Showing posts with label اسد علی. Show all posts
Showing posts with label اسد علی. Show all posts

Saturday, December 5, 2015

Recycling of waste in Hyderabad

Referred back. Ur composing is not correct. 
انویسٹیگیٹو رپورٹنگ

 کچرے سے کارآمد چیزیں بنانا یا ری سائیکلنگ 

گروپ ممبر کے نام 
٭ بلال حسن  28 
٭ اسد علی17  
٭ سلمان نظر 99 
٭ محمد حماد خان 68

 بی ایس سال سوئم، سیکنڈ سیمسٹر
میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز سندھ یونیورسٹی
تحقیقاتی رپورٹ
ناکارہ اور استعمال شدہ اشیاءکو کس طرح قابل استعمال بنایا جاتا ہے
اگر بے کار چےزوں کو کارآمد بنانے کی بات کی جائے تو سب سے پہلا سوال ےہ پےدا ہوتا ہے کہ ےہ بےکار چےزےں کون سی ہےں اور کہاں کہاں سے جمع کی جاتی ہےں۔ اس مےں پلاسٹک، لوہا، کاغذ، گتا اور اس اگر اور واضح کرےں تو ہمارے روزانہ کے معاملات مےں چےزےں استعمال استعمال ہوتی ہےں انکا کچڑا ےا ضائع بچتا ہے وہ اےک عمل کے تحت جمع کر کے کار آمد بناےا جاتا ہے اگر بے کار اور ضاےع چےزوں کو جمع کرنے پر نظر ڈالی جائے تو اس مےں گھر، بازار، کارخانے ، سڑکوں ، بازار مندرجہ ذےل ہےں۔ 
ےہاں سوال ےہ پےدا ہوتا ہے کہ تمام ضےاع چےزوں کا اصل ذرےعہ کےا ہے اگر ہم روز مرہ کی زندگی پر نظر ڈالےں تو بہت سی اےسی چےزےں ہےں جو ہم استعمال کر کے پھےنک دےتے ہےں جو اےک عمل کے تحت جمع ہو کر کباڑی تک پہنچتی ہےں جےسے اگر ذرےعے کی بات کی جائے تو 60% ضےاع چےزےں ہماری روز مرہ کی استعمال شدہ چےزےں سے آتی ہےں ۔ جےسے پلاسٹک کی بوتل ، ڈھکن، چپس اور کنفےکشنری بےگ ، شاپنگ بےگ، جوس کے ڈبے ، بسکٹ کے پےکٹ، کارٹنز ، اخبار ، کاپےز ، کاغذ ، اسٹےشنری کا سامان، وعےرہ شامل ہےں۔ اور باقی 40% کارخانے ہسپتال اور دےگر ذرائعے مےں استعمال ہونے والی چےزوں سے آتی ہے۔ 
بےن الاقوامی سطح پر ضےاع چےزوں کو جمع کرنے پر نظر ڈالےں تو وہاں اےک منظم اور بہترےن اقدام نظر آتا ہے وہاں کی سوسائےٹی مےں سڑکوں اور بازاروں مےں کچرے کے ڈبے موجود ہوتے ہےں اور تمام ضےاع چےزےں ان ڈبو مےں جمع ہوتے ہےں پھر اےک کچرے کی گاڑی اسکو ہر ہفتے جمع کر کے رےسائےکلنگ کے لئے لےجاتے ہےں اور اس کچرے مےں سے پلاسٹک لوہا اور کاغذ اور دےگر کار آمد چےزوں کو جمع کر کے اسکرےپ ڈےلر کو دی جاتی ہے پھر وہ اےک عمل کے تحت اس کو رےسائےکل کرتے ہےں۔ جب کہ پاکستان پر نظر ڈالی جائے تو ےہاں اس چےز کا الگ نظام نظر آتا ہے ےا ہم اگر پورے اےشےاءکی بات کرےں تو رےسائےکلنگ کا نظام باقی ملکوں سے کافی مختلف ہے۔ 
اب گھروں سے ضےاع چےزےں جمع کرنے کی بات کی جائے تو عموماً گھرےلو صارفےن اپنے گھرون کی بےکار اور ضےاع چےزےں سستے دام مےں کباڑی کو بےچ دےتے ہےں اور بازار اور سڑکوں کی بات کی جائے تو سڑک پر چلتے پھرتے کچڑا بےننے والے جنہےں ہم عموماً کوہلی بھی کہتے ہےں ےہ بازاروں اور سڑکوں سے گتا، پلاسٹک، لوہاوغےرہ جمع کر کے کباڑی کو بےچ دےتے ہےں اب کارخانوں کا رخ کےا جائے تو عموماً کباڑےوں کا تعلق ان کارخانوں سے ہوتا ہے کے جتنا کارخانوں کا ضےاع اور بےکار سامان بچتا ہے وہ کارخانے والے کباڑی کو سستے دام مےں بےچ دےتے ہےں۔اب ہسپتالوں کا رخ کےا جائے تو ےہاں کی بچی ہوئی ضےاع چےزےں جو کہ عموماً فضلا کے نام سے جانی جاتی ہےں جےسے کہ استعمال شدہ سرنج کی بوتل ، ڈرپ کی بوتل ، دوائےوں کی بوتل وغےرہ شامل ہے۔ مگر ےہ ضےاع سامان عموماً کباڑی نہےں لےتے کےونکہ اس سے بےماری اور جراثےم پھےلنے کا خدشہ لےتا ہے ۔ ےہ ضےاع سامان چند کباڑی لےتے ہےں جن کا فارمےسی کمپنےوں سے اشتراک ہوتا ہے جو کہ ےہ ہسپتالوں سے لےکر ان کمپنےوں کو بےچ دےتے ہےں ۔ اب ضےاع چےزوں کی شرح پر نظر ڈالی جائے تو گھروں سے 20% ، سڑکوں اور بازاروں سے 15%، ہسپتالوں سے 20%، اور کارخانوں سے 45% فےصد جمع کےا جاتا ہے۔                

