Showing posts with label عبدالرافع سہیل. Show all posts
Showing posts with label عبدالرافع سہیل. Show all posts

Saturday, September 12, 2015

پروفائل:پروفیسر ڈاکٹر صادق میمن


پروفائل:۔ پروفیسر ڈاکڑ صادق میمن:۔

تحریر: عبدلرافع سہیل:۔

2k13/MC/03

ڈاکٹر مریضوں کا علاج کرتے ہیں اور دکھی انسان ذات کی خدمت کرتے ہیں۔اس لیے انہیں مسیحا کہاجاتا ہے۔لوگ اس مرتبے کی بہت عزت کرتے ہیں اور یہ سچ ہے کہ آج کل ایسے بھی نامی گرامی لوگ اس دنیا میں موجود ہیں جو ڈاکٹروں کے نام پر سیاہ دھبہ ہیں ۔بہر حال تمام ڈاکٹر جعلی یا نا اہل نہیں ہوتے اور چند ایسے ڈاکٹر اور طبیب لوگ موجود ہیں جو ہمیں ہمارے معاشرے میں نظرآتے ہیں جو اپنی محنت جستجو اور کوششوں کے دم سے پہچانے جاتے ہیں۔
انہیں میں سے ایک پروفیسر ڈاکٹر صادق میمن ہیں جو26جنوری 1969 ؁میں پاکستان کے شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔والد کا نام عبدلعزیز میمن تھا ۔ انکے والد ایک نہایت ہی سادہ زندگی گزار پسند آدمی تھے انکا تعلق بھارت کے شہر کاٹھیاوار سے تھا 1947 ؁ء میں تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے شہر حیدرآباد آگئے اور یہیں پناہ لینے میں اپنی آفیت جانی۔ڈاکٹر صادق میمن نے اپنی ابتدائی تعلیم ایک سرکاری اسکول سے حاصل کی اور انٹر میڈیٹ گورمنٹ کالج کالی موری سے پاس کیا۔تعلیم کو ہی اپنا ہتھیار سمھجتے ہوئے ہار نہ مانی ڈاکٹر بنے کا شوق تو بچپن ہی سے تھا اور خواب تھا کہ غریبوں اور مستحکوں کی مدد کروں۔
اپنی اس امید کوقائم رکھتے ہوئے ہار نہ مانی اور 1987 ؁ء میں لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل ہیلتھ اینڈ سائنس میں داخلہ لے لیا اور یہیں سے اپنے کیریئر کا آغاز شروع کیا۔اتنے وسائل درپیس نہ ہونے کی صورت میں آپ نے ڈاکٹر کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ محنت میں شرم محسوس نہ کی اور کلاتھ مارکیٹ حیدرآباد میں ایک کپٹرے کی دکان پر بطور ملازمت اپنی خدمات سر انجام دیں اور اسکے ساتھ 
ساتھ بچوں کو گھر گھر جا کر ٹیوشن پڑہاتے اور اپنی میڈیکل کی پڑہائی کو بھی جاری رکھے ہوئے تھے اپنی اس محنت کی کمائی کی رقم سے اپنی پڑہائی کے اخراجات خود اٹھاتے والد کو کسی قسم کی پریشانی نہیں دیتے۔
1992 ؁ء میں آپ نے اپنا ایم۔ بی۔ بی ۔ایس مکمل کرلیا اور ڈاکٹر کا لقب اپنے نام کے ساتھ جوڑ لیا۔
لیکن MBBS کرنے کے بعدانہوں نے کسی ایک مرض میں مہارت حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی اور پھر ماہر امراض معدہ وجگر کی تعلیمی اسناد حاصل کر چکے ہیں اور اپنے فن میں اتنے ماہر ہوچکے ہیں کہ پورے ملک اور بیرون ممالک میں جانے اور پہچانے جاتے ہیں پہلے انکا ایک چھوٹا سا کلینک ہوا کرتا تھا لیکن مریضوں کے مرض اور علاج کے لیے اپنا خود کا ہسپتال شروع کیا اور آج انکا ہسپتال ملک کے چند بہترین ہسپتالوں میں شمار ہوتا ہے۔ آپ دیگر ممالک کے بھی دورے کرتے ہیں اور جگر کے مریضوں کو اللہ کی مدد سے شفاء یاب بھی کرتے ہیں بھارتی ڈاکٹروں نے جو جگر کا پہلا ٹرانسپلانٹ کیا تھا آپ بھی اس میں شریک ہوئے تھے ۔جس مریض کا علاج یہاں ممکن نہیں ہوتاتو یہ دیگر ممالک کے ڈاکٹروں سے رجوع کرتے
ہیں جس میں بھارت کا نام سرفہرست ہے۔
جگر کے مریض کا ایک علاج جسے ای۔آر۔سی۔پی کہا جاتا ہے جو کہ آغا خان میں 60ہزار سے 1لاکھ تک ہوتا سے وہی علاج آپ کے ہسپتال میں 5سے10ہزار میں کیا جاتا ہے اور اگر جو مریض علاج کا خرچہ نہیں اٹھا سکتا تو آپ اسکا علاج بطور انسانیت مفت میں کرتے ہیں۔
آج کل دنیا میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو اپنی ذات سے کسی دوسرے کو فائدہ پہنچاتے ہیں مگر آج بھی ہمارے معاشرے میں بہت سے اچھے لوگ مل ہی جاتے ہیں جیسے کہ پروفیسر ڈاکٹر صادق میمن ہیں انکی شخصیت کو دیکھ کر انتہائی خوشی ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنی اس زندگی میں پیسہ کو ہی اپنا سب کچھ نہ سمجھا بلکہ اپنی عزت اور شہرت کو اونچائی پر رکھا۔
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi

Tuesday, September 1, 2015

رنی کوٹ دیوارِ سندھ - عبدالرافع سہیل, Edited

Edited 
رنی کوٹ دیوارِ سندھ   
عبدالرافع سہیل فیچر:

دنیا کا سب سے بڑا قلعہ "رنی کوٹ"سندھ کے ضلع جامشورو کے علاقے کھیر تھر کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہے اس کو دیوارِ سندھ بھی کہا جاتا ہے،یہ کسی حد تک دیوارِ چین کی مانند ہے۔ اس دیوار کی لمبائی 32کلو میٹر تقریباََ20میل ہے اور اونچائی 30سے 25فٹ ہے بعض لوگوں کے مطابق اس دیوار کو ایرانی اور بعد میں ٹالپور حکمرانوں نے تعمیر کیا ہے۔
رنی کوٹ ایک ایسی ہی تاریخی عمارت ہے جو رقبے کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا قلعہ ہے یہ ایک منفرد عمارت ہے لیکن بد قسمتی سے اسے ملکی خواہ عالمی سطح پر نظر انداز کیا گیا ۔یونیسیف کی عالمی ورثے میں شامل کی جانے والی عمارات کی میں رنی کوٹ شامل نہیں۔
اس قلعہ کے قریب 5000ہزار سال قبل مسیح "آمری" کی بستی کے آثار ملے ہیں۔ 

یہ امر بھی واضح کرتا ہے کہ علاقہ کھیر تھر تجارتی قافلوں اور افواج کا راستہ رہا ۔ بلوچستان سندھ، پنجاب اور راجستھان کی گزر گاہوں کاوہاں سنگم بن چکا تھا،سیتھی کامیاب رہے اور انہوں نے سندھ پر بھی قبضہ کرلیا تاہم مشرقی ہندوستان پر حکمران ایک اور ایرانی قبائل پارتھیائی ان پر حملے کرتے رہے ۔
یو ں قلعہ رنی کوٹ وجود میں آیا، رفتہ رفتہ سیتھی اور بستیآمری قصہِ پارنیہ بن گئے، مگر قلعہ قائم رہا، اس وقت اس میں برج موجود نہ تھا یہ 45برج 1812ء ؁ میں سندھ کے دو ٹالپور حکمرانوں میر کرم خان، اور میر مراد علی خان نے تعمیر کرائے ، تاکہ وہاں تو پیں رکھی جاسکیں یہ قلعہ آج بھی ایک عظمتِ رفتہ کی یاد دلاتا ہے ۔سیتھی 400 سال تک موجود ہ سندھ اور ہند کے کئی علاقوں پر حکومت کرتے رہے تاہم آہستہ آہستہ ان کی سلطنت ختم ہوتی گئی۔
رنی کوٹ سندہ کا تاریخی قلعہ ہے جو کے اپنی ایک پہچان رکھتا ہے جس کو حکومت کی جانب سے ہر دور میں نزر انداز کیا جا رہا ہے صدیوں پرانے اس تاریخی قلعہ کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی خا ص اقدامات نہیں کیے گے ۔ اس قلعہ کی مختلف دیواریں خستہ حالی کا شکار ہیں جو کہ دن بہ دن سیاحوں کے لیے نقصان دہ بنتی جا رہی ہیں حکومت کی توجہ نہ ہونے کے باعاعث یہ سندہ کا تاریخی قلعہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار بنتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ایک ٹرسٹ کی جانب سے قلعہ کے اندر واقع چھوٹے قلعہ میری کوٹ اور شاہ پیر کی تزئین و از سرنو تعمیر کی گئی ہے۔ 
Editing Muneeba Hafeez
------------------------ FIRST VERSION --------------------------------
عبدالرافع سہیل

2K13/MC/03

فیچر:۔  رنی کوٹ (دیوارِ سندھ)

دنیا کا سب سے بڑا قلعہ "رنی کوٹ"سندھ کے ضلع جامشورو کے علاقے کھیر تھر میں واقع ہے اس کو ملعقہ دیوارِ سندھ بھی کہا جاتا ہے،جو کہ کسی حد تک دیعار چین کی مانند ہے اس دیوار کی لمبائی 32کلو میٹر تقریباََ20میل ہے اور اونچائی 30سے 25فٹ ہے بعض لوگوں کے مطابق اس دیوار سکندرِ اعظم اور ٹالپور حکمرانوں نے تعمیر کیا ہے۔

قلعہ رانی کوٹ حیدرٓباد ے جانب شمال 90کلو میٹر دور کھیر تھر پہاڑوں کے قریب واقع ہے پاکستانیوں کی اکثریت کے مطابق اس نامی گرامی قلعہ کی تاریخ بنیادی معلومات سے نا واقف ہے اس کی خاص یہ ہی وجہ ہے کہ یہ قلعہ بے آباد ویران اور گنجان علاقے میں واقع ہے ۔
رنی کوٹ ایک ایسی ہی تاریخی عمارت ہے جو رقبے کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا قلعہ ہے جس کی چار دیواری 24 کلو میٹر طویل ہے اس اعتبار سے یہ ایک منفرد عمارت ہے لیکن بد قسمتی سے اسے ملکی اور بین لااقوامی سطع پر نزر انداز کیا گیا ہے یوں اسکو جو کہ پوری دنیا کی تہزیب کے نشانات کو مہفوظ رکھنے کا دعواکرتے ہیں کہ اس نے عالمی ورثے میں شامل کی جانے والی عمارات کی جو فہرست بناہی ہے اس میں رنی کوٹ کا نام تک شامل نہیں۔

جب اس کی باریکی سے تحقیق کی گئی تو ایک دلچسپ انکشافات نمایع ہوئے ،دنیا کی اولین انسانی بستیاں دریاؤں کے کنارے آباد ہوئی ناکہ انہیں 24گھنٹے زندگی کا منبع پانی ملتا رہے علاقے کھیر تھر میں ایک بڑی ندی اب رنی کوٹ ندی کے کنارے 5000ہزار سال قبل "امری"نامی بستی کی بنیاد پڑی جس کے آثار قدیم قلعہ رانی کوٹ کے قریب ہی واقع ہے اس ندی کا پانی دریائے سندھ جا ملتا ہے جو کسی دور میں 40میل دور بہتا تھاراستہ بدلنے کی وجہ سے اب اس کی دوری صرف20میل رہے گئی اس بستی کے آثار بتاتے ہیں کہ جب یہ علاقہ انسانوں کی گذر گاہ بن چکا تھا تو خیال ہے کہ یہ بستی وادی سندھ کی تہذیب کا حصہ اور سندھ راجھستان اور پنجاب کی دیگر بستیوں سے بہ را منسلک تھی۔80کے قبل مسیع میں یونانیباختری سندھ پر حکومت کررہے تھے تب تک سندھ میں مشہور بندرگاہ بھنبھور کی واضح بیل چکی تھی اس بندرگاہ اکے آثار کراچی کے مضافاتی علاقے ، دھابیجی کے نزدیک واقع ہیں انہیں دنوں ایرانی قبائل سیتھی افغانستان میں اپنی سلطنت کرچکے تھے۔

یہ امر بھی واضح کرتا ہے کہ علاقہ کھیر تھر تب تک تجارتی قافلوں اور افواج کا راستہ بن چکا تھا کینوکہ بلوچستان سندھ، پنجاب اور اجھستان کی کئی گزر گاہوں کاوہاں سنگم بن چکا تھا،سیتھی کامیاب رہے اور انہوں نے سندھ پر بھی قبضہ کرلیا تاہم مشرقی ہندوستان پر حکمران ایک اور ایرانی قبائل پارتھیائی ان پر حملے کرتے رہے ۔ 
اسی دور ان ایک اہم عالمی تبدیلی رونماء ہوئی اورایک عظیم سلطنت روما وجود میں آئی جلد ہی وہ اس زمانے کی اکلوتی سپر پاور بن گئی تمام سپر پاور کی مانند رومی بھی دنیا جہاں کی لگژی اشیاء اپنے یہاں منگوانا چاہتے تھے چین، تبت، ہندوستان اور افغانستان سے مختلف سامان، کھالیں ،موتی، قیمتی پھتر، لوہا، اونی کپڑے ،جانور ، مصالحے، ریشم، سوت، شیشم، پھل، چاول، اناج، وغیرہ منگواتے ،رومی سلطنت پہنچنے لگا ، بدلے میں چینی ہندوستانی اور افغانی سونے چاندی کے برتن ، سکے،شراب اور مختلف رنگ درآمد کرتے۔


1ء تک جنوبی اشیاء چین ارو سلطنت روما کے مابین ہونے والی اس تجارت کا سب سے ایک بڑا مرکز بھنبھور کی بندرگاہ بن گئی وجہ تھی کہ وہی سکندریہ اور رومیوں کی دیگر اہم بندرگاہوں کے نزدیک ترین واقع تھی ۔

چنانچہ چین ،افغانستان، تبت ، اور ہندوستان سے کثیر سامان پہلے پھنبھور پہنچتا اور پھر بحری جہازوں کے ذریعے دوسرے ممالک چلا جاتا ،رومیوں نے اس بندرگاکو"بربریکون"کا نام دیا تھا، اس تجارت کے باعث کھیر تھر گذرگاہ نے بہت اہمیت اختیار کرلی ، کیونکہ بیرونِ سندھ سے آنے والے بیشتر تجارتی قافلے وہی س یگزر کر بھنبھور جاتے تھے اس اہم تجارتی راستے دشمنوں کی دسترس محفوظ کرنے کی خاطر سیتھیوں نے بستی امری کے نزدیک بہت بڑا قلعہ بنایا جہاں مستقل طور پر ایک بھاری فوج قیام کرسکے۔
یو ں قلعہ رنی کوٹ وجود میں آٰ ا، رفتہ رفتہ سیتھی اور بستی اَمری قصرِ پارنیہ بن گئے، مگر قلعہ قائم و دائم رہا، اس وقت اس میں برج موجود نہ تھا یہ 45برج 1812ء ؁ میں سندھ کے دو ٹالپور حکمرانوں میر کرم خان، اور میر مراد علی خان، نے تعمیر کرائے ، تاکہ وہاں تو پیں رکھی جاسکیں یہ قلعہ آج بھی ایک عظمتِ رفتہ کی یاد دلاتا ہے ۔
سیتھی 400تک موجود ہ پاکستان اور بھارت کے کئی علاقوں پر حکومت کرتے رہے تاہم آہستہ آہستہ ان کی 
سلطنت ختم ہوتی رہی ،آخر چندر گیت موریہ نے ان کی یہ حکومت ختم کرڈالی مگر سیتھیوں کے آثا ر آج بھی ختم نہ ہوئے۔

رنی کوٹ سندہ کا تاریخی قلعہ ہے جو کے اپنی ایک پہچان رکھتا ہے جس کو حکومت کی جانب سے ہر دور میں نزر انداز کیا جا رہا ہے صدیوں پرانے اس تاریخی قلہ کے لیے حکومت کی جانب سے کوہی خا ص اقدامات نہیں کیے گے ۔ اس قلے کی مختلف دیواریں خستہ حالی کا شکار ہیں جو کہ دن بہ دن سیاحوں کے لیے نقصان دے بنتی جا رہی ہیں حکومت کی توجہ نہ ہونے کے باعاعث یہ سندہ کا تاریخی قلعہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار بنتا جا رہا ہے۔
-------------------------------------------------------
عبدالرافع سہیل Referred back 2K13/MC/03



فیچر:۔ رنی کوٹ (دیوارِ سندھ)

قلعہ کے اندر کیا ہے؟ اس کی تفصیلات اور اس وقت کیا حالت ہےَ حکومت کی جانب سے کیا اقدامات کئے گئے ہیں؟ ان کا ذکر ہونا چاہئے۔ فیچر ہمیشہ رپورٹنگ بیسڈ ہوتا ہے۔ مطلب اس میں دیکھنے ولاے کا مشاہدہ، متعلقہ لوگوں اور ماہرین سے بات چہیت، تازہ ترین صورتحال وغیرہ ہو۔ آپ کا فیچر تمام کا تمام سیکنڈری ڈیٹا پر ہے۔ 

یہ فیچر کے زمرے میں ہی نہیں آتا۔ 
دنیا کا سب سے بڑا قلعہ "رنی کوٹ"سندھ کے ضلع جامشورو کے علاقے کھیر تھر میں واقع ہے اس کو ملعقہ دیوارِ سندھ بھی کہا جاتا ہے،جو کہ کسی حد تک دیعار چین کی مانند ہے اس دیوار کی لمبائی 32کلو میٹر تقریباََ20میل ہے اور اونچائی 30سے 25فٹ ہے بعض لوگوں کے مطابق اس دیوار سکندرِ اعظم اور ٹالپور حکمرانوں نے تعمیر کیا ہے۔



قلعہ رانی کوٹ حیدرٓباد ے جانب شمال 90کلو میٹر دور کھیر تھر پہاڑوں کے قریب واقع ہے پاکستانیوں کی اکثریت کے مطابق اس نامی گرامی قلعہ کی تاریخ بنیادی معلومات سے نا واقف ہے اس کی خاص یہ ہی وجہ ہے کہ یہ قلعہ بے آباد ویران اور گنجان علاقے میں واقع ہے ۔



جب اس کی باریکی سے تحقیق کی گئی ت ایک دلچسپ انکشافات نمایع ہوئے ،دنیا کی اولین انسانی بستیاں دریاؤں کے کنارے آباد ہوئی ناکہ انہیں 24گھنٹے زندگی کا منبع پانی ملتا رہے علاقے کھیر تھر میں ایک بڑی ندی اب رنی کوٹ ندی کے کنارے 5000ہزار سال قبل "امری"نامی بستی کی بنیاد پڑی جس کے آثار قدیم قلعہ رانی کوٹ کے قریب ہی واقع ہے اس ندی کا پانی دریائے سندھ جا ملتا ہے جو کسی دور میں 40میل دور بہتا تھاراستہ بدلنے کی وجہ سے اب اس کی دوری صرف20میل رہے گئی اس بستی کے آثار بتاتے ہیں کہ جب یہ علاقہ انسانوں کی گذر گاہ بن چکا تھا تو خیال ہے کہ یہ بستی وادی سندھ کی تہذیب کا حصہ اور سندھ راجھستان اور پنجاب کی دیگر بستیوں سے بہ را منسلک تھی۔80کے قبل مسیع میں یونانیباختری سندھ پر حکومت کررہے تھے تب تک سندھ میں مشہور بندرگاہ بھنبھور کی واضح بیل چکی تھی اس بندرگاہ اکے آثار کراچی کے مضافاتی علاقے ، دھابیجی کے نزدیک واقع ہیں انہیں دنوں ایرانی قبائل سیتھی افغانستان میں اپنی سلطنت کرچکے تھے۔



یہ امر بھی واضح کرتا ہے کہ علاقہ کھیر تھر تب تک تجارتی قافلوں اور افواج کا راستہ بن چکا تھا کینوکہ بلوچستان سندھ، پنجاب اور اجھستان کی کئی گزر گاہوں کاوہاں سنگم بن چکا تھا،سیتھی کامیاب رہے اور انہوں نے سندھ پر بھی قبضہ کرلیا تاہم مشرقی ہندوستان پر حکمران ایک اور ایرانی قبائل پارتھیائی ان پر حملے کرتے رہے ۔



اسی دور ان ایک اہم عالمی تبدیلی رونماء ہوئی اورایک عظیم سلطنت روما وجود میں آئی جلد ہی وہ اس زمانے کی اکلوتی سپر پاور بن گئی تمام سپر پاور کی مانند رومی بھی دنیا جہاں کی لگژی اشیاء اپنے یہاں منگوانا چاہتے تھے چین، تبت، ہندوستان اور افغانستان سے مختلف سامان، کھالیں ،موتی، قیمتی پھتر، لوہا، اونی کپڑے ،جانور ، مصالحے، ریشم، سوت، شیشم، پھل، چاول، اناج، وغیرہ منگواتے ،رومی سلطنت پہنچنے لگا ، بدلے میں چینی ہندوستانی اور افغانی سونے چاندی کے برتن ، سکے،شراب اور مختلف رنگ درآمد کرتے۔



1ء تک جنوبی اشیاء چین ارو سلطنت روما کے مابین ہونے والی اس تجارت کا سب سے ایک بڑا مرکز بھنبھور کی بندرگاہ بن گئی وجہ تھی کہ وہی سکندریہ اور رومیوں کی دیگر اہم بندرگاہوں کے نزدیک ترین واقع تھی ۔



چنانچہ چین ،افغانستان، تبت ، اور ہندوستان سے کثیر سامان پہلے پھنبھور پہنچتا اور پھر بحری جہازوں کے ذریعے دوسرے ممالک چلا جاتا ،رومیوں نے اس بندرگاکو"بربریکون"کا نام دیا تھا، اس تجارت کے باعث کھیر تھر گذرگاہ نے بہت اہمیت اختیار کرلی ، کیونکہ بیرونِ سندھ سے آنے والے بیشتر تجارتی قافلے وہی س یگزر کر بھنبھور جاتے تھے اس اہم تجارتی راستے دشمنوں کی دسترس محفوظ کرنے کی خاطر سیتھیوں نے بستی امری کے نزدیک بہت بڑا قلعہ بنایا جہاں مستقل طور پر ایک بھاری فوج قیام کرسکے۔



یو ں قلعہ رنی کوٹ وجود میں آٰ ا، رفتہ رفتہ سیتھی اور بستی اَمری قصرِ پارنیہ بن گئے، مگر قلعہ قائم و دائم رہا، اس وقت اس میں برج موجود نہ تھا یہ 45برج 1812ء ؁ میں سندھ کے دو ٹالپور حکمرانوں میر کرم خان، اور میر مراد علی خان، نے تعمیر کرائے ، تاکہ وہاں تو پیں رکھی جاسکیں یہ قلعہ آج بھی ایک عظمتِ رفتہ کی یاد دلاتا ہے ۔



سیتھی 400تک موجود ہ پاکستان اور بھارت کے کئی علاقوں پر حکومت کرتے رہے تاہم آہستہ آہستہ ان کی سلطنت ختم ہوتی رہی ،آخر چندر گیت موریہ نے ان کی یہ حکومت ختم کرڈالی مگر سیتھیوں کے آثا ر آج بھی ختم نہ ہوئے۔

Saturday, August 15, 2015

سرکاری زمینوں پر قبضہ - عبدالرافع

Corrected
آرٹیکل عبدالرافع

2k13/mc/03 
Un-edited
سرکاری زمینوں پر قبضے

پاکستان کے بنے کے بعد جو عوام یہاں ہجرت کرکے آئے تھے تو حکومتِ پاکستان نے انہیں جو جگہیں الاٹ کی تھی اس کے علاوہ بھی بہت بڑی تعداد میں عوام کو جہاں جگہ ملی انھوں نے وہاں ہی اپنی رہائش کرنے میں آفیت جانی اسی میں حیدرآباد شہر بھی شامل تھا ۔یہ حقیقت ہے کہ ہر معاشرے میں اچھائیاں اور برائیاں دونوں موجود ہوتی ہیں مگر کچھ اس طرح کی برائیاں بھی ہوتی ہیں جو کہ اچھے کام کے نام پر ناجائز اور غیر قانونی کام ہوتے ہیں اس حوالے سے اگر حیدرآباد کا رخ کیا جائے تو بہت سے ایسے عمل اور سرگرمیاں ہیں جو کہ با ظاہر ناجائز ہیں اور غیر قانون ہیں لیکن ان کو اچھے کام کی طرح کیا جارہا ہے۔
حیدرآباد میں بہت سی جگہ جہاں پر اچھے کام کے نام پر غیر قانون کام ہورہے ہیں جس میں سے ایک غیر قانونی کام سرکاری زمینو ں پر قبضہ بھی جس میں حیدرآباد کی نرسریاں غیر قانونی زمین میں سے ریلوے کالونی ،مہر علی کالونی،نیا پل ،لیبر کالونی زیرفہرست ہے جہاں لوگ قبضہ کر رہے ہیں جبکہ مارکیٹوں کا رخ کیا جائے تو شاہی بزار،کلاتھ مارکیٹ،چھوٹکی گھٹی،سرے گھاٹ چوک،میمن اسپتال چوک پر بھی دوکان داروں نے مین روڈ اور فٹ پاتھوں پر جگہ کو گھیرا ہوا ہے اور اپنی دوکانوں کو بڑھانے کے لئے روڈ اور فٹ پاتھوں کو ناجائز طریقے سے استعمال کر رہے ہیں جس سے پیدل چلنے والے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے اور پھر انہی لوگوں کوجب روڈ پر چلنا پڑتا ہے تو دوسری جانب ٹریفک کو بھی مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے عوام میں بے چینی اور چڑچڑا پن آجاتاہے۔ اس کے علاوہ بھی لطیف آباد آٹھ نمبرمارکیٹ میں بھی دوکان داروں کا یہ ہی حال ہے اور قاسم آباد میں بھی یہ ہی حال ہے جبکہ کینٹومینٹ بورڈ کے احاطے میں آنے والی نرسریاں جو کہ پٹھان کالونی سے لے راجپوتانہ اسپتال تک غیر قانونی نرسریاں قائم کی ہوئی ہیں اور اس میں شک نہیں کہ نرسریاں ہمارے معاشرے کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں اور ماحول خوشگوار بنانے کاواحد ذریعہ ہیں مگر سرکاری زمینوں پر اچھے کام کے نام پر نرسریاں بنانا ناجائز ہے جس سے شہر سے جانے اور آنے والے ٹریفک کو مثائل درپیش ہیں۔
اس کے علاوہ ٹاور مارکیٹ میں تقریبا 1000 سے زائد داکانداروں نے ناجائزقبضہ کیا ہوا ہے۔جبکہ بات کی جائے کلاتھ مارکیٹ اور فقیر کے پڑِ اور شاہی بزار اور اسی طرح کے کاروبار کرنے والے علاقوں میں بھی ہزاوں کی تعداد مین لوگوں نے قبضہ کیا ہوا ہے ۔اور اسی طرح بات کی جائے گھروں کی تو اس پر بھی لوگوں نے کئی کئی فٹ جگہاؤں پر قبضہ کر کے اپنے گھروں کو گلی میں نکال رکھے ہیں۔
اس طرح اگر دوسرے غیر قانونی قبضہ پر بات کی جا ے تواس میں لکڑیوں کی ٹالیں او رغیر قانونی پارکینگ بھی تجاوزات کے ذمرے میں ہی آتی ہیں حیدرآباد میں کل لکڑیوں کی ٹالوں کی تعداد 50 سے زائد ہیں جس میں 15سے زائدلطیف آباد میں واقع ہیں جو کہ ایک بڑے رقپے پرمبنی ہے اسوراسی طرح کی چاندنی موبائل مارکیٹ،کوہنور چوک اور لطیف آبادمیں بھی کئی جگہوں پر غیر قانونی پارکنگ ہیں جو کہ بڑے بڑے نامور شخصیات کے نام سے چل رہی ہیں اور ان زمینوں کی قیمتیں کروڑوں میں ہیں ناجائز تجاوزات کے خلاف حیدرآباد کے( ڈی۔آئی ۔جی )ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی نے تمام 9 ضلع کے ایس۔ایس۔پیز کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری زمینوں پر بنے والے ناجائز پارکنگ ،چھوٹے بڑے مختلف ٹھیئے اور روڈ پر لگنے والی غیر قانونی چیزوں کو ہٹایا جائے اور قبضہ خالی کروایا جائے کے اور ان کو 15 دن کی مہلت دی جائے کہ وہ اپنے غیر قانونی تجاوزات کو کہیں جائز مقام پر منتقل کریں۔
ان ناجائز تجاوزات میں بلدیہ کا بھی اہم کردار ہے۔ بلدیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر قانونی اور ناجائز تجاوزات ختم کریں مگر وہ اس کے برعکس کام کر رہے ہیں۔
مگر HDA،CBH اور بلدیہ نے چند روپے کی خاطر یہ زمینیں عوام کے حوالے کر رکھی ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان زمینوں کو معاشرے کی ترقی اور بہتری کے لیے استعمال کرے تاکہ ہمارا معاشرہ اور بہتری کی طرف گامزن ہوسکے۔اور سڑکوں کو کشادہ کر کے لوگوں کے مثائل کو کم کیا جاسکے۔

Abdul Rafay BS-III Second semester
August 2015
This practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi
 ----------------------------
سرکاری زمینوں پر قبضہ آرٹیکل
عبدالرافع 2k13/mc/03
شہر کے اندر اولڈ سٹی ایریا میں جو قبضے اور ناجائز تجاوزات ہیں؟
نرسریاں میونسپل لیڈ پر ہیں یا ہائی وے لینڈ پہ یا کینٹونمنٹ کی زمین پہ؟
اس حوالے سے سرکاری سروے وغیرہ کیا ہے؟ اور غیر سرکاری اعداد وشمار کیا ہیں۔
ویسے میونسپل اور کینٹونمنٹ بورڈ کے پاس اینٹی انکروچمنٹ محکمے ہیں۔ اور حکومت سندھ نے بھی اینٹی انکروچمنٹ ڈپارٹمنٹ بنیا ہے۔ ان کی کیا رپورٹس ہیں۔
کم از کم 600 تو ہوں کہ ایڈیٹنگ کے بعد ایک سو الفاظ کم ہوں تو کوئی مسئلہ جو الفاظ اس کلر میں ہیں وہ وجاحت چاہتے ہیں۔
یہ آخری سمیسٹر ہے اس میں کوئی چالو قسم کے تحریریں نہیں چلیں ۔
اور ہاں اس کے اوپر لکھو تو صحیح کیہ آرٹیکل ہے، فیچر یا اور کچھ

سرکاری زمینوں پر قبضہ

 
Unedited
ہر معاشرے میں اچھائیاں اور برائیاں دونوں موجود ہوتی ہیں مگر کچھ اس طرح کی برائیاں بھی ہوتی ہیں جو کہ اچھے کام کے نام پر ناجائز اور غیر قانونی کام ہوتے ہیں اس حوالے سے اگر حیدرآباد کا رخ کیا جائے تو بہت سے ایسے عمل اور سرگرمیاں ہیں جو کہ با ظاہر ناجائز ہیں اور غیر قانون ہیں لیکن ان کو اچھے کام کی طرح کیا جارہا ہے۔
حیدرآباد میں بہت سی جگہ جہاں پر اچھے کام کے نام پر غیر قانون کام ہورہے ہیں جس میں سے ایک غیر قانونی کام سرکاری زمینو ں پر قبضہ بھی جس میں حیدرآباد کی نرسریاں بھی شامل ہیں جو کہ مختلف جگہوں پر واقع ہیں جن میں لطیف آباد، قاسم آباد، ڈیپولائے کالونی شامل ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ نرسریاں ہمارے معاشرے کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں اور ماحول خوشگوار بنانے کاواحد ذریعہ ہیں مگر سرکاری زمینوں پر اچھے کام کے نام پر نرسریاں بنانا ناجائز کام ہے۔
حیدرآباد میں کل نرسریوں کی جس میں سے 5 لطیف آباد ، 3 قاسم آباد اور 2ڈپلائے کالونی اور دیگر جگہوں پر واقع ہیں حیدرآباد میں واحد ایک سرکاری نرسری ہے جوکہ لطیف آباد 2 نمبر میں واقع ہے جو فوریسٹ نرسری کے نام سے مشہور ہے اور باقی تمام غیر سرکاری اور ناجائز ہیں۔ 
( اور جو قاسم چوک سے لیکر راجپوتانا تک بنائی ہوئی ہیں وہ کس کھاتے میں جائیں گی؟)
اس طرح اگر دوسرے غیر قانونی قبضہ پر بات کی جا ے تواس میں لکڑیوں کی ٹالیں اور تجاوزات شامل ہیں حیدرآباد میں کل لکڑیوں کی ٹالوں کی تعداد 50 سے زائد ہیں جس میں 15سے زائدلطیف آباد ا ور 25 سے زائدڈپلائے کالونی میں واقع ہیں جو کہ ایک بڑے
رقپے پرمبنی ہے اور ان زمینوں کی قیمتیں کروڑوں میں ہیں مگر HDA اور بلدیہ نے چند روپے کی خاطر یہ زمینیں عوام کے حوالے کر رکھی ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان زمینوں کو معاشرے کی ترقی اور بہتری کے لیے استعمال کرے تاکہ ہمارا معاشرہ اور بہتری کی طرف گامزن ہوسکے۔