Showing posts with label Returned. Show all posts
Showing posts with label Returned. Show all posts

Saturday, August 15, 2015

عرفان شیخ (پروفائیل) طلحہ شیخ (Revised)

طلحہ شیخ رول نمبر 2k13/mc/111
 (Revised)
محمد عرفان شیخ (پروفائیل)
محنت میں عظمت میں ہے اس جملے سے تو آپ لوگ بخوبی واقف ہی ہونگے یہی وجہ ہے کہ انسان کی کامیابی کا راز اس کی انتھک محنت اور لگن میں موجود ہے۔ اور جو لوگ کسی اور پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنے آپ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور اﷲ تعالی کی ذات سے کبھی مایوس نہیں ہوتے تو کامیابی ہمیشہ ان کے قدم چومتی ہے۔
محمد عرفان شیخ 1978میں حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدسائیکل کے پنکچر لگایا کرتے تھے ۔محمد عرفان شیخ گھر میں سب سے چھوٹے تھے اور سب سے لاڈلے بھی۔ والد کا کام اور ان کے 8بچوں کے باعث محمد عرفان شیخ نے اپنا بچپن بڑی تنگ دستی میں گزارا لیکن اسکے باوجود انہیں تعلیم حاصل کرنے کا بے حد شوق تھا۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ اسکول سے حاصل کی اور میٹرک اور انٹر کا امتحان بھی گورنمنٹ اسکول سے ہی دیا۔ تنگدستی اور وسائل کے نا ہونے کی وجہ سے محمد عرفان شیخ کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ کم عمری میں ہی نوکری کرنا پڑی۔ مختلف جگہ ٹیوشن پڑھا کر وہ اپنا پڑھائی کا خرچ بھی اٹھاتے اور اسکے ساتھ ساتھ جو پیسے بچ جاتے وہ والد صاحب کو دیتے۔ اس کے بعد آخر کار انہوں نے پہلے B.Scپھر M.Scکا امتحان پاس کیا۔ ابھی تعلیم سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ پہلے والدہ اور پھر والد کا انقال ہوگیا۔
محمد عرفان شیخ شخصیت کے اعتبار سے بہت ہی سادہ اور پر کشش انسان ہیں ان کی گفتگو کا انداز بہت ہی خوشنما ہے اور ہر ایک شخص سے مسکرا کر پیش آتے ہیں اور جب بھی وقت ملتا ہے اپنا زیادہ تر وقت دوستوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔ اور انہیں کرکٹ کھیلنے کا بھی بہت شوق ہے مگر مصروفیات کی وجہ سے کھیل نہیں پاتے ۔ ان کا پسندیدہ رنگ سفید اور نیلا ہے اور کھانے میں بریانی بہت شوق سے کھاتے ہیں۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد محمد عرفان شیخ نے اپنی محنت کو جاری رکھا اور ڈمیسٹک لیول کی فارما سیوٹیکل کمپنی میں نوکری اختیار کی جہاں پر انہیں مختلف زاویوں سے کام کرنے او ر سیکھنے کا موقع ملا۔ وہاں ایک سال کام کرنے اور اپنی قابلیت کو سنوارنے کے بعد انہیں ایک نیشنل فارماسیوٹکل کمپنی سے آفر ہوئی جو کہ وہ رد نا کرسکے اس کمپنی کے توسط سے انہیں دنیا گھومنے کا بھی موقع ملا۔ اسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے 2010میں شادی کرلی۔ شادی ان کے لئے ان کی زندگی کا بہترین اور کامیاب ترین پہلو تھا کیوں کے شادی کے فوراً بعد انہیں نوونورڈسک نامی ایک ملٹی نیشنل انسیولین کمپنی سے بحیثیت پروڈکٹ منیجر کی جاب مل گئی۔ محمد عرفان شیخ کے ایک بیٹا اور بیٹی ہے اور وہ ان سے بہت پیار کرتے ہیں۔
ان کے بچپن کے دوست اور ان کے کولیگ محمد ناصر ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ محمد عرفان شیخ اور میں اسکول سے ساتھ ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ میری مدد کی اور مجھے اپنے ساتھ جاب بھی دلوائی۔ اور کام اعتبار سے بھی یہ بہت کاپریٹیو ہیں ۔ اور ابھی بھی ان کا رویہ میرے ساتھ بھائیوں جیسا ہے۔
محمد عرفان شیخ سے جب ہم نے بات کی تو انہوں نے یہ میسج دیا کہ انسان کو کبھی بھی ہار نہیں ماننی چاہئے جو کہ لوگ آسانی سے مان جاتے ہیں ۔ کیونکہ محنت میں ہی عظمت ہے او اﷲ کسی کی بھی محنت رائیگا نہیں جانے دیتا۔




 -------------------------------------
First copy which was returned
 -------------------------------------
کیا یہ ٹاپک منظور شدہ ہے؟ میرا خیال ہے کہ نہیں

اگر ہے تو پروفائیل کو پروفائیل بنائیں اس میں کچھ دلچسپ مزیدار چیزیں ڈالیں اور انداز بیان اچھا بنائیں۔ یہ بلکل مضمون کی طرح لگ رہا ہے۔
 جو سیمپل کے طور پر پپروفائیل گروپ پہ یا روشنی کی ویب سائیٹ پر ییوز فل لنکس کے نام سے ہیں وہ پڑہیں۔ 
سیکنڈ سیمسٹر میں اس طرح کا پروفائیل قابل قبول نہیں ہوگا۔
طلحہ شیخ رول نمبر 2k13/mc/111
محمد عرفان شیخ (پروفائیل)


Unedited
  محمد عرفان شیخ 1978میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام شریف تھا جو کہ سائیکل پنکچر لگایا کرتے تھے۔ محمد عرفان شیخ کے 6بھائی اور 2 بہنیں ہیں۔ والد کا کام اور ان کے 8بچوں کے باعث محمد عرفان شیخ نے اپنا بچپن بڑی تنگ دستی میں گزارا۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ اسکول سے حاصل کی اور میٹرک اور انٹر کا امتحان بھی گورنمنٹ اسکول سے دیا۔ وسائل کے نا ہونے کی وجہ سے محمد عرفان شیخ کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ نوکری بھی کرنا پڑی۔ مختلف جگہ ٹیوشن پڑھا وہ اپنا پڑھائی کا خرچ بھی اٹھاتے اور اسکے ساتھ ساتھ جو پیسے بچ جاتے وہ والد صاحب کو دیتے۔ اس کے بعد آخر کار انہوں نے پہلے B.Scپھر M.Scکا امتحان پاس کیا۔
محمد عرفان شیخ شخصیت کے اعتبار سے بہت ہی سادہ اور پر کشش انسان ہیں ان کی گفتگو کا انداز بہت ہی خوشنما ہے اور ہر ایک شخص سے مسکرا کر پیش آتے ہیں اور جب بھی وقت ملتا ہے اپنا زیادہ تر وقت دوستوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ اور انہیں کرکٹ کھیلنے کا بھی بہت شوق ہے مگر مصروفیات کی وجہ سے کھیل نہیں پاتے ۔ ان کا پسندیدہ رنگ سفید اور نیلا ہے اور کھانے میں لوکی کی سبزی بہت شوق سے کھاتے ہیں۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد محمد عرفان شیخ نے اپنی محنت کو جاری رکھا اور ڈمیسٹک لیول کی فارما سیوٹیکل کمپنی میں نوکری اختیار کی۔ وہاں ایک سال کام کرنے کے بعد انہیں ایک نیشنل فارماسیوٹکل کمپنی سے آفر ہوئی جو کہ وہ رد نا کرسکے۔ اسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے 2010میں شادی کرلی۔ شادی ان کے لئے ان کی زندگی کا بہترین اور کامیاب ترین پہلو تھا کیوں کے شادی کے فوراً بعد انہیں نوونورڈسک نامی ایک ملٹی نیشنل انسیولین کمپنی سے پروڈکٹ منیجر کی جاب اختیار کرلی۔ محمد عرفان شیخ کے ایک بیٹا اور بیٹی ہے اور وہ ان سے بہت پیار کرتے ہیں۔

ان کے بچپن کے دوست اور ان کے کولیگ محمد ناصر ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ محمد عرفان شیخ اور میں اسکول سے ساتھ ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ میری مدد کی اور مجھے اپنے ساتھ جاب بھی دلوائی۔ اور کام اعتبار سے بھی یہ بہت کاپریٹیو ہیں ۔ اور ابھی بھی ان کا رویہ میرے ساتھ بھائیوں جیسا ہے۔

محمد عرفان شیخ سے جب ہم نے بات کی تو انہوں نے یہ میسج دیا کہ انسان کو کبھی بھی ہار نہیں ماننی چاہئے جو کہ لوگ آسانی سے مان جاتے ہیں ۔ کیونکہ محنت میں ہی عظمت ہے او اﷲ کسی کی بھی محنت رائیگا نہیں جانے دیتا۔

سرکاری زمینوں پر قبضہ - عبدالرافع

Corrected
آرٹیکل عبدالرافع

2k13/mc/03 
Un-edited
سرکاری زمینوں پر قبضے

پاکستان کے بنے کے بعد جو عوام یہاں ہجرت کرکے آئے تھے تو حکومتِ پاکستان نے انہیں جو جگہیں الاٹ کی تھی اس کے علاوہ بھی بہت بڑی تعداد میں عوام کو جہاں جگہ ملی انھوں نے وہاں ہی اپنی رہائش کرنے میں آفیت جانی اسی میں حیدرآباد شہر بھی شامل تھا ۔یہ حقیقت ہے کہ ہر معاشرے میں اچھائیاں اور برائیاں دونوں موجود ہوتی ہیں مگر کچھ اس طرح کی برائیاں بھی ہوتی ہیں جو کہ اچھے کام کے نام پر ناجائز اور غیر قانونی کام ہوتے ہیں اس حوالے سے اگر حیدرآباد کا رخ کیا جائے تو بہت سے ایسے عمل اور سرگرمیاں ہیں جو کہ با ظاہر ناجائز ہیں اور غیر قانون ہیں لیکن ان کو اچھے کام کی طرح کیا جارہا ہے۔
حیدرآباد میں بہت سی جگہ جہاں پر اچھے کام کے نام پر غیر قانون کام ہورہے ہیں جس میں سے ایک غیر قانونی کام سرکاری زمینو ں پر قبضہ بھی جس میں حیدرآباد کی نرسریاں غیر قانونی زمین میں سے ریلوے کالونی ،مہر علی کالونی،نیا پل ،لیبر کالونی زیرفہرست ہے جہاں لوگ قبضہ کر رہے ہیں جبکہ مارکیٹوں کا رخ کیا جائے تو شاہی بزار،کلاتھ مارکیٹ،چھوٹکی گھٹی،سرے گھاٹ چوک،میمن اسپتال چوک پر بھی دوکان داروں نے مین روڈ اور فٹ پاتھوں پر جگہ کو گھیرا ہوا ہے اور اپنی دوکانوں کو بڑھانے کے لئے روڈ اور فٹ پاتھوں کو ناجائز طریقے سے استعمال کر رہے ہیں جس سے پیدل چلنے والے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے اور پھر انہی لوگوں کوجب روڈ پر چلنا پڑتا ہے تو دوسری جانب ٹریفک کو بھی مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے عوام میں بے چینی اور چڑچڑا پن آجاتاہے۔ اس کے علاوہ بھی لطیف آباد آٹھ نمبرمارکیٹ میں بھی دوکان داروں کا یہ ہی حال ہے اور قاسم آباد میں بھی یہ ہی حال ہے جبکہ کینٹومینٹ بورڈ کے احاطے میں آنے والی نرسریاں جو کہ پٹھان کالونی سے لے راجپوتانہ اسپتال تک غیر قانونی نرسریاں قائم کی ہوئی ہیں اور اس میں شک نہیں کہ نرسریاں ہمارے معاشرے کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں اور ماحول خوشگوار بنانے کاواحد ذریعہ ہیں مگر سرکاری زمینوں پر اچھے کام کے نام پر نرسریاں بنانا ناجائز ہے جس سے شہر سے جانے اور آنے والے ٹریفک کو مثائل درپیش ہیں۔
اس کے علاوہ ٹاور مارکیٹ میں تقریبا 1000 سے زائد داکانداروں نے ناجائزقبضہ کیا ہوا ہے۔جبکہ بات کی جائے کلاتھ مارکیٹ اور فقیر کے پڑِ اور شاہی بزار اور اسی طرح کے کاروبار کرنے والے علاقوں میں بھی ہزاوں کی تعداد مین لوگوں نے قبضہ کیا ہوا ہے ۔اور اسی طرح بات کی جائے گھروں کی تو اس پر بھی لوگوں نے کئی کئی فٹ جگہاؤں پر قبضہ کر کے اپنے گھروں کو گلی میں نکال رکھے ہیں۔
اس طرح اگر دوسرے غیر قانونی قبضہ پر بات کی جا ے تواس میں لکڑیوں کی ٹالیں او رغیر قانونی پارکینگ بھی تجاوزات کے ذمرے میں ہی آتی ہیں حیدرآباد میں کل لکڑیوں کی ٹالوں کی تعداد 50 سے زائد ہیں جس میں 15سے زائدلطیف آباد میں واقع ہیں جو کہ ایک بڑے رقپے پرمبنی ہے اسوراسی طرح کی چاندنی موبائل مارکیٹ،کوہنور چوک اور لطیف آبادمیں بھی کئی جگہوں پر غیر قانونی پارکنگ ہیں جو کہ بڑے بڑے نامور شخصیات کے نام سے چل رہی ہیں اور ان زمینوں کی قیمتیں کروڑوں میں ہیں ناجائز تجاوزات کے خلاف حیدرآباد کے( ڈی۔آئی ۔جی )ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی نے تمام 9 ضلع کے ایس۔ایس۔پیز کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری زمینوں پر بنے والے ناجائز پارکنگ ،چھوٹے بڑے مختلف ٹھیئے اور روڈ پر لگنے والی غیر قانونی چیزوں کو ہٹایا جائے اور قبضہ خالی کروایا جائے کے اور ان کو 15 دن کی مہلت دی جائے کہ وہ اپنے غیر قانونی تجاوزات کو کہیں جائز مقام پر منتقل کریں۔
ان ناجائز تجاوزات میں بلدیہ کا بھی اہم کردار ہے۔ بلدیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر قانونی اور ناجائز تجاوزات ختم کریں مگر وہ اس کے برعکس کام کر رہے ہیں۔
مگر HDA،CBH اور بلدیہ نے چند روپے کی خاطر یہ زمینیں عوام کے حوالے کر رکھی ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان زمینوں کو معاشرے کی ترقی اور بہتری کے لیے استعمال کرے تاکہ ہمارا معاشرہ اور بہتری کی طرف گامزن ہوسکے۔اور سڑکوں کو کشادہ کر کے لوگوں کے مثائل کو کم کیا جاسکے۔

Abdul Rafay BS-III Second semester
August 2015
This practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi
 ----------------------------
سرکاری زمینوں پر قبضہ آرٹیکل
عبدالرافع 2k13/mc/03
شہر کے اندر اولڈ سٹی ایریا میں جو قبضے اور ناجائز تجاوزات ہیں؟
نرسریاں میونسپل لیڈ پر ہیں یا ہائی وے لینڈ پہ یا کینٹونمنٹ کی زمین پہ؟
اس حوالے سے سرکاری سروے وغیرہ کیا ہے؟ اور غیر سرکاری اعداد وشمار کیا ہیں۔
ویسے میونسپل اور کینٹونمنٹ بورڈ کے پاس اینٹی انکروچمنٹ محکمے ہیں۔ اور حکومت سندھ نے بھی اینٹی انکروچمنٹ ڈپارٹمنٹ بنیا ہے۔ ان کی کیا رپورٹس ہیں۔
کم از کم 600 تو ہوں کہ ایڈیٹنگ کے بعد ایک سو الفاظ کم ہوں تو کوئی مسئلہ جو الفاظ اس کلر میں ہیں وہ وجاحت چاہتے ہیں۔
یہ آخری سمیسٹر ہے اس میں کوئی چالو قسم کے تحریریں نہیں چلیں ۔
اور ہاں اس کے اوپر لکھو تو صحیح کیہ آرٹیکل ہے، فیچر یا اور کچھ

سرکاری زمینوں پر قبضہ

 
Unedited
ہر معاشرے میں اچھائیاں اور برائیاں دونوں موجود ہوتی ہیں مگر کچھ اس طرح کی برائیاں بھی ہوتی ہیں جو کہ اچھے کام کے نام پر ناجائز اور غیر قانونی کام ہوتے ہیں اس حوالے سے اگر حیدرآباد کا رخ کیا جائے تو بہت سے ایسے عمل اور سرگرمیاں ہیں جو کہ با ظاہر ناجائز ہیں اور غیر قانون ہیں لیکن ان کو اچھے کام کی طرح کیا جارہا ہے۔
حیدرآباد میں بہت سی جگہ جہاں پر اچھے کام کے نام پر غیر قانون کام ہورہے ہیں جس میں سے ایک غیر قانونی کام سرکاری زمینو ں پر قبضہ بھی جس میں حیدرآباد کی نرسریاں بھی شامل ہیں جو کہ مختلف جگہوں پر واقع ہیں جن میں لطیف آباد، قاسم آباد، ڈیپولائے کالونی شامل ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ نرسریاں ہمارے معاشرے کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں اور ماحول خوشگوار بنانے کاواحد ذریعہ ہیں مگر سرکاری زمینوں پر اچھے کام کے نام پر نرسریاں بنانا ناجائز کام ہے۔
حیدرآباد میں کل نرسریوں کی جس میں سے 5 لطیف آباد ، 3 قاسم آباد اور 2ڈپلائے کالونی اور دیگر جگہوں پر واقع ہیں حیدرآباد میں واحد ایک سرکاری نرسری ہے جوکہ لطیف آباد 2 نمبر میں واقع ہے جو فوریسٹ نرسری کے نام سے مشہور ہے اور باقی تمام غیر سرکاری اور ناجائز ہیں۔ 
( اور جو قاسم چوک سے لیکر راجپوتانا تک بنائی ہوئی ہیں وہ کس کھاتے میں جائیں گی؟)
اس طرح اگر دوسرے غیر قانونی قبضہ پر بات کی جا ے تواس میں لکڑیوں کی ٹالیں اور تجاوزات شامل ہیں حیدرآباد میں کل لکڑیوں کی ٹالوں کی تعداد 50 سے زائد ہیں جس میں 15سے زائدلطیف آباد ا ور 25 سے زائدڈپلائے کالونی میں واقع ہیں جو کہ ایک بڑے
رقپے پرمبنی ہے اور ان زمینوں کی قیمتیں کروڑوں میں ہیں مگر HDA اور بلدیہ نے چند روپے کی خاطر یہ زمینیں عوام کے حوالے کر رکھی ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان زمینوں کو معاشرے کی ترقی اور بہتری کے لیے استعمال کرے تاکہ ہمارا معاشرہ اور بہتری کی طرف گامزن ہوسکے۔