      
گھر 
بازار /سڑکےں 
ہسپتال 
کارخانے 
دےگر 
20%
15%
20%
40%
5%

اب دوسری طرف دےکھا جائے تو ےہ ضےاع چےزےں کاروبار کرنے کا بھی بہترےن ذرےعہ ہے ۔ معاشرے کی نظر مےں ےہ اےک گندگی اور بےکار چےز ہے مگر ےہی رےسائےکلنگ لاکھوں لوگوں کا ذرےعہ معاش فراہم کرتی ہے۔ ان ضےاع چےزوں کی خرےدو فروخت کی قےمتوں پر نظر ڈالی جائے تو ہر چےز کے مختلف دام نظر آتے ہےں۔ پلاسٹک کی بات کی جائے تو پلاسٹک مےں تےن سے ذائد اقسام موجود ہےں جس مےں رنگےن پلاسٹک سفےد پلاسٹک ، سےاہ پلاسٹک شامل ہے ۔ اور ان کے دام بھی مختلف ہےں کباڑی عموماً اسکی خرےد 20 روپے فی کلو سے لےکر 35روپے فی کلو تک کرتے ہےں۔ اور کباڑی اس کو آگے 30 سے لےکر 50 روپے فی کلو تک فروخت کرتے ہےں ۔ اسی طرح لوہے کی بات کی جائے تو موجودہ قےمت 20 روپے سے لےکر 35 روپے کلو تک ہے ۔ اور کباڑی ان کو 40 روپے فی کلو سے لےکر 60روپے فی کلو تک فروخت کرتے ہےں اور اب کاغذ ےا ردی پر نظرڈالی جائے تو اس کی موجودہ قےمت 10 سے 12روپے فی کلو ہے اور کباڑی اس کو15 سے 20 روپے فی کلو فروخت کرتے ہےں۔ اور ےہ سب ضےاع چےزےں جمع کر کے کباڑی بڑے اسکرےپ ڈےلر تک پہنچا دےتے ہےں جہاں سے پھر رےسائےکلنگ کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے ۔                      
© © © © ©کس طرح استعمال شدہ چیزوں کو دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جاتا ہے اور جس عمل کے تحت انہیں بنایا جاتا ہے اسے ہم ری سائیکلنگ کہتے ہیں۔       © ©                         
ری سائےکلنگ سے مراد وہ عمل جس مےں وہ تمام چےزےں جنہےں ہم ناکارہ اور ناقابل استعمال سمجھ کر اپنے گھروں کے کوڑا دانوں سڑکوں گلی کے کونوں ﷲر رکھے ہوئے کوڑا دانوں مےں ےہ سمجھ کر پھےنک دےتے ہےں کہ شاےد ان کی منزل صرف کوڑا دان ہی ہےں، در اصل اےسا بلکل نہےں ہے بلکہ ان تمام اشےاءکو دوبارہ استعمال کے قابل بناےا جاسکتا ہے، اور اس عمل کو ری سائےکلنگ کےا جاتا ہے۔ 
ابتداءمےں مختلف ذرائع سے جمع شدہ مواد جس مےں پلاسٹک، ردی، اسکرےپ شامل ہوتا ہے، اس مواس کو علےحدہ علےحدہ کر کے بنڈل بنا کر مختلف ری سائےکلنگ فےکٹرےوں مےں منتقل کردےا جاتا ہے۔ 
پلاسٹک ری سائےکلنگ ۔
پلاسٹک ری سائےکلنگ فےکٹری مےں آنے والے پلاسٹک کو سب سے پہلے چھانٹنے کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے، اس مرحلے مےں پلاسٹ کو اس کی کوالٹی، قسم اور رنگت کی بنےاد پر الگ الگ کےا جاتا ہے، پلاسٹک بنانے والی کمپنےوں نے پلاسٹک کو 1 سے 7تک مختلف درجہ بندےوں مےں تقسےم کےا ہے، اور ہر پلاسٹک کی نشاندہی کے لےے اےک نشان ( ) مقرر کےا ہے، جو پلاسٹک سے بننے والی اشےاءپشت کر چھاپ دےا جاتا ہے، جس سے پلاسٹک کو پہچانے مےں مدد ملتی ہے۔ دوسرے مرحلے مےں چھانٹے جانے والے پلاسٹک کو فلٹر مشےن سے گزارہ جاتا ہے، جہاں بوتلوں اور پلاسٹک مےں لگا کر صاف ہو جاتا ہے، اس کے بعد پلاسٹک کو گرےنڈ کر کے اس کے چھوٹ ¸ چھوٹ ¸ ٹکڑے کر لئے جاتے ہےں جس کو بعد ازاں پانی مےں کےمےکل (Coustic Soda) ڈال کر اچھی طرح دھوےا جاتا ہے، تا کہ اس مےں کوئی مےل باقی نہ رہے، اس مرحلے کے بعد اسے کچھ دےر خشک ہونے کے لےے رکھ دے اجاتا ہے، جس کے اسے (Heated Mixture) مےں ڈالا جاتا ہے تا کہ رہ جانے والی نمی کو مکمل ختم کر کے خشک کے سکے، پلاسٹک کا اگلا قدم (Mother Baby) مشےن ہوتا ہے، جس مےں پلاسٹک کے ٹکڑوں کو اےک خاص درجہ حرارت پر پگھلاےا جاتا ہے، پگھلا ہوا پلاسٹک تاروں کی شکل مےں مش ¸ن سے باہر آتا ہے، اور پانی سے ہوتا ہوا (Cutter Machine) مےں چلا جاتا ہے، پانی کا کام پلاسٹک کے درجہ حرارت کو کم کرنا ہوتا ہے، کٹر مشےن مےں پلاسٹک کی تاروں کے چھوٹے چھوٹ ¸ ٹکڑے کئے جاتے ہےںجنہےں ہم عام زبان مےں جانا کہتے ہےں اس دانے کے ذرےعے آپ پلاسٹ کہ بہت سی اشےاءبنا سکتے ہےں۔ 

پےپر ری سائےکلنگ 
پےپر سائےکلنگ فےکٹری مےں آنے والے استعمال شدہ کاغذ کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کے لئے مختلف مرحلوں سے گزارنا پڑتا ہے، اس عمل کی شروعات جمع شدہ پےپر کو چھانٹنے سے ہوتی ہے۔ جےسے اخبارات کمپےوٹر پر نئے مےں استعمال ہونے والا سفےد کاغذ اور دےگر رنگےن کاغذوں کو علےحدہ کےا جاتا ہے، اس دوران کاغذ کو دےگر غےر ضروری اشےاءپن ، پلاسٹک وغےرہ سے پاک کےا جاتا ہے، دوسرے مرحلے مےں چھانٹے جانے والے کاغذ کو بڑے بڑے ڈرم نماں برتنوں مےں ڈالا جاتا ہے، جس مےں موجود پانی اور دےگر کےمےکل کاغذ کو گودے ےعنی (Pulp) مےں تبدےل کردےتے ہےں، جس کے بعد گودے کو (Heating Mixture) جس کا اےک خاص درجہ حرارت ہوتا ہے وہ کاغذ کے گودے کو رےشوں مےں تبدےل کردےتا ہے، تےسرے مرحلے مےں گودے کو (Pulp CLeaning Machine) سے گزارہ جاتا ہے جس مےں بنے چھوٹے چھوٹ ¸ سوراخوں سے گودہ بہتا ہے اور غےر ضروری اشےاءعلےحدہ ہوجاتی ہےں جس سے گودہ مزےد صاف ہوجاتا ہے، اگلے مرحلے مےں گودے ےعنی (pulp) کو اےک اور عمل سے گزارا جاتا ہے جس مےں مختلف کےمےکل کے ذرےعے (Ink) سےاہی کو ختم کےا جاتا ہے جس کے نتےجے مےں گودہ مزےد صاف و شفاف اور دوبارہ استعمال کے قابل بن جاتا ہے، رنگےن کاغذ گودے مےں مختلف رنگ اتارنے والے کےمےکل دڈالے جاتے ہےں، جس کے بعد ہمےں براﺅن کاغذ ملتا ہے جبکہ سفےد کاغذ کے گودے کی (Bleaching)، hydrogen peroxide) ےار (Chlorine dioxide کے ذرےعے کی جاتی ہے جس کے ذرےعے کاغذ صاف اور چمکدار بنتا ہے، آخری مرحلے مےں گودے کو پےپر مشےن مےں ڈالا جاتا ہے، جس مےں گودے (pulp) مےں موجود پانی علےحدہ ہو کر بہہ جاتا ہے جبکہ رےشے مل کر شےت بناتے ہےں، اور شےت کو بڑے (Press roller) سے گزارہ جاتا ہے، جہاں باقی رہ جانے والے پانی کو بھی نچوڑ لےا جاتا ہے، اور بڑی پےپر شےٹ تےار ہوجاتی ہے۔ 

دھاتوں کی ری سائےکلنگ :
استعمال شدہ دھاتوں، لوےا اسٹےل، تانبہ اور اےلومنےن وعےرہ کو دوبارہ استعمال کے قابل بناےا جاتا ہے، اےک سوئی سے لےکر کار اور مشےن سے لےکر ہوائی جہاز تک کے دھاتوں کو دوبارہ استعمال کے قابل بناےا جاسکتا ہے، ابتدائی مرحلے مےں گھروں ، فےکترےوں اور کارخانوں سے جمع شدہ اسکرےپ کو اس کی کوالٹی اور قسم کی بنےاد پر علےحدہ علےحدہ کےا جاتا ہے، لوےا، اسٹےل، اےلومنےم وعےرہ جس کے بعد علےحدہ کردہ دھاتوں کو (Squashed Machine) سے گزارہ جاتا ہے جہاں اےک خاص دباﺅ کے ذرےعے دھاتوں کو سوکےڑ کر ان کا آکار (سائز) چھوٹا کےا جاتا ہے، اور بعد مےں (Crushing Machine) کے ذرےعے ان کے چھوٹے ٹکڑے کئے جاتے ہےں۔ اگلا مرحلہ دھاتوں کو پگھلانے کا ہوتا ہے، دھاتوں کو بڑی بڑی بھٹےوں مےں ڈال کر پگھلا نے کا عمل ہوتا ہے جہاں اےک خاص درجہ حرارت پر دھاتوں کو پگھلاےا جاتا ہے اور دھاتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بھٹےوں کو تشکےل دےا جاتا ہے جس کو پگھلاتے ہےں جےسے لوہے اور اسٹےل کو 1500oC درجہ حرارت جبکہ اےلمونےم مےں موجود (impurities) ےعنی غےر ضروری اشےاءکو مختلف طرےقوں سے نکال کر پےور کےا جاتا ہے جس کے بعد اےلمونےم کی شےت جبکہ دےگر دھاتوں ےعنی لوہا، اسٹےل وعےرہ کے بنڈل بنا کر فےکٹرےوں کو بھجوا دئےے جاتے ہےں جہاں انہےں نئی شکل دی جاتی ہے

       استعمال شدہ چیزوں سے بننے والی اشیاء 
(Poly ethylene teraphatale) PET اس کے ذرےعے پولسٹر فائبر مسڑوبات اور پانی وغےری کی بوتلےں بنائی جاتی ہےں اس کے علاوہ فرنےچر کارپےٹ شےٹ اور نئی بوتلےں بنائی جاتی ہےں جب کہ HDPE (High Denstiy Poly Ethylene) کے ذرےعے بوتلےں سامان کے لئے استعمال ہونے والے شاپر کوڑا دان اور دےگر گھرےلو سامان کی چےزےں بنائی جاتی ہےں۔ اس کے علاوہ دےگر اہم پلاسٹکوں مےں PVC (Poly Vinyl Chloride) جس کے ذرےعے بچوں کے کھلونے وغےرہ بنائے جاتے ہےں جبکہ LDPE (Low Density Poly Ethylene) کے ذرےعے لےبارٹری مےں استعمال ہونے والے آلات اور دےگر لےبارٹری مےں استعمال ہونے والا معےاری سامان بناےا جاتا ہے۔

استعمال شدہ دھاتوں سے بننے والی چےزےں۔ 
استعمال شدہ دھاتوں کو کس طرح استعمال کے قابل بناےا جاتا ہے ۔ استعمال شدہ دھاتےں جےسے لوہا ،اےلومنےم، تانبا اور اسٹےل وغےرہ کو دوبارہ استعمال کے قابل بنا کر مختلف نئی اشےاءبنائی جاسکتی ہےں اس کے دوبارہ استعمال کے ذرےعے نہ صرف غےر ضروری اشےاءکو استعمال کے قابل بناےا جاتا ہے بلکہ انہےں کم کر کے دوبارہ استعمال کےا جاسکتا ہے اس کے استعمال کے ذرےعے ہمےں نئی دھاتوں کو حاصل کر نے کے لئے مزےد کھدائی نہےں کرنی پڑتی۔ اور ہم استعمال شدہ چےزوں کے ذرےعے نا صرف گھر مےں استعمال ہونے والی چےزےں بلکہ فےکٹرےوں اور کارخانوں مےں استعمال ہونے والے پرزے وغےرہ بھی بنا سکتے ہےں جو ہمارے لئے نہاےت کار آمد ثابت ہوسکتے ہےں۔ استعمال ہونے والی اشےاءکے ذرےعے ہم نےا مواد بنا سکتے ہےں جےسے گھروں کی تعمےر کے دوران استعمال ہونے والا سرےا اور دےگر سامان بناےا جاتا ہے اس کے علاوہ کار، ٹرک اور جہاز تک کے لئے پرزے اسی استعمال شدہ ددھاتوں کے ذرےعے بنائے جاتے ہےں ۔ آئل ٹےنکر اور دےگر اہم ضرورت کی اشےاءبھی انہی دھاتوں کے ذرےعے بنائی جاتی ہے۔ اےلومنےم اور اسٹےل کے استعمال شدہ اسکرےپ کے ذرےعے مشروبات کی پکجنگ کے لئے کےن اور دےگر جےسے گھی اور آئل کے لئے بھی ان ہی استعمال شدہ اسٹےل اور اےلمونےم سے بناےا جاتا ہے ۔
رےسائےکل دھاتوں سے بنی مصنوعات مےں شامل ہےں سڑکےں، رےلوے، عمارتوں کے بنےادی ڈھانچے اور انکے مواد، بجلی کے آلات، کےن اور کنٹےنرز، گاڑےوں اور آمدو رفت کے استعمال مےں آنے والی دےگر ذرائے کے پرزے، دفتری سامان اور ہارڈوےئرجےسے بولٹس ، نٹس ، پےنچ وغےرہ۔ 

پےپر 
% in 2015
2015
2014
2013
2012
2011
2010
Type
12.3%
3219
3254
3211
3349
3455
3680
Newsprint Paper
32.7%
8576
8420
8765
9547
9120
11501
Printing / Communication Paper
3.4%
880
871
901
904
786
1010
Packaging paper 
6.7%
1747
1766
1780
1792
1776
1805
Hygienic paper 
2.9%
760
755
789
794
695
831
Other
57.9%
15181
15067
15446
16387
15832
18828
Paper total
33.6%
8805
8637
8811
8647
8212
9219
Cardboard base paper 
6.1%
1597
1614
1696
1673
1637
1819
Paper vessel board
2.5%
657
638
658
656
587
761
Other
42.1%
11059
10890
11163
10977
10436
11800
Paper Board total 
100.0%
26240
25957
26609
27363
26268
30627
Paper and board total 

سفےد کاعذ ، اخبارات، گتے اور دےگر رنگےن کاغذ جو ہمارے استعمال کے قابل نہےں ہوتے ہےں ہم ردی کے بھاﺅ بےچ دےتے ہےں جس کو کاغذ بنانے والی فےکٹرےوں مےں بھجواےا جاتا ہے۔ جہاں ان کو دوبارہ استعمال کے قابل بناےا جاتا ہے۔ کاغذ بنانے والی فےکٹرےاں مختلف قسم کے کاغذ بناتی ہےں جو کہ استعمال شدہ کاغذ کے ذرےعے بنائے جاتے ہےں جس مےں سفےد کاغذ tissue پروڈکٹس اخبارات کے استعمال ہونے والا کاغذ ، کاغذ کے بنے تھےلے، پےنٹنگ کے لئے استعمال ہونے والا گتا، امتحان گتے اور دےگر کاغذ و غےر بنائے جاتے ہےں ےہ اےک دوبارہ استعمال کے قابل اور سستے پےپر ہوتے ہےں جنہےں عام عوام لےنا پسند کرتی ہے جو انہےں آسانی اور سستے مل جاتے ہےں۔ ےہ تمام کاغذ (pulpeg) کے ذرےعے بنائے جاتے ہےں۔ ےہ کاغذ کے لئے مختلف طرح سے (puppling) کی جاتی ہے کاغذ کو دوبارہ استعمال کرنے پر اس کے رشتے مزےد چھوٹے ہوجاتے ہےں جس کے باعث ہم استعمال شدہ کاغذوں کے ذرےعے صرف 6 سے 7 مرتبہ کاغذ تےار کرسکتے ہےں۔ جو ہمارے لےے نہاےت مفےد ہےں۔ 

Generation & Recovery of Metal, Plastic & Paper 
%
Paper Recovered
Paper Generated
%
Plastic Recovered
Plastic Generated
%
Metal Recovered
Metal Generate
Year
16.94%
5.08
29.99
-
-
0.39
1.48%
0.1
6.72
1960
15.28%
6.77
44.31
-
-
2.90
1.25%
0.16
12.74
1970
21.28%
11.74
55.16
0.293%
0.020
6.83
4.96%
0.75
15.13
1980
27.82%
20.23
72.73
2.16%
0.370
17.13
20.08%
2.63
13.10
1990
42.81%
37.56
87.74
5.79%
1.48
25.55
22.55%
2.88
12.77
2000
62.50%
44.57
71.31
7.99%
2.50
31.29
27.15%
3.13
11.53
2010
65.55%
45.90
70.02
8.35%
2.66
31.84
27.64%
3.17
11.47
2011
64.65
44.36
68.65
8.82%
2.80
31.75
27.66%
3.20
11.57
2012

اگر رےسائےکلنگ کے فوائد کی بات کی جائے تو ےہ بات بہت واضح ہے کہ ےہ ہمارے معاشرے مےں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے قدرتی وسائل (مثلاً اےندھن، دھاتےں، وغےرہ) جس خطرناک مقدار سے استعمال کےا جارہا ہے لوگ اس خطرے سے دو چار ہےں کہ آنے والے وقت مےں ےہ مقدس نہ ہوجائے۔ 
اب اگر رےسائےکلنگ سے توانائی اور قدرتی وسائل کو بچانے کی بات کی جائے تو رےسائےکلنگ کی افادےت کا بہتر انداہ ہوتا ہے ۔ صنعتےں کسی بھی چےز کی تشکےل کرتی ہےں آےا وہ اےک کمےز ہو کاغذ کا ٹکڑا اس کے لئے خام مادے مےں سے بہت سارے وسائل کو استعمال کےا جاتا ہے۔ جس مےں سر فہرست آب، درخت، جےوشےم اےندھن اور کوئلہ وغےرہ کرنا پڑتا ہے ۔ جس کی وجہ سے زمےن پر سے وسائل کی کمی کا خطرہ لاحق ہے۔ جبکہ رےسائےکلنگ کے ذرےعے ہم نا صرف ہم اپنے خام وسائل کو بچا سکتے ہےں بلکہ اس کے ذرےعے ماحولےاتی آلودگی کو بھی کم کرسکتے ہےں۔ 
رےسائےکلنگ کاغذ بمقابلہ نےا کاغذ 
توانائی کی کھپت کی بات کی جائے تو اےک ٹن کاغذ بنانے مےں 33 ملےن BTU (British Thermal Unit) لگتی ہے۔ برعکس اسکے اگر کاغذ کی رےسائےکلنگ کی جائے تو کھپت 33 فےصد کم ہو کر 22 ملےن BTU ہوجاتی ہے۔ 
اےک ٹن کاغذ بناتے ہوئے گرےن ہاﺅس گےسز 5,601پاﺅنڈز خارج ہوتی ہے اگر اتنا ہی پےپر رےسائےکلڈ کےا جائے تو ےہ اخراج 3,533 پاﺅنڈز ہوجائے گا ۔ جو کہ 37% فےصد کم ہے۔ 
اےک ٹن کاغذ کو بنانے کے لئے 24درخت درکار ہوتے ہےں اگر اتنا ہی کاغذ رےسائےکلنگ سے بناےا جائے تو ےہ مقدار 24درخت سے صفر درخت ہوجاتی ہے ۔ جو کہ پورے 100%بچت کے برابر ہے ۔ 
گلوبل وارمنگ اور اوزون لےئر کو نقصان پہچانے والی گےسز بھی سب سے زےادہ صنعتوں سے خارج ہوتی ہےں ، سن 1800 جو کہ صنعتوں کی ترقی کا صدی کہا جاتا ہے، اس مےں اوزون لےئر کو سب سے زےادہ نقصان پہنچاےا گےا۔ صنعتوں مےں سے گرےن ہاﺅس گےسز کے اخراج کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو کاربن ڈائی اکسائےڈ (CO2) جو کہ جےواشم اےندھن کے استعمال سے خارج ہوتی ہے۔ 

چھ گرےن ہاﺅس گےسز مقدار 
گےس 
زرےعہ 
عالمی اخراج کا تناسب مےں 
کاربن ڈائی آکسائےڈ(CO2) 
ےہ حےاتےاتی اےندھن کو جلانے سے وجود مےں آتی ہے اور درختوں کی کٹائی سے 
76.7%اور 56.6% حےاتےاتی اےندھن سے 
مےتھےن(CH4)
زراعتی سرگرمےوں، توانائی کی پےداوار اور فضلہ سے 
14.3%
نٹرس آکسائےڈ (N2O)
زےادہ تر زراعتی سرگرمےوں سے 
7.9%
ہائےڈرو فلورو کاربن(HFCS)
اوزون لےئر کو ختم کر کے وجود مےں آتی ہے 
1.1%
سلفر ہےگزا فلورائےڈ (SF6)
صنعتی عمل اور بجلی کے آلات کی وجہ سے 


گرےن ہاﺅس گےسز (GHG) اخراج مےں چائےنہ ، امرےکااور انڈےا سر فہرست ہےں اور پاکستان اس مےں 304.85 مےٹرک ٹن جو کہ پاکستان کا 0.7% ہے۔ 
پبلک رےسائےکلنگ آفےشلز آف پےنی پنسلوانےا کے مطابق ہر اےک تن پےپر جو رےسائےکلڈ کےا جاتا ہے مندرجہ ذےل خام وسائل کو بچانے کی وجہ سے بنتا ہے۔ 
٭ 275پاﺅنڈ زسلفر کے 
٭ 350پاﺅنڈز چونا پتھر کے 
٭ 900 پاﺅند بھاپ کے۔ 

٭ 60,000گےلنز پانی کے 
٭ 225 کلو واٹ گھنٹے 
٭ 3.3کےوبک ےارڈز زمےن کی جگہ 

معاشی فائدے 
پاکستان جےسے ممالک جو پہلی ہی معاشی مسائل سے پرےشان ہےں ۔ اےسے ممالک رےسائےکلنگ کے کارخانوں کو لگانے کے لئے نوجوانوں کی پذےرائی کرےں تو ےہ نا صرف ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے مےں فائدہ مند ہوگا بلکہ روزگار پےدا کرنے مےں بھی فائدہ مند ہوگا۔ 

ہم اپنے مستقبل کی نسلوں کو ےہ پےغام دےنا چاہتے ہےں کہ رےسائےکلنگ آچ کی دنےا مےں دنےا مےں بہت اہم کردار رکھتی ہے۔ اور ےہ ہمارے معاشرے کے لئے بہت ضروری ہے اور ہمارے ملک کی حکومت کو اس کی آگاہی کے لئے اےسے اقدامات عمل مےں لانے چاہئےں کہ جس سے پاکستان مےں زےادہ سے زےادہ رےسائےکلنگ کے کام کو ترجےح دی جائے کےونکہ آج بھی دےکھا جائے تو پاکستان مےں کاغذ کی رےسائےکلنگ کی شرح بہت کم ہے اور پاکستان آج بھی دوسرے ملکوں سے روز مرہ کے استعمال کے لئے کاغذ برآمد کرتا ہے۔ اور اسی طرح دوسری چےزےں جےسے پلاسٹک لوہا اور دےگر دھاتےں جن کی پاکستان مےں رےسائےکلنگ کی شرح کافی کم ہے تو حکومت کو چاہئے کہ وہ معاشرے مےں اےسی آگاہی کو برپا کرےں جس سے معاشرے مےں رےسائےکلنگ کو اچھی چےز سمجھا جائے۔ 

پروفائل 
اس تحقےق کے سلسلے مےں جب اےک کباڑی نظام درباری سے بات کی گئی جو کہ اس پےشے مےں پچھلے 28 سال سے کام کررہے ہےں تو انہوں نے اپنی پےشہ ورانہ زندگی سے بہت سی اےسی باتےں بتائےں جو کہ ہمارے معاشرے کو اور بہتر بنانے مےں بہت کام آسکتی ہےں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے مےں اس کو اےک گندی اور بےکار چےز سمجھا جاتا ہے جبکہ ےہ بات سچ ہے کہ قدرت نے کوئی چےز بےکار نہےں بنائی ہر اےک ذرہ اہمےت کا حامل ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ رےسائےکلنگ اےک اےسا کام ہے جو کچرے کو قابل استعمال بناتا ہے اگر رےسائےکلنگ کو روک دےا جائے تو چند دنوں مےں ہم کچڑوں کے ڈھےر کے درمےان ہونگے جو کہ اےک صحت مند معاشرے کی نشانی نہےں ہے۔ اور ان کا کہنا تھا کہ ےہ اےک کاروبار کا بھی بہترےن ذرےعہ ہے ۔ 
    جہاں ہمارا ملک دوسرے کئی شعبوں میں دیگر ترقی یافتہ ممالک سے الگ تھلگ تنہا کھڑا نظر آتا ہے وہیں ہمیں ری سائیکلنگ کے شعبے میں بھی تنہائی کا سامنا ہے ہمارے ملک میں وسائل کی بھرمار ہوتے ہوئے بھی ہم ان وسائل کو استعمال کرنے سے قاصر ہیں ہمارے ہمسائے ممالک ہم سے کہیں زیادہ اس صنعت کو فروغ دے چکے ہیں بلکہ اس صنعت کا ان کی معیشت میں بھی اہم کردار ہے اگر ہمارے حکمران بھی اس پر توجہ دیں تو ہم بھی اس سے اپنی معیشت کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

The work was carried under supervision of Sir Sohail Sangi 

Wednesday, September 9, 2015

بشارت علی بلوچ انٹرویو



اسدعلی 

رول نمبر :2K13/MC/17 انٹرویو 

بشارت علی بلوچ لائبریرین 
حسرت موہانی ڈسٹرکٹ سینٹرل لائبریری 

تعارف:۔
بشارت علی بلوچ کا تعلق حیدرآباد سے ہے، آپ نے جامعہ سندھ سے لائبریری سائنس میں ایم ۔ایس ۔ سی کی اور اس کے بعد جامعہ سندھ شعبہ سندھ ڈولپمنٹ اسٹڈی سینٹر میں بطور اسٹنٹ لائبریرین مقرر ہوئے ۔ 2004سے 2010تک اپنے فرائض سرانجام دیئے، 2011میں کمیشن حاصل کرتے ہوئے کلچر ٹوریزم اینڈ اینٹی کو ٹیس جوائن کیا اور اس وقت آپ حسرت موہانی ڈسٹرکٹ سینٹرل لائبریری میں بطور لائبریرین اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔

سوال : یہ لائبریری کب قائم ہوئی؟ اس کی خصوصیات کیا ہیں؟ کس طرح کے لوگ یہاں آتے ہیں؟
جواب ۔ 1905میں یہ لائبریری قائم ہوئی، یہاں کا ماحول انہتائی پر سکون ہوتا ہے جس کے باعث پڑھنے والے اچھا محسو س کرتے ہیں، یہاں بزرگوں، نوجوانوں بچوں کے علاوہ خواتین بھی اس لائبریری کا رخ کرتی ہیں جن کے لیے مختلف سیکشن تشکیل دیئے گئے ہیں جس کے ذریعے وہ با آسانی اپنی پسندیدہ کتابوں تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں 



سوال  : کتابوں کی تعداد کتنی ہے؟کیا نایاب کتابیں نسخے وغیرہ بھی موجود ہیں ؟

جواب ۔ لائبریری میں کتابوں کی تعداد 28ہزار کے قریب ہے جس میں پرانی اور نئی کتابیں شامل ہیں ستمبر 2011سے پہلے اس کی تمام تر ذمہ داریاں بلدیہ کے پاس تھیں جبکہ اس وقت اس کی ذمہ داریاں کلچر اینڈ ٹوریزم ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہیں جس کے ڈائریکٹرجنرل منٖظور احمد کناسرو نے ہمیں نئی کتابیں فراہم کی ہیں اور مزید ہماری ضرورت کے مطابق کتابیں فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔



سوال : آج کے ڈیجیٹل دور میں اس طرح کی لائبرریوں کی اہمیت کم ہور ہی ہے تو اس کو کس طرح سے نمٹا جارہا ہے؟ کیا آپ کی لائبریری یا سندھ کی دیگر لائبریریاں ڈیجیٹل ہور ہی ہیں ؟

جواب ۔ ان لائبرریوں کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے جہاں تک ڈیجیٹل لائبریری کا تعلق ہے تو جامعات کی لائبرریاں ڈیجیٹل ہیں کیونکہ ایچ ۔ ای ۔ سی نے انہیں اپنے ٹیکسٹ تک رسائی دی ہے جس کی بنیاد پر وہ ڈیجیٹل لائبریریاں کہلاتی ہیں ، جہاں طلباء با آسانی تمام مفامین سے متعلق کتابیں پڑھ سکتے ہیں ، سیکریڑی کلچر ڈاکٹر نیاز عباسی نے گزارش تیار کی ہے اور وہ ایچ ۔ ای ۔ سی سے رابطہ کریں گے کہ وہ لائبریری کو اپنے ٹیکسٹ تک رسائی دیں جس سے لائبریری میں آنے والے طلباء استفادہ حاصل کرسکیں گے۔


سوال : ایک لائبریرین کی ڈیوٹی میں آپ کو کیا کیا کرنا پڑتا ہے؟
جواب۔ ایک لائبریرین کے ذمے جو کام آتے ہیں ان میں رجسٹر کو ترتیب دینا، لائبریری میں موجود کتابوں کی درجہ بندی (Classification)کرنا، یہ درجہ بندی بین الاقوامی طریقہ کار DDCکے تحت کی جاتی ہے،99فیصد لائبریریوں میں اسی طریقہ کار کے تحت درجہ بندی کی جاتی ہے اس کے علاوہ ببلو گرافی، انڈیکسنگ اور کیٹلوگنگ کا کام بھی سر انجام دیتا ہوں جبکہ ایڈمنسٹریشن کے حوالے سے ملازمین کو ان کے کام میں مہارت کو مدنظر رکھتے ہوئے تعینات کرنا بھی میری ذمہ داری میں شامل ہے ۔



سوال : کتابوں کی خریداری کس طرح ہوتی ہے؟ کیا یہ خریداری مقامی ضروریات کو سامنے رکھ کے کی جاتی ہے؟

جواب۔ لائبریری کی تمام کتابیں ہمیں کلچر ڈیپارٹمنٹ فراہم کرتا ہے جبکہ طلبا ء کو جو کتابیں یہاں میسر نہیں ہوتیں وہ مجھے ان کتابوں کے نام بتاتے ہیں میں ان کی فہرست تیار کرکے ہیڈ آفس بھجتا ہوں جس کے بعد ہمیں کتابیں فراہم کی جاتی ہیں ۔



سوال : طالبعلموں کے لیے کوئی خاص پیغام؟

جواب ۔ 2011میں کمیشن حاصل کرنے کے لیے تیاری ہم نے انہی لائبریریوں جامعہ سندھ کی لائبریری اور حسرت موہانی لائبریری میں بیٹھ کر کی نتائج آپ کے سامنے ہیں کہ جس لائبریری میں بیٹھ کر پڑھتا تھا آج اس کا لائبریرین ہوں میرا طالبعلموں کو یہی پیغام ہے کہ وہ ان علم کے خزانوں میں آکر اپنی تعلیمی قابلیت کو مزید بہتر بنائیں تا کہ زندگی میں کامیابیاں سمیٹنے میں آسانی ہو ۔ 

Tuesday, September 1, 2015

پروفائل چاچا فاروق : اسد علی

 Seems ok, foto is required 

نام اسد علی

رول نمبر2k13/MC/17 
پروفائل چاچا فاروق (آنگن کوگلشن بناتے)
ہر شخص کسی نہ کسی صلاحیت کا حامل ہوتا ہے،ضرورت ہے تو اس صلاحیت کو پہچاننے کی،لوگ اپنے اندر چھپی صلاحیت کو جان کر اپنے مقصد کی جانب رواں دواں ہو جاتے ہیں۔زندگی کا بھی ایک مقصد ہے دوسروں کی خدمت کر نا ان کے کام آنا اگر اس تنازل میں ان لوگوں کو دیکھا جائے تو یہ باصلاحیت لوگ ہمارے معاشرے کا قیمتی اساسہ ہیں،ایسے ہی ایک شخص چا چا فاروق بھی ہیں جو اپنی شجرکاری کی صلاحیت کے ذریعے لوگوں کو قدرتی حسن سے سر شار نایاب پھول پودوں سے اگاہی فراہم کر تے انہیں ان کے گھروں کے باغیچوں کی زینت بنانے میں مصروف ہیں۔
1960 میں ٹنڈو محمد خان کے نواحی گاؤں میں پیدا ہونے والے چاچا فاروق نے اپنی زندگی کے ابتدائی سال کھیتوں ،فصلوں کے ساتھ موج مستی اور ان کی دیکھ بھال میں گزارے، تعلیم کے لفظ سے ناواقف تھے ہوتے بھی کیسے کیو نکہ نہ گاؤں میں اسکول نہ اس کے آس پاس،رنگینیوں کے شوقین تھے چناچہ شہر سے آنے والوں سے خوب کچہری جمتی، وہ شہری جنت کی تعریفیں کئے جاتے اور یہ اس گنگا میں بھتے چلے جاتے،آخر کارچاچا جی نے گاؤں کی مٹی کی دھیمی خوشبو سے سر شار صبح اور سورج ڈوبتی حسین شاموں سے رخصت لی،اور شہر کی چار دیواریوں کو اپنے لئیے منتخب کر تے ہوئے حیدرآباد کا رخ کیا۔
شہر کی چار دن کی چاندنی کے بعد جب بھوک کی شدت سے پیٹ میں طوفان جنم لینے لگے تو شدت بھوک پر غالب آنے کے لیئے ہوٹل میں بہرے کی جگہ سنبھال لی، اور کرتے بھی کیا کوئی ہنر تو تھا نہیں کچھ عرصہ لوگوں کو کھانا پیش کر تے کرتے تھک گئے تھے یا شاید توہین سمجھنے لگے، رخصت لی اور شہر کی سڑکوں کا جائزہ لینے لگے، ایک بار پھر پیٹ کی آگ نے جو جوش مارا تو وہ آگ انہیں مزید آگ کے قریب لے آئی اور جناب نے اس دفعہ سر یا فیکٹری کا انتخاب کیا، شعلوں سے دہکتی بھٹی میں ابلتے لو ہے کو سر یوں میں تبدیل کر نا روز کا معمول تھا۔ایک روز لال لپٹوں کے اس محل سے واپسی پر نر سری کیس قریب سے گزر ہوا، قطاروں میں لگے ننھے پھولوں نے گاؤں کی یاد تازہ کر دی اسطرح آپ نے اپنے فن شجرکاری کو آزمانے پر نظر ڈالی۔
بچپن میں جن پھولوں کے گرد اپنی زندگی کا آغاز کیا آج وہی پھول زندگی کا واحد سہارا ہیں، چاچا فاروق کو دوسروں کے باغ،باغیچوں، کیاریوں میں پھولوں کے گلشن سجاتے تقریباٌ15 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، صبح سویرے نرسری سے پھولوں کی کھیپ ہاتھ گاڑی پر سجائے نکل پڑتے ہیں،ان کی منزل کی جانب،جہاں سے سداء آتی وہیں بکھیر دیتے پھولوں کا چمن۔ آپ اب تک ہزاروں پودے لگا چکے ہیں شہر کی شاراہوں پر جو شاید درخت بن کر اپنے سائے سے ہمیں راحت بخش رہے ہیں۔
ان کا مقصد لو گوں کو قدرت کے تخلیق کردہ نباتات کے قریب لانا ہے،جو دن بدن ہماری نظروں سے اوجھل ہو تے جارہے ہیں۔ یہ نہ صرف قدرتی حسن کو اجاگر کر تے ہیں بلکہ ہمارے ماحول کے لیئے بھی سازگار ہیں،
یہی وجہ ہے کہ آپ اس کام کو روزگار کے ساتھ ایک فلاحی کام بھی سمجھتے ہیں۔

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi

Monday, August 17, 2015

حیدرآباد کی سبزی منڈی . Un edited

صحیح ہے۔ ایڈیٹنگ ہونی ہے. Un edited
اسد علی
رول نمبر 2k13/mc/17
حیدرآباد کی سبزی منڈی
تروتازہ سبزیوں اور پھلوں کے حصول کے لئے عموماٌ لوگ سبزی منڈیوں کا رخ کر تے ہیں.جہاں سے نہ صرف انہیں تازہ اور معیاری سبزیاں باآسانی مل جاتی ہیں،بلکہ ان کے دام شہر کی دیگر مارکیٹوں جو کہ محلہ اور ٹاؤن کی سطح پر ہوتی ہیں ان کے مقابلے میں کافی کم ہوتے ہیں۔ جس کو مدنظر رکھتے ہوئے خریدار یہاں سے خریداری کو تر جیع دیتا ہے۔
ملک کے دیگر شہروں کی طرح حیدرآباد کی سبزی منڈی جو کہ پہلے حیدرآباد کے گنجان آباد علاقے ٹاور مارکیٹ میں واقع تھی،جگہ کی کمی کے باعث نہ صرف وہاں کاروبار سے منسلک کاروباری حضرات کو مشکلات درپیش تھیں، بلکہ دشوار گزار رستوں کے باعث ٹریفک کی آمدورفت بھی متاثر ہورہی تھی۔ ان تمام پہلوؤں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ضلع حکومت حیدرآباد نے سبزی منڈی کو حیدرآباد ریلوے اسٹیشن سے چند منٹ کے فاصلے پر نیا پل حیدرآباد سے منسلک تمام سہولتوں سے آراستہ جگہ پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔اس سبزی منڈی میں122دکانیں جبکہ400 سے زائد پاتھارے ہیں۔اس مارکیٹ میں حیدرآباد سے منسلک سندھ کے دیگر شہروں میرپورخاص،بدین،تھرپارکر،ماتلی، گولارچی،ٹھٹہ،مٹیاریااور ٹنڈو محمد خان سے نہ صرف پھل سبزیاں لائی جاتی ہیں، بلکہ پنجاب کے دیگر اضلع سے بھی سبزیاں اور پھل یہاں لائے جاتے ہیں اور بھیجے جاتے ہیں۔اس مارکیٹ سے15000 سے20000 لوگوں کا کاروبار وابستہ ہے جبکہ یہاں یومیہ10 سے 12 لاکھ کا کاروبار ہوتا ہے۔
چلیں آگے کا احوال ہم آپ کو وہیں چل کر سناتے ہیں، صبح کا سورج طلوع ہوتے ہی جب تمام شہر ویرانی کی چادر اوڑھے سو رہا ہوتا ہے، ماسوائے دودھ والے کے جو بے دھڑک بلاخوف اپنی ماٹرسائیکل کو سنسان راستوں پر دوڑاتا نظر آتا ہے۔اس دوران شہر کی فضا گرد آلود ہواؤں سے پاک تاہم سبزی منڈی کی فضائیں تروتازہ سبزیوں اور پھلوں کی مہک سے پر لطف ہو جاتی ہیں۔بیوپاری جو کہ دیگر شہروں سے اپنا مال لے کر یہاں پہنچتے ہیں،بولی کا آغازکرتے ہیں خریدار بولی کو آگے بڑھاتے ہوئے مال کی قیمت لگاتے ہیں، ان میں سے کچھ خریدار کامیاب ہوجاتے ہیں تو کچھ نا کام یہ وہ خریدار ہیں جو سبزیوں کو شہر کی دیگر مارکیٹوں میں فروخت کرتے ہیں۔سورج کی کرنیں جب زور پکڑتی ہیں تو سوئے ہوئے شہری اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور سبزیوں کے حصول کے لئے مارکیٹوں کا رخ کرتے ہیں۔خواتین اور مرد حضرات خریداری میں پیش پیش دیکھائی دیتے ہیں، مرد حضرات بھاؤ تاؤ میں زرا کمزور جبکہ خواتین بھاؤ تاؤ میں کافی مہارت رکھتی ہیں ،اس بات کا اندازہ دکاندار کی پیشانی سے جھلکتے پسینے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔تہوار ہوں اور سبزیاں مہنگی نہ ہوں ایسا ہو نہیں سکتا، بادشاہ آلوہویا پرنس ٹماٹر،ملکہ مرچ ہویا انکل ادرک سب غریب کی دسترس سے دور ہوجاتے ہیں۔ چلیں اب واپس چلتے ہیں ارے رکئیے، بادل گرج رہے ہیں لگتا ہے مون سون آگیاتو پھر بارش تو جم کرہوگی،جی ہاں بارش کے باعث جمع شدہ پانی تالاب کا منظر پیش کرتا ہے اور عرصہ دراز تک اپنے ہو نے کا احساس دلاتا ہے۔
مارکیٹ کی مجموعی صورت حال کے بارے میں جب ہماری بات مارکیٹ کے صدر جبار خان اور دیگر دکانداروں سے ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ جگہ جگہ پڑے گندگی کے ڈھیر اور صفائی کے ناقص انتظامات انتطامیہ کی نااہلی کا ثبوت ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کے سکیورٹی نہ ہونے کی وجہ سے آئے دن تاجروں اور دکانداروں کو رقم سے محروم کردیا جاتا ہے، جو کہ ایک تشویشناک بات ہے۔ تاجر اور دکاندار حضرات ضلع حکومت حیدرآباد سے اپیل کرتے ہیں کہ اس کی مناسب دیکھ بھال کے لئے عملہ فراہم کیا جائے اور ان کے تحفظ کے لئے خاطر خواہ اقدامات اٹھائے جائیں۔ ضلع حکومت حیدرآبادنے یہاں کے مسائل کو خاطر میں رکھتے ہوئے اس کے متبادل کے طور پر مشرف دور میں شہر سے باہر ہالاناکہ بائی پاس پر سبزی منڈی بنائی گی ، جس کا ترقیاتی کام تاحال سست روی کا شکار ہے۔ ترقیاتی کام مکمل ہو تے ہی اس مارکیٹ کو وہاں منتقل کر دیا جائے گا۔
اسد علی
رول نمبر 2k13/mc/17

This practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi

حیدرآبادمیں انٹری ٹیسٹ کا بازار سرگرم

اس کا انٹرو کچھ بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ تھوڑا سا انٹری ٹیسٹ کو ڈیفائین کرو. 
Un eidted
تحریر: اسد علی
رول نمبر 2k13/mc/17
حیدرآبادمیں انٹری ٹیسٹ کا بازار سرگرم
تعلیم حاصل کرنا ہر خاص و عام کا بنیادی حق ہے۔چاہے وہ امیر کا بچہ ہوہویا کسان کا، صنعت کا ر کا لخت جگر ہویا فیکٹریوں میں محنت کرتے مزدوروں کے جگر گوشے، ان تمام کی بہتر تعلیم وتربیت کا ذمہ ریاست پر عائد ہوتا ہے کہ وہ ان کو معیاری تعلیم فراہم کر کے معاشرے کا باشعور فرد بنائے جو اپنی صلاحیتوں سے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ بدحالی کا شکار سرکاری اسکول اس نظرئیے کے بلکل بر عکس معلوم ہوتے ہیں۔جس کے باعث والدین بچوں کو پرائیویٹ اسکول اور کالجز میں پڑھانے پر مجبور ہیں، اس کے علاوہ آج کل پرائیویٹ انٹری ٹیسٹ ادارے جو کہ والدین کو ان کے بچوں کے روشن مستقبل کا خواب دیکھا کر خوب اپنا کاروبار چمکانے میں سر گرم عمل ہیں۔
حیدرآباد میں ان سینٹرز کی تعداد50 کے قریب ہے۔5 2 حیدرآباد سٹی میں،10 قاسم آباد جبکہ15لطیف آباد میں اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان سینٹرز میں تقریباٌ7000 سے8000 طالبعلم اپنے روشن مستقبل کے لئے قسمت آزماتے نظر آتے ہیں۔اگر ایک سینٹر کی بات کی جائے تو اس سینٹر میں طالبعلموں کی تعداد800 سے1000 ہوتی ہے، جبکہ کلاسوں کی تعداد8 سے10 جن میں 40 طالبعلم باآسانی بیٹھ سکتے ہیں۔ان سینٹرز میں طالبعلموں کو اعلی پائے کے اساتذہ کی خدمات حاصل ہوتی ہیں،جو اپنی فیلڈ میں مہارت کے ساتھ کئی سالوں کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرنے والے طالبعلموں میں 500طالبعلم اپنی خواہش کے مطابق انجینئرنگ یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجوں میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں،جو مجموعی تعداد کا صرف6.5% فیصد ہی ہے۔ ان اداروں کی فیس ہر سال بڑھادی جاتی ہے، جس کا جواز زائد اخراجات بتائے جا تے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال ان اداروں کی فیسوں میں3000 سے5000 روپے بڑھادیئے جاتے ہیں،جس ادارے کی فیس 2013 میں 15000 تھی،2014 میں بڑھاکر 20000 کردی گئی جبکہ2015 میں 25000تک وصول کی جارہی ہے۔ اگر ان کی آمدن کاتخمینہ لگایا جائے تو وہ لاکھوں سے بڑھ کر کروڑوں تک جاپہنچی ہے، جس پر چیک اینڈ بیلنس کا کوئی خاص انتظام نظر نہیں آتا۔ والدین اس حوالے سے کافی پریشان دیکھائی دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہر سال ان اداروں کی فیسوں میں اضافے سے یون لگتا ہے کہ تعلیم اب محض تعلیم نہیں رہی بلکہ اسے کاروبار کی شکل دے کر غریب عوام کی پہنچ سے دور کیا جارہا ہے۔
حیدرآباد سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے ،جس کی وجہ سے سندھ کے دیگر شہروں بدین، میرپورخاص، ڈگری، ٹنڈوالہیار، دادو،لاڑکانہ اور کشمور کے علاقوں سے متعدد طالبعلم تعلیم حاصل کرنے کے لئے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔یہ طالبعلم شہر کے دیگر علاقوں لطیف آباد، قاسم آباد،جی - او- آر کالونی میں 2 سے3 کمروں کے فلیٹس میں6 سے8 طالبعلم رہائش پذیر ہوتے ہیں، ان فلیٹس کا کرایہ5000 سے10000 تک مہوار ہوتا ہے۔یہ طالبعلم اپنے آبائی گھروں سے دور اپنے روشن مستقبل کا خواب سجائے خوب محنت کر تے دیکھائی دیتے ہیں۔زائد فیسوں اور کرایوں پر یہ پر دیسی بھی شکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔ اگر ہمارے سرکاری اسکولوں اور کالجوں کی حالت زار بہتر کردی جائے اور وہ اساتذہ جو پرائیویٹ اداروں میں تو اپنی ڈیوٹی اور فرائض ایمانداری سے نبھاتے ہیں، اگر ان کی حاضری سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں بھی اسی طرح ممکن بنادی جائے تو ان بچوں کو کبھی پرائیویٹ اداروں کا سہارا نہ لینا پڑے۔ 

اسد علی 

رول نمبر 2k13/mc/17
This practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi