشیوں سے مالش کرنے کی مزدوری پوچھنے پرمالشیوں نے بتایا کہ سر کی مالش
 کے ۰۵ روپے اور پورے جسم کے ۰۵۱ روپیے ملتے ہیں۔

پر ان محنتی مالیشیوں کو ان کی مزدوری کبھی پوری نہیں ملتی اگر کبھی کوئی رئیس زادہ آ جائے تو ان مالشیوں کی عید ہو جاتی ہے۔ 


The work was carried under supervision of Sir Sohail Sangi 
Referred back 
What is difference between ur and Rashid's pieces? No mention of their problems? Paragraphing not observed which i had made. Spelling mistakes are their.
Photos are must


Wednesday, September 9, 2015

حیدرآباد کا ایکسپو سینٹر

شاہ رخ عباسی
فیچر

رول نمبر۔2k13/mc/102


حیدرآباد کا ایکسپو سینٹر


سندھ کا دوسرا بڑا شہر حیدرآباد جو کہ چوڑیوں کی سب سے بڑی پیداوار او ر اپنی ٹھنڈی راتوں کی وجہ سے معروف ہے۔لیکن اسی شہر میں گزرتے وقت کے سا تھ کئی تفریحی مقامات تاریخ کا حصہ بنتے جارہے ہیں اور صرف کتابوں اور رسالوں میں ان کی تصویریں ان کے وجود کا عکس پیش کرتی رہتی ہیں۔اس ہی طرح حیدرآباد میں ایکسپوہ سینڑ آج کل اسی تاریخ کی زندھ تصویر بنا ہوا ہے۔ ا یکسپوہ سینڑ کی بنیاد اکتوبر 2008 میں رکھی گئی اس کی افتتاح گورنر سندھ عشرت العباد او ر ڈاکڑفاورق ستار نے کی اور تاریخ کے چمکتے اور آگے بڑھتے ہوئے سورج نے 2012 کا ھندسادیکھتے ہی اس ا یکسپو سینڑ کو ما ضی کی
علامت بنادیا۔
ا یکسپوہ سینڑ کی تاریخ میں پہلا نمائشی پروگرام ناسہ انڑنیشنل کی طرف سے 2010 اپریل 16تا18 ہوا جس میں مختلف قسم کے اسٹل لگائے گئے جن میں نئے ڈیذائن کے کپڑے، چوڑیاں،کاسمیٹک،شوز اور دیگر چیزوں کی نما ئش ہوئی پھر آنے والے سال دوسرا نمائشی پروگرام (HCCI) حیدرآباد چیمبر آف کامرس انڈسڑی اور (TDAP) ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی پاکستان کی طرف سے 2011 جون 23تا25 ہو ا، جس میں15 اسٹل اور25قسم کے آم کی نمائشی ہوئی ۔ اس نمائش میں سندھ کے مختلف شہروں سے لوگوں نے شرکت کی اور پھلوں کے بادشاہ آم کی قسموں سے آراستہ ہوئے،سنہرا،لال بادشاہ،چونسہ،بیگن پھلی،انوار اٹول۔ یہ وہ ایکسپوہ سینڑ ہے جس نے اپنے مختصر وقت میں تاریخ کے بہت سے خو بصورت منظر دیکھے کبھی یہاں پر کتابو ں کی نمائش ہوتی تھی تو ادیبوں کے چہرے کی مسکراہٹ حیدرآباد کے بہترین مستقبل کی ضمانت بن جاتی تھی تو کبھی پھلوں کے بادشاہ آم کی نمائش پر وقت کے کڑوے لموں میں سے بھی انسان میٹھہ ذائقہ حا صل کر کے اپنے مزاجو ں میں فراخ دلی پیدا کرتا رہتا تھا۔ کیونکہ کچھ مقامات محض بجری اور اینٹوں سے بنی ہوئی بلڈنگ نہیں ہوتی،بلکہ معاشرے کے اہم ستون ہوتے ہیں۔ جس کی بنیاد پر معشارہ پلتا ہے اور اس کی آنے والی نسلیے پروان چڑھتی ہیں اور ان کی سوچوں میں وسعت اور دلوں میں محبت کے جذبے جواں ہوتے ہیں ۔
اگر ایسی ہی چیزیں جو کہ وقت اور معاشرے کی اہم ضرورت ہی بند ہو جائیں تو انسان کے رویہ بدل جاتے ہیں۔ مجھے یہ مثال پیش کرنے کے لیے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ میں خوداس کا ضامن ہوں کہ جب 2011 میں پھلوں کے بادشاہ آم کی نمائش کے پروگرام میں جانے کے بعد واپس گھر آرہا تھا تومزاج میں
وسعت پیدا ہوگئی تھی اور فضا کی خوشبوں میری رگوں میں سمانے لگی تھی۔
اس کے بر عکس اس مضمون کو اپنے منتقی انجام تک پہچانے کے لیے جب حالی میں ایکسپوہ سینڑ گھو منے گیا تو اس کے کالے دروازے پر موٹا کالا تالا دیکھ کر میرے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور میرے اندر مایوسی پیدا ہوگئی میں واپس جب گھر آنے لگا تو فضامیں مایوسی تھی اور اس بند دروازے پر لگے جالے باربار میری بینائی کے سامنے آنے لگی اور مجھے ہلکی آواز میں کہنے لگی جب انسانوں کے زہنوں جالے لگ جائیں تو معاشرے کو اپنے نقط عروج پر پہچانے والی عمارتوں کو تالے ہی لگتے ہیں۔

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi

Saturday, August 22, 2015

بابر علی شیخ Revised

Revised. Need  bit editing
 - مزدوری اورتعلیم ساتھ ساتھ

پروفا ئل: بابر علی شیخ

تحریر: شاہ رخ عباسی
کامیابی کے حصول میں محنت و مشقت درپیش ہوتی ہیں اور یہی محنت کچھ کر د یکھانے کا جزبہ اس شخص کو کامیابی کی منزل تک لے جاتا ہے۔دورجد ید مہنگاہی کے اس دور میں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرنے میں بہت دشواری ہوتی ہے اور بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پٹرتا ہے جس کے باعث انسان کو زندگی کے منصوبوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پر اگر لگن سچی ہو تو یہی جزبہ محنت اُسے زندگی میںآگے بڑھنا سیکھتا ہے ۔ہمارے اردگرد ایسے بہت سے نو جوان ہے جو اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے دن رات محنت میں لگے رہتے ہیں۔اسی طرح شہر حیدر آباد میں پیدا ہونے والے ایک نوجوان بابر علی شیخ ہے۔
بابر شیخ۱۹۹۳ شہرِ حیدر آباد کے علاقے اسلام آباد میں پیدا ہوے۔ جنھوں نے میٹرک تک تعلیم گورنمنٹ اسکول سیٹھ کمال الدین( کپڑا مارکیٹ)حاصل کی۔اور گو رنمنٹ کالج کالی موری سے انٹرکیا۔
بابر شیخ ذاتی طور پر بہت سادہ اور پر سکون طبیعت کے مالک ہے۔اور اپنی زندگی میں اصول پسند انسان ہے ان کی سوچ مثبت اور زندگی میں کچھ کر دیکھنے کی ہے۔ 
مالی و سا ئل اچھے نہ ہو نے کے باوجود اعلئ تعلیم حا صل کا عز م بر قرار ر کھا۔بابرشیخ نے محنت مزدوری بھی کی،تعلیم کے ساتھ ساتھ بابرشیخ نے دن کے کچھ قیمتی حصے میں منیِ ٹیکسی چلا کرتعلیمی اخراجات کا بو جھ اپنے کندھوں پر لیا کیونکہ بچپن سے گھر کے حالات خراب رہے اٍو ر ایک سوچ بنی ہوئی تھی کہ اعلیَ تعلیم حاصل کرنی ہے اور مجھے انجینرنگ یو نیورسٹی میں پڑھ کر ایک قابل ا نجینربننا ہے۔اسیِ عزم کو برقرار رکھتے ہوئے بابر شیخ نے اچھے نمبر زکے ساتھ امتحان اور انٹری ٹیسٹ پا س کیا اور آج بابر شیخ مہران انجینرنگ یو نیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سسٹم تھرڈ ایئر میں زیرِتعلیم ہے۔
تعلیمی اخراجات کے زیادہ ہونے کی بنا پر بابرشیخ دن کا کچھ مخصوص وقت اپنی محنت مزدوری میں لگاتے ہے تا کہ اپنی تعلیمی اخراجات پورے کر سکے اور محنت مزدوری کے بعد رات دیر تک اپنی پڑھائی میں مصروف رہتے ہیں تا کہ وہ ایک قا بل ا نجینربننا چاہتے ہیں۔ 
بابر علی مذیدار شخصیت کے ما لک بھی ہے شدید تکلیف اور محنت کے بعد بھی اپنے سامنے آنے والی ہر مشکلات کا مسکراکر سامنا کرتے ہے اپنے عزم کو کامیابی کی منزل تک پہنچانے کے لیے پر امید ہے اور یہ خواب کو پا یہ تکمیل تک پہچانے کے لیے پر اعتماد نظر آتے ہیں ہم نے جب ان کے اس عزم اور حوصلے کی وجہ دریافت کی تو بتایا کہ ہر خواب خود ہی ایک عزم ہے اور اس کی تعبیر آپ کی امید ہے آپ جب کچھ کر دکھانے کا خواب دیکھتے ہیں تو آپ اپنا کام بھر پور محنت اور نئے عزم سے پھر سے کرنے لگیں گے۔
نوجوان نسل کے لیے بابر شیخ کا پیغام یہ ہی ہے کہ اس مہنگائی غربت کے دور میں اپنی پریشانی اور تکلیف کے با عث اپنی تعلیم کے عزم کو برقرار رکھے سچی لگن اور محنت کے ساتھ اپنی زندگی کے مقصد کو حاصل کرے۔ 
-------------------------------------------
First version
پروفا ئل: اس میں کیا خاص بات ہے۔ اس کو بہتر کر کے دیں This is very short, add  atleast 100 words, Alos
 write ur name in the write up
بابر علی شیخ
یہ بات واضح ہے کہ کامیابی کے حصول میں محنت و مشقت درپیش ہوتی ہیں اور یہی محنت کچھ کر د یکھانے کا جزبہ اس شخص کو کامیابی کی منزل تک لے جاتا ہے۔ اگر لگن سچی ہو تو یہی جزبہ محنت اُسے زندگی میںآگے بڑھنا سیکھتا ہے ۔ہمارے اردگرد ایسے بہت سے نو جوان ہے جو اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے دن رات محنت میں لگے رہتے ہیں۔اسی طرح شہر حیدر آباد میں پیدا ہونے والے ایک نوجوان بابر علی شیخ ہے۔
بابر شیخ۱۹۹۳ شہرِ حیدر آباد کے علاقے اسلام آباد میں پیدا ہوے۔ جنھوں نے ابتدائ تعلیم کا آغاز ایک گورنمنٹ اسکول (سیٹھ کمال الدین کپڑا مارکیٹ)سے کیا اور وہی سے میڑک کی تعلیم حاصل کی پھر مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے گو رنمنٹ کالج( کالی موری) سے انٹرکیا۔بابر شیخ ذاتی طور پر بہت سادہ اور پر سکون طبیعت کے مالک ہے۔اور اپنی زندگی میں اصول پسند انسان ہے ان کی سوچ مثبت اور زندگی میں کچھ کر دیکھنے کی ہے۔ مالی و سا ئل اچھے نہ ہو نے کی وجہ سے اعلئ تعلیم حا صل کرنے میں دشواری تھی پر تعلیمی میدان میں آگے بڑ ھنے کے عظم کو بر قرار ر کھتے ہوئے بابرشیخ نے محنت مزدوری بھی کی،جی!تعلیم کے ساتھ ساتھ بابرشیخ نے دن کے کچھ قیمتی حصے میں منیِ ٹیکسی چلا کرتعلیمی اخراجات کا بو جھ اپنے کندھوں پر لیا کیونکہ بچپن سے گھر کے حالات خراب رہے اٍو ر ایک سوچ بنی ہوئی تھی کہ اعلیَ تعلیم حاصل کرنی ہے اور مجھے انجینرنگ یو نیورسٹی میں پڑھ کر ایک قابل ا نجینربننا ہے۔اسیِ عظم کو برقرار رکھتے ہوئے بابر شیخ نے اچھے نمبر زکے ساتھ (ECAT) کا امتحان پا س کیا اور آج بابر شیخ سندھ کی مشہور مہران انجینرنگ یو نیورسٹی کے ڈیپٹمینت کمپیوٹر سیسٹم3rd year میں زیرِتعلیم ہے۔ تعلیمی اخراجات کے زیادہ ہونے کی بنا پر بابرشیخ دن کا کچھ مخصوص وقت اپنی محنت مزدوری میں لگاتے ہے تا کہ اپنی تعلیمی اخراجات پورے کر سکے اور محنت مزدوری کے بعد رات دیر تک اپنی پڑھائی میں مصروف رہتے ہیں تا کہ وہ ایک قا بل ا نجینربن کے ملک کا نام روشن کر سکے۔
نوجوان نسل کے لیے بابر شیخ کا پیغام یہ ہی ہے کہ اس مہنگائی غربت کے دور میں اپنی پریشانی اور تکلیف کے با عث اپنی تعلیم کے عزم کو برقرار رکھے سچی لگن اور محنت کے ساتھ اپنی زندگی کے مقصد کو حاصل کرے۔

Wednesday, August 19, 2015

مشہود علی- انٹرویو

Edited. final
نوجوان  خود کے ساتھ انصاف کریں: مزاحیہ مقرر مشہود علی
انٹرویو: شاہرخ عباسی
مشہود علی 14جون 1991 ؁کو میر پور خاص میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے آکسفورڈ اسکول میرپور خاص سے میٹر ک اور شاہ عبدالطیف ڈگری کالج سے انٹرمیڈیٹ کیا ۔ 2014 میں جامع سندھ کے شعبہ ریاضیات میں ڈگری حاصل کی ۔ مشہود علی اس وقت پرسٹن کالج حیدرآباد میں ریاضی بحیثیت لیکچرار پڑھا رہے ہیں۔ وہ صرف اچھے استاد ہی نہیں بلکہ مزاحیہ مقرر بھی ہیں۔ مزاحیہ تقریروں میں انہوں نے کئی اعزازات سے بھی حاصل کئے ۔ آل پاکستان مزاحیہ تقریر میں پہلی پوزیشن اور آل سندھ سولو پرفارمنس میں بھی پہلی پوزیشن حاصل ہے۔

س: مباحثے کے لئے آپ نے مزاحیہ تقریر کو ہی مو ضوع کیوں بنایا؟
ج: مزاحیہ تقریر کا آغاز اس وجہ سے کیا کہ مزاحیہ تقریر کی ہار میں بھی لذت ہے جب انسان ہارتا ہے تو مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ کیونکہ لوگوں کو ہنسانا شاید دنیا کے مشکل کاموں میں سے ایک ہے۔ ہمارا معاشرہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں آپ کو ہر جگہ مایوسی ملے گی۔ وہاں اگر آپ کسی کوکچھ وقت کے لیے خوشی دیں تو یہ بہت بڑی بات ہے ۔ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ سامعین کی طبعیت میں کافی فراخ دلی پیدا ہو جاتی تھی اور وہ بہت دل کے ساتھ داد دیتے تھے جس کی وجہ سے یہ احساس ہوتا ہے چلیں اس نے کوئی تو ایسا کام کیا جس سے لوگوں کو خوشی ملی۔ اس کے بر عکس سنجیدہ تقریر میں جب انسان ہار جاتا تھا تو بہت افسوس ہوتا ہے اور اسی افسوس نے میرے مزاج میں مزاح پیدا کر دیا ۔

س:آپ کی نظر میں بہترین مزاح نگار کون ہیں؟
ج: مزاح نگاری میں مشتاق احمد یوسفی صاحب نے حدسے زیاد ہ متاثرکیاان سے بہت کچھ سیکھنے کوملتارہتا ہے کیونکہ وہ ادبی حلقوں میں بہترین مزاح نگارہیں۔ چونکہ میں ایک اسٹیج پر فارمر ہوں توبعض اوقات تقریروں میں چھچھو را پن بھی شامل ہو جاتا تھا ۔ مشتاق احمد یوسفی، انورمقصود اور ڈاکٹر یو نس بٹ کو پڑھ کر بہت سی غلطیاں سد ھا رنے کا موقع ملا ۔ یہ بہترین مزاح نگا روں میں سے ہیں۔

س: آپ اتنے سوشل ہیں یہ اچھی بات ہے۔ اس کے علاوہ معاشرے کے لئے عملی کام سر انجام دیے ؟
ج: اپنی حیثیت کے مطابق ذاتی طور پر اور دوستوں کی مدد سے کر تا رہتا ہوں۔ حال ہی میں ہم نے ایک یو تھ سیمنار منعقد کیا تھا. جسکا عنوان تھا کے بہترین نوجوان نسل ہی بہترین پاکستان بنا سکتی ہے . آگہی کے حوالے سے یہ اہم تھا۔ ماہ رمضان میں مستحق بچو ں کے لئے روٹی،کپڑا جمع کرنے کے لئے بھی میرے دوست میرے ساتھ رہے۔ اس کے علاوہ سندھ یونیورسٹی میں بلڈ ڈونیشن کیمپ لگوایا۔ امید کرتے ہیں کہ جب صاحب حیثیت لوگ مزید مدد کریں گے تو اس عمل کو آگے بڑھایا جا سکتا ہیں ۔

س:آپ نے بیچلر میتھا میٹکس میں کیا لیکن ذوق اردو تقریروں کا بناہے۔ شخصیت میں دلچسپ تضاد کی کیا وجہ ہے ۔؟
ج: سادہ سی وجہ یہ ہے کہ مجھے شروع سے ہی تا لیا ں اور داد سنے کا شغف رہا ہے۔ ہر ایک کی خوا ہش ہو تی ہے کہ کوئی اس کی پیٹھ تھپ تھپا ئے آپ کو آکر یہ کہے کہ’’ جو کر رہے ہیں وہ اچھا کر رہے ہو۔‘‘ بس میرا یہ ہی ذوق مجھے اردو کی تقریروں اور مباحثوں کی طرف لے گیا ۔جب میں نے2011میں سندھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا تواس وقت سائنسی سبجیکٹ کا رواج زیادہ تھا اور میں بھی بہتے دریا کی روانی کی طرح ریاضی کے شعبے میں آگیا۔ اب ظاہر ہے یونیورسٹی میں ریاضی کے موضوع پر کوئی سائنسی سیمینار تو ہوا نہیں ورنہ آپ مجھے وہا ں بھی پیش پیش د یکھتے۔

س:مزاحیہ تقریروں میں آپ بہت سے شعروں کا استعمال کرتے ہیں؟
ج:جی ہاں کیو نکہ اسٹیج کا ما حول ایسا ہوتا ہے تو اس لئے کبھی طنزیہ جملوں کے ساتھ ساتھ شعر کی صدارت میں رنگ دکھائی کرنا پڑتا ہے

س: نوجوانوں کے لئے کوئی پیغام؟
ج: نوجوانوں کے لئے میرا پیغام بہت سادہ سا ہے کہ آپ خود کے ساتھ ہمیشہ انصاف کریںآپ کے نام کے ساتھ نوجوان کا جو ٹیگ لگا ہوا ہے آپ د یکھے کہ آپ اسے کہاں استعمال کررہے ہیں ملک اور قوم کی بہتری یا اپنی بہتری کے لئے بھی کررہے ہیںیا نہیں اورکیا مقصد ہے زندگی کا جو مقصد ہے اسے پور اکریں۔

------------------ For Editor and writer  ---------------
مشہود علی (انٹرویو) (مزاح نگاری حسن کا اظھار) 
2k13/mc/102 
نوٹ : ۱) آپ کو پتہ ہوگا کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ پانچ چھ سو الفاظ چاہئیں۔ یہ نو سو سے بھی زائد الفاظ ہیں۔ نہ لکھنے والے نے اور نہ ایڈیٹنگ کرنے والے نے اس کا خیال رکھا۔
۲) سوائے تعرف والے پیرا کے کسی میں بھی کوئی کوما، فل اسٹاپ ہی نہیں۔ 
۳)رپیٹیشن بہت ہے جس کو جملہ از سرنو ترتیب دے کر درست اور سادہ کیا جاسکتا تھا۔
۴) ایڈٹ کرنے والے نے فائیل نام ہی عجیب غریب کردیا ہے۔ 
۵)ہیڈنگ دینا ایڈیٹر کا کام ہوتا ہے۔
۶) انٹرویو کی ہیڈنگ اس کے کہے ہوئے جملوں میں سے نکالی جاتی ہے۔ 
اپ کو جو میل بھیجی ہے اس میں جو بلیو مارکنگ کی ہے، وہ غلطیاں دیکھیں۔

مشہود علی 14جون 1991 ؁کو میر پور خاص میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے 2008 میں آکسفورڈ اسکول میرپور خاص سے میٹر ک پاس
کیا اور 2010 میں انٹرمیڈیٹ شاہ عبدالطیف ڈگری کالج سے مکمل کیا ۔ 2014 میں جامع سندھ کے شعبہ رضیت میں ڈگری حاصل کی ۔ مشہود علی اس وقت پرسٹن کالج حیدرآباد میں شعبہ رضیت بحیثیت لیکچرار کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وہ ایک اچھے استاد ہی نہیں بلکے مزاحیہ مقرر بھی ہیں۔ مزاحیہ تقریروں میں انہیں کئی اعزازات سے بھی نوازا گیا جن میں آل پاکستان مزاحیہ تقریر میں پہلی پوزیشن اور آل سندھ سولو پرفارمنس میں بھی پہلی پوزیشن حاصل ہے۔ 

س: اردو کے مباحثے کے لئے آپ نے مزاحیہ تقریر کو ہی مو ضوع کیوں بنایا؟
اس پورے پیرا میں کہیں بھی کوئی فل اسٹاپ نہیں۔ کیا ایک جملے میں دو تین بار کیونکہ آسکتا ہے؟ معاشہر اور ملک میں سے کوئی ایک استعمال کرو۔ 
ج: میں نے مزاحیہ تقریر کا آغاز اس وجہ سے کیا کیونکہ اس تقریر کی ہار میں بھی لذامت ہے جب انسان ہارتا ہے تو مایوسی کا شکار نہیں ہوتا کیونکہ لوگوں کو ہنسانا شاید دنیا کے مشکل کاموں میں سے ایک کام (اضافی ہے)ہے جو ہمارے معاشرے میں یہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے ایک ایسا ملک جہاں آپ کو ہر جگہ مایوسی ملے وہاں اگر آپ کسی کوکچھ وقت کے لیے خوشی دیں تو یہ بہت بڑی بات ہے جبکہ اس کی دوسری اہم وجوہات ( دوسری ایک وجہ ہے، اسکو جمع میں نہیں لکھا جاسکتا) یہ ہیں کہ سامعیں گرامی کی طبعیت میں کافی فروخ دلی پیدا ہو جاتی تھی اور وہ بہت دل کے ساتھ (سے) داد دیتے تھے جس کی وجہ سے انسان کو یہ محسوس ہوتا تھاچلیں اس نے کوئی تو ایسا کام کیا جس سے لوگوں کو خوشی ملی جبکہ اس کے بر عکس سنجیدہ تقریر میں جب انسان ہار جاتا تھا تو بہت افسوس ہوتا تھا اور اسی افسوس نے میرے مزاج میں مزاح پیدا کر دیا ۔ 

س: آپ کی نظر میں بہترین (پسندیدہ) مزاح نگار کون ہیں؟
ج: مزاح نگاری میں مشتاق احمد یوسفی صاحب نے حدسے زیاد ہ متاثرکیاان سے بہت کچھ سیکھنے کوملتارہتا ہے کیونکہ وہ ادبی حلقوں میں بہترین مزاح نگارہیں جیسے کہ میں ایک اسٹیج پر فارمر ہوں توبعض اوقات تقریروں میں چھچو را پن بھی شامل ہو جاتا تھا تو پھر مشتاق احمد یوسفی، انور مسود اور ڈاکٹر یو نس بٹ صاحب کو پڑھ کر بہت سی غلطیاں سد ھا رنے کا موقع ملا اسی لیے یہ میرے بہترین ( پسندیدہ)مزاح نگا روں میں سے ہیں۔

س: آپ اتنے سوشل ایکٹیوسٹ ہیں اور اتنی غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اس کے علاوہ معاشرے کے لئے عملی کام سر انجام دیے ؟
ج: معاشرے میں نوجوانوں کے لئے عملی کام کرنے کی کاوش میں ہمیشہ مشغول رہتاہوں کیو نکہ یہ بات ظاہر ہے کہ میں خود ایک نو جوان ہوں اور طالب علم ہوں تو ہم جو بھی اپنی جیب خرچی اور دوستوں کی مدد سے کر سکتے ہیں تووہ کرتے ہیں جیسے کے حال ہی میں ہم نے ایک یو تھ سیمنار انڈس ہوٹل میں منعقد کیا تھا. جسکا عنوان تھا کے بہترین نوجوان نسل ہی بہترین پاکستان بنا سکتی ہے . جس میں ہمارے استادوں نے معاشرے کے مختلف پہلوں پر روشنی ڈالی اس کے علاوہ رمضان ( کیا ماہ رمضان کا نام اس طرح لکھا جاتا ہے؟) میں مستحق بچو ں کے لئے روٹی،کپڑا جمع کرنے کے لئے بھی میرے دوست میرے ساتھ کھڑے ھوے تو ان کی مدد سے جتنا ہم کر سکتے تھے اتنا کیا اور اس کے علاوہ سندھ یونیورسٹی میں بلڈ ڈونیشن کیمپ لگوانے کے عمل کو بھی اپنی منزل تک پہنچایااور یہ ہی امید کرتے ہیں کہ جب صاحب حیثیت لوگ اور زیادہ مدد کریں گے تو اس عمل کو مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہیں ۔

س: آپ نے بیچلر میتھا میٹکس میں کیا اور آپکا ذوق اردو تقریروں میں نظر آتا ہے۔ اپنی شخصیت میں اتنے دلچسپ تضاد کی کیا وجہ ہے ۔؟
ج: اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کے مجھے شروع سے ہی تا لیا ں اور داد سنے کا شگف رہا ہے ہر انسان کی خوا ہش ہو تی ہے کہ کوئی اس کی پیٹھ تھپ تھپا ئے آپ کو آکر یہ کہے کے جو کر رہے ہیں وہ اچھا کر رہے ہے تو بس میرا یہ ہی ذوق مجھے اردو کی تقریروں اور مبحاثوں کی طرف لے گیا کیونکہ جب مین نے2011میں سندھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا تواس وقت سائنسی سبجیکٹ کا رواج زیادہ تھا اور میں بھی بہتے دریا کی روانی کی طرح ریاضی کے شعبے میں آگیا۔ اب ظاہر ہے یونیورسٹی میں ریاضی کے موضوع پر کوئی سائنسی سیمینار تو ہوا نہیں ورنہ آپ مجھے وہا ں بھی پیش پیش د یکھتے۔

س: مزاحیہ تقریروں میں آپ بہت سے شعروں کا استعمال کرتے ہیں ان میں سے آپکا پسندیدہ شعر کونسا ہے؟
ج: جی ہاں کیو نکہ اسٹیج کا ما حول ایسا ہوتا ہے تو اس لئے کبھی طنزیہ جملوں کے ساتھ ساتھ شعر کی صدارت میں رنگ دکھائی کرنا پڑتا ہے میں نے یہ شعر عامر لیاقت حسین کے شو میں بھی سنا تھا اور مجھے کافی اچھا لگتا ہے ۔
وہ آنکھ بڑی پیاری جو میں نے اسے ماری 
وہ سینڈل بڑی بھاری جو اسنے مجھے ماری 

س: آپ خود ایک نوجوان ہیں اس لئے نوجوانوں کے لئے کوئی خاص پیغام۔ 
ج: بحیثیت نوجوان ، نوجوانوں کے لئے میرا پیغام بہت سادہ سا ہے کہ آپ خود کے ساتھ ہمیشہ انصاف کریںآپ کے نام کے ساتھ نوجوان کا جو ٹیگ لگا ہوا ہے آپ د یکھے کے آپ اسے کہاں استعمال کررہے ہیں ملک اور قوم کی بہتری یا اپنی بہتری کے لئے بھی
کررہے ہیںیا نہیں اورکیا مقصد ہے زندگی کا جو مقصد ہے اسے پور اکریں۔ 

2k13/mc/102
 ------ old version ---- 

شاہ ر خ عباسی 
 2k13/mc/102
مشہود علی (انٹرویو)
مشہود علی 14جون 1991 کو میر پور خاص میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے 2008 میں آکسفورڈ اسکول میں میرپور سے میٹر ک اور 2010 میں شاہ عبدالطیف ڈگری کالج انٹرمیڈیٹ سے کیا ۔ 2014 میں جامع سندھ سے کہ شعبہ ریاضیات میں ڈگری حاصل کی ۔ مشہود علی اس وقت پرسٹن کالج حیدرآباد میں شعبہ رضیت بحیثیت لیکچرار کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وہ ایک اچھے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ مزاحیہ مقرر بھی ہیں۔ مزاحیہ تقریروں میں انہیں کئی اعزازات سے بھی نوازا گیا جن میں آل پاکستان مزاحیہ تقریر میں پہلی پوزیشن اور آل سندھ سولو پرفارمنس میں بھی پہلی پوزیشن حاصل ہے۔

س: اردو کے مباحثے کے لئے آپ نے مزاحیہ تقریر کو ہی مو ضوع کیوں بنایا؟
ج: مزاحیہ تقریر کا آغاز اس وجہ سے کیا کیونکہ اس تقریر کی ہار میں بھی لذامت ہے جب انسان ہارتا تو مایوسی کا شکار نہیں ہوتا کیونکہ لوگوں کو ہسانا شاید دنیا کے مشکل کاموں میں سے ایک کام ہے اور ہمارے معاشرے میں تو یہ بہت ہی اہم ہیں ایک ایسا ملک جہاں آپ کو ہر جگہ مایوسی ملے وہاں اگر آپ کسی کوکچھ وقت کے لیے خوشی دیں تو یہ بہت بڑی بات ہے جبکہ اس کی دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ سامعیں گرامیں کی طبعیت میں کافی فراخ دلی پیدا ہو جاتی تھی اور وہ بہت دل کے ساتھ داد دیتے ہیں اور پیٹھ تبھتبھاتے ہیں جس کی وجہ سے انسان کو یہ محسوس ہوتا ہے چلیں اس نے کوئی تو ایسا کام کیا جس سے لوگوں کو خوشی ملی جبکہ اس کے بر عکس سنجیدہ تقریر میں جب انسان ہار جاتا ہے تو بہت افسوس ہوتا ہے اور اسی افسوس نے میرے مزاج میں مزاح پیدا کر دیا ۔

س: آپ کی نظر میں بہترن مزح نگار کون ہیں؟
ج:مزاح نگاری میں مشتاق احمد یوسفی صاحب نے حدسے زیاد ہ متاثرکیاان سے بہت کچھ سیکھنے کوملتارہتا ہے کیونکہ وہ ادبی حلقوں میں بہترین مزاح نگارمیں جیسے کہ میں ایک اسٹیج پر فارمر ہوں توبحض اوقات تقریروں میں چیھچو را پن بھی شامل ہو جاتا تھا تو پھر مشتاق احمد یوسفی، انور قصود اور ڈاکٹر یو نس بٹ صاحب کو پڑھ کر بہت سی غلطیاں سیدھی کیں بہت سے جملوں کی نو ک پلک صحیح سمت میں لے آئے تواسی لیے یہ ہمارے بہترین مزاح نگا روں میں سے ہے۔

س:آپ سوشل ایکٹیوسٹ ہیں اور اتنی غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اس کے علاوہ معاشرے کے لئے عملی کام کئے ؟
ج: معاشرے میں نوجوانوں کے لئے عملی کام کرنے کی کاوش میں ہمیشہ مشغول رہتے ہیں کیو نکہ یہ بات ظاہر ہے کہ میں خود ایک نو جوان ہوں اور طالب علم ہوں تو ہم جو بھی اپنی پوکیٹ منی اور دوستوں کی مدد سے کر سکتے ہیں وہ کرتے نظر بھی آتے ہیں جیسے کے حال ہی میں ہم نے ایک یو تھ سیمنار انڈس ہوٹل میں بہترین نوجوان نسل ہی بہترین پاکستان بنا سکتی ہے کہ عنوان سے منعقد ہوا تھا جس میں ہمارے استادوں نے معاشرے کے مختلف پہلؤں پر روشنی ڈالی اس کے علاوہ رمضان میں مستحق بچو ں کے لئے روٹی،کپڑا جمع کرنے کے لئے بھی میرے دوست میرے ساتھ کھڑئے رئے تو ان کی مدد سے جتنا ہم کر سکتے تھے اتنا کیا اور اس کے علاوہ سندھ یونیورسٹی میں بلڈ ڈونیشن کیمپ لگوانے کے عمل کو بھی اپنی پایہ منزل تک پہنچایااور یہ ہی امید کرتے ہیں کہ جب صاحب حیثیت لوگ اور زیادہ مدد کریں گے تو اس عمل کو مزید آگے لے جانے میں آسانی ہوگی۔

س:آپ نے بیچلر میتھمیٹکس میں کیا اور آپکا ذوق اردو تقریروں میں نظر آتا ہے۔ اپنی شخصیت میں اتنے دلچسپ تضاد کی کیا وجہ ہے ۔؟
ج: اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کے مجھے شروع سے ہی تا لیا ں اور داد سنے کا شگف رہا ہے ہر انسان کی خوا ہش ہو تی ہے کہ کوئی اس کی پیٹھ تبھ تبھائے آپ کو آکہ یہ کہے کہ جو کر رہیں ہیں وہ اچھا کر رہے ہے تو بس میرا یہ ہی ذوق مجھے اردو کی تقریروں اور مبحاثوں کی طرف لے گیا اور کیونکہ جب مینے 2011سندھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا تواس وقت سائنسی سبجیکٹ کا رواج زیادہ تھا اور ہم بھی بہتے دریا کی روانی کی طرح ریاضی کے شعبے میں آگئے اب ظاہر ہے یونیورسٹی میں ریاضی کے موضوع پر کوئی سائنس سیمینار تو ہوا نہیں ورنہ آپ مجھے یہاں بھی پیش پیش د یکھتے۔

س:مزاحیہ تقریروں میں آپ بہت سے شعروں کا استعمال کرتے ہے ان میں سے آپکا پسندیدہ شعر کونسا ہے؟
ج: جی ہاں کیو نکہ اسٹیج کا ما حول ایسا ہوتا ہے تو اس لئے کبھی کبھی طنزیہ جملوں کے ساتھ ساتھ شعر کی صدرت میں رنگ دکھائی پڑتا ہے میں نے یہ شعر عامر لیاقت حسین کے شو میں بھی پڑھا تھا اور مجھے کافی اچھا لگتا ہے ۔
وہ آنکھ بڑی پیاری جو میں نے اسے ماری
وہ سینڈل بڑی بھاری جو اسنے مجھے ماری

س: نوجوانوں کے لئے کوئی خاص پیغام۔
ج: نواجوانوں کے لئے پیغام بہت سادہ سا ہے کہ آپ خود کے ساتھ ہمیشہ انصاف کریںآپ کے نام ساتھ نوجوان کا جو ٹیگ لگا ہوا ہے آپ د یکھے آپ اسے کہاں استعمال کررہے ہیں۔ملک کی بہتری کے لئے قوم کی بہتری یا اپنی بہتری کے لئے بھی استعمال کررہے یا نہیں وہ خود کو تراشیں اور خو دیکھے جوسارا دن دوسروں کے متعلق باتیں کرتے رہتے ہے وہ دیکھیں کہ وہ کہاں کھڑے ہے۔

Revised version is on yahoo 
group
نٹرویو میں سوال نمبر نہیں لکھا جاتا۔ سوال کے لئے س اور جواب کے لئے ج لکھا جاتا ہے۔ ایک ایک لائین کے جواب ہے۔ اس میں کوئی معلومات نہیں جس سے کسی کو کوئی فائدہ پہنچے ۔ یہ صرف تعریفی انٹرویو ہے۔

شاہ ر خ عباسی 2k13/mc/102
مشہود علی انٹرویو
 مشہود علی 14جون 1991 کو میر پور خاص میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے 2008 میں آکسفورڈ اسکول میں میرپور سے میٹر ک کیا اور 2010 میں انٹرمیڈیٹ شاہ عبدالطیف ڈگری کالج سے کیا ۔ 2014 میں جامع سندھ سے میتھم میٹکس میں ڈگری حاصل کی ۔ مشہود علی اس وقت پرسٹن کالج حیدرآباد میں بحیثیت میتھمیٹکس ٹیچر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وہ ایک اچھے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ مزاحیہ مقرر بھی ہیں۔ مزاحیہ تقریروں میں انہیں کئی اعزازات سے بھی نوازا گیا جن میں آل پاکستان مزاحیہ تقریر میں پہلی پوزیشن اور آل سندھ سولو پرفارمنس میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کی۔

سوال نمبر 1 اردو کے مباحثے کے لئے آپ نے مزاحیہ تقریر کو ہی موزوں کیوں بنایا؟
جواب مزاحیہ تقریر کا آغاز اس وجہ سے کیا کیونکہ میں پہلے جب سنجیدہ تقریر کیا کرتا تھا تو ہارنے کے بعد بہت افسوس ہوتا تھا۔ اور پھر جب مزاحیہ تقریر کا آغاز کیا اور اس میں جب بھی ہار کا سامنا ہوتا تو شکوہ نہیں ہوا تھا کیونکہ ہارنے کے بعد بھی داد ملتی تھی ۔ اور سب سے اچھی بات لوگوں کو خوشی ملتی تھی۔

سوال نمبر 2 آپ کی بہترن مزح نگار کون ہیں؟اور اس کی وجہ ۔
جواب مزح نگار میرے مشتاق احمد یوسفی صاحب ہیں ، انور مسود ۔ ان سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ مزح نگاری میں مشتاق احمد صاحب کا انداز بہت نرالا ہے۔

سوال نمبر 3 آپ اس نے سوشل ایکٹیوسٹ ہیں اور اتنی غیر نصابیاں سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اس کے علاوہ معاشرے کے لئے عملی کام کئے ۔
نواب۔ ہماری یوتھ نے بہت سے عملی کام کئے ہیں معاشرے میں نوجوانوں کے لئے بہت سے سیمنار منعقد کئے بہت سے ایونٹس نوجوانوں کے لئے مفت کئے گئے اس کے علاوہ غریبوں کے لئے راشن اور دوسری ضرورت کی چیزیں جو ہم کرسکتے تھے وہ سب کیا۔



سوال نمبر 4 آپ نے بیچلر میتھم میٹکس میں کیا اور آپکا ذوق اردو تقریروں میں نظر آتا ہے۔ اپنی شخصیت میں اتنے دلچسپ تضاد کی وہ کیا ہے ۔
جواب میرا ذوق و شوق تو شروع سے ہی اسٹیج پروگرام ، تقریریں کرنے کا تھا پر حالات سائنس کی طرف لے گئے۔ اور میں انٹر کلاس سے ہی پڑھانا شروع کردیا تھا۔ جس کی وجہ سے سائنس کے شعبوں میں داخلا لینا پڑا۔ پر میرے ذوق نے مجھے اسٹیج تک پہنچا۔

سوال نمبر 5 زندگی میں آپکو سب سے زیادہ خوشی کب ہوئی۔
جواب مجھے آج بھی یاد اور ہمیشہ رہے گا 25 دسمبر 2012 آل پاکستان مزاحیہ تقریر میں جب میں نے پہلی پوزیشن قائد اعظم ٹرافی حاصل کی۔

سوال نمبر 6 مزاحیہ شاعری میں آپ کے پسندیدہ شاعر کونسے تھے؟ان کا کوئی خوصورت شعر۔
جواب مزاحیہ شاعری میں مشتاق احمد یوسفی صاحب کی شاعری بہت پسند ہے۔
وہ آنکھ بڑی پیاری جو میں نے اسے ماری
وہ سینڈل بڑی بھاری جو اسنے مجھے ماری

سوال نمبر 7 آپ خود نوجوان ہیں اس لئے نوجوانوں کے لئے کوئی خاص پیغام۔
جواب نواجوانوں کے لئے میرا پیغام یہ ہے کہ ہمیشہ انصاف کرو اپنے ساتھ۔ خود کو دیکھو کہ کہاں کھڑے ہو۔ کیا مقصد ہے زندگی کا جو مقصد ہے اسے پور اکرو۔