Showing posts with label منیبہ حفیظ. Show all posts
Showing posts with label منیبہ حفیظ. Show all posts

Wednesday, September 9, 2015

بچوں میں کھیلونا بندوق کا رجحان


نیبہ حفیظ MC/2k13/76


بچوں میں کھیلونا بندوق کا رجحان 

ملک بھرمیں کھیلونا بندوق سے کھیلنے کا ایک رواج چل پڑھا ہے۔ جس سے بچوں میں پڑھائی سے کم لگاؤاور کھیل کود میںآپنا وقت صِرف کرنے کے لیے گھروں اور گلی محلوں میں آپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلونا بندوق سے کھیلتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔تحقیق کرتے ہوئے یہ بات سامنے آئی کے بچے انھیں کھیلونا بندوق سمجھنے کے بجائے ایسے اصلی بندوق سمجھ کر کھلتے ہیں۔بندوق کو لوڈکرکے اور پھر ایک دوسرے کو ٹارگیٹ پہ رکھ کے فائر کرناان کے پسندیدہ کھیل میں شامل ہے۔ بچوں میں کھیلونا بندوق کااستعمال انھیں گیم اور فلموں کے گن مین کو اپناہیروسمجھنا اور ویسے ہی
وہ خود وہی گن مین کے پاور استعمال کرناان کے ذہنوں پرمنفی اثرات پیدا ہو رہیں ہیں۔


آب مارکیٹ میں کھیلونا بندوق ایسے ڈائزائن اور شیپ میں دستیاب ہے کہ دوسرے کھیلونے ان کے سامنے بے معینے ہے۔ نئی اور جدید قسم کے کھیلونا بندوق سے دکانیں بھری ہے جو بچوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ حال ہی میں فیصل آبادکے مدینہ ٹاؤن کے علاقے میں۱۵سال کے ۲بچے فرحان اور فہد پارک کے قریب کھیلونا بندوق کے ساتھ سیلفی بنا رہیں تھیں کے پولیس نے فائرنگ کر دی جس میں فرحان موقعہ پر ہی دم توڑ گیاجبکہ فہد کو کافی چوٹیںآئی اس حادثہ کو مدِنظر رکھتے ہوئے جب حال ہی میں جیونیوز نے معاشرے میں پھیلے کھیلونا بندوق کے منفی اثرات کا مسئلہ اُٹھایا توسندھ اسمبلی میں قرارداد منصوبہ ہوئی اور عدالت نے کھیلونا بندوق کی تیاری ،درآمداور فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے حتمی قدم بھی اُ ٹھایا۔
بچے ایک دوسرے کو مارنے اور لڑنے کو اپنے جیت سمجھتے ہے اس لیے وہ ان چیزوں سے گہری وابستگی جوڑ لیتے ہیں۔کھیلونا بندوق کے استعمال سے بچوں پربہت بورے نفسیاتی اثرات پڑسکتے ہے ۔ بچوں میں غصہ اور انتشار پسندی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور پھر جھگرالوں پن کا شکار ہو جاتے ہیں پھر آستہ آستہ بدلالینے کی خوائش جنم لیتی ہے بچوں میں شوق سے دابنگ،ڈان،وانٹداورکِک مووی دیکھی جاتی ہے ان میں لڑائی اور خون خرابہ دیکھ کر وہ اُسی طرح مارتے ہیں اورویسیِ ہی زبان استعمال بھی کرتے ہیں۔گن نفرت اور جنگ کی نشانی ہے جو بچوں کو لڑنا سیکھاتی ہے اس لیے ہمیں بھڑتے ہوئے تشدد آمیز رویے کی حوصلہ افزائی کو روکنے کے لیے ایسے کھلونوں پر پابندی لگانی چاہیں تاکہ بچوں پر غلط اثرات نہ پڑھیں وہ بچپن ہی سے کھیلونا بندوق سے کھیلنے کے بجائی اپنی پڑھائی سے لگاؤ رکھیے۔

Tuesday, September 1, 2015

بچوں میں کھیلونا بندوق کا رجحان


منیبہ حفیظ MC/2k13/76

بچوں میں کھیلونا بندوق کا رجحان 
ملک بھرمیں کھیلونا بندوق سے کھیلنے کا ایک رواج چل پڑھا ہے جس سے بچوں میں پڑھائی سے کم لگاؤاور کھیل کود میںآپنا وقت صِرف کرنے کے لیے گھروں اور گلی محلوں میں آپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلونا بندوق سے کھیلتے ہوئے نظر آتے ہیں تحقیق کرتے ہوئے یہ بات سامنے آئی کے بچے انھیں کھیلونا بندوق سمجھنے کے بجائے ایسے اصلی بندوق سمجھ کر کھلتے ہیں بندوق کو لوڈکرکے اور پھر ایک دوسرے کو ٹارگیٹ پہ رکھ کے فائر کرناان کے پسندیدہ کھیل میں شامل ہے بچوں میں کھیلونا بندوق کااستعمال انھیں گیم اور فلموں کے گن مین کو اپناہیروسمجھنا اور ویسے ہی وہ خود وہی گن مین کے پاور استعمال کرناان کے ذہنوں پرمنفی اثرات پیدا ہو رہیں ہیں
آب مارکیٹ میں کھیلونا بندوق ایسے ڈائزائن اور شیپ میں دستیاب ہے کہ دوسرے کھیلونے ان کے سامنے بے معینے ہے نئی اور جدید قسم کے کھیلونا بندوق سے دکانیں بھری ہے جو بچوں کی توجہ کا مرکز ہے حال ہی میں فیصل آبادکے مدینہ ٹاؤن کے علاقے میں۱۵سال کے ۲بچے فرحان اور فہد پارک کے قریب کھیلونا بندوق کے ساتھ سیلفی بنا رہیں تھیں کے پولیس نے فائرنگ کر دی جس میں فرحان موقعہ پر ہی دم توڑ گیاجبکہ فہد کو کافی چوٹیںآئی اس حادثہ کو مدِنظر رکھتے ہوئے جب حال ہی میں جیونیوز نے معاشرے میں پھیلے کھیلونا بندوق کے منفی اثرات کا مسئلہ اُٹھایا توسندھ اسمبلی میں قرارداد منصوبہ ہوئی اور عدالت نے کھیلونا بندوق کی تیاری ،درآمداور فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے حتمی قدم بھی اُ ٹھایا۔ (جاری ہے)

Wednesday, August 19, 2015

موہاٹا پیلس

منیبہ حفیظ رول نمبر76/mc/2k13 موہاٹا پیلس
Unedited
ایک ایسا محل جو کراچی کے سا حلی علاقے کلفٹن میں واقع ہے ویسے تو کراچی میں بہت تاریخی جگہ ہے کچھ آزادی سے پہلے کی اور آزادی کے بعد کی، پر موہٹہ پیلس کراچی کی سب سے نایاب اور قیمتی عمارت میں سے ایک ہے موہٹہ پیلس کلفٹن کے دائیں طرف واقع ہے یہ عمارت ۷حاتم الوی روڈ پہ واقع ہے جو وہاں کے چلتے پھرتے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتی ہیعمارت کے۱ندر چاروں اطراف خوبصورت اور وسیع باغ ہیں، باغ کی ہر یالی آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتی ہے اور رنگ برنگے پھولوں کی کیاریوں کے پاس مور کا ٹہلنا اس عمارت کی خوبصورت میں اور اضافہ کرتا ہے پیلس کے اطراف میں شیر اور موہٹہ کا موجسمہ بیتے دینوں کی یاد دلاتا ہے۔
 


تقسیم ہند کے بعد 1947 میں موہاٹا بھارت چلے گئے یوں یہ عمارت حکومت پاکستان کی تحویل میں آگئی، ابتدا میں حکومت نے اس میں وزارت خارجہ کا دفتر قائم کیا بعد ازاں یہ عمارت محترمہ فاطمہ جناح کی رہائش گاہ کے طور پر دے دی گئی اور اس عمارت کا نام قصر فاطمہ رکھ دیا گیا پر ان کی وفات کے بعد حکومت سندھ نے اسے واپس اپنی تحویل میں لے لیا1925 میں حکومت سندھ کی درخواست پر بینظیر بھٹو حکومت نے سندھ کے شعبہ سخافت کو یہ پیلس خریدنے اور اس کو بحال کرکے میوزیم میں منتقل کرنے کیلئے 70 لاکھ روپے دئے ۔
موہاٹا پیلس نمائش میں پرانے قدیم ثقافت اور تاریخی کلچر اور اُس کے رہن سہن اور ازدواجی زندگی میں استعمال ہونے والی چیزوں اور ہاتھ سے بنے ملبوسات ،کڑھائیاں اور اشیاء کی نمائش، شاندار پینٹنگ اور نایا ب نقشے کی نمائش ہمیں قدیم ثقافت کی جھلک دکھلاتی ہے وہاں پر آئی ہوئی خاتون کا کہنا ہے ’’میرے خیال میں یہ ایک بہت نایا ب نمائش ہے میں سب سے یہ ہی کہوں گی کہ وہ آکر دیکھیں جو تصویروں میں یہ چیز یں نظر نہیں آتی ان کی باریکیاں دھاگو اور ٹانکوں سے بنائے گئے یہ خوش نماں پھولوں کو چھو کے محسوس کر سکتے ہیں میں سمجھتی ہوں یہ ہماری ثقافت کا اعلیٰ معیار ہے دھرتی سے محبت کا اظہار ثقافت کو اپنا کر کیا جائے جو ہم آہستہ آہستہ کھو رہے ہیں۔
موہاٹا پیلس میں لگنے والی نمائش A Flower of Ever Medown خواتین کی گہری دلچسپی کا مرکز رہی یہاں ملبوثات پہ ہاتھوں سے بنی جدید ایمبرائیڈری ، قالین، شال، کھیس، اجرک اور کھڈی پر بنے کپڑے رکھے گئے موہاٹا پیلس تعمیر کرانے کا مقصد کچھ اس طرح بتایا جاتا ہے کہ مارواڑ راجستان بھارت کے مشہور معروف تاجر شیو رتن چند رتن موہٹہ کی بیوی ایک محلق بیماری میں مبتلا ہوگئی تھی ڈاکٹروں نے یہ اعلاج تجویز کیا کہ اگر مریض کو مسلسل سمندر کی تازہ ہوا میں رکھا جائے تو بلکل صحتیاب ہوسکتی ہیں چونچہ شیو رتن موہٹہ نے بھارت کے پہلے معروف آرکیٹیکچر آغا احمد حسین کو ایک راجستانی طرز کا محل ڈیزائن مقرر کرنے کیلئے کہا آغا احمد حسین نے 1933 سے 1935 کے دوران جے پور فن تعمیر کے زیر اثر انگلو مغل انداز میں پیلے گزری اور گلابی جودھ پوری پتھروں کے امتراج کے ساتھ یہ محل تعمیر کیا۔
یہ بھی ایک دلچسپ اور محبت بھری کہانی ہے بلکل اُسی طرح جس طرح شا ہ جہاں نے اپنی محبوب ملکہ ممتاز کی یاد میں تاج محل تعمیر کروایا تھاشا ہ جہاں نے تاج محل تعمیر کروایا تھا پر ممتاز کے مرنے کے بعدمگر موہٹہ نے یہ عمارت بیوی کو مرنے سے بچانے کیلئے بنوائی تھی،،
موہٹہ پیلس کے اندر کا منظر باہر سے بلکل منفرد ہے پیلس میں داخل ہوتے ہی نمائش سے متعلق Paintings لگی ہوئی دکھائی دی پیلس کے اندر ایک ایسا ماحول بنا دیا گیاکہ جسے ہم قدیم تاریخی دور میں آگئے ہیں ہلکا سا میوزیک اور ٹائے اینڈ ڈائے کا سازو سامان بہت ہی عمدہ طریقے سے سجایا گیا پرانے وقتوں میں رنگوں سے کپڑوں پر بنائے گئے پھول بلاک کی صورت میں نہایت ہی خوبصورت لگ رہے ہیں ہر کمرے کو بہت ہی خوبصورت انداز میں سجایا گیا نمائش کے لحاظ سے جہاں پر اجرک پر جدیدایمبڑائیڈری بہت بھلی لگی وہاں پہ ا یک خاتون کا کہناہے کہ’’ ہر چیز ہماری کلچر سے نکلتی ہے اس لئے ہمارا ملک بہت امیر ہے رنگ میں ثقافت میں، جدیدایمبڑائیڈری میں، کپڑوں میں، ہماری ٹیکسٹائل اینڈسٹری نے بہت ترقی کی ہے یہ ایک نمائش پرانے زمانے کا اور modern interpretation کا ایک ملاپ ہے۔
نمائش کا اختتام ایک بہت ہی خوبصورت سے کمرے میں ہوا جہاں آنے والے اس گفٹ روم سے جاتے وقت کچھ نہ کچھ ضرور لیکر جاتے ہیں کمرہ بہت ہی خوبصورت سازو سامان سے آراستہ کیا گیا ہے جہاں ہاتھوں سے بنے ہوئے ٹرک ، پین ، ٹی شرٹ، بیگ، کیچن، کپ اور کارڈز بھی ہیں کارڈز پر موہاٹا پیلس کی تصویر بہت نمایاں اور خوبصورت اندازمیں جلواہ افروز ہے۔
پچھلی صدی میں تعمیرات کردہ یہ خوبصورت عمارت 18500 اسکوائر فٹ پر محیط ہے یہ دو منزل عمارت ہے اس کی دونوں منزلوں میں 16 کمرے ہیں عمارت کے سامنے کا روخ خوبصورت کھڑکیوں پتھر کی دیواروں ، منار اور محرابوں سے ترتیب دیا گیا ہے جن میں عمدہ اور نفیس ریلینگ ڈیزائن کی گئی ہیں گراؤنڈ فلور پر بڑے اور پرآسائش کمرے ہیں اوپر کی منزل پر مزید سہولیات دی گئی ہیں جہاں سے سمندر کا حسین منظر بھی نظر آتا ہے عمارت کے چاروں اطراف اور درمیان میں گنبد شدید دھوپ سے محفوظ رکھتا ہے اس کے علاوہ ایک خوبصورت ٹاور عمارت کے اطراف میں موجود ہے شام کے وقت اس عمارت کی چھت سے سمندر کا نظارہ بہت دلکش لگتا ہے سمندر کی تازہ ہوا پرسکون ماحول پیدا کرتی ہے۔
عمارت کی چھتوں کا کام بھی نہایت نفیس انداز میں کیا گیا ہے جس میں خوبصورت بیل بوٹوں کو منفرد انداز میں چھت پر بنایا گیا اور مختلف رنگوں سے نقوش بنائے گئے ہیںیہ عمارت پرانے دور کی فن تعمیر کی بھرپور عکاسی کرتی ہے یہاں پر غیر ملکی سیاح بھی آتے ہیں اور ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والوں کے لیے بھی کشش رکھتی ہے اسکول کے بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی یہاںآتی رہتی ہے

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi

Monday, August 17, 2015

آئینے کے سامنے (عطیہ داؤد) بک رویو۔

اس میں اس کتاب کے بارے میں کچھ لکھا ہوا نہیں۔ دیگر جو آپ بیتی لکھی گئی ہیں اس میں اسکا کیا مقام ہے۔ اسکو دوبارہ لکھنے اور ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے
منیبہ حفیظ MC/2k13/76
آئینے کے سامنے (عطیہ داؤد) بک رویو۔
پاکستان کے ضلع نوشہرو فیروز کے ایک پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ علاقے کے ایک چھوٹے گاؤں سے نکلنے والی لڑکی عطیہ داؤد نڈر، بے خوف اور بلند جذبے رکھنے والی اپنی آپ بیتی بھارت کے دورے کے دوران سنسکرتی کندرا میں 3 ماہ رہنے کا موقع نہ ملتا تو شاید وہ آپ بیتی نہ لکھ پاتی۔
انھوں نے اپنی آپ بیتی میں دیہی زندگی کے مسائل کو بہت ہی واضع طریقہ اور صاف لفظوں میں بیان کیا ہے کہ کس طرح خواتین ایک غیر ترقی یافتہ اور ان پڑھ ماحول میں قدم قدم پر مشکلات ،تلخیوں اورصنفی عدم مساوات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کی کتاب دیہی سندھ کے دیہاتی گاؤں کے لوگوں کے لیے ایک آواز بن کے ابھری ہے۔
عطیہ داؤد نے جس طرح خاندانی پس منظر، دیہی زندگی، باپ کی موت ،معاشی جدوجہد ، دوستوں کا بچھڑنا، ادبی سرگرمیاں ، تحریکی ساتھیوں کے ساتھ گزرا ہوا وقت اورکامیابی کو بہت تفصیل اور سادہ طریقے سے بیان کیا ہے وہ قابل تعریف ہے شاید ہمیں پھر ایسی آپ بیتی پڑھنے کو نا ملے جس میں دیہی اورشہری زندگی، نفرتیں یا اختلافات، اعتماد، پیار ، جیون ساتھی، جدوجہد اور روشن مستقبل اور ایک مکمل زندگی سب شامل ہو۔
عطیہ کے والد کا خاندا ن ’’ملاّ‘‘ خاندان کے طور پر جانا جاتا تھا خاندان کا ابائی پیشہ مذہب تھا محمد داؤد دل سے پکا ملاّ نہیں تھے خاندانی پیشے سے بغاوت کی اور گھر چھوڑ کر بھاگ گئے قریب کے گاؤں کسی کے زیرِ نظر تعلیم حاصل کی اور واپس گاؤں آکر پرائمری ا سکول کی بنیاد رکھی اور اپنی بیوی اور بچوں کو بھی تعلیم دلوائی ریٹائرمنٹ کے بعد خاندانی پیشہ سمبھال لیا۔
عطیہ لاڑک آٹھو یں کلاس میں تھی جب پہلی بار سندھی اخبار’’ ہلال پاکستان‘‘ میں ایک نظم شائع کی جس پر چھوٹے بھائی اور اسکی بیوی سے اختلافات کی وجہ سے انھوں نے بڑے بھائی کو لندن میں شکایتی خط لکھا اور اخبار میں نا م اشاعت ہونے کی صورت پر بڑے بھائی نے کہا کہ تم خاندان کا نام اچھال رہی ہو کیا اسی لئے تم حیدرآباد آئی تھیں تب عطیہ نے عطیہ لاڑک سے عطیہ داؤد بننے کا فیصلہ کیاکہ آپ خاندان کا تو نام چھین سکتے ہے پر باپ کا نام نہیں ا نھیں بھائیوں سے سوچ اور شعور ملا اورآج دکھ مایوسی بھی ملی ،زندگی میں اس کو خود سے کچھ کرنا، اس کے خواب امیدیں اور کچھ کردکھانے کا عظم ایک دیہی سے شہری ماحول میں آنا ، منفرد سفر، ادبی سرگرمیاں شہرت کی بلندیوں کے ساتھ مسائل اور رکاوٹوں کو بہت خو ب انداز میں نبھایا ہے کچھ بننے کی لگن ایک چھوٹے سے گاؤں سے نکل کر اپنا آپ منوانا اور ہمت سے کام لینا شاید ہر کسی کے بس کی بات نہیں کہ وہ برے حالات کو اچھے حالات میں بدل سکے۔

مصنفہ کے بارے
عطیہ داؤد 1958 میں سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئی انہوں نے ابتدائی تعلیم حیدرآباد میں حاصل کی اور اس کے بعد سندھ یونیورسٹی جامشورو میں سندھی ادب میں M.A کیاایک نامور شاعر ہ، مصنف اور پاکستان کی طرف سے خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن ایک ناریواری اور نجی ٹی وی چینل میں بحیثیت اسکرپٹ ایڈیٹر اور ڈراما نویس خدامات سرانجام دے رہی ہیں ان کے مضامین مختلف رسالے میں شائع ہوتے رہتے ہے ان تحریروں کے ذریعے روایات کے نام پر پاکستانی معاشرے میں عورتوں پر ظلم کو بیان کیا گیا ہے۔
ممبئی میں اکھل بھرت سندھی اور سا ھیت سبھا سے سندھی ادیب ایوارڈ کے ساتھ نوازا گیااسکی نظموں میں ایک مظبوط کردار کی عورت نظر آتی ہے جیسے وہ خود ہے اپنی شاعری میں وہ عورتوں کے مساوی حقوق کے لئے لڑنے اور انہیں با اختیار بنانے ،صنفی مسائل، امن و انصاف کے لئے آواز بلند کرتی نظر آتی ہیں ۔
عطیہ داؤد کو پاکستان میں اور بیرونی ملک میں بھی سہرایا گیا ہے ان کی نظمیں جرمن ، انگریزی اور اردو ترجموں میں شائع ہوئی ہیں ان کی آب تک چھ کتابیں شائع ہوئی ہیں جن میں شرافت جی پل صرات، سندھی عورتوں کی کہانی ہیں آج سندھ میں سب سے زیادہ سندھی ناریواری لکھنے والوں میں سے ایک کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔


Muneeba Hafeez
Second Semester August 2015 
This practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi