Showing posts with label محسن ٹالپر. Show all posts
Showing posts with label محسن ٹالپر. Show all posts

Wednesday, September 9, 2015

فیچر: پران کی سرزمین کی عظیم درسگاہ final




فیچر: پران کی سرزمین کی عظیم درسگاہ

تحریر: محسن علی ٹالپر

میرپوخاص سے تقریباً ۵۰ کلو میٹر کی مسافت کے بعد آنے والے شہر ٹنڈو جان محمد کے شہر کے مکین
 گورنمنٹ ڈگری کالج ٹنڈو جان محمد کا نام سنتے ہی سا بق رکن مغربی پاکستان اسمبلی میر حاجی خدا بخش خان ٹالپر کو عقیدت کا سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس چھوٹے سے شہر میں علم کی شمع کو روشن کر
کے علمی اعتبار سے معتبربنا دیا ۔



اس کالج کے بانی سے متعلق ایک دلچسپ قصہ منسوب ہے کہ مغربی پاکستان کی اسمبلی میں ٹنڈو جان محمد سے تعلق رکھنے والے میر حاجی خدا بخش خان ٹالپر کو اس وقت کے گورنر امیر محمد خان نے مطلع کیا کہ میر صاحب آپ کے شہر کا کا لج ’ڈگری‘ کیا جا رہا ہے۔ میر صاحب غصہ ہوئے اور زوردار لہجے میں کہا کہ ڈگری میں کالج دے رہے ہیں؟ یہ کالج میرے شہر ہی میں بنے گا۔ میر صاحب ’ڈگری ‘ لفظ سے یہ سمجھے کہ شاید یہ کالج ساتھ والے شہر ’ڈگری‘ منتقل کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ وہ اتنے زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھے لیکن علم کے لیے جس بصیرت کی ضرورت ہونی چاہیے میر صاحب کو اس کا بخوبی ادراک تھا۔



میر صاحب نے ۱۶ یکڑ زمین عطیہ کر کے ایک ایسے خوبصورت درسگاہ کی بنیاد رکھی ۔یہ کالج ۱۹ نومبر ۱۹۶۴ ء میں قائم ہوا جو وقت کے ساتھ اور جواں ہو رہا ہے۔اس کالج کے پہلے پرنسپل پروفیسر سید مسعود علی شاہ تھے ، جب کے ا س وقت پرنسپل کے فرائض پروفیسر قاضی علی محمد انجام دے رہے ہیں ۔اس کا
لج کو یہ فخر حاصل ہے۔



اس کی نگرانی کے فرائض ہمیشہ بہترین اور قابل لوگوں کے ہاتھ میں آئے ہیں جنہوں نے اس کالج کے ترقی کے سفر کو کبھی رکنے نہیں دیا ایسے اساتذہ میں محمد علی لغاری ، عباس علی خان، احسان قدیر آرائیں، غلام محمد ٹالپر اور ظہیر اقبال زیدی جیسیِ علم دوست شخصیات شامل ہیں ۔



کالج کے ابتدائی دنوں میں کلاسز ایم ایچ کے ہائی اسکول کے ہاسٹل میں ہوتی تھیں جب کہ نئی عمارت بننے کے بعد ۱۹۸۳ میں کلاسز موجودہ عمارت میں ہونے لگی۔ کالج کی موجودہ خوبصورت دو منزلہ عمارت سر سبز اور گھنے درختوں کے بیچ میں واقع ہے۔ اس وقت یہ کالج بی ایس سی ۔بی اے اور ایم اے پرائیویٹ کی تدریسی سہولت فراہم کرتا ہے ۔اس کالج سے نہ صرف شہر کے مقامی با شندے تعلیم کے زیور سے آراستہ
ہوئے بلکہ اس کالج نے دور دراز کے لوگوں کی علمی پیاس بھی بجھائی۔



گھنے درختوں کے درمیان چھوٹے قد کی آسمان سے باتیں کرنے والی عمارت نے معاشرے کی اصلاح کا کام بخوبی سر انجام دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی ادیب ، ڈاکٹر ،انجنیئر، سائنسدان اور سیاست دان بھی اسی کالج سے تعلیم حاصل کر کے ملک اور بیرونِ ملک اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں، جن میں مظہرالحق مہر،سید منطور علی شاہ،ڈاکٹر نوید ٹالپر،محمد خالد حسن ،ڈاکٹر یونس ٹالپر، ماروی کنول ٹالپر، میر
ظفر اللہ اور میر اعجاز ٹالپر کے ساتھ ایک لمبی فہرست شامل ہے۔ 



حال ہی میں مجھے جب اس خوبصورت کالج کو گھومنے کا دوبارہ موقع ملا تو کالج کے ایم اے کے طالب علم وڈیرا فرحان آرائیں نے بتایا کہ یہ کالج اس شہر کے مکینوں کے لیے دل کی طرح ہے جس کے بغیر سانس لینا دشوار ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج یہ کالج ہمارے سینوں میں دل کی طرح دھڑکتا ہے۔ 






رول نمبر:2k13/mc/61 تاریخ:18-08-2015

-----------------FIRST VERSION ----------------
فیچر: پران کی سرزمین کی عظیم درسگاہ

تحریر: محسن علی ٹالپر

رول نمبر:2k13/mc/61 تاریخ:18-08-2015

میرپوخاص سے تقریباً ۵۰ کلو میٹر کی مسافت کے بعد آنے والے شہر ٹنڈو جان محمد کے شہر کے مکین گورنمنٹ ڈگری کالج ٹنڈو جان محمد کا نام سنتے ہی سا بق رکن مغربی پاکستان اسمبلی میر حاجی خدا بخش خان ٹالپر کو عقیدت کا سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس چھوٹے سے شہر میں علم کی شمع کو روشن کر کے علمی اعتبار سے معتبربنا دیا ۔ اس کالج کے بانی سے متعلق ایک دلچسپ قصہ منسوب ہے کہ مغربی پاکستان کی اسمبلی میں ٹنڈو جان محمد سے تعلق رکھنے والے میر حاجی خدا بخش خان ٹالپر کو اس وقت کے گورنر نے ملک امیر محمد خان نے مطلع کیا کہ میر صاحب آپ کے شہر کا کا لج ’ڈگری‘ کیا جا رہا ہے۔ میر صاحب غصہ ہوئے اور زوردار لہجے میں کہا کہ ڈگری میں کالج دے رہے ہیں؟ یہ کالج میرے شہر ہی میں بنے گا۔ میر صاحب ’ڈگری ‘ لفظ سے یہ سمجھے کہ شاید یہ کالج ساتھ والے شہر ’ڈگری‘ منتقل کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ وہ اتنے زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھے لیکن علم کے لیے جس بصیرت کی ضرورت ہونی چاہیے میر صاحب
کو اس کا بخوبی ادراک تھا۔

میر صاحب نے ۱۶ یکڑ زمین عطیہ کر کے ایک ایسے خوبصورت درسگاہ کی بنیاد رکھی ۔یہ کالج ۱۹ نومبر ۱۹۶۴ میں قائم ہوا جو وقت کے ساتھ اور جواں ہو رہا ہے۔اس کالج کے پہلے پرنسپل پروفیسر سید مسعود علی شاہ تھے ، جب کے ا س وقت پرنسپل کے فرائض پروفیسر قاضی علی محمد انجام دے رہے ہیں اس کالیج کو یہ فخر حاصل ہے اس کی نگرانی کے فرائض ہمیشہ بہترین اور قابل لوگوں کے ہاتھ میں آئے ہیں جنہوں نے 

اس کالج کے ترقی کے سفر کو کبھی رکنے نہیں دیا ایسے اساتذہ میں محمد علی لغاری ، عباس علی خان، احسان قدیر آرائیں، غلام محمد ٹالپر اور ظہیر اقبال زیدی جیسیِ علم دوست شخصیات شامل ہیں ۔ کالج کے ابتدائی دنوں میں کلاسز ایم ایچ کے ہائی اسکول کے ہاسٹل میں ہوتی تھیں جب کہ نئی عمارت بننے کے بعد ۱۹۸۳ میں کلاسز موجودہ عمارت میں ہونے لگی۔ کالج کی موجودہ خوبصورت دو منزلہ عمارت سر سبز اور گھنے درختوں کے بیچ میں واقع ہے۔ اس وقت یہ کالج بی ایس سی ۔بی اے اور ایم اے پرائیویٹ کی تدریسی سہولت فراہم کرتا ہے ۔اس کالج سے نہ صرف شہر کے مقامی با شندے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوئے بلکہ اس کالج نے
دور دراز کے لوگوں کی علمی پیاس بھی بجھائی۔

گھنے درختوں کے درمیان چھوٹے قد کی آسمان سے باتیں کرنے والی عمارت نے معاشرے کی اصلاح کا کام بخوبی سر انجام دے رہی اس کے ساتھ مجھ سمیت کئی صحافی، ادیب ، ڈاکٹر ،انجنیئر، سائنسدان اور سیاست دان بھی اسی کالج سے تعلیم حاصل کر کے ملک اور بیرونِ ملک اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں، جن میں عبدلاخالق خاصخیلی، مظہرالحق مہر،سید منطور علی شاہ،ڈاکٹر نوید ٹالپر،محمد خالد حسن ،ڈاکٹر یونس ٹالپر، ماروی کنول ٹالپر، میر ظفر اللہ اور میر اعجاز ٹالپر کے ساتھ ایک لمبی فہرست شامل ہے۔ حال ہی میں مجھے جب اس خوبصورت کالج کو گھومنے کا دوبارہ موقع ملا تو کالج کے ایم اے کے طالب علم وڈیرا فرحان آرائیں نے بتایا کہ یہ کالج اس شہر کے مکینوں کے لیے دل کی طرح ہے جس کے بغیر سانس لینا دشوار ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج یہ کالج ہمارے سینوں میں دل کی 
طرح دھڑکتا ہے۔

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------

FIRST VERSION

فیچر: گورمنٹ ڈگری کالج ٹنڈو جان محمد
تحریر: محسن علی ٹالپر
رول نمبر:2k13/mc/61 تاریخ:18-08-2015
صوبہ سندھ کے ضلع میرپوخاص سے تقریباً ۵۰ کلو میٹر کی مصافت کے بعد آنے والے شہر ٹنڈو جان محمد کے شہر کے مکیں گورمنٹ ڈگری کالج ٹنڈو جان محمد کا نام سنتے ہی سا بق ایم پی اے مغربی پاکستان اور اس شہر کے بانی’’ میر حاجی خدا بخش خان ٹالپر‘ کو عقیدت کا سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس چھوٹے مگر علمی اعتبار سے معتبر شہر میں علم کی شمع کو روشن کیا ۔ کالج کے تعارف پر آنے سے پہلے قارئیں کرام سے اس کالج کے بانی کے متعلق ایک دلچسپ بات بتاتا چلوں یہ بات مشہور ہے کہ مغربی پاکستان کی اسمبلی میں سندھ کے چھوٹے سے شہر ٹنڈو جان محمد کے سابق ایم پی اے ’’ میر حاجی خدا بخش خان ٹالپر ‘ کو اس وقت کے گورنر نے ملک امیر محمد خان نے متلعہ کیا کہ میر صاحب آپ کے شہر کا کا لج ’ڈگری‘ کیا جا رہا ہے تو میر صاحب نے غصے کے عالم میں زوردار لہجے میں کہا کہ ڈگری میں اور کالج دینا یہ کالج میرے شہر ہی میں بنے گا، دراصل میر صاحب ’ڈگری ‘ لفظ سے یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید یہ کالج ان کے ساتھ والے شہر ’ڈگری‘ منتقل کیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ اتنے زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھے لیکن علم سے محبت کے لیے جس بصیرت کی ضرورت ہونی چاہیے میر صاحب کو اس کا بخوبی ادراک تھا۔
میر صاحب نے ۱۶ یکڑ زمین عطیہ کر کے ایک ایسے حسین و جمیل تاج محل کی بنیاد رکھی جی ہاں علم کا یہ حسین تاج محل ۱۹ نومبر ۱۹۶۴ میں قائم ہوا جو ہر گزرے وقت کے ساتھ اور جواں ہو رہا ہے،اس کالج کے پہلے پرنسپل پروفیسر سید مسعود علی شاہ تھے کالج کے شروعاتی دنوں میں کلاسز ایم ایچ کے ہائے اسکول کے ہاسٹل میں ہوتی تہیں جب کہ نئی عمارت بننے کے بعد ۱۹۸۳ میں کلاسز موجودہ عمارت میں ہونے لگی، کالج کی موجودہ خوبصورت عمارت ۲ منزل پر مشتمل ہے جو کہ سر سبز اور گھنے درختوں کے بیچ میں واقع ہے یہ کالج جامشورو میں موجود سندھ یونیورسٹی سے منسلک ہے اور اس وقت یہ کالج بی ایس سی ۔بی اے اور ایم اے پراہیویٹ کی ڈگریاں حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے ۔اس کالج سے نہ صرف شہر کے مقامی با شندے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوئے بلکہ اس کالج نے دور دراز کے لوگوں کی علمی پیاس بھی بجھائی اور انہیں سیراب کیا۔
گھنے درختوں کے درمیان چھوٹے قد کی آسمان سے باتیں کرنے والی عمارت نے مجھ سمیت کئی صحافیوں کو جنم دیا جو معاشرے کی اصلاح کا کام بخوبی سر انجام دے رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ کئی ڈاکٹر ،انجنیئر،جرنل،سائنسدان بھی اسی کالج سے تعلیم حاصل کر کے بیرونِ ملک اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔حال ہی میں مجھے جب اس خوبصورت کالج کو گھومنے کا دوبارہ موقع ملا تو کالج کے ایم اے طالب علم فرحان آرائیں نے بتایا کہ جس طرح انسان اپنے جسم میں موجود دل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا بلکل اسی طرح اس شہر کے مکینوں کے لیے اس کالج کے بغیر سانس لینا دشوار ہے کیونکہ اس کی بنیادوں میں ہمارے شہر کے ہونہار رہنماء کی لگن اور جذبے شامل ہیں شاید اس لیے کہ جب علم حاصل کرنے کی پیاس انسان کی رگوں میں شامل ہو جائے تو وہ درسگاہوں کے بغیر سانس نہیں لے سکتا یہ ہی وجہ ہے کہ آج یہ کالج ہمارے سینوں میں دل کی طرح دھڑکتا ہے۔  

محمد جنید انٹرویو



انٹرویو: محمد جنید 

تحریر: محسن ٹالپر

رول نمبر: 2k13/MC/61 تاریخ:08-09-2015



’’ شعر جو کام کرتا ہے وہ سو مقرر نہیں کر سکتے ‘‘: جنید ابن سیف

تعارف:محمد جنید ابن سیف نے ۷ آکٹوبر ۱۹۸۶ میں حیدرآباد کے ایک معروف کمپییرئر سیف محمد شیخ کے گھر میں جنم لیا۔ اپنی ابتدائی تعلیم حیدرآباد سے حاصل کی ،اور ۲۰۱۰ میں سندھ یونیورسٹی جامشورو سے اردو اد ب میں ماسٹرکیا اور اپنے کیریئر کا آغاز بحیثیت اردولیکچرار پرنسٹن کالیج حیدرآباد سے کیااس وقت آرمی پبلک کالیج حیدرآباد میں تدیرسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جنید ابن سیف کو اپنے تعلیمی سفر میں گولڈ اور سلور میڈل کا ایوارڈ بھی حاصل ہے اور ان کے افسانے ملک کے معروف رسالوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔

س:آپ کااردو ادب میں آنا کیسے ہوا؟

ج:اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی آپ کی رہنمائی کرنے والا نہ ہوتو پھر آپ کے شعبہ کا انتخاب کسی بھی سمت میں جا سکتا ہے اصل میں انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد ہمارا ایک سال ضایع بھی ہوا تو اس کے بعد سندھ یونیورسٹی میں اردو کے شعبہ میں نام آتے ہی ہم نے اس میں داخلہ لے لیا، اردو ادب سے والد محترم کا بہت زیادہ لگاؤ رہا ہے ا سی لیے ہمارا بھی شگف رہا لیکن بہت زیادہ ذوق بحرحال نہیں تھا۔


س:اردو ادب میں شاعری کا آغاز کس سے اور کیسے ہوا؟

ج: آپ کو بخوبی علم ہوگا کہ اردو خد ایک زباں کا درجہ نہیں رکھتی تھی بلکہ یہ بہت سی زبانوں کا ایک ملغوبا ہے تو اس میں جتنی بھی اصناف ہیں وہ دوسری زبانوں سے رائج ہیں، ہندوستان میں بولے جانے والی زبان فارسی تھی اور اگر اردو غزل کی ہم بات کریں تو غزل عرب زبان سے فارسی میں آئی اور فارسی کے زیر اثر اردو میں رائج ہوئی تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی بنیاد عرب ہے ۔جبکہ اردو میں سب سے پہلے شاعر کا جو نام ملتا ہے وہ مسعود سعد سلمان کا ہے جن کا ذکر امیر خسرو نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے لیکن ان کا کلام نہیں ملتا۔

س:کیا شاعری صرف ردیف اور قافیہ میں پابند جملوں کا نام ہے؟

ج: نہیں شاعری صرف قافیہ پیمائی کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں شاعر کی سوچ اور فکر ہوتی ہے اس کے مشاہدات ہوتے ہیں کیونکہ ادیب حساس طبعیت کا مالک ہوتا ہے وہ جو چیز محسوس کرتا ہے اس کو شعر کی صورت میں ڈاھلتا ہے اور اس کے لیے وہ پابند ہوتا ہے کہ وہ وزن بھی پورا نبھائے قافیہ پیمائی بھی کرے اور ردیف کا استعمال بھی کرے ،جبکہ شعر کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کیونکہ شعر جو کام کرتا ہے وہ سو مقرر نہیں کر سکتے اس لیے ہم صرف قافیہ پیمائی کو شاعری نہیں کہہ سکتے۔
س:کیا ایک استاد دوست بن سکتا ہے؟
ج:جی ہاں بلکل کیونکہ اب ہم اس دور سے نکل آئے ہیں جب شاگرد ڈر کی وجہ سے پڑھا کرتے تھے اور یونیورسٹی اور کالیج میں شاگرد اس عمر میں ہوتا ہے کہ آپ سختی نہیں کر سکتے آپ کو دوست بن کر عزت اور شفقت کے ساتھ ہی بات کرنی چاھئیے ہاں یہ بات ضرور ہے کہ ایک حد اور کچھ نہ کچھ فاصلہ ضرور ہونا چاھئیے اور ہوتا بھی ہے، دوست ضرور بنیں لیکن بے تکلف نہ ہوں۔



س: ایک استاد معاشرے میں مثبت تبدیلی لے آنے کے لیے کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟ 

ج:کسی بھی قوم کی ذہنی پرورش اور فکری تربیت کرنے کے لئیے استاد معاشرے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، استاد ہی ایک قوم کو قوم بناتاہے۔ اگر قوم تباھی کے دھانے پر جا رہی ہے یا ترقی کی طرف گامزن ہے تو اس کے پیچھے استاد ہی ہے۔اب ہمارا تعلیمی نظام سیاست کے زیر اثر ہے جو کچھ بورڈ آفیس ،اسکول اور کالیجوں میں ہوتا ہے وہ کسی سے ڈھکاچھپا تو ہے نہیں جس کی وجہ سے سندھ کا تعلیمی نظام انتھائی گر چکا ہے استاد معاشرے میں ایک بہت بڑی تبدیلی لا سکتا ہے جب کوئی قوم خد سنجیدہ ہو۔

س:اس وقت اردو صرف ادیبوں کی زبان تک محدودنہیں رہ گئی؟ اس کی وجہ؟

ج: اس کی وجہ ہمارا میڈیا ہے، میڈیا میں آج کل جو زبان استعمال ہو رہی ہے وہ اردو تو نہیں ہے بلکہ اس میں انگلش کا اثر زیادہ ہے اور دوسری بات اردو صرف ادیبوں کی زبان رہ گئی ہے میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کیونکہ زبان عوام کی ہوتی ہے وہی اس کے بنانے والے اورپالنے والے ہوتے ہیں ۔اردو جب زبان کے طور پر متارف ہوئی تو اس کے پیچھے بھی ادیب نہیں بلکہ عوام تھی یہ بازاروں میں بنی ہے اورلشکر گاہوں میں پلی بڑھی ہے اسلئیے یہ عوامی زبان ہے۔
س: اردو کے مستقبل کوکیسے دیکھتے ہیں؟
ج:اردو کا مستقبل روشن ہے کیونکہ اب یہ ایک علائقہ کی زبان نہیں رہی ہے بلکہ تمام دنیا میں پڑھائی جا رہی ہے پاکستان میں اگر کوئی اس میں دلچسی نہیں لیتا تو یہ ایک الگ بات ہے لیکن باہر ممالک کی جو یونیورسڑیز ہیں وہاں اس کی اہمیت بڑھ رہی ہے، جب کینیڈا، چائنا، سری لینکا ،ایران اور دیگر ممالک میں یہ زبان پڑھی جا رہی ہو اور اس پر پی ،ایچ،ڈی ہو رہی ہو ں تو میرا خیال ہے کہ پھر اس کا مستقبل بہت روشن ہے۔



س:طالبِ علموں کے لیئے کو ئی خاص پیغامِ؟

ج: اس کے لیئے ہم سر وقار احمد وقار کا شعر پیش کرتے ہیں

فن کوئی ہو ، اعجاز مہارت کا ہے ممنون

بت گر ہو اگر کوئی تو آذر کی طرح ہو۔
آپ جو کام بھی کریں اسے اپنے اوجِ کمال تک پہنچائیں۔ 

Tuesday, August 18, 2015

پروفائل : پی ایچ ڈی سکالر ماروی کنول ٹالپر

 Unedited
 photo will be required
پروفائل : پی ایچ ڈی سکالر ماروی کنول ٹالپر
تحریر : محسن علی ٹالپر
ارادے جن کے پختہ نگاہ جن کی منزل پہ ہو
طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے
سندھ یونیورسٹی میں موجود ’نیشنل سینٹر آف ایکسیلینس اِن اینالائٹکل کیمسٹری ‘ جو کہ کیمسٹری میں اسی سینٹر کے طلبہ کو ریسرچ اور ڈاکٹیریٹ کی ڈگری دیتا ہے ان ہی طلبہ میں سندھ کے ایک چھوٹے مگر علمی حیثیت سے ایک معتبر شہر ٹنڈو جان محمد سے تعلق رکھنے والی ہونہار اور پر عزم ماروی کنول بھی شامل ہے۔
ماروی کنول ۱۷ آکٹوبر ۱۹۸۸ کو ایک متوسطہ گھرانے میں جنم لیا ، شروع میں ہی پڑھائی سے رغبت رکھنے کی وجہ سے پانچویں کلاس تک عمدہ نمبرں میں امتحان پاس کیا، محدود وسائل کے باوجود انتھک محنت اور علم سے محبت کی وجہ سے میٹرک کا امتحان "A1" کے امتیازی نمبروں میں پاس کر کے انڈرمیڈیٹ ’’ بائیولاجی‘‘ میں "A" گریڈ حاصل کیا ۔ کیونکیہ وسائل کی ایک بہت بڑی رکاوٹ تھی میڈیکل ٹیسٹ میں اور داخلہ میں تو آپ نے اپنے عزم کو کم نہ ہونے دیا اور ثابت کرنا چاھتی تھی کی کہ انسان اگر کامیابی کا پختہ ارادہ کر لے تو کوئی بھی رکاوٹ اور دیوار صلاحیت کے دریا کی فروانی کے آگے بند نہیں باندھ سکتی۔
ماروی نے زندگی اور مستقبل کیلئیے سندھ یونیورسٹی میں کیمسٹری کے شعبے کو منتخب کر کے اپنے گھر سے طلبِ علم کے لیئے باھر نکلنے کی بنیاد رکھی اور یہاں بھی پئے در پئے کامیابیاں سمیٹنے کا سلسہ جاری رہا BS کیمسٹری میں فرسٹ کلاس میں پاس کر کے اپنا آپ منوایا، لیکن کامیابیوں کا یہ سلسہ اُس عزم کے سامنے شاید کچھ بھی نہ تھا بقول شاعر:
پہنچائے گا بلندی پہ اک دن میر ا علم مجھ کو
پاؤں تلے سیڑھیاں مجھے اچھی نہیں لگتی
اور اینالائیٹیکل سینٹر میں ایم فل کی داخلہ ٹیسٹ کو کامیابی سے پاس کر کے اپنے علمی سفر کو ایک قدم آگے بڑھایا جلد ہی ایم فل کا امتحان پاس کر کے اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر کے لقب والے خواب کو جلد ہی شرمندہِ تعبیر کر دیں گی اور وہ دن دور نہیں جب وہ علمی حلقوں میں ڈاکٹر ماروی کنول ٹالپر کے نام سے جانی اور پھچانی جائے گی۔ماروی نے جلد ہی سندھ پبلک سروس کمیشن میں لیکچرار کے امتحان میں کامیابی کے روشن ستارے کو اپنی پیشانی پر سجا کر لیکچرار کا عہدہ حاصل کیا اور آج کل اپنی قابلیت کوآنے والے روشن مستقبل رکھنے والے طالب علموں تک منتقل کرنے کے لیئے ’نذرت گرلس کالیج حیدرآباد‘ میں تدریسی فرائض بخوبی احسن سر انجام دینے میں مصروفِ عمل ہیں۔
ماروی کنول سے میری مختصر سی ملاقات میرے اندر حوصلے ، ولوے اور لگن پیدا کر رہی تھی اور مجھے اقبال کا یہ شعر بخوبی سمجھ میں آنے لگا
نگاہ بلند ، سخن دلنواز ، جاں پر سوز
یہی ہے رختِ سفر میر کارواں کیلئے 

Mohsin Talpur
August 2015 
This practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi