Showing posts with label کائنات. Show all posts
Showing posts with label کائنات. Show all posts

Tuesday, September 15, 2015

بولیو ارڈ مال Referred back

Referred back,
Feature is always reporting based. Means ur personal observation, talk with related people and their quotes, secondary data, how many other mall are already here, and how this one will be different.  etc. 
total area, its shapes, type of construction, look also necessary.
Experts opinion, what impact it will make on Hyd people. 
 The basic purpose of feature is to entertainment, means written in interesting manner, This is written like article. 
 Foto will also be required. 
 Now u are editor, u should observe para.
  
فیچر:- کائنا ت مبشر MC-2K13
رول نمبر 53
بولیو ارڈ مال حیدرآباد
جیسے جیسے ہمارا ملک پاکستان ترقی کو سطح پر چڑھتا جارہا ہے ویسے ویسے پاکستان کاپرشہر بھی ترقی کرتاجارہا ہے۔حیدرآباد میں بمقا بل کراچی کے اب بہت سے سپر مارکیٹ اور ما ل بنتے جارہے ہیں ۔ بہت سے شاپنگ مال تو حید رآباد کے مشہور ترین مال بن گئے ہیں۔ کچھ ہی سال پہلے حیدرآباد کے علاقے ذیلَ پاک مین حیدرآباد کی تا ریخ کا سب سے بڑا 

مال بنے کا آغاز ہوا ہے جس کا نام یو لیوارڈ مال ہے ۔ یہ مال حیدرآبادمیں واقع تمام مال میں سے سب سے بڑا مال ہوگا۔ جس میں واقع دنیا بھرکے برانڈس ہونگے ۔ اس مال میں کچھ ایسی بت نئی چیزوں کا انعقا د کیاگیا ہے جو حیدرآباد کی تاریخ میں نہ کبھی دیکھی گئی نہ کبھی سنی گئی۔اس مال مین نیشیل اور انڑنیشیل تمام برانڈس رکھے جائیں گے۔ بولیوارڈ مال مین حیدرآباد کے علاقے ذیلَ پاک مین بنایا جارہا ہے ۔ ذیلَ پاک حیدرآباد کے ان علاقوں میں شامل ہے۔ جہاں ابھی تک آبادی نہیں ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہاں یہ واضح ہوتاہے کہ حیدرآباد کا علاقہ ذیلَ پاک آنے والے وقتوں میں ترقی کا حامل ہوگا۔حیدرآباد کی تاریخ میں شاپنگ مال بنانے کا افتتاح 2003 میں ہوا ۔اور پھر ہلکے ہلکے حیدرآباد میں ایک سے دواوردو سے چار وقت کے ساتھ ساتھ شاپنگ مال بنتے چلے گئے۔مگرابھی تک حیدرآباد کی تاریخ میں کوئی بھی ایساشاپنگ مال نہیں بنایا گیا جو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے شاپنگ مال کا مقابلہ کرسکے۔ اس بعد فتع گروپ آف کنسرکشن نے بولیوارڈ مال بنانے کا آغاز کیا ۔ بالیوارڈ مال حیدرآبادکی تاریخ کاسب سے بڑا پر اجیکٹ ہے اس مال کے اووترکا نام سیف ہمایوں ہیں جوکہ حیدرآباد کے جانے مانے بلڈرز میں سے ایک ہیں ۔بولیوارڈ مال اتنا بڑا ہیاس کی تخلیق کیلئے کا فی ساری کنسڑکشن کمپنی بھی ہے۔بولیواردمال کی اہمیت اسکی تخلیق کے ساتھ ساتھ اتنی بڑھتی جارہی ہے کہ اس میں بنائی گئی دوکان کی قیمت کروڑو نمین ہے اور یہ پورا پروجیکٹ اربوں روپے کی قیمت کا حامل ہے ۔ اس مال کو سنیڑل ایئرکنڈیشنڈبنایا جارہاہیاوراس میں 3Dسیمنابنائے کا آغاز کیاگیا ہے ۔ جو کہ حیدرآباد کی تاریخ کا پہلاسیمناہوگا۔ اور اس مال میں بہت سی نت نئی چیزویں بنائی جارہی ہیں ۔ پر ابھی تک اس مال کا افتتاح نئی کیاگیا ہے۔ جب ہم نے اس مال کے اوونرسے بات جیت کی تو ہمیں پتا چلا ہے اس مال کی تخلیق کا کام ذورو شور سے جارہی ہے۔ اوونرکی پوری کو شش ہے کہ اس مال کا افتتاح جلدازجلدکیا جائے تاکہ حیدرآباد مین رہنے والے لوگ اس مال کی خوبصورتی لطف اندوزہوسکیں۔اس مال کی عمارت انتہائی خوبصورت بنائی جارہی ہے مال کے اندراور باہر بہت ہی خوبصورت فرنیچرکے ساتھ دوکا ن بنایءں جارہی ہے مال کے باہر بہت ہی اچھی پارکنگ کا انتظام کیا گیا ہے اور اس مال میں بہت ہی خوبصورت ہوٹل اور ریسٹورنٹ بھی بنائے جارہے ہیں۔ جس طرح ہمارا ملک ترقی کرتاجارہاہے ویسے ہی ہماری قوم میں بھی شعور پیدا ہوتا جارہاہے ان میں سے شعور کا نیتجہ بولیوارڈمال ہے۔

سندھ مین رہ کر انگریزی بولنے کا رجحان Referred back


Referred back
U should also write what are losses of not learning Sindhi and also benefit of learning Sindhi. Make it in points: Loss No:1... 2:... ec. First para about imporatnce of english be made small. 
 Please send file with proper file name, Avoid sending two pieces in one file. if two pieces are in same file it should be mentioned in the email msg.

آرٹیکل:- کائنا ت مبشر MC-2K13

رول نمبر 53
سندھ مین رہ کر انگریزی بولنے کا رجحان
انگریزی (English)انگلستان سمیت دنیا بھر میں بولی جانے والی ایک وسیع زبان ہے جومتعدد ممالک میں بنیادی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے ۔دنیاکے کئی ممالک میں سب سے ذیادہ بڑھتی اور سمجھی جانے والی زبان ہے جبکہ یہ دنیا بھر میں رابطہ کی زبان سمجھی جاتی ہے۔ انگریزی زبان کو اکثرلوگ تا نو ی یارابطے کی زبان کے طورپر بولتے ہیں جس کی بدولت دنیا بھر میں انگریزی بولنے والے افراد کی تعداد ایک ارب سے زیارہ ہوگئی ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً35کروڑ40لاکھ افراد کی مادری زبان انگریزی ہے جبکہ نانوی زبان کی حیثیت سے انگریزی بولنے والوں کی تعداد 15کروڑسے ڈیڑھ ارب کے درمیان ہے۔انگریزی مواصلات ،تعلیم ،کاروبار،ہوابازی، تقریح،سفارت کاری اور انڑنیٹ میں سب سے برتربین الااقوامین زبان ہے۔ انگریزی بنیادی طورپرمغربی حیرمینک زبان ہے جوقدیم انگلش سے بنی ہے ۔ انگریزی بولنے کارجحان وقت کے ساتھ ساتھ انتابڑھ گیاہے کہ لوگ اب اپنی قومی زبان کوبھول کر انگریزی کو قائم کر بیٹھے ہیں۔ 

پاکستان کے چار صوبے ہیں۔ سندھ ، پنجاب،خیبرپختواہ، بلوجستان ہرصوبے میں سندھی کے بجائے انگریزی بولنے کو ذیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ہالانکہ سندھ ہماری ثقافت ہے۔ہمیں سندھ میں رہ کر اپنی صوبہ کی زبان کی پیووی کرنی چاہیے مگرہم سندھی نہیں بولتے بلکہ انگریزی زبان کو اہمیت دیتے ہیں۔ان سب کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں بچوں کو جس طرح اردو کی "خوشخطی" سکھرائی جاتی ہے اس طرح سندھی زبان کی "اکر"نہیں سکھائی جاتی کچھ تعلیمی اداروں میں دورہ کرنے کے بعد ہمیں یہ معلوم ہوا کہ کچھ اسکولوں میں سندھی ٹیچراسیے منعقد کیئے گئے ہیں جن کو خود سندھی بولنیاور سمجھنی نہیں آتی وہ بچوں کی کتابوں پر سندھی کے اردومعٰنی ترجمعہ کی طرح لکھ دیتے ہیں ۔ان وجوہات کی بناپر بچوں کو سندھی بولنی اور سمجھنی نہیں آتی بجائے سندھی کو اہمیت دینے کہ تعلیمی اداروں میں انگریزی بولی جاتی ہے اور سکھائی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ صوبہ سندھ میں رہنے والے لوگوں کو سندھی بولنی اور سمجھنی نہیں آتی جو زبان ہمیں ہمارے صوبے کی پہچان کرواتیہے وہی زبان ہم بولنے اور سیکھنے سے پرہیز کرتے ہیں اسی وجہ سے ہم اپنی ثقافت سے دورہوتے جارہے ہیں۔سندھی زبان کو سیکھنے کی تلقین بھی کرنے ہیں یہ بھی ایک طرح کا تفاد ہے جس میں کچھ ہماری اپنی غلطیاں ہیں، کچھ معاشرے کی غلطیاں ہیں اور کچھ تعلیمی اداروں کی غلطیاں ہیں اگر ہم اپنی ثقافت ک بھرپور طریقے سے اپنا نے کا ارادہ کر لیں گیں تو کبھی بھی صوبہ سندھ میں رہنے والے لوگ اپنی صوبائی زبان کو بولنا نہیں بھولیں گے۔

Tuesday, September 1, 2015

پروفائل : کائنات مبشر referred back

 let me know when u are  re-submitting itپروفائل : کائنات مبشر 
پروفائیل کا انٹرو دلچسپ ہونا چاہئے۔ یہ کوئی سوانح عمری یا سی وی نہیں۔ کیس خصوصیات وغیرہ سے آغاز  کرو۔ اس طرح کی کئی سیمپل فیس گروپ پہ رکھے ہیں ۔ یہ نہیں چلے گا۔ اسے ٹھیک کر کے دیں کہیں پیرا گراف بھی کریں، ان کا فوٹو بھی چاہئے۔
رول نمبر/53)
13 (MC/2K


سید ذوالفقار علی حیسنی 
سید ذوالفقار علی حسینی 4 دسمبر 1973 کو کراچی میں پیدا ہوئے آپ کے6 بھائی اور 6 بہنیں تھیں۔ آپ بہنوں میں سب سے چھوٹے تھے اور بھائیوں میں چوتھے نمبر پر ہیں ۔ آپ کے بھائیوں کے نام گلزار علی خان، اسلام احمد، کمال علی،کامران علی ، عدنان علی ہیں۔ آپ کے والد کا نام (مرحوم یاور علی خان )ہےآپ کے والد بہت مشہور قوال تھے ۔ آپ کے والد علی گڑھ کے تھے اور والدہ لکھنوء کی تھی ذوالفقار علی حسینی نے نعت خوانی کا شوق اپنے والد کی ثہبت میں سیکھا ذوالفقار علی حسینی نے اپنی انٹر میڈیٹ گورنمنٹ کالج کراچی سے کی اس کے بعد (بی کام )کی تیاری حیدرآباد سے کی اور ابھی بھی آپکی تعلیم جاری ہے ۔ آپ کو نعت خوانی کا شوق بچپن سے تھا کیونکہ آپکے والد مشہور قوال تھے تو انکی ثہبت کا اثر آپکی طبیعت پر بھی ہوا۔ آپ نے ایک طرف اپنی تعلیم جاری رکھی اور دوسری طرف اپنا نعت خوانی کا شوق بھی جاری رکھا چونکہ آپ نے بہت چوٹی عمر سے نعت خوانی شروع کردی تھی تو آپکی آواز بہت ہی میٹھی ہوگئی تھی جس طرح آپ نے اپنی نعت خوانی میں محنت کی تو آپکی محنت رنگ بھی لائی۔ آپ نے مختلف مجالس میں نعت خوانی میں حصہ لینا شروع کایا اور اسی طرح ترقی کرتے کرتے آج آپ QTV پر بھی اپنی نشریات پیش کرتے نظر آتے ہیں ۔ ذوالفقار علی حسینی گزشتہ سال شانِ رمضان کی رمضان ٹرانسمیشن میں وسیم بدامی اور جنید جمشید کے ساتھ پروگرام کا حصہ بنے اور اب بھی اکثر جیو نیوز پر عامر لیا قت کے پروگرام کا حصہ بنے نظر آتے ہیں ۔ آپکی آواز میں میٹھاس اس قدر ہے کہ جب کوئی آپکی نعتیں سنتا ہے تو وہ بالکل کھو جاتا ہے اور کوئی ایسا شخص نہیں ہوگا ۔ جو آپکی نعتیں سنے اور اسکی آنکھوں سے ندامت کے آنسو نہ نکلے ہوں ہر سال آپکی نعتوں کے نئے ایلبم لاؤنچ ہوتے ہیں۔ آپ بیرون ملک بھی اپنی ریکارڈنگ اور براہ راست پروگرام کے لئے آتے جاتے رہتے ہیں آپ کی سب سے مشہور نعت (درِنبی پر کھڑا رہوں گا کھڑے ہی رہنے سے کام ہوگا ) ہے ۔ اتنی شہرت اور عزت کے باوجود بھی آپکا لہجہ انتہائی نرم اور میٹھا ہے ۔ آپ بہت ہی دھیمے لہجے کے مالک ہیں اور آپ غریبوں اور مستحکوں کے بھی بہت کام آتے ہیں آپکی شادی 2005 میں ہوئی مگر اللہ نے آپکو کسی اولاد سے نہیں نوازا ۔ آپکی رہائش گاہ کراچی یونیورسٹی روڈ پر ہے۔ آپکی فیملی میں سب لوگ بہت تفریخ پسند ہیں۔ مگر آپ بہت ہی سادگی سے اپنی زندگی گزاتے ہیں۔ آپ پانچوں وقت کے نامزی ہیں اور اللہ سے ہر وقت اپنے ملک و قوم کی سلامتی کے لئے دعا کرتے ہیں ۔

Thursday, August 13, 2015

ڈاکٹر محبوب علی کا انٹرویو - کائنات مبشر- Facts are wrong

کائنات مبشر سیکنڈ سمیسٹر بی ایس پارت تھری رول نمبر اور بیچ MC-2k13
Facts are wrong and misleading- Not worth publishing.
Unedited   
ڈاکٹر محبوب علی خان انٹرویو -
سوال نمبر نہیں لکھو۔ صرف سوال بہتر ہے کہ صرف س لکھو۔
 is he MBBS doctor? 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال نمبر 1 آپ کس گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں؟
India mian originally kis elaqy k hn? Khud ne ektna parrha? Job etc kia krty rahy?
جواب جی ہماری زات یوسف زئی پٹھان ہے ہم 4 بھائی اور 5بہنیں تھے ۔ جن میں سے ایک بہن کا انقال ہوگیا ۔ میرے والد شروع سے ہی تعلیم کو لیکر بہت سخت تھے۔ جب پاکستان بنا تھا تب بس میرے ایک بھائی معسوق علی خان آئے تھے جب میں بیمار ہوا تھا اور پاکستان جب بنا تھا میں تب ہی پاکستان آگیا تھا۔
یہ حصہ تعارف میں لکھو، سوال جواب نہیں۔ یہ بھی بتاؤ کیا کام کرتے تھے۔ اس وقت ان کی عمر کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال نمبر 2 آپ کو سیاست میں آنے کا شوق کیسے ہوا؟
جواب جی ہاں مجھے شروع سے ہی سیاست میں آنے کا شوق تھا۔ 
(یہ جواب نامکمل ہے۔ کب سیاست شروع کیَ سال وغیرہ، اس وقت ان کی عمر کیا تھا؟ سیاسی منظر نامہ کس طرح کا تھا؟
 )
سوال نمبر 3 آپ مجھے حیدرآباد کی سیاست کی داستان بتائیے۔
Pakistan was created in 1947, and tahreek istqalal  was formed in 1958 or so. 
جواب پاکستان بننے کے بعد (تحریک استقلال) کے نام سے ایک پارٹی بنی تھی۔ جس کے سربراء ریٹائرڈ اصغر خان تھے، عبدالرحمن خان سیکریٹری تھے ، ابراہیم اججینی ( ابراہیم اجنبی نام ہے میں ان کو جانتا ہوں۔ نام درست کرو سب جگہ پر ) صدر تھے، رضی حیدر رضوی جنرل سیکریٹری تھے۔ 
 ( جب سیاست شروع کی تو حیدرآباد کی سیاست کی کیا صورتحال تھی۔ کون کون لوگ تھے۔ ، کونسی پارٹیاں سرگرم تھیں، کچھھ واقعات۔ لوگوں کے نام وغیرہ اس سوال کو تبدیل کرو )

سوال نمبر 4 اس کس حیثیت سے تھے اس پارٹی میں؟ یہ الگ سوال نہیں اسکا جواب کسی اور سوال کے جواب کا حصہ بناؤ۔
جواب میں ایک ورکر کی حیثیت سے تھا پارٹی میں۔

------------------------------------- سوال نمبر 5 اس کے بعد کیا ہوا؟
جواب (کب؟) جب ذوالفقار علی بھٹو الیکشن میں کامیاب ہوئے تو ان کے بھائی ممتاز بھٹو ان پور پارٹی میں آئے ۔  Mumtaz Bhutto joined PPP in 1970. andاس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے خلاف تحریک چلی یہ اس وقت کی سب سے خطرناک تحریک تھی۔ پھر اس کے بعد تمام پارٹیوں نے مل کر 9 ستارے کی تحریک بنائی تھی۔ شجس کے صدر اصغر خان تھے۔ اور اس کا نائب صدر خود میں تھا۔ جب جنرل نیازی صاحب کو ذوالفقار علی بھٹو چھڑا کر لائے حیدرآباد کے دورے کے لئے تو اس وقت ابراہیم اججینی صاحب خاصہ بیمار تھے اس وقت میں نیازی صاحب کے ساتھ تھا۔
 How from whom Bhutto got freed Niazi? Niazi was not memebr of Tahreek Isteqalal.

( واضح کرو۔ نو ستاروں کی تحریک کیا تھا؟ ملکی یا سندھ کی سطح پر کون کون تھا س تحریک میں، حیدرآباد میں کون کون تھا؟ حیدرآباد میں اس تحریک کے واقعات کیا ہوئے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سوال فضول ہے۔ ضرورت نہیں۔ کیونکہ اس میں کوئی انفرمیشن نہیں۔
سوال نمبر 6 جنرل نیازی صاحب ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف کیوں ہوئے تھے؟
جواب جنرل نیازی صاحب ریٹائرڈ ہو کر سیاست میں آئے تھے سیاست میں آنے کے بعد ہی ان کے خلاف ہوئے تھے باقی کچھ یاد نہیں مجھے۔


There were some other reasons for Niazi's joining of politics. Niazi joined JUP of Moulana Noorani, not asghar khan's party.

جواب پہلے جنرل صاحب کو پھر مجھے قید ہوئی۔
Niazi was among the top leadership of the movement while this gentleman was local leader of Hyd. سوال نمبر10 نیازی صاحب آپ کے ساتھ جیل میں نہیں تھے۔
جواب نہیں وہ میرے ساتھ نہیں تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال نمبر 7 گرفتاری کیسے ہوئی؟ اور کون کون ان کے ساتھ گرفتار ہوا؟ کن الزامات پر گرفتاری ہوئی؟ عدالت سے سزا ہوئی یا نہیںَ کتنا عرصہ جیل میں رہے؟ آپ کو قید کب ہوئی؟
  سوال نمبر 8 آپ کس جیل میں تھے اور کتنے عرصے تھے؟
جواب میں نارا جیل بی کلاس حیدرآباد میں تھا تقریبا ایک مہینے کے لئے۔

سوال نمبر 9 آپ کے ساتھ جیل میں کون کون تھا؟
جواب میرے ساتھ سب 9ستارے تحریک کے ممبران تھے۔ ان کے نام نواب یامین صاحب، محمد عثمان صاحب(اردو تحریک کے لیڈر تھے) ، خالق جان جی (حیدرآباد کے وکیل )تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سوال کاٹ دو
سوا ل نمبر 11 نیازی صاحب کس جیل میں تھے۔
جواب مجھے پتا نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ا

سوال نمبر 12 آپ کو جیل سے رہائی کب ملی؟
جواب جب ذوالفقار بھٹو صاحب سعودی عرب جارہے تھے۔ تب وہ ہمیں رہا کروا کر گئے تھے
۔
سوال : آپ کو پتہ ہے یا کھی احساس ہوا کہ اس تحریک کے پیچھے امریکہ تھا جو بھٹو کو ہٹانا چاہتا تھا۔ اس تحریک کے نیتجے میں جنرل ضیا آیا اور اد سال تک مارشل لا لگا رہا۔ امریکہ نے ضیا کے ذریعے پاکستان کو افغنستان کی جنگ میں ملوث کیا۔ اس کے نتیجے میں کلاشنکوف، ہیروئن اور دیگر بائیاں عام ہوئیَ

سوال نمبر 13 آپ نے اس تحریک سے استعفی کب دیا؟
جواب جب جنرل ضیاء الحق کی حکومت آئی تب 9 ستارے کی تحریک بھی ٹوٹ گئی تھی اور اس دوران مجھے دل کا دورہ بھی پڑا تھا تب میں نے استعفی دے دیا۔
He resigned from party? or from movement? سوال نمبر 14 اس کے بعد آپ کس تحریک میں آئے؟
جواب اب میں مسلم لیگ میں ہوں اور بس پاکستان کی سلامتی کے لئے دعا کرتا ہوں۔
کون سی مسلم لیگ؟ ملم لیگیں تو بہت ہی؟