Showing posts with label محمد حماد. Show all posts
Showing posts with label محمد حماد. Show all posts

Wednesday, September 9, 2015

انٹرویو مقصود احمد





محمد حماد 2k13/MC/69 
(انٹرویو مقصود احمد ) 
س اپنی تعلیم کے بارے میں کچھ بتائیے۔
جواب میرا جو تعلیمی سفر تھا بڑا ہی مفلسی میں گزرا ۔ تین سال تک میں ننگے پیر اسکول جاتا رہا اسکولوں کی حالت بڑی ہی خستہ تھی کلاسوں کا کوئی تصور نہیں تھا ہم زمین پر بیٹھ کر پڑھا کرتے تھ اساتذہ بہت اچھے تھے اور تعلیمی نظام موجودہ دور سے کافی پسماندگی کا شکار تھا۔ 



س آپ نے بنک کی نوکری کا انتخاب کیوں کیا؟
جواب در اصل بات یہ ہے کہ اس وقت بنک کی تنخواہیں دیگر ملازموں سے بہت زیادہ تھی کہ جہاں ایک گورنمنٹ ادارے کے کلرک کی تنخواہ 100سے 120 تھی وہی پر بنک کے کلر کی تنخواہ 200 روپے تھی۔ 



س آپ کو اپنے بنک ک کیرےئر میں کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب اگر موجودہ دور کے بنکوں کے نظام کی بات کی جائے تو پرانے زمانے سے بہت جدید اور بہتر ہے کیونکہ پچھلے دور میں بنکوں کے نظام مینوئل تھے کوئی کمپیوٹر کا تصور نہیں تھا ہر کام ہاتھ سے کرنا پڑتا تھا اس لئے حساب کتاب میں بہت دشواری ہوتی تھی اور ایک اور مسئلہ اس گزشتہ دور میں جو نجی اداروں میں عام تھا وہ تبادلے کا تھا کہ ہر ماہ جگہ جگہ شہروں میں سفر کرنا پڑتا تھا جس کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنہ پڑتا تھا۔ 



س آپ کو اس بنک کیریر میں سب سے بڑی کامیابی کیا حاصل ہوئی؟
جواب سب سے بڑی کامیابی مجھے یہ حاصل ہوئی جب میں ریٹائر ہوا با عزت طریقے سے ریٹائر ہوا مجھ پر کبھی کوئی کسی قسم کا چارج نہیں تھا تو وہ جانچ پڑتال کرتے تھے تو ان پر کوئی کرپشن میں تو ملوث نہیں یا کوئی کسی کے پیسے تونہیں ۔ کامیابی اور خوشی یہ ہوئی ریٹائر منٹ کے بعد ہاتھ صاف تھے اور آج کل عزت ہے کہ میں سینئر بنک آفسر ریٹائر ہوا ہوں اور آج بھٌ بنکوں میں کافی عزت ہے مختلف اور دیانت داری سے کام کیا۔ 



س آپ نئی آنے والی نسلوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
جواب آنے والے تمام ن ئے نوجوان کو یہ پیغام دنا چاہتا ہوں کہ آپ دانت دار بنے اور کسی بھی شعبے میں جائے تو پوری ایماندای سے اپنا کام سرانجام دیں محبت اور ایمانداری سے لوگوں سے پیش آئیں ہمارے بنک کے قانون میں لکھا ہوا ہے کہ کسٹمر کو عزت دینی ہے۔ اور پیار سے پیش آنا ہے۔ 

Tuesday, September 1, 2015

حیدرآباد میں کنڈا مافیہ سرگرم revised

محمد حماد 2k13/MC/69
حیدرآباد میں کنڈا مافیہ سرگرم
یہ حقیقت ہے کہ پوراملک بجلی کے بحران کے عذاب میں گھراہواہے۔بجلی کے بحران نے شہریوں،صنعت کاروں،تاجروں اوردکانداروں کو معاشی بحران میں مبتلاکردیا ہے ایسے ہی حیدر آباد نمبرمیں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے کافی تعداد میں علاقہ مکین پریشانی میں مبتلا ہے ایریگیشن کی اوربند کی زمین پر جوغیرقانونی بستی آباد ہے ان کے گھروں میں بجلی کے غیرقانونی کنڈہ کنکشن جارہے ہیں جوکہ مختلف گروہوں نے ماہانہ 300سے لیکر 600روپے تک فی گھر کے حساب سے وصولی کی جارہی ہے اس علاقے میں کافی تعداد میں غیر قانونی کنڈہ کنکشن لگے ہوئے ہیں جس سے حیسکو کو کافی بھاری نقصان ہورہا ہے اورجب لوڈزیادہ ہوتا ہے تو200 Kvکا بڑاٹرانسفرپھٹ جاتا ہے جس کی وجہ سے کئی دن تک لوگ بجلی سے محروم ہوجاتے ہیں اور یہ غیر قانونی کنڈہ کنکشن دینے میں کچھ لوگ ملوث ہیں جوکہ بجلی کے غیر قانونی کنڈہ کنکشن دیتے ہیں ۔ حیدر آباد میں یہ ایک مافیہ ہے جو کہ اس کامیں ملوث ہے ان کے مختلف لوگ اس کام کو سرانجام دے رہے ہیں اور یہ کنڈا مافیہ پوررے حیدرآباد میں جگہ جگہ کام کر رہا ہے جس میں لطیف آباد نمبر ,12 ,10,5,11 مہرعلی،حالی روڈ،گجراتی پاڑا،امریکن کواٹر،اسلام آباد، پھللی ،پریٹ آباد ، لیاقت کالونی،حسین آباد، پکہ قلعہ ،کرسچن کالونی شامل ہیں۔


حیدرآباد میں بہت سی ایسی جگہ ہیں جو کہ غیر قانونی ہے جس کی وجہ سے جو لوگ لیگل رہ رہے ہیں ان کو بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔تقریباً250سے زائد گھر اس غیرقانونی جگہ پر آباد ہیں جن کا میٹر ہی نہیں ہے ۔گزشتہ رمضان المبارک میں حیسکو نے آپریشن کیا تھاجس میں تقریباً600مکان میں سے 18گھروں کے میٹرلگے ہوئے تھے باقی سب کے سب کنڈہ کنکشن پر چل رہے تھے کچھ گھروں میں زیادہ ترتعداد میں ایئرکنڈیشن لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے لوڈ زیادہ تھااور حیسکو کی ریکوری بہت کم تھی ان کنڈہ کنکشن اوربجلی چوروں سے جو گھروہاں بجلی کا بل اداکرتے ہیں وہ کافی مشکلات میں ہیں کیونکہ حیسکو اپنی ریکوری پوری کرنے کے لئے چوری کی بجلی کے میٹر کے یونٹ ان کے بلوں میں ڈال دیے جاتے ہیں جس سے ان لوگوں کے چہروں پر ایسا سخت ری ایکشن نظر آتا ہے جیسے یہ ابھی سارے غیر قانونی کنڈہ کنکشن کاٹ دینگے اس سب ڈویژن میں20کروڑ کی بجلی استعمال ہوتی ہے اور ان کی ریکوری تقریباً12سے 14کروڑہوتی ہے جسکی وجہ سے ریکوری کو پورا کرنے کے لئے بجلی کے یونٹ میں گڑبڑھ کرکے ریکوری کو پورا کیا جاتا ہے۔

ان تمام حالات پر قابو پانے کے لئے ایک ہی طریقہ ہے کہ جولوگ بل ادا کرتے ہیں پوری ایمانداری سے وہ لوگ اس پورے علاقے میں ایک ٹیم تشکیل دی جائے ۔جیسے ہی جو لوگ غیر قانونی کنڈہ کنکشن لگائیں ان کے خلاف فوراًحیسکوہیلپ لائن پراطلاع دی جائے تاکہ ایسے لوگوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور ان سے سختی سے نمٹا جائے تاکہ ایسے عناصر اور بجلی چوروں کا خاتمہ کیا جائے تاکہ عوام الناس کو مشکلات کا سامنانہ کرنا پڑے۔

Saturday, August 22, 2015

حیدرآباد میں کنڈا مافیہ سرگرم


بہت خراب لکھا ہوا ہے۔ اور ایڈیٹنگ بھی ٹھیک سے نہیں کی گئی ہے۔

حیدرآباد میں کنڈا مافیہ سرگرم
محمد حماد
پوراملک بجلی کے بحران میں مبتلا ہے۔بجلی کے بحران نے شہریوں،صنعت کاروں،تاجروں اوردکانداروں کو معاشی بحران میں مبتلاکردیا ہے۔ حیدر آباد میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مکین پریشان ہیں۔بجلی کے بحران کا ایک بڑا سبب بجلی کی چوری ہے، جس کو حیسکو اور دیگر ڈسکو کمپنیاں روکنے میں ناکام رہی ہیں۔ 

شہر کے گنجان علاقے ہوں یا کچی آبادیاں اکثر مقامات پر کنڈا سسٹم چلتا ہے۔ حیدرآباد میں ایریگیشن اوربند کی زمینوں پر غیرقانونی بستی آباد ہیں جن کے گھروں میں بجلی کے غیرقانونی کنڈا کنکشن چل رہے ہیں جوکہ مختلف گروہوں نے ماہانہ 300سے لیکر 600روپے تک فی گھر کے حساب سے ان کو جاری کیئے ہیں۔ کافی تعداد میں غیر قانونی کنڈا کنکشن لگنے کی وجہ سے حیسکو کو کافی بھاری نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ 

غیر قانونی کنڈا کنکشن دینے میں چند لوگ ملوث ہیں ۔اور یہی لوگ اس کام کو سرانجام دے رہے ہیں اور یہ کنڈا مافیہ پورے حیدرآباد میں جگہ جگہ کام کر رہی ہے جس میں لطیف آباد نمبر ,12 ,10,5,11 مہرعلی،حالی روڈ،گجراتی پاڑا،امریکن کواٹر،اسلام آباد، پھلیلی ،پریٹ آباد ، لیاقت کالونی،حسین آباد، پکہ قلعہ ،کرسچن کالونی شامل ہیں۔

حیدرآباد میں بہت سی ایسی جگہ ہیں جہاں غیر قانونی آبادی قا ئم ہے جس کی وجہ سے جو لوگ قانونی طور پر رہ رہے ہیں ان لوگوں کو بھی بجلی کے بحرا ن میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔تقریباً250سے زائد گھر غیرقانونی جگہ پر آباد ہیں جن میں بجلی کے میٹر ہی نہیں ہے ۔گزشتہ ماہ رمضان میں حیسکو کے آپریشن میں معلوم ہوا کہ تقریباً600مکانوں میں سے 18مکانوں میں بجلی کے میٹرلگے ہوئے تھے اور باقی تمام کنڈا کنکشن پر چل رہے تھے۔ کچھ گھروں میں ایئرکنڈیشنر بھی تھے۔ 

ان کنڈا کنکشن اوربجلی چوروں کی وجہ سے جو گھر بجلی کا بل اداکرتے ہیں انہیں کافی مشکلات کا سامناکرنا پڑ رہا ہے کیونکہ حیسکو اپنی ریکوری پوری کرنے کے لئے چوری کی بجلی کے میٹر کے یونٹ شریف قسم کے صارفین کے بلوں میں ڈال دیتا ہے جس سے ان صارفین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔ 

حیدرآباد ڈویژن میں تقریباً 20کروڑ کی بجلی استعمال ہوتی ہے اور اس کی ریکوری تقریباً12سے 14کروڑہوتی ہے جسکی وجہ سے ریکوری کو پورا کرنے کے لئے بجلی کے یونٹ بڑھاکر ریکوری کو پورا کیا جاتا ہے۔

صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ جولوگ ایمانداری سے بل ادا کرتے ہیں وہ لوگ اپنے پورے علاقے میں ایک ٹیم تشکیل دیں ۔جس سے وہ لوگ جو غیر قانونی کنڈا کنکشن ملوث ہیں ان کے خلاف فوراًحیسکوہیلپ لائن پراطلاع دی جائے تا کہ ایسے لوگوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور ان کے ساتھ سختی 
سے نمٹا جائے ۔
بہت خراب لکھا ہوا ہے۔ اور ایڈیٹنگ بھی ٹھیک سے نہیں کی گئی ہے۔
2k13/MC/69
------ ------------------------------------FIRST VERSION------------------------------------------------
آرٹیکل چھوٹا ہے۔ ایک سو ڈیڑھ سو الفاظ اور بڑھاؤ۔ اور صرف لطیف آباد کیوں؟ باقی شہر کا بھی حوالہ دو۔ صرف ایک ایریا کو ٹارگیٹ کرنا اچھا نہیں۔
ye bijli mafia nhe kund amafia kahlati hae
محمد حماد 2k13/MC/69
بجلی مافیہ لطیف آباد میں سرگرم
یہ حقیقت ہے کہ پوراملک بجلی کے بحران کے عذاب میں گھراہواہے۔بجلی کے بحران نے شہریوں،صنعت کاروں،تاجروں اوردکانداروں کو معاشی بحران میں مبتلاکردیا ہے ایسے ہی لطیف آباد نمبر5میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے کافی تعداد میں علاقہ مکین پریشانی میں مبتلا ہے ایریگیشن کی اوربند کی زمین پر جوغیرقانونی بستی آباد ہے ان کے گھروں میں بجلی کے غیرقانونی کنڈہ کنکشن جارہے ہیں جوکہ مختلف گروہوں نے ماہانہ 300سے لیکر 600روپے تک فی گھر کے حساب سے وصولی کی جارہی ہے اس علاقے میں کافی تعداد میں غیر قانونی کنڈہ کنکشن لگے ہوئے ہیں جس سے حیسکو کو کافی بھاری نقصان ہورہا ہے اورجب لوڈزیادہ ہوتا ہے تو200 Kvکا بڑاٹرانسفرپھٹ جاتا ہے جس کی وجہ سے کئی دن تک لوگ بجلی سے محروم ہوجاتے ہیں اور یہ غیر قانونی کنڈہ کنکشن دینے میں کچھ لوگ ملوث ہیں جوکہ بجلی کے غیر قانونی کنڈہ کنکشن دیتے ہیں ۔لطیف آباد میں یہ ایک مافیہ ہے جو کہ اس کامیں ملوث ہے ان کے مختلف لوگ اس کام کو سرانجام دے رہے ہیںیہ ایک کچی بستی ہے جو کہ غیر قانونی ہے جس کی وجہ سے جو لوگ لیگل رہ رہے ہیں ان کو بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔تقریباً250سے زائد گھر اس غیرقانونی جگہ پر آباد ہیں جن کا میٹر ہی نہیں ہے ۔گزشتہ رمضان المبارک میں حیسکو نے آپریشن کیا تھاجس میں تقریباً600مکان میں سے 18گھروں کے میٹرلگے ہوئے تھے باقی سب کے سب کنڈہ کنکشن پر چل رہے تھے کچھ گھروں میں زیادہ ترتعداد میں ایئرکنڈیشن لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے لوڈ زیادہ تھااور حیسکو کی ریکوری بہت کم تھی ان کنڈہ کنکشن اوربجلی چوروں سے جو گھروہاں بجلی کا بل اداکرتے ہیں وہ کافی مشکلات میں ہیں کیونکہ حیسکو اپنی ریکوری پوری کرنے کے لئے چوری کی بجلی کے میٹر کے یونٹ ان کے بلوں میں ڈال دیے جاتے ہیں جس سے ان لوگوں کے چہروں پر ایسا سخت ری ایکشن نظر آتا ہے جیسے یہ ابھی سارے غیر قانونی کنڈہ کنکشن کاٹ دینگے اس سب ڈویژن میں20کروڑ کی بجلی استعمال ہوتی ہے اور ان کی ریکوری تقریباً12سے 14کروڑہوتی ہے جسکی وجہ سے ریکوری کو پورا کرنے کے لئے بجلی کے یونٹ میں گڑبڑھ کرکے ریکوری کو پورا کیا جاتا ہے۔
ان تمام حالات پر قابو پانے کے لئے ایک ہی طریقہ ہے کہ جولوگ بل ادا کرتے ہیں پوری ایمانداری سے وہ لوگ اس پورے علاقے میں ایک ٹیم تشکیل دی جائے ۔جیسے ہی جو لوگ غیر قانونی کنڈہ کنکشن لگائیں ان کے خلاف فوراًحیسکوہیلپ لائن پراطلاع دی جائے تاکہ ایسے لوگوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور ان سے سختی سے نمٹا جائے تاکہ ایسے عناصر اور بجلی چوروں کا خاتمہ کیا جائے تاکہ عوام الناس کو مشکلات کا سامنانہ کرنا پڑے۔

Monday, August 17, 2015

انٹری ٹیسٹ کو کاروبار بنا CHnage this

اسد کا بھی یہی ٹاپک ہے۔ آپ کوئی دوسرا اپروو کرالو۔ یہ نہیں چلے گا۔ اسد نے بہت اچھا لکھاہوا ہے
محمد حماد 2k13/MC/69
آرٹیکل لطیف آباد کے تعلیمی اداروں نے انٹری ٹیسٹ کو کاروبار بنا لیا

کسی بھی ملک اور معاشرے میں تعلیم کا کر دار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ تعلیم معاشرے میں موجود بگاڑ کو ختم کرنے میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم انسان کو عقیل و شعور کے ساتھ ساتھ اس کو زندگی میں ہونے والے تغیر و تبدیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے تعلیم انسانی زندگی کا وہ واحد جزوہے۔

لیکن اگر اس تعلیم کو کاروبار بنالیا جائے تو پھر معاشرے سے شعور ختم ہو جاتاہے۔ اور تعلیم صرف کاروبار ہی بن کر رہ جاتی ہے۔ اور تعلیمی کاروبار میں سب سے زیادہ نجی ادارے شامل ہیں ۔

ایسے ہی لطیف آبادکے مختلف علاقوں میں بہت سے ایسے نجی کوچنگ انسٹیٹوٹ جو کے کوچنگ کے ساتھ ساتھ انٹری ٹیسٹ کو بھی کاروبار بنالیا ہیں لطیف آباد میں کوچنگ اور انٹری ٹیسٹ کے 20 سے زاہد چھوٹے بڑے ادارے شامل ہیں اور لطیف آباد کے مشہور اور بڑے اداروں میں 15 ہزار سے 25 ہزار فیس اور جو کے چھوٹے اداروں میں 8 ہزارسے 10 ہزار تک فیس وصول کی جاتی ہیں اور جو بڑے ادارے ہیں وہ ہر سال 2 سے 3 کڑوڑ روپے انٹری ٹیسٹ سے کماتے ہیں اور ان اداروں نے طلباء اور طالبات کے اندر ایسا تجسوس پیداکر دیا ہے کہ ہر طالبعلم یہ سوچتا ہیں کہ اگر انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرو گا تو مجھے کسی بھی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں ملے گا۔اور یہی ادارے اس بات کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ لطیف آبادمیں تعلیم کے نام پر پیسے بٹورنیوالے ادارے جنہونے تعلیمی ڈھانچے کو انتہائی تباہ کن حالات میں پنہچا دیا ہے۔ ایک کہاوت ہے کہ ۂٌٖ(چار پاکستانی ہی ایک جانب چل سکتے ہیں جب پچواں چار پائی پر ہو۔)
یہی حال لطیف آبادمیں انٹری ٹیسٹ کے اداروں کا ہے اور سب نے اس کاروبار میں ایکا کیا ہوا ہیں اور طلباء اور طالبات کی
مجبوری سے بھرپور فائدہ اٹھا یا جارہا ہیں۔۔

فیچر کھوکر محلہ Revised

محمد حماد  
فیچر کھوکر محلہ


آج سے تقریباً45سال پہلے حیدرآباد کے دو مشہور سڑکوں اسٹیشن روڈ اور رسالہ روڈ کے درمیان واقع کھوکھرمحلہ میں چھوٹے چھوٹے گھرہواکرتے تھے۔ برطانوی راج کے دوران اس علاقہ کو ویسٹ کچا یعنی مغربی کچا کہا جاتا تھا۔ کھوکھر محلے کے پرانے باسیوں کا کہنا ہے کہ پہلے یہاں کافی تعداد میں بھینسوں کے باڑے ہوا کرتے تھے ۔کھوکھر محلہ کئی خصوصیات کا حامل رہا ہے۔ مشہور یونورسٹی کے اساتذہ، شاعروں ادیبوں ، اور فنکاروں ، وکلاء، صحافیوں کا مسکن رہا ہے۔ مسافروں کے لئے سوزوکی اسٹینڈبھی سب سے پہلے یہاں پر تھاجوکہ اب تھوڑا چندقدم آگے منتقل ہوگیا ہے ۔کھوکھرمحلہ مختلف اقسام کے کاروبار کے لحاظ سے اپنی پہچان رکھتا ہے۔

یہاں کھوکھربرادری کے کافی لوگ رہائش پذیر ہوا کرتے تھے۔ جن میں سے کچھ لوگ ابھی بھی موجود ہیں۔

گزشتہ دو عشروں کے دوران اس محلہ کی نوعیت رہائشی سے بدل کر کاروباری ہو گئی ہے۔ یہاں موٹر سائیکل کی خریدوفروخت کے علاوہ اور بھی بہت سے کاروبار ہوتے ہیں۔ کھوکھرمحلہ الگ الگ ٹکڑوں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک طرف موٹرسائیکل کے مکینک اورشوروم ہیں تودوسری طرف فرنیچرمارکیٹ اور شادی کارڈسینٹر اپنا کاروبارچمکاکربیٹھے ہوئے ہیں ۔کھوکھرمحلہ موٹرسائیکل مارکیٹ کے حوالے سے اپنی ایک پہچان رکھتا ہے ۔کیونکہ یہ حیدرآباد کی موٹرسائیکل کے کاروباری کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں میں تقریباًموٹر سائیکل کی 200سے زائد دکانیں ہیں۔جن میں60فیصدموٹر سائیکل کے شوروم اور دکانیں ہیں،باقی 30فیصدفرنیچراور دیگر دکانیں ہیں۔کھوکھرمحلے میں46موٹرسائیکل ڈیلر رجسٹرڈ ہیں جوکہ اپنی پہچان رکھتے ہیں اور مختلف برانڈ کی موٹر سائیکل خریدوفروخت کرتے ہیں۔یہ محلہ حیدرآباد کاسب سے بڑا کاروباری مرکزہے ۔یہاں پر تقریباً 1000سے زائدنئی اور پرانی گاڑیاں فروخت کے لئے موجود ہیں مگرنئی گاڑیوں کی شرح پرانی سے زیادہ ہے۔ اورروزانہ تقریباً 200سے زائد گاڑیاں فروخت ہوتی ہیں ۔جن میں زیادہ ترپرانی موٹرسائیکل خریدوفروخت ہوتی ہیں۔

کھوکھرمحلے میں قدم رکھتے ہی ایک عجیب و منظر کا سامنا ہوتاہے۔ چاروں طرف ٹریفک کا رش ہوتاہے اورشام کے وقت یہ محلہ مچھلی مارکیٹ کا منظر پیش کررہا ہوتا ہے اور گاڑیوں کا شور شرابہ اس قدر ہوتا ہے کہ کان پڑی آواز بھی نہیں سنائی دیتی ۔ خریدار سے زیادہ لوگ موٹر سائیکل کے نئے ماڈل دیکھنے اورفوٹوکھینچ کر لطف اندوزنظر آتے ہیں ۔ موٹر سائیکل بیچنے والا ہر 5سے7منٹ بعداپنی گاڑیوں کو کپڑا مارنے اور چمکانے میں مصروف ہوجاتا ہے تاکہ اس کی گاڑی دوسرے سے پہلے سیل ہوجائے ۔جیسے ہی موٹرسائیکل کی منڈی سے تھوڑا آگے بڑھتے ہیں تو موٹرسائیکلوں کی سجاوٹ کی دکانیں نظرآتی ہیں۔جہاں ہر موٹرسائیکل کو اورزیادہ خوبصورت اوردلہن کی طرح سجانے کاسامان فروخت ہوتا ہے ۔

کبھی چوری کی موٹرسائیکل بھی مارکیٹ میں فروخت کے لئے آجاتی ہیں اور کچھ ایسے واقعے بھی ہوتے ہیں کہ پرانی گاڑیوں پر نیاکلرکرکے اور جینین سامان نکال کر جعلی سامان ڈال کر خریداروں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔بعض اوقات موٹرسائیکل کے کاغذات میں گڑ بڑکے با عث خریدار اور ڈیلر آپس میں لڑنے اور کاٹنے پر اتر آتے ہیں ۔یہ کام وہ برساتی ڈیلر ز کرتے ہیں جولوگوں کو بے وقوف بنا کرایسے غائب ہوتے ہیں جیسے 
گدھے کے اوپر سے سنگھ ۔

محمد حماد 2k13/MC/69 
اکتوبر 2015 
Practical work was done under supervision of Sir Sohail Sangi 
---------------------------------------------------------------------------------------------------------
seems ok. needs editing. photos are dull ask hammad to get clear photos
 Revised
محمد حماد 2k13/MC/69
فیچر کھوکر محلہ
حیدرآبادکھو کھر محلہ آج سے تقریباً45سال پہلے کھوکھرمحلہ حیدرآبادمیں چھوٹے چھوٹے گھرہواکرتے تھے۔یہاں کے ایک شوروم والے کا کہناتھاکہ کھوکھر محلے میں سب سے پہلے یہاں بھینسوں کے باڑے ہوا کرتے تھے کافی تعداد میں اور مسافروں کے لئے سوزوکی اسٹینڈبھی سب سے پہلے یہاں پر تھاجوکہ اب تھوڑا چندقدم آگے منتقل ہوگیا ہے ۔کھوکھرمحلے کا چوتھائی حصے کا نام فرید محلہ ہے۔فرید پاکستانی ڈراموں میں اداکارتھاکھوکھرمحلے میں مختلف اقسام کے کاروبار اکے لحاظ سے اپنی پہچان رکھتا ہے کھوکھر محلے میں موٹر سائیکل کی خریدوفروخت کے علاوہ بھی بہت سے کاروبار سرانجام دیے جارہے ہیں بلکہ کھوکھرمحلہ الگ الگ ٹکڑے بنٹا ہوا ہے۔یہاں پر ایک طرف موٹرسائیکل کے مکینک اورشوروم والے اپنا کام سرانجام دے رہے ہیں اور دوسری طرف فرنیچرمارکیٹ اور شادی کارڈسینٹر اپنا کاروبارچمکاکربیٹھے ہوئے ہیں ۔حیدرآبادمیں بہت سی جگہ ہے کھوکھرمحلہ اپنی ایک موٹرسائیکل مارکیٹ کے حوالے سے اپنی ایک پہچان رکھتا ہے ۔کھوکھرمحلہ جوکہ حیدرآباد کی مشہور ترین جگہ ہے اس جگہ پرکھوکھربرادری کے کافی لوگ رہائش پذیربھی ہیں کھوکھرمحلہ حیدرآباد کی موٹرسائیکل کے حوالے سے سب سے بڑی کاروباری مارکیٹ ہے جوکہ کافی پرانی بھی ہے اس کھوکھرمحلے میں تقریباًموٹر سائیکل کی 200سے زائد دکانیں ہیں۔جن میں60فیصدموٹر سائیکل کے شوروم اور دکانیں ہیں باقی 30فیصدفرنیچراور دیگر دکانیں ہیں جن میں مختلف قسم کے کاروبارسرانجام دیے جارہے ہیں کھوکھرمحلے میں46موٹرسائیکل ڈیلر رجسٹرڈ ہیں جوکہ اپنے اپنے ناموں سے اپنی پہچان رکھتے ہیں اور مختلف قسم کی موٹر سائیکل خریدوفروخت کرتے ہیں کھوکھرمحلہ حیدرآباد کاسب سے بڑا کاروباری مرکزہے یہاں پر تقریباً 1000سے زائد گاڑی فروخت کے لئے موجود ہے جن میں نئی اور پرانی گاڑی موجود ہیں مگرنئی گاڑیوں کی شرح پرانی سے زیادہ ہے اورروزانہ تقریباً 200سے زائد گاڑیاں فروخت ہوتی ہیں جن میں زیادہ تر موٹرسائیکل خریدوفروخت ہوتی ہیں جن میں زیادہ ترموٹرسائیکل پرانی ہوتی ہیں۔
جیسے ہی کھوکھرمحلے میں قدم رکھتے ہیں تو ایک عجیب و غریب منظرنظرآتاہے چاروں طرف لوگوں اور موٹرسائیکل کا رش ہوتاہے اورشام کے وقت کھوکھرمحلہ مچھلی مارکیٹ کا منظر پیش کررہا ہوتا ہے اور گاڑیوں کا شور شرابہ اس قدر ہوتا ہے کہ لوگوں کی اپنی آواز بھی نہیں سنائی دیتی اور خریدار سے زیادہ لوگ موٹر سائیکل کے نئے ماڈل دیکھنے اورفوٹوکھینچ کر مزے لینے آتے ہیں مگر جو خریدارہوتا رپرانی موٹرسائیکل کووہ ایسے چیک کرتا ہے جیسے کہ وہ نئی گاڑی کے پیسے دیکر جائیگا،کبھی ریس چیک کریگا کبھی اسٹا ٹراوربعض اوقات تو 4سے5چکر مارتے ہیں موٹر سائیکل پر بیٹھ کر یہاں پر ہم نے دیکھا کہ موٹر سائیکل بیچنے والا ہر 5سے7منٹ بعداپنی گاڑیوں کو کپڑا مارنے اور چمکانے میں مصروف ہوجاتا ہے تاکہ اس کی گاڑی دوسرے سے پہلے سیل ہوجائے ۔جیسے ہی موٹرسائیکل کی منڈی سے تھوڑا آگے بڑھتے ہیں تو موٹرسائیکلوں کے ذیور کی دکانیں نظرآتی ہیں جہاں ہر موٹرسائیکل کو اورزیادہ خوبصورت اوردلہن کی طرح بنانے سجانے کاسامان فروخت ہورہا تھاہم نے دیکھا زیادہ تررش نوجوان لڑکوں کا تھاجوکہ اپنی موٹرسائیکل کو خوبصورت سے خوبصورت بنانا چاہتے ہیں۔ان لڑکوں کی زبان کے مطابق اُس موٹرسائیکل کو سجانے (آلٹر )کا نام دیا جاتا ہے۔ان دکانوں پر ہزاروں کی تعداد میں مختلف مختلف موٹرسائیکل سجانے کاسامان فروخت ہورہاتھا۔
یہاں پر کبھی ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں کہ چوری کی موٹرسائیکل بھی مارکیٹ میں فروخت کے لئے آجاتی ہیں جوکہ ڈیلر اور خریدار کو سوچنے پر مجبورکردیتی ہیں اور کچھ ایسے واقعے بھی ہوتے ہیں کہ پرانی گاڑیوں پر نیاکلرکرکے اور جینین سامان نکال کر جالی لوکل سامان خریداروں کو بے وقوف بنادیا جاتا ہے۔بعض اوقات ایسے بھی واقعات ہوتے ہیں کہ موٹرسائیکل کے کاغذات میں گڑھ بڑھ ہوتی ہے جس کی وجہ سے خریدار اور ڈیلر آپس میں لڑنے مرنے اور کاٹنے پر اتر آتے ہیں یہ کام وہ کرتے ہیں کہ جو برساتی ڈیلر ہوتے ہیں جولوگوں کو بے وقوف بنا کرایسے غائب ہوتے ہیں کہ جیسے گدھے کے اوپر سے سنگھ غائب ہوتے ہیں۔

-----------------------------------------
old version

محمد حماد

2k13/MC/69

فیچر کھوکر محلہ
یہ بہت چھوٹا ہے۔ ڈیڑھ دو سو الفاظ اور بڑھاؤ۔ کھوکھر محلے کی پرانی تاریخ لکھو۔ کب سے اس صورتحال میں آیا؟ پہلے کیا تھا۔ لوکیشن کس طرح سے ہے۔ وغیرہ۔ اس کھوکھر محلے سے متعلق بعض واقعات اور قصے بھی ہونگے وہ لکھو۔ فیچر کو دلچسپ ہونا چاہئے۔ تصویر بھی چاہئے۔ اگر پرانی کوئی تصویر مل جائے تو اور بھی اچھا ہے۔
حیدرآباد میں بہت سی ایسی جگہ ہیں جو حیدرآباد کی پہچان ہیں۔ کچہ قلعہ ، حیدر چوک، گول بلڈنگ جو کہ حیدرآباد کی  مشہور جگہ ہیں۔ 
ان ہی
میں سے ایک کھو کھر محلہ بھی ہے جو موٹر سائیکل کل کی سب سے بڑی کاروباری جگہ ہے ۔ اس کھو کھر محلے تقریب 200 سے زائد دکانیں ہیں جس میں سے 70 فیصد موٹر سائیکل کے شو روم اور دکانیں ہیں۔ باقی 30 فیصد فرنیچر اور دیگر دکانیں ہیں اور یہ حیدرآباد کا سب سے بڑا کاروباری مراکز ہے۔ سر کھوکھر صحابہ میں تقرباً 10,000/- سے زائد گاڑی فروخت کے لیے موجود ہیں۔ جن میں نئی اور پرانی گاڑی زائدہ ہیں مگر نہیں گاڑیوں کی شرح پرانی سے زیادہ ہے اور 
روزانہ تقریباً 200 سے زائد گاڑی فروخت ہوتی ہیں۔ جن میں زیادہ تر تعداد پرانی گاڑیوں کی ہوتی ہے۔

جیسے ہی کھوکھر محلہ میں قدم رکھتے ہیں تو ایک عجیب منظر نظر آتا ہے۔ کہ چاروں لوگوں اور موٹر سائیکلوں کا رش

 اور شام کے وقت کھو کھر مچھلی مارکیٹ کا منظر پیش کررہا ہوتا ہے۔ اور گاڑیوں کا شور اس قدر ہوتا ہے کہ کوئی آواز سنائی نہیں دیتی اور خریدار سے زیادہ عوام موٹر سائیکل دیکھئے اور مزے لینے آئی ہے کہ کوئی ایسی چیک کرررہا ہے تو کوئی اپنی گاڑی کو چمکانے میں مصروف اور جیسے ہی تھوڑا بڑھے ہیں تو موٹرسائیکلوں کے ذیور کی دکانیں نظر آتی ہیں جہاں پر زیادہ تر رش نوجوان نسل کا ہوتا ہے ہر کوئی اپنی گاڑی کو خوبصورت ہے خوبصورت تر بنانے میں مصروف ہوتا ہے۔
جن میں سے کچھ موٹر سائیکل بیچنے والوں سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر عوام صرف تفریح کے لئے آتی ہے اور خریدار بہت کم ہوتے ہیں۔ اور یہی کچھ کہنا شو روم والوں کا بھی تھا۔
محمد حماد 2k13/MC/69
اگست 2015


Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi