Showing posts with label محمد مہد. Show all posts
Showing posts with label محمد مہد. Show all posts

Sunday, December 6, 2015

career counselling in Hyderabad

There are composing and spelling mistakes which were not corrected despite repeated reminders.

انویسٹیگیٹو رپورٹنگ
 حیدرآباد میں کریئر کونسلنگ کی صورتحال
عبیدالحق قریشی، محمد مہد قریشی، محمد اسد عباسی اور محمد نعمان

 بی ایس سال سوئم، سیکنڈ سیمسٹر
میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز سندھ یونیورسٹی

گروپ ممبرز کے نام 
٭ عبےد الحق قرےشی 113 
٭ محمد مہد قرےشی122 
٭ محمداسد عباسی 65  
 محمد نعمان الدےن قرےشی 73 

Ubaid-ul-haq Qureshi  

کیرئیر کونسلنگ

دنیا میں بسنے والے 7.3سات عشاریعہ تین ارب سے زائد انسان کچھ نہیں جانتے کہ وہ کس مقصد کو پورا کرنے میں اس دنیا کی پیچیدگیوں میں گم ہیں۔بے شمار لوگ اس دنیا میںایسے گزرے جو اپنی شناخت ،موجودگی کے نشانا ت ا س دنیا پر چھوڑگئے ہیں جو اس زمین کے فنا ہونے تک ہمیشہ یاد رکھیں جا ئنگے اور انہی حضرات وشخصیات کو مد نظررکھتے ہوئے بے شما ر لوگ ان شخصیات کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ کامیابی و کامرانی اب ان کے قدم چومے اور بہتر ین و محفوظ مستقبل سے ہمکنار
ہو سکے ۔کیا آ پ کو معلوم ہے کہ دنیا میں ہونے والی سب سے بڑی ریس کامیابی پا نے کے لیے بھاگنا ہے اور دنیا میں رہنے والا ہر فرد اس دوڑ میں شامل ہے ۔جو چاہتا ہے کہ کامیابی صرف ان کاہی بہترمستقبل بن جائے اور اسی کامیابی کے سبب ہر شخص ایک دوسرے کو پیچھے دھکلنے کی مشقت میںلگاہواہے تو اسی مشقت سے لوگو ںکو نکالنے کے لیے کےرئےر کونسلنگ کا آغاز ہوا۔

کیریئرکونسلنگ کا آغاز:

کیریئرکونسلنگ کی شروعات بھی ایک انگریز کی ایجاد کا نام ہے۔ فرینگ چارلسن نامی انگریز نے 1909میں اپنی ہی قابلیت کو مزید نکھارنے کے لیے جو قابلیت بڑھانے((skill developing اسکل ڈولپنگ کی آج لوگ اسے ہی کیریئرکونسلنگ کے نام سے جانتے ہیں ۔کیریئرکونسلنگ کا اصل مقصد انسان کے اندر چھپی وہ خصوصیات ہیں جو وہ خود نہیں جانتا یا ان خصوصیات کو اپنے اندر سے نکالنے کی کوشش ہی نہیں کرتا تو ایسے حضرات کی skill developingکی جاتی ہے جو کیریئرکونسلنگ کہلاتی ہے۔ کیریئرکونسلنگ کے لغوی معنی یہ بھی ملتے ہیںکہ (کسی بھی انسان کو زندگی گزارنے کی بہتر تربیت دینا یا کامیابی حاصل کرنے کے لیے صحیح طریقہ کار بتانا بھی اسی ذمرے میں آتا ہے۔)
کیریئر کونسلنگ کی کچھ اہم اقسام ہیں:
 (1) مقامی تعلیم ۔
(2)بیرون ملک میں تعلیم کے حصول کے لئے جانا۔
(3)عمومی تعلیم یعنی (general)جنرل ایجوکیشن۔
(4) تعلیم روزگار کے حصول کے لئے ۔

(1)مقامی تعلیم:
مقامی تعلیم میں ایسے تعلیمی ادارے جن میں اسکول،کالجز اور ایسی یونیورسٹیزشامل ہیں جن میں طلباہ کو اکثیریت میں کیریئر کونسلنگ کا مطلب ہی نہیں پتا ہوتا اس بات سے اندازہ لگا لیجیئے کہ کیریئر کونسلنگ کروانی تو بہت دور کی بات ہے۔جبکہ اصل اہمیت ہی مقامی تعلیمی اداروں کی ہوتی ہے کیونکہ سب سے زیادہ طلبا کی تعداد مقامی اداروں میں ہی پروان چڑھتی ہوتی ہے اور اگر بات کی جائے پاکستان کی اس80%فیصد تبکے کی جو کے اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیز کی فیس ادا کرنے میں ہی کئی مشکلات کا سامنہ کرنا پڑتا ہے تو یہ لوگ اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے بیرون ممالک یا اچھی یونیورسٹیزمیں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں؟
 (2)بیرون ملک میں تعلیم کے حوصول کے لئے:
    پاکستان میں کیریئر کونسلنگ کروانے والے سینٹروں کی تعداد طلبا کو بیرون ملک کے لئے کیریئر کونسلنگ کرواتے ہیں جن کی فیس بھی ہزاوں ،لاکھوںکی مدمیں وصول ہوتی ہیں جو کہ ہر ایک طلبہ برداشت نہیں کر سکتا اور پھر وہ ہی طلبہ پیچھے رہ جاتے ہین اور اپنے تعلیمی سفر کو صحیح طریقے سے جاری نہیں رکتھے ہیں اور کامیابی حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔

(3) عمومی تعلیم یعنی جنرل تعلیم ۔
عمومی تعلیم کو جنرل ایجوکیشن بھی کہا جاتا ہے جس میں طلبہ کو ایسی تعلیم سے آراستہ کیا جاتا ہے جو کہ عام طور پر طالب علم کے لئے مشکل کا سبب بنتی ہے جس کے بعد طالب علموں کو کیریئر کونسلنگ کا رخ کرنا پڑتا ہے کیونکہ جنرل ایجوکیشن میںطلبا کو اپنی پسند کا شعبہ لینے میں بہت مشکلات کا سامناہوتا ہے اور صرف 20 فیصد طلباءہی اپنے پسندیدہ شعبہ جات میں داخلہ لے پاتے ہیںاور باقی دوسرے ڈیپارٹمنٹز کی خاک چھنتے ہیں۔
(4)تعلیم روزگار کے حصول کے لئے۔
    اس کونسلنگ میں طالب علموں کو ان کی تعلیم کے معیار کے تحت روزگار کی فراہمی کے لئے آگاہی فراہم کی جاتی ہے ۔جس میں طلبہ کو بتایا جاتا ہے کہ کس تعلیم کو حاصل کر کے وہ بہتر روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔لیکن ایسا روحجان پاکستان میں بہت حد تک نہ ہونے کے برابر ہے۔
پاکستان میں کیریئرکونسلنگ بہ نسبت بیرونِ ممالک:
     اگر بات کی جائے سپر پاور امریکہ کی تو وہاں کیریئرکونسلنگ میں بے شمار دوسری کیریئرزشامل ہوتے ہیں۔ جن میں میرج کونسلنگ، فیملی کونسلنگ، پیرنٹس کونسلنگ، ڈرگ الکول کونسلنگ، جاب کونسلنگ، ایجوکیشن کونسلنگ و دیگر شامل ہیں اور وہاں کونسلنگ کی سہولت سرکار(government (کی طرف سے بھی مہیا کی جاتی ہے ۔ جبکہ بات کی جائے پیار ے وطن پاکستان کی تو یہاں فقط ایک ہی کونسلنگ موجود ہے جسے کیریئرکونسلنگ ایجوکیشن سے منسلک کیا جاتا ہے۔ وہ بھی طلباءکو ملک سے بیرونِ ممالک بھیجنے پر زیادہ زور دیا جاتا ہے اور میرج کونسلنگ کے نام پر بھی دھوکے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اگر ایجوکیشن ، تعلیم، علم و فنون کی کونسلنگ کی جانب آئیں تو چند بڑے شہروں جن میںکراچی،لاہور،اسلام آبادو دیگر شامل ہیںاور انِ شہروں کے علاوہ دوسرے درجہ کے شہر تو کسی گنتی میں ہی نہیں آتے جس میں حیدرآبادبھی صفہ اول میں شامل ہے۔ پاکستان میں کونسلنگ کا رجحان سن 2000سے باقاعدہ طور پر سامنے آیا جب پرائیویٹ چینلز نے اپنا آغاز کیا۔ الیکٹرنکس میڈیا نے تعلیم کے خدوخال کچھ اس طرح بیان کیے جن میں میڈیا نے تعلیم کے زاویے لوگوں کے سامنے کچھ اس طرح بیان کیے جن میں جیو نیٹ ورک نے ذرا سوچئے کہ نام سے ایک مہم کا آغاز کیا جس میں صرف و صرف تعلیم کی روشنی سے آشنا لوگوں کو دکھایا گیا جنہوں نے تمام کاموں کے پیش نظر تعلیم کو ذیادہ اہمیت دی اور دنیا میں اپنا لوہا بنوایاجس میں قیصر عباس جو ایک چائے کی کینٹین پر کام کیا کرتے تھے لیکن تعلیم کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور آج پاکستان کے چند ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جو ہرفردکوخواب دیکھنا اور اس کی تکمیل کا راستہ بتاتے ہیں جسے ہم لوگ کیریئرکونسلنگ کے نام سے جانتے ہیں۔ لیکن آج بھی پاکستان میں کیریئرکونسلنگ کا محمول بہتر طریقے سے آگے نہیں جارہا کیونکہ حکومتی سطح پر کوئی سرپست اعلیٰ موجود نہ ہونے کے سبب یہ بیڑا صرف پرائیویٹ سیکٹر کی ملکیت ہے اور اس کے عوض لاکھوں کا کاروبار سرگرم ہے۔

M.Mahad Qureshi       
حےد رآباد کی آبادی اور کےرئےر کو نسلنگ:
اس وقت شہر حےدرآباد کی آبادی چوبےس لاکھ 24,00000سے تجاوز کر گئی ہے اور پورے حےدرآباد کی کل آبادی تقر ےباً چالےس لاکھ پچاس ہزار40,50000 ہے ۔جبکہ حےدرآبا د مےں سرکاری اور غےر سرکاری چھوٹے اور بڑے 4000 سے ذائد اسکول موجود ہےں جن میں حےدرآبادکے سب سے زےادہ اسکول پھلےلی، پرےٹ آباد اورلطےف آباد مےں واقع ہےں اور لطیف آباد میں اس وقت پڑھائی کا رحجان سب سے زیادہ ہے جسے (literacy)بھی کہا جاتا ہے۔ اسی طرح سرکاری اور غےر سرکای کالجز اور ڈگری بوائز اور گرلز کالجز بھی تقرےباً 1000سے زائد ہےں۔ اگر بات کی جائے اسکولوں کی تو ہر اسکول کی کلاس مےں تقرےباً 30سے 50 طلبہ و طالبات زےر تعلےم ہوتے ہےں لیکن طلبا کو کیٹیگریز میں تقسم کر دیا جاتا ہے جس سے طلبا کے زہین پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اور کیمبرج کی ہر کلاس میں2 سے 3سےکشن ہےں ۔تو اےک اسکول مےں تقرےباً 700سات سو سے تقرےباً 900نوسو طلبہ وطالبات تعلےم حاصل کر رہے ہےں اور اگر اسی طرح بات کی جا ئے کالجز کی تو ہر کالج مےں بھی تقرےباً500پانچ سو سے زائد طلبہ وطالبات زےر تعلےم ہےں ۔ اگر بات کر لےں اےک ہی کلاس کی تو اےک کلاس مےں تقرےباً50 سے زائد طالب علم زےر تعلےم ہوتے ہےں اور ان پچاس 50مےں سے 5طلبہ ایسے ہوتے ہےں جو کہ خو د سے ےا ےہ کہہ لیجئے خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے بغیر کسی کے بتائے آگے نکل جاتے ہیں ۔ ان میں سے 45بچے یعنی 85%طلباءایسے ہوتے ہیںجنہیں اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں پتہ ہوتا ان میں سے نکالنا پڑتا ہے کہ وہ کیا بہتر کرسکتے ہیں اورایسے بچوں کا مستقبل یا تو ان بچوں کے والدین بہتر بناسکتے ہیں یا ان بچوں کے کریئر کونسلر ان بچوں کی درست طریقے سے بہتر رہنمائی کرسکتے ہیں۔
کیریئر کونسلر سے بات چیت:
جب ہم نے کیریئر کونسلر سے بات کی کہ اوالدین کا عمل دخل بچے کی پرورش میں کتنا فیصد ہوتا ہے ےا بچے کی کیریئر کونسلنگ میں ؟ تواس پر کیریئر کونسلر نے ہمیں بتایا کہ اصل کردار بچے کی زندگی میں بچے کے والدین کا ہی ہوتا ہے اور بچے کے والدین ہی بچے کے پیدا ہونے کے بعد بچے کے اصل استاد اور اس کے بہترین رہنما ہوتے ہیں جن سے بچا چلنے سے لے کر کھانا ، پینا، بولنا اور کپڑے پہنے تک اپنے والدین سے ہی سیکھتا ہے اور والدین کی کیر یئر کونسلنگ بچے کے زندگی میں95% ہوتی ہے۔ اسکے بعد ہم نے پوچھا کہ بچے کی کیریئر کونسلنگ کس عمر سے شروع ہوجانی چاہئے؟ تو اس سوال پر انہوں نے ہمیں جواب دیا کہ بچے کی کیرئیر کونسلنگ اس کے اسکول جانے سے شروع کردینی چاہیے تاکہ بچے کا شروع سے ہی ایک AIM(ٹارگٹ) بن جائے اور بچا شروع سے ہی اس پر محنت کرکے Specializationیعنی اس شعبے میں ماسٹر بن جائے۔ 
اسکے بعد ہم نے کیریئرکونسلر سے پوچھا کہ بچے کی کیرئیر کونسلنگ میں اساتذہ کا کتنا کردار ہوتا ہے؟تو اس سوال پر کیرئیر کونسلر نے ہمیں جواب دیا کہ بچے کی زندگی میں اسکے والدین ہی بچے کے اصل کیریئر کونسلر ہوتے ہیں کیونکہ بچے کو اسکول لگانے سے کیریئرکونسلنگ شروع ہوجاتی ہے ۔ اسکول لگانے کے بعد اساتذہ ےا اسکول تبدیل کروانے میں اسکے والدین ہی اسکے کیریئرکونسلنگ کرتے ہیں۔ 

کیریئرکونسلر کے مطابق کونسلنگ میں اساتذہ کا کردار:
 اساتذہ کا تعلق بچے سے بہتر سے بہتر ہونا چاہیے اور تقریبا اسکولوں میں بچوں سے اساتذہ کا تعلق خاصہ ٹھیک نہیں ہوتا اور اس بات کا اندازہ کلاس کے رپورٹ کارڈ سے لگایا جاسکتا ہے۔ جس میں صرف ایک بچا ہی پہلی پوزیشن حاصل کرتا ہے جبکہ چار سے پانچ طلباءدوسرے اور تیسری پوزیشن حاصل کرتے ہیں اور بقیا طلباءمیں سے بہت سے Averageنمبر لے کر پاس ہوجاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ فیل ہوجاتے ہیں جس میں آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کچھ تو بہت اچھے ہونگے جو پوزیشن لے کر پاس ہوئے اور کچھ کم اچھے ہونگے جو کہ پاس ہوگئے اور فیل ہونے والے طلباءمیں سے کچھ تو پڑھنا ہی نہیں چاہتے اور ان Averageطلباءاور فیل ہونے والے طلبہ میں سے ہی کچھ ایسے طلباءہوتے ہیں جو کہ اچھا پڑھنا چاہتے ہیں مگر ان کے اچھا نہ پڑھنے کی وجہ اساتذہ کا طلباءسے بہتر تعلق نہ ہونا ہے کیونکہ اساتذہ صرف پوزیشن حاصل کرنے والے یا اچھا پڑھنے والے طلباءکو ہی اہمیت دیتے ہیں جس سے پاس ہونے والے یا فیل ہونے والے طلباءاحساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں اگر اساتذہ سب پاس یا فیل ہونے والے بچوں کو ایک ہی نظر سے دیکھیں تو سب بچے بہتر سے بہتر نمبر لے سکتے ہیں۔ 

حیدرآباد میں تعلیمی معیار اور کیریئر کونسلنگ:
  پھر اسی طرح بات کی جائے تعلیم ہی کی تو حیدر آباد میں بھی دو طرح کے تعلیمی نظام ہیں ۔ ایک وہ نظام ہے جہاں بچوں کو Cambridgeسسٹم کے تحت تعلیم مہیا کی جارہی ہے اور ایک وہ نظام جہاں اسکول پرائیویٹ اور لوکل تو ہیں مگر نام کے اور فیسوں کے لحاظ سے جہاں بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلا جارہا ہے اور جبکہ بڑے اسکولوں کی بات کی جائے جیسے آرمی پبلک اسکول، سٹی فاﺅنڈیشن ، دی ایجوکیٹر، سپیرئیر ،پبلک فائڈیشن اور پرسٹن جیسے بڑے نام شامل ہیں ۔جہاں پر بچوں کو شروع سے ہی بہتر تعلیم معیار دیا جاتا ہے۔ ایسے اسکول بھی ہیں جو کہ نام نہاد پرائیویٹ ہیں جہاں بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ جس میں والدین بچے کو داخلہ دلوادیتے ہیں اور یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے ۔جس میں تعلیمی اداروں کی خوب کمائی ہوتی ہے اور پھر بچہ ان کے تعلیمی اداروں میں پڑھ نہیں پاتا یا وہ پڑھا نہیں سکتے تو ایسے تعلیمی ادارے سارا الزام بچوں پر تھوپ کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں ۔ ایسے بچوں کے لیے ایک کیریئرکونسلر یا پھر ماہر نفسیات نہیں رکھتے جو کہ بچوں کی بہتر رہنمائی کریں جس سے بچہ کامیابی حاصل کرسکے، اور پھر اسی طرح بچہ اپنے اسکو ل کے مراحل کو بہتر طریقے سے طے کرسکے۔

طالب علموںکا کالج کا سفر:
  والدین یا پھر سر پرست اعلیٰ کسی کے کہنے پر ہی طالب علم کو تعلیمی سفر آگے بڑھانے کے لیے کالج میں داخلہ دلوا دیتے ہیں۔ بغیر کیریئرکونسلنگ کروائے ہی میڈیکل ، انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس میں داخلہ لینے والے طلباءکو مشکلات کا سامنا رہتاہے اور صرف ان تین شعبوں میں ہی کالجزطالب علم کو بغیر کیر یئر کونسلنگ کروائے داخلے جاری کر دیتے ہیں۔ پھر تمام کالج بچوں کو تعلیم مہیاءکرتے ہیں جس میں سے کچھ کالج اپنے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے تعلیم مہیا کرنے کی تگ ودو میںلگ جاتے ہیں۔ کچھ کالج بس پڑھا رہے ہوتے ہیں ایسے کالجوں کو صرف فیسوں سے مطلب ہوتا ہے جب طالب علموں کا امتحان کا وقت آتا ہے تو تقریبا تمام طلباءہی اپنے اپنے پرچیں نکل(cheating) سے کرتے ہیں ۔ آپ نے بھی سنا تو ہوگا کہ( نکل کے لئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے)جی ہاں جو طالب علم اچھے کالجز کے ہوتے ہیں وہ نکل بھی عقل سے کرتے ہیں ۔ جو ایسے کالجز کے طلبہ ہوتے ہیں جنہیں صرف اور صرف فیسوں سے مطلب ہوتا ہے پھر انکے طلباء پیپر بھی ایسے ہی دیتے ہیں۔ جب رزلٹ سامنے آتا ہے تو دونوں طرح کے کالجزکے طالب علموں کے رزلٹ میں خاصہ فرق نظر آتا ہے اور ایسے کالجز کے 20 فیصد طلباءتقریبا فیل ہو جاتے ہیں اور اچھے کالجز کے طلبہ بھی صرف 60 فیصد ہی ایسے ہوتے ہیں جو کہ آگے بڑھ سکتے ہیں ۔اور اسی طرح طالب علم اپنے دو سالہ تعلیمی سفر کو رخصت کر تے ہیںجبکہ 74%طلباءایسے ہوتے ہیں جو کہ انٹر کے بعد ہی اپنے تعلیمی سفر کو خیرباد کہہ دیتے ہیں۔ کیونکہ انکی کیریئر کونسلنگ نہ ہونے کی وجہ سے وہ طلباءپریشان رہتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور وہ کیا بہتر کر سکتے ہیں جس کے باعث طلباءانٹر کے بعد ہی اپنے تعلیمی سفر کو خیر بعد کہہ دیتے ہیں اور صرف 26% فیصدہی آگے بڑھ جاتے ہیں۔

طالب علموں کا انٹری ٹیسٹ کی طرف رجحان:
  طالب علم فرسٹ ایئر اور انٹر کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھنے کی چاہت میں انٹری ٹیسٹ کی تیاری کروانے والے اداروں کا رخ کرلیتے ہیں ۔ انٹری ٹیسٹ کروانے والے ادارے بھی بغیر کچھ سوچھے سمجھے اور بغیر انٹرویو لیئے اور طالب علم کا ٹیسٹ لئے بغیر طالب علموںکو داخلے جاری کر دیتے ہیں۔ جبکہ حیدرآباد میں انٹری ٹیسٹ کی تیا ری کروانے والے اداروں کی تعداد بھی حیدر آباد میں بڑھتی جارہی ہے۔ آج سے تقریباً آٹھ سے دس سال پہلے کی بات کی جائے تو انٹری ٹیسٹ کی تیاری کروانے والے اداروں کی تعداد مشکل سے بیس کے لگ بھگ تھی ۔جبکہ آج2015کی بات کی جائے تو ایسے انٹری ٹیسٹ کی تیاری کروانے والے اداروں کی تعداد دو گنا سے بھی تجاوز کر گئی ہے اور یہ تعداد چالیس سے پچاس سے زائد ہوگئی ہے۔ جو کہ طلباءکی بغیر کیریئرکونسلنگ کے ہی داخلہ جاری کردیتے ہیں اور پندرہ ہزار سے پچیس ہزار کے لگ بھگ فیسوں کی مد میں وصول کیے جاتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ تین سے چار ماہ میںبچوں نے جو پورے دو سال پڑھا ہوا ہوتا ہے اس کی مکمل تیاری کرواتے ہیں۔ ایسے سینٹروں کے نام پر ہی پورے پاکستان میں تقریباً ایک سے ڈیڑھ لاکھ طلباءانٹری ٹیسٹ کی تیاری کرتے ہیںجبکہ یہ وہ 26%طلباءہوتے ہیں جو کہ ڈاکٹر ، میڈیکل یا پھر انجینئربننے کی چاہت میں یونیورسٹیوں کا رخ کرتے ہیں۔ ہر سال انجینئرنگ یونیورسٹی یعنی مہران یونیورسٹی کی ہی بات کی جائے تو صرف مہران کے ٹیسٹ کے لیے ہی گیارہ ہزار سے تیرہ ہزار طلباءانٹری ٹیسٹ میں حصہ لیتے ہیں۔ جبکہ مہران میں تمام کیمپس کی نشستوں کو ملا کر اکیسوں نشستیں بنتی ہیں۔جس میں صرف 2100طلباءہی داخلہ حاصل کرپاتے ہیں اور اسی طرح ڈاکٹر بننے کی چاہت میں میڈیکل کے ٹیسٹ میں تقریباً پندرہ ہزار طلباءحصہ لیتے ہیں اور جن میں سے صرف بمشکل پچاس ہی ڈاکٹر بن پاتے ہیں۔ اگر بات کرلی جائے پورے پاکستان کی تو انجینئرنگ کے ٹیسٹ میں تمام یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے درخواست دینے والے طلباء70 ستر ہزار سے 90 نوے ہزار تک ہوتے ہیں ۔ اگر میڈیکل کی بات کی جائے تو پورے پاکستان کی یونیورسٹیوں میں 41ہزار سے 50ہزار درخواست موصول ہوتی ہیں اور اسی طرح طلباءمیڈیکل یا انجینئرنگ میں داخلہ حاصل کرتے ہیںاور پورے پاکستان سے انجینئرنگ میں داخلہ حاصل کرنے والے طلباءکی تعداد تقریباً ساڑھے سات ہزار اورمیڈیکل میں داخلہ حاصل کرنے والے طلباءکی تعداد تقریباً پانچ ہزار ہوتی ہے۔ جبکہ بقایا ایک لاکھ سے تقریبا سو لاکھ تک طلباءاپنے مستقبل کو لے کر پریشان ہوجاتے ہیں جن میں کچھ دوبارہ تیاری کرتے ہیں۔ 

 دیگر یونیورسٹیوں کا رخ کرنے والے طلبائ:
  یہ وہ طلبہ ہوتے ہیں جو کہ میڈیکل میںڈاکٹر بنے کے لئے یا پھر انجینئرنگ میں انجینئربنے کی چاہت میں میں میڈیکل یا پھر انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں داخلہ حاصل نہیں کر پاتے تو تقریباایک سے ڈیڑھ لاکھ تک طلبہ بغیر کیریئرکونسلنگ کے ہی دیگر یونیورسٹیوں میں Applyکرتے ہیں اور میڈکل کے طلباءصرف ڈی فارمیسی ،مائیکروبائیولجی،بوٹنی،کمیسٹری اور بائیو کیمسٹری جسے چند شعبوں میں ڈاخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ انجینئرنگ کے طلبہ آئی ٹی کے شعبوں میں یا پھر کمپیوٹرسائینس، بی بی اے،انگلیش،فیزکیس جیسے شعبوں میں داخلہ حاصل کر کے پڑھنا چاہتے ہیںمگر یونیورسٹی ہر ایک طالب علم کو ان شعبوں میں داخلہ نہیں دے سکتی جس کے باعث طلباءکو دیگر جرنل شعبوں میں داخلہ دے دیتی ہیں۔

جرنل یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے والے طلباءسے بات چیت:
  جب ہم نے یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے والے طلباءسے بات کی تو انکا کہنا تھا کہ ہم انجینئربننا چاہتے تھے مگر ہمارے پاس کچھ اور Choiceنہیں تھی اس لیے ہم نے یہاں Applyکیا تھا اور ہمیں یہاں بھی من پسند شعبہ نہیں دیا گیا ہم انجینئرنگ کے طالب علم تھے مگر ہمیںITیا Softwareدینے کے بجائے اردو ، ایکونامیکس، انٹرنیشنل ریلیشن ،جرنل ہسٹری مطالعہ پاکستان یا پھر ماس کوم جیسے شعبے دے دیئے ہیں۔اور ایسی طرح میڈیکل کے طلباءنے بھی ہمیں بتایا کہ وہ ڈی فامیسی یا پھر بایﺅکیمسٹری اور فیزکیس جیسے شعبے دینے کے بجائے انہیں بھی ماس کوم، اردو،مطالعہ پاکستان جیسے شعبوں دے دیئے جاتے ہیں جبکہ داخلہ حاصل کرنے والے 30% طلباءکو انکا من پسند شعبہ دیا جاتا ہے جبکہ ان میں سے بھی 70% فیصد طلباءکو انکی مرضی کے مطابق شعبے نہیں دیئے جاتے۔

طلباءکو بہتر مستقبل نظر نہ آنے کی بڑی وجہ : 
جب ہم نے ماس کوم میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباءسے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ہمیں صرف اور صرف جرنل پڑھایا جارہا ہے یا صرف پرنٹ میڈیا کا پڑھایا اور پریکٹیکل کروایا جارہا ہے جبکہ ہمیں الیکٹرانک میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے شعبوں میں میںSpecializationنہیں کروائی جا رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایسے بہت سارے طلباءجو کہ پروڈیوسر ،ڈاریکٹر،کیمرہ مین ،ہوسٹ یا پھر نیوز کاسٹر بنا چاہتے ہیں اور نہیں بن پاتے اور یہ ہی بڑی وجہ ہے جس کے باعث تمام طلباءایک ہی فیلڈ میں نہیں جا سکتے اور زیادہ تر طلباءکی کامیابی حاصل نہ کر پانے کی بڑی وجہ یہ ہی سامنے آتی ہے اور ایسیا ہی ہوتا ہے کہ ان تمام طلباءمیں سے بہت سارے کسی این جی او ، کوئی میڈیکل ریپ اور کوئی ٹیچنگ اور دیگر مختلف شعبوں کی طرف نکل جاتے ہیںجو کہ انکی فیلڈ کے بلکل مطرادف ہوتی ہیں اور ان وجوہات کے باعث ہی ان 100%فیصدطلباءمیں بھی صرف دس فیصد طلبہ اپنی فیلڈ یعنی میڈیا میں جاپاتے ہیں اور یہ سب کیریئرکونسلنگ نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے 

طالب علم کے داخلہ حاصل کرنے سے پاس آﺅٹ کرنے تک کے مراحل:
  ایسے 70% فیصدطلباءان جرنل فیلڈ میں داخلہ حاصل کر تولیتے ہیں مگر ایسے طلباءان شعبوں میںپڑھ نہیں پاتے اور 70% طلباءصرف ڈگری حاصل کرنے کے لئے ہی ان شعبوں میں پڑھ رہے ہوتے ہیں اور صرف 20% طلباءہی ایسے ہوتے ہیں جو کہ ان جرنل فیلڈ میں داخلہ حاصل کر کے بہتر طریقے سے پرھتے ہیں اور آگے اپنی اپنی فیلڈ میں نکل جاتے ہیں اور 10% دس فیصد طلباءایسے ہوتے ہیں جو کہ دل برداستہ ہو کر پڑھائی کو چوڑ دیتے ہیں اور اگر بات کی جائے ان 70% ستر فیصد طلباءکی تووہ طلباءپڑھائی کر نہیں سکتے یا پھر پڑھائی کرتے ہیں تو ان 70% طلباءکو اپنا مستقبل نظر نہیں آرہا ہوتا جس کے باعث ایسے طلباءمیں سے کچھ تو ٹیچنگ کی طرف نکل جاتے ہیں اور کچھ طلباءاین جی اوز کی طرف اور کچھ طلباءمیڈیکل ریپ کی طرف نکل جاتے ہیں اور یہ سب کیریئر کونسلنگ کے نا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے اگر شروع میں ہی کیریئر کونسلنگ کی جائے تو طلباءکو ان سب مشکلات کا سامنہ نہ کرنا پڑے ۔

M.Asad Abbasi           
کیرئےر کونسلنگ میں میڈیا کا کردار:
پاکستان کا میڈیا جو کہ اپنے میڈیا اداروں کو پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپوں میںسے ایک کہلواتا ہے اور کیوں نہ کھلوائے؟ کیوں کے پاکستانی میڈیا ہر لحاظ سے بہتر سے بہتر خبر اور رپورٹ دینے کی کوششوں میں لگا رہتا ہے مگر کچھ مسئلے پاکستان کے نوجوانوں کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔۔۔ جن میں سے ایک بہت بڑامسئلہ پاکستان میں کرئےر کونسلنگ کا بھی ہے جس کی وجہ سے ایسے بھٹکے ہوئے طالب علم جو کہ انٹرمیڈیٹ کے بعد اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھنے اور بہترین فیلڈ کی چوائس میں الجھ کر رہ جاتے ہیںجس کے باعث ہر سال لاکھوں طلبہ و طالبات کا مستقبل تباہ ہو جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں صرف جنگ گروپ ہی اپنے جنگ اخبار کے ذریعے کرئیر کونسلنگ کے لئے کچھ کاوشیں کرتا نظر آرہا ہے جس میں جنگ گروپ کے سید اظہر حسنین عابدی طالب علموں کی کرےئر کونسلنگ اور طالب علموں کی رہنمائی اپنے جوابات کے ذریعے ہر جمعرات کو شائع ہونے والے اخبارات میں دیتے ہیں جن سے کئی طلباءکو انکا برائٹ فیوچر نظر آ ہی جاتا ہے اور وہ سب طالب علم سید اظہر حسنین عابدی صاحب سے اپنی اپنی کر ئیر کونسلنگ کروانے کے بعد کسی حد تک مطمعین بھی ہو جاتے ہیں ۔اگر آپ کے پاس بھی کوئی کرئیر کونسلر موجود نہیں ہے تو آپ بھی بذریعہ ایس ایم ایس#HAC(space)message & send to 8001 یا پھر abidi@janggroup.com.pk پر بھی آپ باآسانی اپنی کرئیرکونسلنگ کرواسکتے ہیں اور اپنے کرئیر کو تباہ ہونے سے بچا سکتے ہیں ۔ جب کہ جنگ گروپ کے علاوہ بھی دیگر کئی میڈیا گروپوں کو بھی ایسے اقدامات اٹھانے چاہیے جن سے پاکستان کے نوجوانوں کو اپنے بہتر کرئیر بنانے کا موقع ملے سکے گا اورہر 5 میں سے تقریبا4 طلبہ اپنے کرئےر کو بہتر بنا سکتے ہیں جس سے
 پاکستان ہر طرح کی برائیوں سے بھی بچ سکے گا ۔

حےتمی رائے:
اس تمام رپورٹ کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیریئرکونسلنگ نہ صرف طلباءبلکہ اساتذہ کی بھی ہونی چاہئے اور کیریئرکونسلر نہ صرف یہ کہ ایک اسکول ، کالج، یونیورسٹی بلکہ ہر ایک شعبے میں ہونے چاہیے تاکہ طلباء کی درست سمت سے رونمائی ہو۔ جبکہ حیدر آباد میں کیریئرکونسلنگ کروانے والے ایسے تقریباً پندرہ سینٹرز موجود ہیںجن میں APEX، جیمس، مصطفی احمداینڈ کو،ٹائم کنسلٹنسی جیسے سینٹرز شامل ہیں۔ اور ان سینٹرز میں بھی زیادہ تر Abroadکے لیے کیریئرکونسلنگ کروائی جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لوکل ایجوکیشن جرنل ایجوکیشن اور ایمپلائمنٹ کے حوالے سے کیریئرکونسلنگ کروانی چاہیے اور ہر اسکول ، کالج اور یونیورسٹی میںایک کونسلٹنٹ کا ہونا لازمی ہے جبکہ حکومت پاکستان کو بھی کیریئرکونسلنگ کے حوالے سے اقدام اٹھانا چاہیے اور ہر ایک یونین کونسل میں تقریباً ایک سے دو سینٹرز قائم ہونے چاہیے تاکہ ہر علاقے کے طلبا ءکی بہتر رہنمائی ہوسکے جس سے نہ صرف طلباءبلکہ اساتذہ اور والدین کی بھی کیریئرکونسلنگ لازما µ ہو ناچاہیے تاکہ طلبا باآسانی اپنے مستقبل کو بہتر سے بہتری کی طرف گامزن ہوسکیں۔
The work was carried under supervision of Sir Sohail Sangi  

Friday, September 18, 2015

انٹرویو۔جلال الدین اسٹیشن فائر آفیسر حیدرآباد

Received after due date. Can not be considered for marks. 
نام محمد مہد ۔رول نمبر 122 بی ایس پارٹ 3 

انٹرویو۔جلال الدین اسٹیشن فائر آفیسر حیدرآباد 

�آ

س: پاکستان بننے کے بعد حیدرآباد میں کتنے فائر اسٹیشن تھے اور کون کونسی جگہ پر واقع تھے؟

ج: پاکستان کے قیام کے بعد حیدرآباد میں 2فائر اسٹیشن قائم کئے گئے جس میں سے ایک کا نام تھوڑا چاڑی فائر اسٹیشن تھا اور اب اس کا نام تبدیل کر کے عنایت اللہ فائر اسٹیشن رکھ دیا گیا تھا یہ اسٹیشن فقیر کے پیڑ پر واقع ہے اور دوسرا فائر اسٹیشن ٹاور مارکیٹ پر قائم کیا گیا تھا ۔اور پھر جب لطیف آباد کی پلاننگ کی گئی تو ایک اور فائر اسٹیشن ما جی اسپتال کے پیچھے قائم کیا گیا اور پھر جیسے جیسے حیدرآباد کی آبادی میں اضافہ ہوتا گیا تو ایک اورقاسم آباد فائر اسٹیشن کے نام سے رانی باگ اوپین ائیر ٹھٹیر کے نیچے قائم کیا گیا تھا اور یہ سارے اسٹیشن چوبیس گھنٹے امن ہویا جنگ قدرتی آفات یا پھر ڈیزاسٹر ہو یا پھر انسانی غلطی کی وجہ سے کوئی بھی حادثات ہوں ان سب آفات سے نمٹنے کے لئے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔


س:آپ کو کتنے سال ہوگئے اس محکمے میں کام کرتے ہوئے ؟اور اپنی سروس میں کتنے حادثات دیکھے اور کوئی ایسا واقع جو کہ ابھی تک یاد ہو؟

ج: مجھے اس محکمے میں تقریبا28سے 30 سال ہو گئے اور اس وقت سے میں نے سیکڑوں ایسے واقعات دیکھے ہیں جنہیں بیان کرنا بہت مشکل ہے اور اگر بیان کیا جائے تو کئی دن بیت جائے گیں اور ایک دو واقعات ہیں جنہیں میں آج بھی نہیں بھولا جس میں سے ایک واقع میرپورخاص روڈپر کوچ میں آگ لگنے کا ہے جس میں 40افراد جھلس کر جاں بحق ہوگئے تھے اور دوسرا واقع سپر ہاوے پر نوریاباد کے مقام پر بس اور ٹرک کے تصادم کے باعث پیش آیا جس میں 35سے زائدقیمتی انسانی جانیں ذائعہ ہوئی۔



س : جب کسی جگہ آتشزدگی ہوتی ہے تو کتنا وقت لگتا ہے آپکو وہاں پہچنے پر اور کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

ج : فائر برگیڈ کے عملے کو آگ لگنے یا کسی حادثے کی بروقت اطلاع ملتی ہے توفائر برگیڈ کا عملہ فوری طور پر تیا ر رہتا ہے اور جگہ کو مدِنظر رکھتے ہوئے 5 سے 7منٹ میں پہچنے کی کوشش کرتا ہے اور مشکلات کا سامنہ اس وقت کرنا پرتا ہے جب تنگ سڑکوں پر ٹریفک جام رہتا ہے اور تقریبا حیدرآباد میں تجاؤزات میں کی برمار ہونے کی وجہ سے بھی کئی مشکلات کا سامنہ کرنہ پڑتا ہے۔مگر ہماری کوشش ہوتی ہے کہ جلد سے جلد پہنچ جائیں اور دوسری سب سے بڑی وجہ لوگوں میں اویرنیس کا بھی ہے۔



س : سب سے پہلے حادثے کی جگہ پر پہنچ کر کیا کام کرتے ہیں اور ایک گاڑمیں کتنا عملہ بروقت جاتا ہے حادثے کی جگہ پر؟ْ

ج: سب سے پہلے حادثے کی جگہ پر پہنچ کر شفٹ انچارج فائر مینوں کے کرو کو ہدایت دیتا ہے کہ آگ پر قابو پایا جائے اورپھر اس جگہ کا جائزہ لیتا ہے اگر کوئی شخص اندر ہوتا ہے تو فوری طور پر انسانی جان کو بچایا جاتا ہے ۔جب گاڑی اسٹیشن سے روانہ ہوتی ہے تو اس وقت اس میں چھ افراد کا عملہ موجود ہوتا ہے ایک شفٹ ایچارج ،ڈرائیور اور ایک فائر مینوں کا کرو جو کہ 4افراد پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ آگ کو کنٹرول کرتا ہے۔اگر آگ زیادہ بھڑک جائے تو دوسرے فائر اسٹیشنوں سے گاڑیوں کو طلب کیا جاتا ہے اور اگر کئی زیادہ آتشزدگی بھڑ جائے تو ڈپٹی کمشنر کے ذریعے دوسرے شہروں سے گاڑیوں کو طلب کیا جاتا ہے ۔



س : اس وقت حیدرآباد میں کتنی گاڑیاں فائر برگیڈ کے پاس ہے اور کتنا سازو سامان ہے آگ سے لڑنے کے لئے ؟اور اگر ایک گاڑی کا پانی ختم ہو جائے تو دوسری گاڑی کو کتنا ٹائم لگتا ہے پانی بھر کر لانے میں؟ْ

ج: اس وقت پورے حیدرآباد میں پانچ فائر اسٹیشنوں پر تقریبا 14سے 15گاڑیاں ہیں جو کہ پورے حیدرآباد کے لئے ناکافی ہے کیونکہ انٹرنیشنل فائر لاء کے مطابق ایک لاکھ کی آبادی پر ایک فائر اسٹیشن ہونا چاہیے اور سازوسامان بھی نا ہونے کے برابر ہے۔حیدرآباد میں گاڑیوں کو پانی بھرنے کے لئے پمپنگ اسٹیشنوں پر جانا پڑتا ہے ایک گاڑی کو پانی بھرنے کے لئے 3سے 5منٹ درکار ہوتے ہیں جبکہ حیدرآباد میں کل تین پمپنگ اسٹیشن ،ایک مانا ڈوری ،دوسرا قاسم آباد پمپنگ اسٹیشن اور تیسرا لطیف آباد چھ نمبر پمپنگ اسٹیشن ہے۔جب حادثے دوران پانی ختم ہوتا ہے تو زیادہ ٹریفک اور تجاؤزات کی وجہ سے دن کے اوقات میں اس کا دورانہ 30سے 45منٹ لگ جاتے ہیں اگر رات کے وقت ہو تو 10سے 12منٹ لگتے ہیں کیونکہ حیدرآباد میں پمپنگ اسٹیشنوں کی تعداد بھی بہت کم ہے ۔



س :زیادہ تر آگ لگنے کی کیا وجہ سامنے آتی ہے اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کس طرح آگ پر قابو پا سکتے ہیں ؟

ج:زیادہ تر آگ لگنے کی وجہ شورٹ سرکٹ ،گیس کا لیک ہونا یا پھر سامان کا بے ترتیب رکھا ہونا اور انسان کی خد کردا ایسی کئی غلطیاں ہوتی ہیں جس کے باعث آگ لگتی ہے اور اگر آگ لگ جائے تو سب سے پہلے اس جگہ کو خالی کروالیا جائے تا کہ جانی نقصان ہو نے سے بچایا جائے آگ بجانے کے لئے سب سے بہتر میڈیا پانی ہے جو ٹھوس فائر کو کنڑول میں کر سکتا ہے اور اگر لیکویڈ فائر ہو مثلاپیٹرول ،ڈیزل ،آئل ،گیرس یا کھانے کے تیل سے آگ لگ جائے تو فوم کا استعمال سب سے اچھا ہے اگر لیکویڈ فائر میں پانی کا استعمال کیا جائے گا تو آگ اور بھڑک جائے گی جس سے کئی گناہ نقصان ہو سکتا ۔



س:لوگوں کو کیا میسج دینا چاہے گیں کہ لوگ اس سے کیسے بچ سکتے ہیں۔

ج:لوگوں کے لئے میں یہ میسج دینا چا ہو گا کہ دنیا میں سب سے خطرناک آگ ہے اس کو بجانے یا اس سے بچنے کے لئے فائر برگیڈ ،سول

ادارے یا دیفینس اداروں سے تربیت یا اویرنس حاصل کریں تا کہ لوگ اپنی جان و مال کی حفاظت کر سکے ۔
Key words: Fire station, Mahad , Hyderabad, Jalaluddin, Sohail Sangi,
This practical work was carried under supervision of Sir Sohail Sangi

Monday, August 17, 2015

عرس مبارک لعل شہباز قلندر Revised

Ur feature was too long (1500 words) I tried to edited and put into feature form. Still it is long for publication in Roshni. we can publish it on web site or Blog.  We will need some photos of Mela.
For filing interview, deadline has expired, no piece is accepted after deadline. 
 I am sending u edited piece also 
 There are lot of proof mistakes

محمد مہد:رول نمبر 122:بی ایس پارٹ 3

فیچر: عرس مبارک حضرت لعل شہباز قلندر

بزرگان دین کے مزارات پر منعقدہ عرس کی تقاریب صوبے کی اس ثقافت کا جزو ہے جس میں راواداری ،تحمل،برداشت کو بنیادی حثیت و اہمیت حامل ہے۔رواں سال لعل شہباز قلندرؒ کے عرس کی تقریب کی میڈیا کوریج کا موقعہ ملا۔ کوریج کے لئے ہم لوگ سینئر پروڈیوسر محمد عارف کے ہمراہ ریڈیو سے ایک دن پہلے
ہی را ت کو سہون کے لئے نکل گئے ۔
لعل شہباز آذربائجان کے علاقے مروند میں 538 ؁ ہجری میں پیدا ہوئے۔ آپ سندھ کے ان بزرگان دین میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی صوفی منش طبیعت لیکن قلندرانہ کیفیت کے باعث جلالی مزاج کے حامل ہیںآپکی وفات21 شعبان بمطابق 637 ؁ ہجری کو ہوئی اور وہ سیہون میں مدفون ہیں۔۔فیروز شاہ تغلق کے عہد میں رکن الدین عرف ملک اختیار الدین نیان کا روضہ تعمیر کرایا ۔ آج تک ہر سال عرس کی تقریب 20,19,18 شعبان کو منعقد کی جاتی ہے ۔



ہم جسے ہی سہون شہر میں داخل ہوئے تو اس وقت رات کے چار بج رہے تھے مگر دن کا سا سماء تھا۔ سندھ میں ہر عرس کی تقریب تقریباایک جیسی ہی ہوتی ہے عرس میں درگاہ کو رنگین بتیوں سے سجایا ہوا تھا درگاہ کے برابر میں میٹھایوں سمیت کئی چھوٹے بڑے اسٹال لگائے ہوئے تھے۔پورے شہر میں میلے کا سا سماء لگ رہا تھا مختلف اقسام کے جھولے لگے ہوئے تھے جس سے لوگ خوب لطف اندوز ہو رہے تھے ۔



جب ہم ہماری رہائش کی جانب جا رہے تھے تو پولیس والوں نے ہمیں روک دیا اور ہمارے بارہا کہنے کے بعد بھی کہ ہم ریڈیو پاکستان کی جانب سے ہیں ہمیں اندر نہیں جانے دیاجبکہ اس وقت وہاں سے کئی گاڑیاں گزر رہیں تھں۔ مجھے بہت افسوس ہوا اور سوچ رہا تھا کہ ہم واقع ہی ایک آزاد ملک میں رہتے ہیں جہاں اپنا کام شروع کرنے سے پہلے بھی اجازت لینی پڑتی ہے۔ 



صبح ہوتے ہی ہم درگاہ گئے جہاں مشیر اوقاف نے چادر چڑھا کر عرس کا باقاعدہ افتتاح کیا ۔جبکہ عرس شروع ہونے سے پہلے ہی پاکستان سمیت دنیا بھر سے لاکھوں عقیدت مند حاضری کے لئے آئے ہوئے تھے اور مزید بھی قافلوں کی شکل میں آرہے تھے ۔ ہر گھنٹے میں ہزاروں لوگ مزار پر چادر چڑھاتے اور دعا مانگتے تھے اور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ۔کئی لوگ دھمال ڈال کر اپنی عقیدت کا اظہار کرتے نیاز و لنگر کرتے جس سے کئی آنے والے ظاہرین کے لئے کھانے کا اہتمام ہو جاتا تھا ۔



عرس میں تینوں دن تقاریب منعقد کی گئی تھیں۔ایک ایکسپو سینٹر کا بھی انعقاد کیا گیا۔ ہم لوگ وہاں انفارمیشن دیپارٹمینٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے ساتھ کوریج کے لئے گئے تو وہاں مختلف اشیاء کے اسٹال لگے ہوئے تھے جو کہ سندھ کی تاریخ اور ثقافت ک عکاسی کرتے اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے جس سے لوگوں کو دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا۔ اس کا افتتاح ممبر صوبائی اسمبلی فقیر داد کھوسو نے کیا اور سب اسٹال پر جا کر اسٹال کا جائزہ لیا اور میدیا سے گفتگو کی۔

زائرین کی تفریح کے لئے سندھ اور پنجاب کی ثقاف کو اجاگر کرتا کھیل ملاکڑے کا انعقاد بھی کیا گیا جس کا افتتاح ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر ملک اسد سکندر نے کیا۔ جس میں مخلتف ملہہ پہلوانوں نے حصہ لیا اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کر کے جیتنے والے کھیلاڑیوں کو لعل شہباز قلندر شیلڈ دی گئی ۔
سب پروگرام کی کوریج کرنے کے بعد ہم نے تمام فائلوں کو ایف ٹی پی کر دیا۔
دوسرے دن بھی شام میں ملاکڑے کا انعقاد کیا جاتا ہے پھر رات کے وقت لوگوں کے لئے پروگرام سگھڑن کی کچیری کا انعقاد کیا گیا تھاجس کا افتتاح شرمیلہ فاروقی کو کرنا تھا جو کہ مصروفیات کی وجہ سے نہیں آسکیں جس کہ باعث انکے سیکریٹری نے پروگرام سگھڑن جی کچھیری کا افتتاح کیا جس میں ملک بھر کے سگھڑوں نے حصہ لیا اور اپنی شاعری جو کہ لطیفوں کی شکل میں تھی اس سے لوگوں پر ایسا جادو کر دیا کہ لوگ ہسی سے لوٹ پوٹ ہو نے پر مجبور ہوگئے اور ہم نے اس پروگرام کی بھی کوریج کرنے کے بعد فائل ٹرانسفر کر دیا ۔سگھڑوں نے اپنی شاعری کر کے لوگوں سے تالیوں کی شکل میں داد وصول کی ۔اور اس پر بھی بہترین سگھڑ کو لعل قلندر شیلڈ پیش کی گئی تھی ۔ 



سگھڑن کی کچھری کے دوران ہی دپٹی کمشنر جامشورو نے وہاں کا دورہ کیا جس پر ہمارے ایک صحافی دوست نے ہی انہیں روک لیا اور انتظام کے حوالے سے بات کرنے لگا کہ میں نے اس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس دے دیا جو کہ بہت میلا ہو رہا تھا جس پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ یہ ہماری مجبوری ہے اور میں خود ہی پانی پی کر آیا ہوں۔



تیسرے روز بھی عرس کو اپنے منطقی انجام تک پہچانے کے لئے بھی وزیراعلی سندھ کو 4 بجے تک آنا تھا اور اس وقت کے متابق ہمیں اور دیگر میڈیا والے بھی کوریج کرنی تھی۔ مگر موسم خراب ہونے کے باعث انہیں دیر ہو گئی اور وہ شام 7 بجے پہنچ ہی گئے ۔ ان کے آمد سے پہلے سارے مزار کو خالی کر والیا گیا ۔
وزیراعلیٰ سندھ نے چادر چڑھائی اور فاتحا خوانی کرکے 3 روزہ عرس کا اختتام کردیا ۔

میڈیا والوں کے اصرار پر وزیراعلی سندھ نے میڈیا سے گفتگو کی اور اس وقت میں نے سب ریکارڈنگ کر لی اور پھر جاتھ ہوئے ڈپٹی کمشنر جامشورو کو تمبع کی کہ درگاہ کے دروازوں کو بڑا کیا جائے۔
میلہ تو رسمی طور پر ختم ہوگیا لیکن لوگوں کی تھکن میں کمی کرنے کے لئے آخری رات ایک شاندار محفل موسیقی کا احتتمام کیا گیا تھا جس کے کنوینئراسسٹنٹ کمشنر جامشورو تھے جس میں تاج مستانی،طفیل سنجرانی سمیت نامور گلوکاروں اور کئی فنکاروں نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور کئی گانوں پر لوگوں سے خوب داد وصول کی ۔ اور رقص کرتے تھے۔
سب کی کوریج کر کے ایف ٹی پی کر دی اور ہمارے پروڈیوسر نے رپورٹ بنا کر رات گیارہ بجے پروگرام تاروں بھری رات میں چلا دی اور پھر عرس کے آخر میں عرس کو منعقد کرنے والی کمیٹی میں کام اور حصہ لینے والوں کوبہترین کام کرنے پر میلا کمیٹی کی طرف سے لعل شہباز قلندر شیڈ دی گئی اور اس طرحمحفل موسیقی سے عرس کا اختتام کر دیا ۔


This practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi
Key words: Qalandar Mela, Sehwan, Mahad , Sohail Sangi,
-------- FIRST VERSION --------

آپ کا ٹاپک تھا سیہون میلے کی کوریج۔ آپ نے سہون، قلندر کی زندگی پر لکھا ہے۔ اس کا تھوڑا سا حوالہ اور میلے کا ذکر اور پھر کوریج کیسے کی یہ ہونا چاہئے۔ اس کو جمعرات تک ٹھیک کر کے دیں۔
مہد: رول نمبر 122:بی ایس پارٹ 

 Unedited


فیچر: عرس مبارک لعل شہباز قلندر۔۔
حیدرآباد سے دادو کی طرف چلیں تو سہون کا تاریخی شہر آتا ہے پہاڑی سلسلے اوردریائے سندھ سے ملحقہ کچے کے علاقے سمیت کئی حوالوں سے مشہور ہے۔ وادی مہران میں یوں تو سینکڑوں بزرگ مدفون ہیں لیکن سچل ،قلندراور بھٹائی کو خصوصی مقام حا صل ہے۔سیوہن ا کی اصل شناخت حضرت لعل شہباز قلندرؒ کا وجود کی و جہ سے ہے جو یہاں مدفون ہیں۔اوربرضغیر ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں نمایاں شہرت کے حامل ہیں۔سندھ سوارنا ،سہوستان ،سدوسان اور سدو مانیا سے سہون تک کے سفر میں اس شہر نے تاریخ کے کئی رخ دیکھے لیکن اسے شہرت بارہویں صدی عیسوی میں ہی ملی جب حضرت لعل شہباز قلندر ؒ نے اسے اپنا مسکن بنایا۔آپ آذربائجان کے علاقے مروند میں 538 ؁ ہجری میں پیدا ہوئے ،آپ کے والد کا نام سید ابراہیم کبیرالدین تھے جو اپنے زمانے کے صاحب کمال شخصیت بیان کئے جاتے ہیں۔ آپ سندھ کے ان بزرگان دین میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی صوفی منش طبیعت لیکن قلندرانہ کیفیت کے باعث جلالی مزاج کے حامل ہیںآپ کے کشف و کرامات کے درجنوں واقعات مشہور ہیں۔کہتے ہیں کہ آپ کے دم کردہ پانی سے بیمار شفایاب ہوئے تبلیغ کا انداز سادہ لیکن اندازگفتگو متاثر کن تھا ۔جس کی سبب آپ کی شہرت دور دور تک پہلی اور لاکھوں لو گوں نے اسلام قبول کیا۔آپکی وفات21 شعبان بمطابق 637 ؁ ہجری کو ہوئی اور سہون میں ہی مدفون ہوئے۔فیروز شاہ تغلق کے عہد میں رکن الدین عرف ملک اختیار الدین نے آپ کے روضہ اقدس تعمیر کرایا جو آج بھی خاص و عام ہے۔ اور جب سے آج تک ہر سال عرس کی تقریب 20,19,18 شعبان کو منعقد کی جاتی ہے ۔اور بزرگان دین کے مزارات پر منعقدہ عرس کی تقاریب صوبے کی اس ثقافت کا جزو ہے جس میں راواداری ،تحمل،برداشت کو بنیادی حثیت و اہمیت حامل ہے۔ اور سندھ میں ہر عرس کی تقریب تقریباایک جیسی ہی ہوتی ہے عرس میں درگاہ کو رنگین بتیوں سے سجایا جاتا ہے درگاہ کے برابر میں میٹھایوں سمیت کئی چھوٹے بڑے اسٹال لگائے جاتے ہیں۔جبکہ عرس شروع ہونے سے پہلے ہی سہون شہر کو بھی مختلف رنگوں کی بتیاں سے سجایا جاتا ہے اور پورے شہر میں میلے کا سا سماء لگتا ہے مختلف اقسام کے جھولے لگائے جاتے ہیں جس سے لوگ خوب لطف اٹھاتے ہیں۔اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے لاکھوں عقیدت مند حاضری کے لئے آتے ہیں اور مزار پر چادر چڑھاتے اور دعا مانگتے ہیں او ردھمال ڈال کر اپنی عقیدت اور محبت کو ظاہر کرتے ہیں نیاز و لنگر کرتے ہیں جس سے کئی آنے والے ظاہرین کے لئے کھانے کا اہتمام ہو جاتا ہے ۔اور عرس میں تینوں دن تقاریب منعقد کی جاتی ہیں جبکہ گورنر سندھ چادر چڑھا کر عرس کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہیں اور عرس کے موقع پر مختلف اشیاء کے اسٹال لگے ہوتے ہیں جو کہ سندھ کی تاریخ اور ثقافت کو اجاگر کرتے ہیں اور لوگوں کے لئے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے اس کے بعد دنیا بھر سے آنے والے لوگوں کے لئے تفریحی حاصل کرنے کے لئے سندھ اور پنجاب کی ثقاف کو اجاگر کرتا کھیل ملاکڑے کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں ملک بھر سے کھیلاڑی حصہ لیتے ہیں اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کر کے جیتنے والے کھیلاڑیوں کو لعل شہباز قلندر شیلڈ دی جاتی ہے۔اور دوسرے دن بھی شام میں ملاکڑے کا انعقاد کیا جاتا ہے پھر رات کے وقت لوگوں کے لئے پروگرام سگھڑن کی کچیری کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں ملک بھر سے سگھڑ حصہ لیتے ہیں اور اپنی شاعری جو کہ لطیفوں کی شکل میں ہوتی ہے لوگوں کو ہسی سے لوٹ پوٹ ہو نے پر مجبور کر دیتی ہے اور لوگوں سے تالیوں کی شکل میں داد وصول کرتے ہیں اور اس پر بھی بہترین سگھڑ کو لعل قلندر شیلڈ پیش کی جاتی ہے۔اور پھر تیسرے روز بھی عرس میں لوگوں کی تفریحی محیا کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ چادر اور فاتحا خوانی کرکے 3 روزہ عرس کا اختتام کر دیتے ہیں۔مگر اختتام کرنے کے بعد بھی لوگوں کی تھکن اور پریشانی میں کمی کرنے کے لئے آخری رات ایک شاندار محفل موسیقی کا احتتمام کیا جاتا ہے جس میں نامور گلوکار سمیت کئی فنکار بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں جسے لوگ بے حد پسند کرتے ہیں اور موسیقی سے خوب محزوز ہوتے ہیں۔اور پھر آخر میں عرس میں منعقدہ تقاریب میں حصہ اور بہترین کام کرنے والوں کو میلا کمیٹی کی طرف سے لعل شہباز قلندر شیڈ دے کر عرس کا اختتام کر دیا جاتا ہے۔۔



پروفائیل: شبیر تابش

اچھا لکھا ہوا ہے۔ کچھ ایڈیٹنگ کی ضرورت ہے۔ اور تھوڑا سا طویل بھی ہے۔ پیراگرافنگ نہیں تھی جو کردی ہے۔ پروفائل والی شخصیت کی فوٹو چاہئے.
 Un -edited
محمد مہد ، رول نمبر 122، بی ایس پارٹ 3
پروفائیل: شبیر تابش حیدرآباد کی تاریخ کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہیں

شبیر احمد تابش حیدرآباد میں اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے اپنا مقام آپ رکھتے ہیں۔ اس بات کا ثبوت انہوں نے کچھ اس طرح سے دیا کہ وہ حیدرآباد سے کتنا پیار کرتے ہیں شبیر احمد تابش نے حیدرآباد کی تاریخ کو بے پناہ پڑھااور حیدرآباد کی ایک ایک گلی،ٹنڈوز،چوراہوں کی تاریخ کو اس طرح سے ڈھونڈا اور مکمل ریسرچ کی جس کی وجہ سے شبیر احمد تابش حیدرآباد کی تاریخ کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہیں۔انہوں نے لاتعداد فیچرز ،ڈرامے،افسانے ،کالم مختلف ٹی وی چینلزاور اخباروں کے لئے لکھیں۔اس کے علاوہ پی ٹی وی،بی بی سی،نیشنل جیوگرافک اور ڈسکوری جیسے بڑے ٹی وی چینلز کے لئے بھی ڈاکیومینٹری لکھی ہیں۔۔
آپ انتہائی سادہ طبیعت کے مالک ہیں اور لوگوں کے ساتھ محبت سے پیش آتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں بے حد مقبول ہیں۔
13 اگست 1965کوحیدرآباد کے علاقے سرفراز کالونی میں پیدا ہوئے۔ان کے والد نصیرالدین حکمت کے پیشے سے وابستہ تھے۔ بنیادی تعلیم کالونی میں واقع مدرستہ السلام سے حاصل کی۔ اس اسکول میں داخلے کے لئے ایک دلچپ واقع ہوا۔اور وہ واقع یہ تھا کہ جب اس وقت اسکولوں میں داخلہ دیا جاتا تھا تو بچے کی عمر کم سے کم پانچ سال ہونا شرط ہوتی تھی۔ تعلیم حاسل کرنے کا اس حد تک شوق تھا کہ جس کی وجہ سے اسکول میں داخلہ لینے ازخود ہی پہنچ گئے جبکہ اس وقت ان کی عمر چار سال تھی ۔ماسٹر نے پوچھا کہ عمر کتنی ہے؟ کم عمر ہونے کی وجہ سے انہیں داخلے دینے سے منع کر دیا اور کہا کہ پانچ سال کے ہو جاؤ تو آجانا۔مگر آپکو تعلیم کا بے حد شوق تھا تو تعلیم حاصل کرنے کے حصول کے لئے آپ دو یاتین ہفتے بعد پھر سے چلے گئے اور یقین تھا کہ وہی سوال پھر سے کیا جائے گا،اور وہی سوال ہواتو آپ نے جھوٹ بولا کہ آپکی عمر پانچ سال ہے اور یہ آپکی زندگی کا پہلا جھوٹ تھا اور وہیں سے زندگی میں جھوٹ کی شروعات ہوئی۔
پرائمری تعلیم حاصل کرنے کے بعدتلک چاڑہی پر واقع جامعہ عربیہ ہائی اسکول سے میٹرک پاس کیا۔ہائی اسکول کی تعلیم کے زمانے میں ان کے والد مختلف اخبارات گھرلے کر آتے تھے۔ اس وقت جنگ اخبار میں ٹارزن کی کہانی شائع ہوتی تھی جو وہ بہت شوق سے پڑھتے۔ان کے ذہن میں ہمیشہ ایک ہی سوال جنم لیتا تھا کہ ایک اکیلا انسان جنگل کس طرح زندہ رہتا ہے اور وہ مرتا کیوں نہیں ہے۔ آٹھویں جماعت میں ہی آپ نے اپنی پہلی تحریر لکھی جس کا عنوان سچ پر تھاجو کہ جنگ میں شائع ہوئی اور اس طرح وہاں سے انہوں نے لکھنے کا آغاز کیا ۔
انہوں نے سندھ کامرس آف کالج سے بی کام کی ڈگری حاصل کی۔اس دوران آپ کے لکھنے کا آغاز روزنامہ جنگ اور چٹان سمیت مختلف اخباروں سے لکھتے رہے۔آپ نے روزنامہ انقلاب میں ضیاالحق کے دور میں بھی کام کیا کہ جب خبریں سنسر ہوتی تھیں۔ ایک خبر کی جگہ دوسری خبر شائع نہیں ہوسکتی تھی اور خالی جگہ کے ساتھ اخبار شائع ہوجاتے تھے۔ اس دور میں بھی کام کیا۔
پھر میگزن کی طرف بھی مائل ہوئے کیوں کہ جب شوبز کا دور تھااور فلمیں چلا کرتی تھیں تو فلمیں دیکھنے کا بھی بہت شوق تھا وہید مراد اور ندیم کی فلمیں سب سے زیادہ دیکھیں جس کے گانے آج تک آپکو یاد ہیں۔اسکے علاوہ ماہانامہ میگزین میں صبح روپ ،اجالا ،روزنامہ عوام اور اسی طرح کے میگزین اور اخبارات کے لئے فلمی خبریں لکھا کرتے تھے۔
آپ شوبیز کی خبریں اس لئے بھی لکھا کرتے کہ اس میں کوئی لڑائی جھگڑا اور کسی کے خلاف بات نہیں ہوتی تھیں۔ اس کے علاوہ آپ نے کئی مضامین بھی لکھے،آپ نے فیچر نگاری کرنی شروع کر دی جس میں آپکے استاد اس وقت کے اخبار جہاں کے سینئر ایڈیٹر غلام محی الدین تھے جنہوں نے آپکی ہمیشہ رہنمائی کی۔
آپکو شاعری کا بہت شوق تھا آپ نے کئی غزلیں بھی لکھیں جبکہ شاعری میں آپکے استاد الیاس شاہد تھے اور ان کے استاد جناب احسان دانش تھے جو کہ شاعر مزدو ر بھی رہے جنہیں گورنمنٹ آف پاکستان نے ستارہ امتیاز بھی دیاتو وہ میرے پر استاد رہے۔
محمد خان جونیجو کے دور حکومت میں ریڈیو سے بھی وابستگی رہی اور ادبی پروگرام مجلہ میں بھی اسکرپٹ لکھے اور شاعری کی اور ڈرامے بھی لکھے آپ کے پہلا ڈرامہ روشنی کے نام سے نشر ہوا ۔اس کے ساتھ ساتھ مختلف شہروں کی تاریخ اور شخصیات کے حوالے سے کرنٹ افیئر کے پروڈیوسر محمد عارف نے حوصلہ افزائی کی اور ان کی وجہ سے اندرون سندھ دیکھنے ،سمجھنے اور لکھنے کا موقع ملا جسے ضامعین نے بے حد سراہااس بات کا اندازہ ضامعین کے خطوط سے لگایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے پی ٹی وی،بی بی سی ، ڈسکوری اور نیشنل جیو گرافک جیسے بڑے ٹی وی چینلز کے لئے بھی ڈاکیومینڑی لکھیں ہیں اور ایک نئی ڈاکیومینٹری ڈسکوری کے لئے استاد جی کے نام سے لکھ رہے ہیں۔ جبکہ آپ کو زیادہ پزیرائی میڈوک کی وجہ سے ملی ۔ آپ کا کہنا ہے کہ وہ جہاں رہتے تو ان پر لازم ہے کہ آپ حیدرآباد کی تاریخ ،تہذیب،تمدن ،صخافت اور اد ب کے حوالے سے لکھیں،جبکہ آپ کا کہنا ہے کہ حیدرآباد کا نام جو شہرت کا حامل تھا اس کی شناخت دوبارہ بحال کی جائے۔۔۔

 
محمد مہد ، رول نمبر 122، بی ایس پارٹ 3 سیکنڈ سیمسٹر
This practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi

اگست  2015