Showing posts with label MC-2k13. Show all posts
Showing posts with label MC-2k13. Show all posts

Monday, August 17, 2015

حیدرآبادمیں انٹری ٹیسٹ کا بازار سرگرم

اس کا انٹرو کچھ بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ تھوڑا سا انٹری ٹیسٹ کو ڈیفائین کرو. 
Un eidted
تحریر: اسد علی
رول نمبر 2k13/mc/17
حیدرآبادمیں انٹری ٹیسٹ کا بازار سرگرم
تعلیم حاصل کرنا ہر خاص و عام کا بنیادی حق ہے۔چاہے وہ امیر کا بچہ ہوہویا کسان کا، صنعت کا ر کا لخت جگر ہویا فیکٹریوں میں محنت کرتے مزدوروں کے جگر گوشے، ان تمام کی بہتر تعلیم وتربیت کا ذمہ ریاست پر عائد ہوتا ہے کہ وہ ان کو معیاری تعلیم فراہم کر کے معاشرے کا باشعور فرد بنائے جو اپنی صلاحیتوں سے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ بدحالی کا شکار سرکاری اسکول اس نظرئیے کے بلکل بر عکس معلوم ہوتے ہیں۔جس کے باعث والدین بچوں کو پرائیویٹ اسکول اور کالجز میں پڑھانے پر مجبور ہیں، اس کے علاوہ آج کل پرائیویٹ انٹری ٹیسٹ ادارے جو کہ والدین کو ان کے بچوں کے روشن مستقبل کا خواب دیکھا کر خوب اپنا کاروبار چمکانے میں سر گرم عمل ہیں۔
حیدرآباد میں ان سینٹرز کی تعداد50 کے قریب ہے۔5 2 حیدرآباد سٹی میں،10 قاسم آباد جبکہ15لطیف آباد میں اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان سینٹرز میں تقریباٌ7000 سے8000 طالبعلم اپنے روشن مستقبل کے لئے قسمت آزماتے نظر آتے ہیں۔اگر ایک سینٹر کی بات کی جائے تو اس سینٹر میں طالبعلموں کی تعداد800 سے1000 ہوتی ہے، جبکہ کلاسوں کی تعداد8 سے10 جن میں 40 طالبعلم باآسانی بیٹھ سکتے ہیں۔ان سینٹرز میں طالبعلموں کو اعلی پائے کے اساتذہ کی خدمات حاصل ہوتی ہیں،جو اپنی فیلڈ میں مہارت کے ساتھ کئی سالوں کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرنے والے طالبعلموں میں 500طالبعلم اپنی خواہش کے مطابق انجینئرنگ یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجوں میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں،جو مجموعی تعداد کا صرف6.5% فیصد ہی ہے۔ ان اداروں کی فیس ہر سال بڑھادی جاتی ہے، جس کا جواز زائد اخراجات بتائے جا تے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال ان اداروں کی فیسوں میں3000 سے5000 روپے بڑھادیئے جاتے ہیں،جس ادارے کی فیس 2013 میں 15000 تھی،2014 میں بڑھاکر 20000 کردی گئی جبکہ2015 میں 25000تک وصول کی جارہی ہے۔ اگر ان کی آمدن کاتخمینہ لگایا جائے تو وہ لاکھوں سے بڑھ کر کروڑوں تک جاپہنچی ہے، جس پر چیک اینڈ بیلنس کا کوئی خاص انتظام نظر نہیں آتا۔ والدین اس حوالے سے کافی پریشان دیکھائی دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہر سال ان اداروں کی فیسوں میں اضافے سے یون لگتا ہے کہ تعلیم اب محض تعلیم نہیں رہی بلکہ اسے کاروبار کی شکل دے کر غریب عوام کی پہنچ سے دور کیا جارہا ہے۔
حیدرآباد سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے ،جس کی وجہ سے سندھ کے دیگر شہروں بدین، میرپورخاص، ڈگری، ٹنڈوالہیار، دادو،لاڑکانہ اور کشمور کے علاقوں سے متعدد طالبعلم تعلیم حاصل کرنے کے لئے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔یہ طالبعلم شہر کے دیگر علاقوں لطیف آباد، قاسم آباد،جی - او- آر کالونی میں 2 سے3 کمروں کے فلیٹس میں6 سے8 طالبعلم رہائش پذیر ہوتے ہیں، ان فلیٹس کا کرایہ5000 سے10000 تک مہوار ہوتا ہے۔یہ طالبعلم اپنے آبائی گھروں سے دور اپنے روشن مستقبل کا خواب سجائے خوب محنت کر تے دیکھائی دیتے ہیں۔زائد فیسوں اور کرایوں پر یہ پر دیسی بھی شکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔ اگر ہمارے سرکاری اسکولوں اور کالجوں کی حالت زار بہتر کردی جائے اور وہ اساتذہ جو پرائیویٹ اداروں میں تو اپنی ڈیوٹی اور فرائض ایمانداری سے نبھاتے ہیں، اگر ان کی حاضری سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں بھی اسی طرح ممکن بنادی جائے تو ان بچوں کو کبھی پرائیویٹ اداروں کا سہارا نہ لینا پڑے۔ 

اسد علی 

رول نمبر 2k13/mc/17
This practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi

عرس مبارک لعل شہباز قلندر Revised

Ur feature was too long (1500 words) I tried to edited and put into feature form. Still it is long for publication in Roshni. we can publish it on web site or Blog.  We will need some photos of Mela.
For filing interview, deadline has expired, no piece is accepted after deadline. 
 I am sending u edited piece also 
 There are lot of proof mistakes

محمد مہد:رول نمبر 122:بی ایس پارٹ 3

فیچر: عرس مبارک حضرت لعل شہباز قلندر

بزرگان دین کے مزارات پر منعقدہ عرس کی تقاریب صوبے کی اس ثقافت کا جزو ہے جس میں راواداری ،تحمل،برداشت کو بنیادی حثیت و اہمیت حامل ہے۔رواں سال لعل شہباز قلندرؒ کے عرس کی تقریب کی میڈیا کوریج کا موقعہ ملا۔ کوریج کے لئے ہم لوگ سینئر پروڈیوسر محمد عارف کے ہمراہ ریڈیو سے ایک دن پہلے
ہی را ت کو سہون کے لئے نکل گئے ۔
لعل شہباز آذربائجان کے علاقے مروند میں 538 ؁ ہجری میں پیدا ہوئے۔ آپ سندھ کے ان بزرگان دین میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی صوفی منش طبیعت لیکن قلندرانہ کیفیت کے باعث جلالی مزاج کے حامل ہیںآپکی وفات21 شعبان بمطابق 637 ؁ ہجری کو ہوئی اور وہ سیہون میں مدفون ہیں۔۔فیروز شاہ تغلق کے عہد میں رکن الدین عرف ملک اختیار الدین نیان کا روضہ تعمیر کرایا ۔ آج تک ہر سال عرس کی تقریب 20,19,18 شعبان کو منعقد کی جاتی ہے ۔



ہم جسے ہی سہون شہر میں داخل ہوئے تو اس وقت رات کے چار بج رہے تھے مگر دن کا سا سماء تھا۔ سندھ میں ہر عرس کی تقریب تقریباایک جیسی ہی ہوتی ہے عرس میں درگاہ کو رنگین بتیوں سے سجایا ہوا تھا درگاہ کے برابر میں میٹھایوں سمیت کئی چھوٹے بڑے اسٹال لگائے ہوئے تھے۔پورے شہر میں میلے کا سا سماء لگ رہا تھا مختلف اقسام کے جھولے لگے ہوئے تھے جس سے لوگ خوب لطف اندوز ہو رہے تھے ۔



جب ہم ہماری رہائش کی جانب جا رہے تھے تو پولیس والوں نے ہمیں روک دیا اور ہمارے بارہا کہنے کے بعد بھی کہ ہم ریڈیو پاکستان کی جانب سے ہیں ہمیں اندر نہیں جانے دیاجبکہ اس وقت وہاں سے کئی گاڑیاں گزر رہیں تھں۔ مجھے بہت افسوس ہوا اور سوچ رہا تھا کہ ہم واقع ہی ایک آزاد ملک میں رہتے ہیں جہاں اپنا کام شروع کرنے سے پہلے بھی اجازت لینی پڑتی ہے۔ 



صبح ہوتے ہی ہم درگاہ گئے جہاں مشیر اوقاف نے چادر چڑھا کر عرس کا باقاعدہ افتتاح کیا ۔جبکہ عرس شروع ہونے سے پہلے ہی پاکستان سمیت دنیا بھر سے لاکھوں عقیدت مند حاضری کے لئے آئے ہوئے تھے اور مزید بھی قافلوں کی شکل میں آرہے تھے ۔ ہر گھنٹے میں ہزاروں لوگ مزار پر چادر چڑھاتے اور دعا مانگتے تھے اور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ۔کئی لوگ دھمال ڈال کر اپنی عقیدت کا اظہار کرتے نیاز و لنگر کرتے جس سے کئی آنے والے ظاہرین کے لئے کھانے کا اہتمام ہو جاتا تھا ۔



عرس میں تینوں دن تقاریب منعقد کی گئی تھیں۔ایک ایکسپو سینٹر کا بھی انعقاد کیا گیا۔ ہم لوگ وہاں انفارمیشن دیپارٹمینٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے ساتھ کوریج کے لئے گئے تو وہاں مختلف اشیاء کے اسٹال لگے ہوئے تھے جو کہ سندھ کی تاریخ اور ثقافت ک عکاسی کرتے اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے جس سے لوگوں کو دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا۔ اس کا افتتاح ممبر صوبائی اسمبلی فقیر داد کھوسو نے کیا اور سب اسٹال پر جا کر اسٹال کا جائزہ لیا اور میدیا سے گفتگو کی۔

زائرین کی تفریح کے لئے سندھ اور پنجاب کی ثقاف کو اجاگر کرتا کھیل ملاکڑے کا انعقاد بھی کیا گیا جس کا افتتاح ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر ملک اسد سکندر نے کیا۔ جس میں مخلتف ملہہ پہلوانوں نے حصہ لیا اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کر کے جیتنے والے کھیلاڑیوں کو لعل شہباز قلندر شیلڈ دی گئی ۔
سب پروگرام کی کوریج کرنے کے بعد ہم نے تمام فائلوں کو ایف ٹی پی کر دیا۔
دوسرے دن بھی شام میں ملاکڑے کا انعقاد کیا جاتا ہے پھر رات کے وقت لوگوں کے لئے پروگرام سگھڑن کی کچیری کا انعقاد کیا گیا تھاجس کا افتتاح شرمیلہ فاروقی کو کرنا تھا جو کہ مصروفیات کی وجہ سے نہیں آسکیں جس کہ باعث انکے سیکریٹری نے پروگرام سگھڑن جی کچھیری کا افتتاح کیا جس میں ملک بھر کے سگھڑوں نے حصہ لیا اور اپنی شاعری جو کہ لطیفوں کی شکل میں تھی اس سے لوگوں پر ایسا جادو کر دیا کہ لوگ ہسی سے لوٹ پوٹ ہو نے پر مجبور ہوگئے اور ہم نے اس پروگرام کی بھی کوریج کرنے کے بعد فائل ٹرانسفر کر دیا ۔سگھڑوں نے اپنی شاعری کر کے لوگوں سے تالیوں کی شکل میں داد وصول کی ۔اور اس پر بھی بہترین سگھڑ کو لعل قلندر شیلڈ پیش کی گئی تھی ۔ 



سگھڑن کی کچھری کے دوران ہی دپٹی کمشنر جامشورو نے وہاں کا دورہ کیا جس پر ہمارے ایک صحافی دوست نے ہی انہیں روک لیا اور انتظام کے حوالے سے بات کرنے لگا کہ میں نے اس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس دے دیا جو کہ بہت میلا ہو رہا تھا جس پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ یہ ہماری مجبوری ہے اور میں خود ہی پانی پی کر آیا ہوں۔



تیسرے روز بھی عرس کو اپنے منطقی انجام تک پہچانے کے لئے بھی وزیراعلی سندھ کو 4 بجے تک آنا تھا اور اس وقت کے متابق ہمیں اور دیگر میڈیا والے بھی کوریج کرنی تھی۔ مگر موسم خراب ہونے کے باعث انہیں دیر ہو گئی اور وہ شام 7 بجے پہنچ ہی گئے ۔ ان کے آمد سے پہلے سارے مزار کو خالی کر والیا گیا ۔
وزیراعلیٰ سندھ نے چادر چڑھائی اور فاتحا خوانی کرکے 3 روزہ عرس کا اختتام کردیا ۔

میڈیا والوں کے اصرار پر وزیراعلی سندھ نے میڈیا سے گفتگو کی اور اس وقت میں نے سب ریکارڈنگ کر لی اور پھر جاتھ ہوئے ڈپٹی کمشنر جامشورو کو تمبع کی کہ درگاہ کے دروازوں کو بڑا کیا جائے۔
میلہ تو رسمی طور پر ختم ہوگیا لیکن لوگوں کی تھکن میں کمی کرنے کے لئے آخری رات ایک شاندار محفل موسیقی کا احتتمام کیا گیا تھا جس کے کنوینئراسسٹنٹ کمشنر جامشورو تھے جس میں تاج مستانی،طفیل سنجرانی سمیت نامور گلوکاروں اور کئی فنکاروں نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور کئی گانوں پر لوگوں سے خوب داد وصول کی ۔ اور رقص کرتے تھے۔
سب کی کوریج کر کے ایف ٹی پی کر دی اور ہمارے پروڈیوسر نے رپورٹ بنا کر رات گیارہ بجے پروگرام تاروں بھری رات میں چلا دی اور پھر عرس کے آخر میں عرس کو منعقد کرنے والی کمیٹی میں کام اور حصہ لینے والوں کوبہترین کام کرنے پر میلا کمیٹی کی طرف سے لعل شہباز قلندر شیڈ دی گئی اور اس طرحمحفل موسیقی سے عرس کا اختتام کر دیا ۔


This practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi
Key words: Qalandar Mela, Sehwan, Mahad , Sohail Sangi,
-------- FIRST VERSION --------

آپ کا ٹاپک تھا سیہون میلے کی کوریج۔ آپ نے سہون، قلندر کی زندگی پر لکھا ہے۔ اس کا تھوڑا سا حوالہ اور میلے کا ذکر اور پھر کوریج کیسے کی یہ ہونا چاہئے۔ اس کو جمعرات تک ٹھیک کر کے دیں۔
مہد: رول نمبر 122:بی ایس پارٹ 

 Unedited


فیچر: عرس مبارک لعل شہباز قلندر۔۔
حیدرآباد سے دادو کی طرف چلیں تو سہون کا تاریخی شہر آتا ہے پہاڑی سلسلے اوردریائے سندھ سے ملحقہ کچے کے علاقے سمیت کئی حوالوں سے مشہور ہے۔ وادی مہران میں یوں تو سینکڑوں بزرگ مدفون ہیں لیکن سچل ،قلندراور بھٹائی کو خصوصی مقام حا صل ہے۔سیوہن ا کی اصل شناخت حضرت لعل شہباز قلندرؒ کا وجود کی و جہ سے ہے جو یہاں مدفون ہیں۔اوربرضغیر ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں نمایاں شہرت کے حامل ہیں۔سندھ سوارنا ،سہوستان ،سدوسان اور سدو مانیا سے سہون تک کے سفر میں اس شہر نے تاریخ کے کئی رخ دیکھے لیکن اسے شہرت بارہویں صدی عیسوی میں ہی ملی جب حضرت لعل شہباز قلندر ؒ نے اسے اپنا مسکن بنایا۔آپ آذربائجان کے علاقے مروند میں 538 ؁ ہجری میں پیدا ہوئے ،آپ کے والد کا نام سید ابراہیم کبیرالدین تھے جو اپنے زمانے کے صاحب کمال شخصیت بیان کئے جاتے ہیں۔ آپ سندھ کے ان بزرگان دین میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی صوفی منش طبیعت لیکن قلندرانہ کیفیت کے باعث جلالی مزاج کے حامل ہیںآپ کے کشف و کرامات کے درجنوں واقعات مشہور ہیں۔کہتے ہیں کہ آپ کے دم کردہ پانی سے بیمار شفایاب ہوئے تبلیغ کا انداز سادہ لیکن اندازگفتگو متاثر کن تھا ۔جس کی سبب آپ کی شہرت دور دور تک پہلی اور لاکھوں لو گوں نے اسلام قبول کیا۔آپکی وفات21 شعبان بمطابق 637 ؁ ہجری کو ہوئی اور سہون میں ہی مدفون ہوئے۔فیروز شاہ تغلق کے عہد میں رکن الدین عرف ملک اختیار الدین نے آپ کے روضہ اقدس تعمیر کرایا جو آج بھی خاص و عام ہے۔ اور جب سے آج تک ہر سال عرس کی تقریب 20,19,18 شعبان کو منعقد کی جاتی ہے ۔اور بزرگان دین کے مزارات پر منعقدہ عرس کی تقاریب صوبے کی اس ثقافت کا جزو ہے جس میں راواداری ،تحمل،برداشت کو بنیادی حثیت و اہمیت حامل ہے۔ اور سندھ میں ہر عرس کی تقریب تقریباایک جیسی ہی ہوتی ہے عرس میں درگاہ کو رنگین بتیوں سے سجایا جاتا ہے درگاہ کے برابر میں میٹھایوں سمیت کئی چھوٹے بڑے اسٹال لگائے جاتے ہیں۔جبکہ عرس شروع ہونے سے پہلے ہی سہون شہر کو بھی مختلف رنگوں کی بتیاں سے سجایا جاتا ہے اور پورے شہر میں میلے کا سا سماء لگتا ہے مختلف اقسام کے جھولے لگائے جاتے ہیں جس سے لوگ خوب لطف اٹھاتے ہیں۔اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے لاکھوں عقیدت مند حاضری کے لئے آتے ہیں اور مزار پر چادر چڑھاتے اور دعا مانگتے ہیں او ردھمال ڈال کر اپنی عقیدت اور محبت کو ظاہر کرتے ہیں نیاز و لنگر کرتے ہیں جس سے کئی آنے والے ظاہرین کے لئے کھانے کا اہتمام ہو جاتا ہے ۔اور عرس میں تینوں دن تقاریب منعقد کی جاتی ہیں جبکہ گورنر سندھ چادر چڑھا کر عرس کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہیں اور عرس کے موقع پر مختلف اشیاء کے اسٹال لگے ہوتے ہیں جو کہ سندھ کی تاریخ اور ثقافت کو اجاگر کرتے ہیں اور لوگوں کے لئے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے اس کے بعد دنیا بھر سے آنے والے لوگوں کے لئے تفریحی حاصل کرنے کے لئے سندھ اور پنجاب کی ثقاف کو اجاگر کرتا کھیل ملاکڑے کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں ملک بھر سے کھیلاڑی حصہ لیتے ہیں اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کر کے جیتنے والے کھیلاڑیوں کو لعل شہباز قلندر شیلڈ دی جاتی ہے۔اور دوسرے دن بھی شام میں ملاکڑے کا انعقاد کیا جاتا ہے پھر رات کے وقت لوگوں کے لئے پروگرام سگھڑن کی کچیری کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں ملک بھر سے سگھڑ حصہ لیتے ہیں اور اپنی شاعری جو کہ لطیفوں کی شکل میں ہوتی ہے لوگوں کو ہسی سے لوٹ پوٹ ہو نے پر مجبور کر دیتی ہے اور لوگوں سے تالیوں کی شکل میں داد وصول کرتے ہیں اور اس پر بھی بہترین سگھڑ کو لعل قلندر شیلڈ پیش کی جاتی ہے۔اور پھر تیسرے روز بھی عرس میں لوگوں کی تفریحی محیا کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ چادر اور فاتحا خوانی کرکے 3 روزہ عرس کا اختتام کر دیتے ہیں۔مگر اختتام کرنے کے بعد بھی لوگوں کی تھکن اور پریشانی میں کمی کرنے کے لئے آخری رات ایک شاندار محفل موسیقی کا احتتمام کیا جاتا ہے جس میں نامور گلوکار سمیت کئی فنکار بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں جسے لوگ بے حد پسند کرتے ہیں اور موسیقی سے خوب محزوز ہوتے ہیں۔اور پھر آخر میں عرس میں منعقدہ تقاریب میں حصہ اور بہترین کام کرنے والوں کو میلا کمیٹی کی طرف سے لعل شہباز قلندر شیڈ دے کر عرس کا اختتام کر دیا جاتا ہے۔۔



پروفائیل: شبیر تابش

اچھا لکھا ہوا ہے۔ کچھ ایڈیٹنگ کی ضرورت ہے۔ اور تھوڑا سا طویل بھی ہے۔ پیراگرافنگ نہیں تھی جو کردی ہے۔ پروفائل والی شخصیت کی فوٹو چاہئے.
 Un -edited
محمد مہد ، رول نمبر 122، بی ایس پارٹ 3
پروفائیل: شبیر تابش حیدرآباد کی تاریخ کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہیں

شبیر احمد تابش حیدرآباد میں اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے اپنا مقام آپ رکھتے ہیں۔ اس بات کا ثبوت انہوں نے کچھ اس طرح سے دیا کہ وہ حیدرآباد سے کتنا پیار کرتے ہیں شبیر احمد تابش نے حیدرآباد کی تاریخ کو بے پناہ پڑھااور حیدرآباد کی ایک ایک گلی،ٹنڈوز،چوراہوں کی تاریخ کو اس طرح سے ڈھونڈا اور مکمل ریسرچ کی جس کی وجہ سے شبیر احمد تابش حیدرآباد کی تاریخ کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہیں۔انہوں نے لاتعداد فیچرز ،ڈرامے،افسانے ،کالم مختلف ٹی وی چینلزاور اخباروں کے لئے لکھیں۔اس کے علاوہ پی ٹی وی،بی بی سی،نیشنل جیوگرافک اور ڈسکوری جیسے بڑے ٹی وی چینلز کے لئے بھی ڈاکیومینٹری لکھی ہیں۔۔
آپ انتہائی سادہ طبیعت کے مالک ہیں اور لوگوں کے ساتھ محبت سے پیش آتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں بے حد مقبول ہیں۔
13 اگست 1965کوحیدرآباد کے علاقے سرفراز کالونی میں پیدا ہوئے۔ان کے والد نصیرالدین حکمت کے پیشے سے وابستہ تھے۔ بنیادی تعلیم کالونی میں واقع مدرستہ السلام سے حاصل کی۔ اس اسکول میں داخلے کے لئے ایک دلچپ واقع ہوا۔اور وہ واقع یہ تھا کہ جب اس وقت اسکولوں میں داخلہ دیا جاتا تھا تو بچے کی عمر کم سے کم پانچ سال ہونا شرط ہوتی تھی۔ تعلیم حاسل کرنے کا اس حد تک شوق تھا کہ جس کی وجہ سے اسکول میں داخلہ لینے ازخود ہی پہنچ گئے جبکہ اس وقت ان کی عمر چار سال تھی ۔ماسٹر نے پوچھا کہ عمر کتنی ہے؟ کم عمر ہونے کی وجہ سے انہیں داخلے دینے سے منع کر دیا اور کہا کہ پانچ سال کے ہو جاؤ تو آجانا۔مگر آپکو تعلیم کا بے حد شوق تھا تو تعلیم حاصل کرنے کے حصول کے لئے آپ دو یاتین ہفتے بعد پھر سے چلے گئے اور یقین تھا کہ وہی سوال پھر سے کیا جائے گا،اور وہی سوال ہواتو آپ نے جھوٹ بولا کہ آپکی عمر پانچ سال ہے اور یہ آپکی زندگی کا پہلا جھوٹ تھا اور وہیں سے زندگی میں جھوٹ کی شروعات ہوئی۔
پرائمری تعلیم حاصل کرنے کے بعدتلک چاڑہی پر واقع جامعہ عربیہ ہائی اسکول سے میٹرک پاس کیا۔ہائی اسکول کی تعلیم کے زمانے میں ان کے والد مختلف اخبارات گھرلے کر آتے تھے۔ اس وقت جنگ اخبار میں ٹارزن کی کہانی شائع ہوتی تھی جو وہ بہت شوق سے پڑھتے۔ان کے ذہن میں ہمیشہ ایک ہی سوال جنم لیتا تھا کہ ایک اکیلا انسان جنگل کس طرح زندہ رہتا ہے اور وہ مرتا کیوں نہیں ہے۔ آٹھویں جماعت میں ہی آپ نے اپنی پہلی تحریر لکھی جس کا عنوان سچ پر تھاجو کہ جنگ میں شائع ہوئی اور اس طرح وہاں سے انہوں نے لکھنے کا آغاز کیا ۔
انہوں نے سندھ کامرس آف کالج سے بی کام کی ڈگری حاصل کی۔اس دوران آپ کے لکھنے کا آغاز روزنامہ جنگ اور چٹان سمیت مختلف اخباروں سے لکھتے رہے۔آپ نے روزنامہ انقلاب میں ضیاالحق کے دور میں بھی کام کیا کہ جب خبریں سنسر ہوتی تھیں۔ ایک خبر کی جگہ دوسری خبر شائع نہیں ہوسکتی تھی اور خالی جگہ کے ساتھ اخبار شائع ہوجاتے تھے۔ اس دور میں بھی کام کیا۔
پھر میگزن کی طرف بھی مائل ہوئے کیوں کہ جب شوبز کا دور تھااور فلمیں چلا کرتی تھیں تو فلمیں دیکھنے کا بھی بہت شوق تھا وہید مراد اور ندیم کی فلمیں سب سے زیادہ دیکھیں جس کے گانے آج تک آپکو یاد ہیں۔اسکے علاوہ ماہانامہ میگزین میں صبح روپ ،اجالا ،روزنامہ عوام اور اسی طرح کے میگزین اور اخبارات کے لئے فلمی خبریں لکھا کرتے تھے۔
آپ شوبیز کی خبریں اس لئے بھی لکھا کرتے کہ اس میں کوئی لڑائی جھگڑا اور کسی کے خلاف بات نہیں ہوتی تھیں۔ اس کے علاوہ آپ نے کئی مضامین بھی لکھے،آپ نے فیچر نگاری کرنی شروع کر دی جس میں آپکے استاد اس وقت کے اخبار جہاں کے سینئر ایڈیٹر غلام محی الدین تھے جنہوں نے آپکی ہمیشہ رہنمائی کی۔
آپکو شاعری کا بہت شوق تھا آپ نے کئی غزلیں بھی لکھیں جبکہ شاعری میں آپکے استاد الیاس شاہد تھے اور ان کے استاد جناب احسان دانش تھے جو کہ شاعر مزدو ر بھی رہے جنہیں گورنمنٹ آف پاکستان نے ستارہ امتیاز بھی دیاتو وہ میرے پر استاد رہے۔
محمد خان جونیجو کے دور حکومت میں ریڈیو سے بھی وابستگی رہی اور ادبی پروگرام مجلہ میں بھی اسکرپٹ لکھے اور شاعری کی اور ڈرامے بھی لکھے آپ کے پہلا ڈرامہ روشنی کے نام سے نشر ہوا ۔اس کے ساتھ ساتھ مختلف شہروں کی تاریخ اور شخصیات کے حوالے سے کرنٹ افیئر کے پروڈیوسر محمد عارف نے حوصلہ افزائی کی اور ان کی وجہ سے اندرون سندھ دیکھنے ،سمجھنے اور لکھنے کا موقع ملا جسے ضامعین نے بے حد سراہااس بات کا اندازہ ضامعین کے خطوط سے لگایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے پی ٹی وی،بی بی سی ، ڈسکوری اور نیشنل جیو گرافک جیسے بڑے ٹی وی چینلز کے لئے بھی ڈاکیومینڑی لکھیں ہیں اور ایک نئی ڈاکیومینٹری ڈسکوری کے لئے استاد جی کے نام سے لکھ رہے ہیں۔ جبکہ آپ کو زیادہ پزیرائی میڈوک کی وجہ سے ملی ۔ آپ کا کہنا ہے کہ وہ جہاں رہتے تو ان پر لازم ہے کہ آپ حیدرآباد کی تاریخ ،تہذیب،تمدن ،صخافت اور اد ب کے حوالے سے لکھیں،جبکہ آپ کا کہنا ہے کہ حیدرآباد کا نام جو شہرت کا حامل تھا اس کی شناخت دوبارہ بحال کی جائے۔۔۔

 
محمد مہد ، رول نمبر 122، بی ایس پارٹ 3 سیکنڈ سیمسٹر
This practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi

اگست  2015

Sunday, August 16, 2015

Un-edited- Regal book bazaar By Ibrahim Buriro



Un-edited - It is long. Make it 600 words. Photo will be needed.Note marks made in this colour.
Feature
                             Regal book bazaar
                            By Ibrahim Buriro

There is lot of people going through piles of books, indulged in picking and leaving them back, some are looking at table of the contents thoroughly. Others moving slowly through street eying to find there a book of their choice. Looking at the price everyone tries to fetch as much as possibly he can afford. This is none other than Regal book Bazaar, which take place on Sundays. Regal chowk is at Saddar town Karachi.  Most of the vendors spread sheets on the ground and place books on them. Busy in dealing with customers, because its morning and most of the people come early as possible to grab their favourite ones, I any how managed to ask from one of the vendors from how long this Book Bazaar taking place. “It’s older than you son”. Just replying this he gets back to his business.
   It’s don’t take place exactly on Regal chowk but two lanes ahead from it. Inside the street you will find both sides of street full of books, mostly spread on sheets, and footpath. Street in not cleaned as monsoon showered this week every often. There are piles of books ranging from Urdu to English mostly and some Sindhi as well. In this Street, originally these are electronic shops but on Sunday all shops are closed, so these book sellers find good opportunity to bring their stalk. “We usually buy these books on rupees per kilo” said Arshad who have quite impressive number of books in his stalk, from Sidney Sheldon’s novels to Philip k Haiti’s history of Arabs. As I was walking ahead a young man probably university student inquire for the price of the history of Arabs from seller. 200 hundred gets reply. And you will be astonished, 700 hundred pages book on two hundred rupees only!
You will feel that there will be no place for cheaper for books than Regal book bazaar. For some, this is a part time job but, most of these vendors living on selling books on footpath to make their ends meet. As you enter into street there is plenty of books, digging through piles of books to find your favourite genre, involve passion at Regal book bazaar, because lane is so long and grabbing for your favourite one will take time and it can be an exhausted process, but surely book lovers won’t mind, as there was lots of people indulged in the process. Although there is lot of books in English but this is best place for Urdu literature, there is collection of novels, from Quratul ain Haider to Ishfaque Ahmed. In humour, from Ibne Insha to Mushtaque Yousifi, and in poetry Ghalib to Habib Jalib, sab milta hai yahan. Going further there is sharbat wala if you want to stop for few minutes and enjoy sharbat to regain your energy, because it’s only a start, there is plenty ahead.
20 mien le 20 mien le lo, this voice will echo in your mind, throughout the street. A 12 year boy having Suzuki full of books will attract you nonetheless, although there you will find hardly a master piece but children’s literature is in abundance. And if you want to buy some books for children with illustration this is the place. And it’s important because science says those who read at young age do better in their life than those who don’t. Attracting children towards reading is the best gift you can give to them at their age.  Most of the books available here are cheap paperback old and new and some pirated. And prices ranging from 20, 30, and 50 mostly. Urdu literature’s master pieces cost not more than 200 hundred. From piles of books I found out my favourite English cricket commentator and former test player Michael Atherton’s biography. And there is sheer joy in finding your favourite things, sometimes price don’t matter. Other genres include philosophy, history, poetry, and cook books, old magazines such as national geographic and Urdu digests.  Farooque a frequent visitor at Regal book bazaar says he came from Sindh University all here to grab his part. “You see I love reading, my favourite writers Dostoevsky’s crime and punishment to Lazely Hazilton’s after the prophet, are easily available and I love being here and books are much cheaper than rest of Karachi and Hyderabad”. Other thing I wanted to add was variety of books available there.
Khushwant Singh once wrote that rather than restaurants and cinema houses, the ultimate litmus of town’s sophistication is the number of books shops it has, and the kind of they stalk. Books like Maut ka Manzar and Qabar Ka Azab are best sellers in Pakistan but scenario at the Regal book bazaar is different, these kind of books are rare here. But Karachi has its own image despite last decade in violence and disturbance, Karachi has managed home to various book publishers and second hand book trade is at its peak.  All of the book lovers are well aware that they are in tiny minority, reading is in serious decline after the computer, mobile’s invention. But internet especially after the 3G people most of time majority of the people spend time surfing Facebook and other social media sites, book reading is not so common. But seeing crowds at the places like Regal book bazaar, Frere hall etc. One feels things are not dark as we might feel. Reading nourishes individual it’s one of the most beautiful and fruitful skills humans achieved after forming civilization. So if you are planning to buy books, Karachi is heaven for book lovers, starting with Regal book bazaar, a great place to get food for mind.

By Ibrahim Buriro Roll No: MC-2k13 , Second semester
August 2015 

Uroosa Anwer Article: Un-edited



Un-edited

 Seems ok. Its bit to long. Make it 600 words
Article: Why Only Some Professions Are Respectable For Girls
Uroosa Anwer Rajput
We are living in 21st century where we mostly hear a famous saying that girls are equal as boys or girls are being treated equally like boys… or there is no difference between a girl or a boy working in any field,, but  is this really a fact??? I think the reality is opposite it. We girls to whom every thing is concern nothing can be happened without our involvement but still we are not treating like the same worth as the boys are going to treat in every field or profession.
In Pakistan,  women are considered as low potential than males, though Pakistan is an Islamic country and Islam gives parallel positions for males and females , but the thing is that on the bases of consequences, on the basis of physical fitness and on the bases of social conditions females are not considered, not allow to progress as the man. It is the society rules,, society made the restriction for women they make boundaries for women that women are restricted for doing only some professions. This is our society which do not allow the girls  to do any kind of job because when the women going outside for work she faces many difficulties. The society created that kind of conditions around females that females not feel comfort in that environment. These consequences  are harassment, hooting, shooting etc lay down the moral of lady according to requirements of professions we girls are consider as they are not fulfill the requirements of the profession like athlete, sports, engineer, forestry etc because the girls are consider as very sensitive , delicate, emotional.
Females is not wiser like male, the society thinks that women have less wisdom.
Mostly we hear that for girls teaching is the bet the best profession , while it comes to field work or office work then the minds of our so cold peoples become change, those girls who are working in offices or doing any field work they consider them as not the worthy or respective as a girl should worth respect  or should be valued,,
The basic reason behind this discrimination is just the negative thinking of our society or the inhabitants of society which we called as an educated society,, even after being educated still the people are failed to mold their thinking  about such a common issue which just require common sense I think…. And still we are demanding that we want progress or we want to make Pakistan as a developed nation so how could it can be possible that except indulging 53% of your country’s population , making it aside and  demanding for development.. how could even one can think like that when a country’s 53% population is just confined to a single profession so how’s the rest population can take the country single handedly towards development.
Women or females faces many difficulties in many profession except teaching or where the male community is dominating.. the men usually harrest them. They don’t feel protective   there, the girls are not provided with the confidence as they require to have while working with male community they just treated their as the best time passer or the attraction of their department.
Lets take a glance at the professional life of developed countries there the  girls are treating the same as the boys in the professional field there is no restriction for the girls that they can’t move in this or that field there are the same rules for both and same limitations for both of them even if we are going to take the example of the developed country China the girls are working with the boys in the same proportion even they work on garage shops for repairing the cars or motor bikes, all the developed nations allowed their women to work in same proportion with the same worth and respect because they are treated like a professional in every field whether it is garage shop or any Multinational company a bank or any business administration or any government office.. any nation who is willing to be developed rather than keep on striving its status as developing nation it should take their girls in front and provide them the all facilities and security and confidence.
Our government should even focus on while they are going to announce any vacancies they just going to give the male and female quota as total 30 seat 25 for men and 2 for minorities and 3 for women quota so see the difference and discrimination over here so how could we be the developed nation soon as we are keep on doing that type of differences between gender or we keep on doing the gender inequality. It’s our responsibility also that we should protest against such discrimination.
According to the World Bank’s 2012 World Development Report: Gender Equality and Development, closing these gender gaps matters for development and policymaking. Greater gender equality can enhance economic productivity, improve development outcomes for the next generation, and make institutions and policies more representative.
We should change the thinking point of view and should treat the girls as professionals not as a point of attraction, a charm of their office and shouldn’t take the benefit of their innocence or presence. 
We should provide the women confidence and security that their confidence increases and they feel comfortable to work in any profession and the man should cooperate with her because they have other responsibilities also like house hold tasks… so we should encourage them and make them feel ease so that they can handle all their responsibilities either personal or professionals more deligently and to bring women in all professions thoroughly claim that the development and empowering the economy of the country.

Uroosa Anwer Rajput MC-2k13 Roll No: 114
 August 16, 2015 

This practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi

Saturday, August 15, 2015

TOPIC APPROVAL LIST 71 to 131



BS-III TOPIC APPROVAL LIST 

 SECOND SEMESTER-2015 Roll No 71 to 131

                            
Roll 
Name   
M
Article
Feature
Profile
Interview
Extra

MC/71
M.Ibrahim buriro
E 2
Violence impact on people thru movies-- x
Regal chowk Sunday book bazar  Filed
Saif samejo
…x….
 Film/Book Review:(12 Step to  life Filed
MC/73
M. NOMAN
U
Garbage problem x
Afzal shah ground 
  x
..x ..x ..x
MC/74
M.  YOUNIS
S 3
Kamber: Adbi kirdar Filed
Qambar library
 Filed
.Tahir Mitho Filed
Dr Imam khoso -  x
MC/75
MUKHTIAR ALI
S 3
Enchrochment and admn silence Filed
Umerkot jo daras gahon
  x
Ustad Niaz
Filed
Zarab Hyder
Filed
MC/76
MUNEEBA HAFEEZ
U 4
Gun toy trend among children Filed
Mohota palace
Filed
Huda bhurgi
Sohai Abro
Book review (infort of mirror) Filed
MC/77
MURTAZA
…x….
…….x
…….x
…….x
x
MC/81
NOORUL ZAMAN
…x….
…x….
…x….
…x….
x
MC/83
PIRAH
S 3
Kashmor  Env Pollution effects Referred
Marvi hostel 
Filed -Referred
Abdul latif jokio Filed - Hold
Agha Gul
MC/84
QIRAT FATIMA
E 1
Journaling
  x
Quetta Piyala
 Filed
Point driver
x
…x.
MC/85
RAFAY UDDIN
.....x....
.. x...
…x….
…x….
x
MC/86
RAHMAT ALI
E
qamber histrocal imp   & problems
Hamal lake
Filed
Ishaq tunio 
Filed
Inam shaikh
??
MC/88
RAMSHA
…….x
…….x
…….x
…x….
x
MC/89
RASHID ALI
S
Sindh: Mango gardens decreasing
Panpor
Ghaffar Ahmed Filed
Irshad lagari ??
MC/91
RASOOL BUX
S
sanghar: Dev works na han  Filed
Mir shadad khan,  Tomb 
Filed
Bhagat Bhagchand 
Filed
Niyaz jihan

(filed)
MC/93
SADAM Hussain
E 4
Tribal clashes in dadu, impact  Filed
Khudabad mosque  Filed
Singer Sajid Solangi  Filed
Khalid Chandio  (filed) ??

MC/95
SADIA NAZ
U
Violation of traffic laws x
Nojawanon  tafrihi muqamat x
Saqiba iftikhar x
jaffar Hussain x
MC/97
SALAL AHMED
…x….
……x.
…x….
....x ....x
MC/98
SALMA SOHAIL
E 4
Unusual issues of youth
 Filed
F2P Online gaming Filed
Shabnum gul  Filed
Fazal Qadir Memon  Filed
MC/99
SALMAN CHATTA
E
Late
Wastage of Food
100 years old manclia  Filed
Taimur iftikhar  Filed
Dr. Nomi
MC/102
SHAHRUKH ABBASI
U
Bus stop ka safar x
Hyd expo center  Filed
Babar  Filed
Mushor Ali  Filed
MC/104
SHAHRUKH KHAN
E
Late
Development of DSLR
Idrees Shaikh
Dr. Aslam shaikh (filed)
Review (wrong number) Rejected
MC/105
SHAHZAIB
…x….
……x.
…x….
…….x
x
MC/106
SHAHZAIB KHAN
…x….
…….x
…x….
……x.
x
MC/107
Skandar Ali 
……x.
…….x
…x….
…x….
x
MC/108
SOHAIL AHMED
…x….
……x.
……x.
…….x
...x
MC/109
SULTAN AHMED
.
……x.
…x….
……x.
…x….
....x
MC/111
TALHA SHAIKH
U 3
Post office hyd  Filed
Shaheen archade Filed
M.Irfan shaikh Filed
…x….
3 ok
MC/113
UBAID UL HAQ
U2
Hyd growth withou planning t  Filed issue 4
Choti Ghitti
 Filed issue 1
…x….
……x.
2 ok
MC/114
UROOSA ANWAR
E 4
why few professions  for girls Filed
C.L of sindh uni  Filed
Shoban wastero  Filed
 Asif Jah  Filed
 4 ok
MC/117
WALI MUHAMMAD
.x
……x.
….x
…x….
…x….
x
MC/119
WASEEM
...x
…x….
……x.
…….x
……x.
……x.
MC/121
YASIR ALI
E 3
 x
Revisiting larkana
 Referred
Mamo ramzan sario Filed
Qadeer shaikh
Filed
Film review (Undertrail) File
MC/122
M. MAHAD
U 2

…….
Reporting  qalandar Mela Filed 
Shabir Tabish  
Filed
Imran qureshi 
(late)
MC/128
FURQAN ALI
.
…x….
        x                   …….
…x….
…x….
…x….
MC/129
ABDUL HADI
.
…x….
…x….
…x….
…x….
……x.
MC/127
ABDUL REHMAN 
U
Late
Visual Arts of videos 
1870 haveli near MQM Zone
Hamid ur Rehman
Nomi Ali

MC/131
S. HAIDER ALI
E 1 R
Dirty water plants Returned
 -x-
Pappu (garbage man) 
Faraz Ahmed khan
Film review(A B C D 2)