Showing posts with label طلحہ شیخ. Show all posts
Showing posts with label طلحہ شیخ. Show all posts

Tuesday, September 1, 2015

پوسف آفس حیدرآباد - طلحہ شیخ revised

طلحہ شیخ 2k13/MC/111 (Revised)
پوسٹ آفس لطیف آباد(آرٹیل )
آج کل ہر کام تیزی سے کیا جارہا ہے۔ فطرت انسانی بھی یہ رہی ہے کہ جہاں سے اس کا کام تیزی سے کیا جارہا ہو وہ اس چیز کی طرف دوبارہ بھاگتا نظر آتا ہے۔ بات کی جائے بڑے سامان لانے لیجانے کی تو گورنمنٹ کی طرف سے پورے ملک میں شہر کے بیشتر حصوں میں ایسے ادارے موجود ہیں جنہیں پوسٹ آفس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کا نصب العین "ہر جگہ ، ہر روز، ہر کسی کی خدمت" کرنا ہے۔ پوسٹ آفس آف پاکستان کے موجودہ ڈائریکٹر فقیر سید شہریار الدین ہیں۔ پاکستان پوسٹ آفس کا ہیڈ کوائرٹر اسلام آباد میں قائم ہے۔ پورے ملک میں پوسٹ آفس میں کام کارنے والوں کی تعداد 44000ہے۔ 
پوسٹ آفس ہر مکتب و فکر کے لوگوں کے بڑی اہمیت کاحامل ہے کیونکہ پوسٹ آفس گورنمنٹ کی طرف مہیا کردہ ایک ایسی چیز ہے جہاں سے لوگ اپنا سازو سامان کہیں اور ،ملک کے بیشتر شہروں میں اور ملک سے باہر بھی با آسانی بھیج سکتے ہیں ۔
لیکن آج ہم حیدرآباد میں موجود پوسٹ آفس کی بات کررہے ہیں ۔ ویسے تو حیدرآبادمیں 2پوسٹ آفس ہیں لیکن جنرل پوسٹ آفس (GPO)صدر میں واقع ہے۔ یہ پوسٹ آفس ایوب خان کے دور میں قائم کیا گیا تھا۔ اگر بلڈنگ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمارت کافی پرانی ہے او ر اس کی حالت بھی کافی خستہ ہے۔ چھت کے پنکھے، لائٹس اور اندر کی دیواریں پر اگر نظر ڈالی جائے تو آپکو گورنمنٹ کی نااہلی اور وہاں کے ورکرز کا سست پن بخوبی نظر آئیگا۔ اور یہاں گورنمنٹ کی طرف سامان لے جانے پر طرح طرح کی پابندیاں بھی لگی ہوئی جس سے عوام شدید پریشانی کا شکار ہے۔ 
کام کے اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو پوسٹ آفس میں موجود عملہ جس کی تعداد تقریبا 15ہے جس میں 2یا 3لوگ روزانہ غیر حاضر رہتے ہیں۔ انکی نا اہلی کی وجہ سے لوگ یہاں آنا کم ہی پسند کرتے ہیں۔ یہاں کے عملے میں یہ بات پائی کی گئی ہے کہ ان کے کام کرنے کی رفتار بہت دھیمی ہے اور گورنمنٹ کی طرف سے بھی جو سروس دی جارہی ہے وہ شہروں میں موجود پرائیویٹ کورےئر سروسز سے کافی سست ہے۔ 
یہی وجہ ہے کہ شہروں میں جگہ جگہ پرائیوٹ کورےئر سروسز نے اپنا ڈیرہ جمع لیا ہے کیونکہ ان کی سروس مہنگی تو ہے لیکن پوسٹ کی آفس کی سروس سے اگر ان کا موازنہ کیا جائے تو قابل بہتر ہے اور لوگ ان سے مطمئن بھی ہیں۔ پروئیوٹ کورےئر سروس میں TCS, OCS, LCSقابل تعریف ہیں۔ 
لوگوں کے خیال میں پوسٹ آفس کی سروس سستی تو ہے لیکن اگر ان کے کام میں تیزی آجائے تو نا صرف ہمیں فائدہ ہوگا بلکہ پوسٹ آفس کو اس سے کافی حد تک فائدہ ہوگا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ لوگوں کی روز مرہ کی ضرورت ہے اور گورنمنٹ کو چاہئے کو اس پر جلد سے جلد ایکشن لیا جائے اور لوگوں پوسٹ آفس کی شکل میں ایک ریلیف مہیا کیا جائے۔ 
------------------------------------------------


Ap Hyd post office p likh rahy ho, tuo ye bhi batao na k akb qaim hua, ab kon kon sy shoby hn, konsy band hoye hn? yhn staff ketna hae, es ky bary main koi report, research etc, 
 Ap ne srf ek jaga Hyderabad ka nam likh k waps bhej dia. esa nhe kren 
طلحہ شیخ 2k13/MC/111 (Revised)
پوسٹ آفس لطیف آباد(آرٹیل )
آج کل ہر کام تیزی سے کیا جارہا ہے۔ فطرت انسانی بھی یہ رہی ہے کہ جہاں سے اس کا کام تیزی سے کیا جارہا ہو وہ اس چیز کی طرف دوبارہ بھاگتا نظر آتا ہے۔ بات کی جائے بڑے سامان لانے لیجانے کی تو گورنمنٹ کی طرف سے پورے ملک میں شہر کے بیشتر حصوں میں ایسے ادارے موجود ہیں جنہیں پوسٹ آفس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کا نصب العین "ہر جگہ ، ہر روز، ہر کسی کی خدمت" کرنا ہے۔ پوسٹ آفس آف پاکستان کے موجودہ ڈائریکٹر فقیر سید شہریار الدین ہیں۔ پاکستان پوسٹ آفس کا ہیڈ کوائرٹر اسلام آباد میں قائم ہے۔ پورے ملک میں پوسٹ آفس میں کام کارنے والوں کی تعداد 44000ہے۔ 
پوسٹ آفس ہر مکتب و فکر کے لوگوں کے بڑی اہمیت کاحامل ہے کیونکہ پوسٹ آفس گورنمنٹ کی طرف مہیا کردہ ایک ایسی چیز ہے جہاں سے لوگ اپنا سازو سامان کہیں اور ،ملک کے بیشتر شہروں میں اور ملک سے باہر بھی با آسانی بھیج سکتے ہیں ۔
لیکن آج ہم حیدرآباد میں موجود پوسٹ آفس کی بات کررہے ہیں ۔ حیدرآباد شہر میں دو مختلف مقامات پر پوسٹ آفس قائم ہیں ایک شہر میں اور دوسرا لطیف آباد یونٹ نمبر 8میں۔ اگر دونوں بلڈنگز کا جازہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمارتیں کافی پرانی ہے او ر ان کی حالت بھی کافی خستہ ہے۔ چھت کے پنکھے، لائٹس اور اندر کی دیواریں پر اگر نظر ڈالی جائے تو آپکو گورنمنٹ کی نااہلی اور وہاں کے ورکرز کا سست پن بخوبی نظر آئیگا۔ 
کام کے اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو پوسٹ آفس میں موجود عملے کی تو یہاں پر عملہ تو موجود ہے لیکن انکی نا اہلی کی وجہ سے لوگ یہاں آنا کم ہی پسند کرتے ہیں۔ یہاں کے عملے میں یہ بات پائی کی گئی ہے کہ ان کے کام کرنے کی رفتار بہت دھیمی ہے اور گورنمنٹ کی طرف سے بھی جو سروس دی جارہی ہے وہ شہروں میں موجود پرائیویٹ کورےئر سروسز سے کافی سست ہے۔ 
یہی وجہ ہے کہ شہروں میں جگہ جگہ پرائیوٹ کورےئر سروسز نے اپنا ڈیرہ جمع لیا ہے کیونکہ ان کی سروس مہنگی تو ہے لیکن پوسٹ کی آفس کی سروس سے اگر ان کا موازنہ کیا جائے تو قابل بہتر ہے اور لوگ ان سے مطمئن بھی ہیں۔ پروئیوٹ کورےئر سروس میں TCS, OCS, LCSقابل تعریف ہیں۔ 
لوگوں کے خیال میں پوسٹ آفس کی سروس سستی تو ہے لیکن اگر ان کے کام میں تیزی آجائے تو نا صرف ہمیں فائدہ ہوگا بلکہ پوسٹ آفس کو اس سے کافی حد تک فائدہ ہوگا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ لوگوں کی روز مرہ کی ضرورت ہے اور گورنمنٹ کو چاہئے کو اس پر جلد سے جلد ایکشن لیا جائے اور لوگوں پوسٹ آفس کی شکل میں ایک ریلیف مہیا کیا جائے۔ 
--------------------------- First version------------------------------------- 
طلحہ شیخ 2k13/MC/111


آپ کا ٹاپک پوسٹ آفیس حیدرآباد کر کے دیا ہوا تھا۔ اسی پر لکھیں۔ لطیف آباد بہت چھوٹا ٹاپک اور غیر دلچسپ ہو جائے گا۔ 

پوسف آفس لطیف آباد(آرٹیل )

آج کل ہر کام تیزی سے کیا جارہا ہے۔ فطرت انسانی بھی یہ رہی ہے کہ جہاں سے اس کا کام تیزی سے کیا جارہا ہو وہ اس چیز کی طرف دوبارہ بھاگتا نظر آتا ہے۔ بات کی جائے بڑے سامان لانے لیجانے کی تو گورنمنٹ کی طرف سے پورے ملک میں شہر کے بیشتر حصوں میں ایسے ادارے موجود ہیں جنہیں پوسف آفس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کا نصب العین "ہر جگہ ، ہر روز، ہر کسی کی خدمت" کرنا ہے۔ پوسٹ آف پاکستان کے موجودہ ڈائریکٹر فقیر سید شہریار الدین ہیں۔ پاکستان پوسٹ آفس کا ہیڈ کوائرٹر اسلام آباد میں قائم ہے۔ پورے ملک میں پوسٹ آفس میں کام کارنے والوں کی تعداد 44000ہے۔ 

پوسٹ آفس ہر مکتب و فکر کے لوگوں کے بڑی اہمیت کاحامل ہے کیونکہ پوسٹ آفس گورنمنٹ کی طرف مہیا کردہ ایک ایسی چیز ہے جہاں سے لوگ اپنا سازو سامان کہیں اور ،ملک کے بیشتر شہروں میں اور ملک سے باہر بھی با آسانی بھیج سکتے ہیں ۔

لیکن آج ہم لطیف آباد حیدرآباد میں موجود پوسٹ آفس کی بات کررہے ہیں ۔ یہ پارک بے بی روح افزا پارک کے عقب میں قائم ہے۔اگر اسکی بلڈنگ کا جازہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کہ یہ عمارت کافی پرانی ہے او ر اس کی حالت کافی خستہ بھی ہے۔ اندر ایک بڑا سا کاؤنٹر بنا ہوا ہے ۔ چھت کے پنکھے، لائٹس اور اندر کی دیواریں پر اگر نظر ڈالی جائے تو آپکو گورنمنٹ کی نااہلی اور وہاں کے ورکرز کا سست پن بخوبی نظر آئیگا۔ 
کام کے اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو پوسٹ آفس میں موجود عملے کی تو یہاں پر عملہ تو موجود ہے لیکن انکی نا اہلی کی وجہ سے لوگ یہاں آنا کم ہی پسند کرتے ہیں۔ یہاں کے عملے میں یہ بات پائی کی گئی ہے کہ ان کے کام کرنے کی رفتار بہت دھیمی ہے اور گورنمنٹ کی طرف سے بھی جو سروس دی جارہی ہے وہ شہروں میں موجود پرائیوٹ کورےئر سروسز سے کافی سست ہے۔ 
یہی وجہ ہے کہ شہروں میں جگہ جگہ پرائیوٹ کورےئر سروسز نے اپنا ڈیرہ جمع لیا ہے کیونکہ ان کی سروس مہنگی تو ہے لیکن پوسٹ کی آفس کی سروس سے اگر ان کا موازنہ کیا جائے تو قابل بہتر ہے اور لوگ ان سے مطمئن بھی ہیں۔ پروئیوٹ کورےئر سروس میں TCS, OCS, LCSقابل تعریف ہیں۔ 
لوگوں کے خیال میں پوسٹ آفس کی سروس سستی تو ہے لیکن اگر ان کے کام میں تیزی آجائے تو نا صرف ہمیں فائدہ ہوگا بلکہ پوسٹ آفس کو اس سے کافی حد تک فائدہ ہوگا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ لوگوں کی روز مرہ کی ضرورت ہے اور گورنمنٹ کو چاہئے کو اس پر جلد سے جلد ایکشن لیا جائے اور لوگوں پوسٹ آفس کی شکل میں ایک ریلیف مہیا کیا جائے۔ 

Tuesday, August 25, 2015

فیچر: شاہین آرکیڈ : طلحہ شیخ

طلحہ شیخ 2k13/MC/111 (Revised)
شاہین آرکیڈ (فیچر )
موجودہ دور فیشن کا دور ہے ۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ ایک دوسرے اچھا دکھے ۔ اور بظاہر اچھا دکھنے کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ہے ان میں کپڑے ،جیولری، لڈیز بیگز ،جوتے اور سینڈل شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے دن بہ دن نت نئے فیشن لوگوں کے درمیان متعاورف کروائے جارہے ہیں ۔ لیکن ہمارے ملک زیادہ تر طبقہ ایسا ہے جو آجکل کے مہنگا ترین فیشن تک رسائی نہیں کرسکتا۔ لیکن اس کے باوجود حیدرآباد میں ایک ایسی مارکیٹ موجود ہے جہاں ہر فیشن کے کپڑے ، جیولری، اور سینڈل شوز وغیرہ رعایتی داموں میں مل جاتے ہیں۔ اور یہ مارکیٹ آج کل لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

جی ہاں آج ہم حیدرآباد کی شاہین آرکیڈ کی بات کررہے ہیں۔ شاہین آرکیڈ یونٹ8میں واقع ہے ۔ اس مارکیٹ کا قیام 1998میں کیا گیا تھا۔ یہ لطیف آباد کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ یہاں کپڑوں کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں با آسانی مل جاتی ہیں۔ یہ مارکیٹ 2حصوں پر مشتمل ہے ایک طرف کپڑوں اور جوتوں کی دکانیں ہیں تو دوسری طرف موبائل مارکیٹ ۔اس مارکیٹ میں صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ۔ اس مارکیٹ کے عقب میں لذیز کھانوں کے ہوٹلز اور بریانی کے اسٹالز بھی موجود ہیں۔ بات کی جائے مارکیٹ کی تو یہاں کم و بیش 50دکانیں موجود ہیں۔ اس مارکیٹ کے اندر درزیوں نے بھی وقت کے ساتھ ساتھ اپنا ڈیرہ جمع لیا ہے کیونکہ یہاں پر کپڑوں کی اسٹیچنگ اور آلٹر کرنے کا کا کام عروج پر ہے۔ یہاں کی مقبول ترین دکانیں میں ایڈوانس جینٹس گارمینٹس، الفیصل گارمینٹس، لوک مسٹراور کلاسک گارمینٹس فور جینٹس اینڈ چائیلڈ وےئر ہیں۔

شاہین آرکیڈ کے علاوہ شہر میں دوسری بڑی مارکیٹ بھی موجود ہیں جن میں گل سینٹر، صدر، ریشم گلی، کلاتھ مارکیٹ شامل ہیں۔ اگر ان مارکیٹوں سے شاہین آرکیڈ کا موازنہ کیا جائے تو ہمیں واضح فرق نظر آتا ہے کیونکہ اگر دوسری مارکیٹوں میں کپڑے اچھے ہیں تو مہنگے بھی بہت ہیں جو کہ مڈل کلاس لوگوں کی پہنچ سے باہرہیں اور جہاں کپڑوں کے دام کم ہیں وہاں پرانے فیشن اور بیکار ورائٹی نے اپنا ڈیرا ڈال رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ایسی چیز لینا چاہتے ہیں کہ جب وہ کسی اور کو دکھائیں تو انہیں اچھا فیڈ بیک ملے۔

دکان داروں کا کہنا ہے وہ ہر طرح کسٹمر کو ڈیل کرنا بخوبی جانتے ہیں اور ان کی سائیکی بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں اور انہی ریٹس میں کام کرتے ہیں جن میں انہیں فائدہ ہو اور خریدار کو بھی کسی قسم کا کوئی نقصان نہ ہو کیونکہ اس سے مارکیٹ کا نام خراب ہوتا ہے اور دکان کی value میں کمی واقع ہوتی۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں دکانیں میں آپس میں کافی کمپیٹیشن پایا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی خریدار کو اپنا کسٹمر بنانا چاہتا ہے اور ایسی چیز دینا چاہتا ہے جس کو دیکھ کر اسے اس دکان پر دوبارہ آنے کا من کرے۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس مارکیٹ کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اس بات کا اندازہ آپکو یہاں پر ہونے والے رش سے بخوبی ہوسکتا ہے۔

Saturday, August 15, 2015

عرفان شیخ (پروفائیل) طلحہ شیخ (Revised)

طلحہ شیخ رول نمبر 2k13/mc/111
 (Revised)
محمد عرفان شیخ (پروفائیل)
محنت میں عظمت میں ہے اس جملے سے تو آپ لوگ بخوبی واقف ہی ہونگے یہی وجہ ہے کہ انسان کی کامیابی کا راز اس کی انتھک محنت اور لگن میں موجود ہے۔ اور جو لوگ کسی اور پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنے آپ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور اﷲ تعالی کی ذات سے کبھی مایوس نہیں ہوتے تو کامیابی ہمیشہ ان کے قدم چومتی ہے۔
محمد عرفان شیخ 1978میں حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدسائیکل کے پنکچر لگایا کرتے تھے ۔محمد عرفان شیخ گھر میں سب سے چھوٹے تھے اور سب سے لاڈلے بھی۔ والد کا کام اور ان کے 8بچوں کے باعث محمد عرفان شیخ نے اپنا بچپن بڑی تنگ دستی میں گزارا لیکن اسکے باوجود انہیں تعلیم حاصل کرنے کا بے حد شوق تھا۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ اسکول سے حاصل کی اور میٹرک اور انٹر کا امتحان بھی گورنمنٹ اسکول سے ہی دیا۔ تنگدستی اور وسائل کے نا ہونے کی وجہ سے محمد عرفان شیخ کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ کم عمری میں ہی نوکری کرنا پڑی۔ مختلف جگہ ٹیوشن پڑھا کر وہ اپنا پڑھائی کا خرچ بھی اٹھاتے اور اسکے ساتھ ساتھ جو پیسے بچ جاتے وہ والد صاحب کو دیتے۔ اس کے بعد آخر کار انہوں نے پہلے B.Scپھر M.Scکا امتحان پاس کیا۔ ابھی تعلیم سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ پہلے والدہ اور پھر والد کا انقال ہوگیا۔
محمد عرفان شیخ شخصیت کے اعتبار سے بہت ہی سادہ اور پر کشش انسان ہیں ان کی گفتگو کا انداز بہت ہی خوشنما ہے اور ہر ایک شخص سے مسکرا کر پیش آتے ہیں اور جب بھی وقت ملتا ہے اپنا زیادہ تر وقت دوستوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔ اور انہیں کرکٹ کھیلنے کا بھی بہت شوق ہے مگر مصروفیات کی وجہ سے کھیل نہیں پاتے ۔ ان کا پسندیدہ رنگ سفید اور نیلا ہے اور کھانے میں بریانی بہت شوق سے کھاتے ہیں۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد محمد عرفان شیخ نے اپنی محنت کو جاری رکھا اور ڈمیسٹک لیول کی فارما سیوٹیکل کمپنی میں نوکری اختیار کی جہاں پر انہیں مختلف زاویوں سے کام کرنے او ر سیکھنے کا موقع ملا۔ وہاں ایک سال کام کرنے اور اپنی قابلیت کو سنوارنے کے بعد انہیں ایک نیشنل فارماسیوٹکل کمپنی سے آفر ہوئی جو کہ وہ رد نا کرسکے اس کمپنی کے توسط سے انہیں دنیا گھومنے کا بھی موقع ملا۔ اسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے 2010میں شادی کرلی۔ شادی ان کے لئے ان کی زندگی کا بہترین اور کامیاب ترین پہلو تھا کیوں کے شادی کے فوراً بعد انہیں نوونورڈسک نامی ایک ملٹی نیشنل انسیولین کمپنی سے بحیثیت پروڈکٹ منیجر کی جاب مل گئی۔ محمد عرفان شیخ کے ایک بیٹا اور بیٹی ہے اور وہ ان سے بہت پیار کرتے ہیں۔
ان کے بچپن کے دوست اور ان کے کولیگ محمد ناصر ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ محمد عرفان شیخ اور میں اسکول سے ساتھ ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ میری مدد کی اور مجھے اپنے ساتھ جاب بھی دلوائی۔ اور کام اعتبار سے بھی یہ بہت کاپریٹیو ہیں ۔ اور ابھی بھی ان کا رویہ میرے ساتھ بھائیوں جیسا ہے۔
محمد عرفان شیخ سے جب ہم نے بات کی تو انہوں نے یہ میسج دیا کہ انسان کو کبھی بھی ہار نہیں ماننی چاہئے جو کہ لوگ آسانی سے مان جاتے ہیں ۔ کیونکہ محنت میں ہی عظمت ہے او اﷲ کسی کی بھی محنت رائیگا نہیں جانے دیتا۔




 -------------------------------------
First copy which was returned
 -------------------------------------
کیا یہ ٹاپک منظور شدہ ہے؟ میرا خیال ہے کہ نہیں

اگر ہے تو پروفائیل کو پروفائیل بنائیں اس میں کچھ دلچسپ مزیدار چیزیں ڈالیں اور انداز بیان اچھا بنائیں۔ یہ بلکل مضمون کی طرح لگ رہا ہے۔
 جو سیمپل کے طور پر پپروفائیل گروپ پہ یا روشنی کی ویب سائیٹ پر ییوز فل لنکس کے نام سے ہیں وہ پڑہیں۔ 
سیکنڈ سیمسٹر میں اس طرح کا پروفائیل قابل قبول نہیں ہوگا۔
طلحہ شیخ رول نمبر 2k13/mc/111
محمد عرفان شیخ (پروفائیل)


Unedited
  محمد عرفان شیخ 1978میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام شریف تھا جو کہ سائیکل پنکچر لگایا کرتے تھے۔ محمد عرفان شیخ کے 6بھائی اور 2 بہنیں ہیں۔ والد کا کام اور ان کے 8بچوں کے باعث محمد عرفان شیخ نے اپنا بچپن بڑی تنگ دستی میں گزارا۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ اسکول سے حاصل کی اور میٹرک اور انٹر کا امتحان بھی گورنمنٹ اسکول سے دیا۔ وسائل کے نا ہونے کی وجہ سے محمد عرفان شیخ کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ نوکری بھی کرنا پڑی۔ مختلف جگہ ٹیوشن پڑھا وہ اپنا پڑھائی کا خرچ بھی اٹھاتے اور اسکے ساتھ ساتھ جو پیسے بچ جاتے وہ والد صاحب کو دیتے۔ اس کے بعد آخر کار انہوں نے پہلے B.Scپھر M.Scکا امتحان پاس کیا۔
محمد عرفان شیخ شخصیت کے اعتبار سے بہت ہی سادہ اور پر کشش انسان ہیں ان کی گفتگو کا انداز بہت ہی خوشنما ہے اور ہر ایک شخص سے مسکرا کر پیش آتے ہیں اور جب بھی وقت ملتا ہے اپنا زیادہ تر وقت دوستوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ اور انہیں کرکٹ کھیلنے کا بھی بہت شوق ہے مگر مصروفیات کی وجہ سے کھیل نہیں پاتے ۔ ان کا پسندیدہ رنگ سفید اور نیلا ہے اور کھانے میں لوکی کی سبزی بہت شوق سے کھاتے ہیں۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد محمد عرفان شیخ نے اپنی محنت کو جاری رکھا اور ڈمیسٹک لیول کی فارما سیوٹیکل کمپنی میں نوکری اختیار کی۔ وہاں ایک سال کام کرنے کے بعد انہیں ایک نیشنل فارماسیوٹکل کمپنی سے آفر ہوئی جو کہ وہ رد نا کرسکے۔ اسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے 2010میں شادی کرلی۔ شادی ان کے لئے ان کی زندگی کا بہترین اور کامیاب ترین پہلو تھا کیوں کے شادی کے فوراً بعد انہیں نوونورڈسک نامی ایک ملٹی نیشنل انسیولین کمپنی سے پروڈکٹ منیجر کی جاب اختیار کرلی۔ محمد عرفان شیخ کے ایک بیٹا اور بیٹی ہے اور وہ ان سے بہت پیار کرتے ہیں۔

ان کے بچپن کے دوست اور ان کے کولیگ محمد ناصر ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ محمد عرفان شیخ اور میں اسکول سے ساتھ ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ میری مدد کی اور مجھے اپنے ساتھ جاب بھی دلوائی۔ اور کام اعتبار سے بھی یہ بہت کاپریٹیو ہیں ۔ اور ابھی بھی ان کا رویہ میرے ساتھ بھائیوں جیسا ہے۔

محمد عرفان شیخ سے جب ہم نے بات کی تو انہوں نے یہ میسج دیا کہ انسان کو کبھی بھی ہار نہیں ماننی چاہئے جو کہ لوگ آسانی سے مان جاتے ہیں ۔ کیونکہ محنت میں ہی عظمت ہے او اﷲ کسی کی بھی محنت رائیگا نہیں جانے دیتا۔