Showing posts with label بلال حسن. Show all posts
Showing posts with label بلال حسن. Show all posts

Saturday, December 5, 2015

Recycling of waste in Hyderabad

Referred back. Ur composing is not correct. 
انویسٹیگیٹو رپورٹنگ

 کچرے سے کارآمد چیزیں بنانا یا ری سائیکلنگ 

گروپ ممبر کے نام 
٭ بلال حسن  28 
٭ اسد علی17  
٭ سلمان نظر 99 
٭ محمد حماد خان 68

 بی ایس سال سوئم، سیکنڈ سیمسٹر
میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز سندھ یونیورسٹی
تحقیقاتی رپورٹ
ناکارہ اور استعمال شدہ اشیاءکو کس طرح قابل استعمال بنایا جاتا ہے
اگر بے کار چےزوں کو کارآمد بنانے کی بات کی جائے تو سب سے پہلا سوال ےہ پےدا ہوتا ہے کہ ےہ بےکار چےزےں کون سی ہےں اور کہاں کہاں سے جمع کی جاتی ہےں۔ اس مےں پلاسٹک، لوہا، کاغذ، گتا اور اس اگر اور واضح کرےں تو ہمارے روزانہ کے معاملات مےں چےزےں استعمال استعمال ہوتی ہےں انکا کچڑا ےا ضائع بچتا ہے وہ اےک عمل کے تحت جمع کر کے کار آمد بناےا جاتا ہے اگر بے کار اور ضاےع چےزوں کو جمع کرنے پر نظر ڈالی جائے تو اس مےں گھر، بازار، کارخانے ، سڑکوں ، بازار مندرجہ ذےل ہےں۔ 
ےہاں سوال ےہ پےدا ہوتا ہے کہ تمام ضےاع چےزوں کا اصل ذرےعہ کےا ہے اگر ہم روز مرہ کی زندگی پر نظر ڈالےں تو بہت سی اےسی چےزےں ہےں جو ہم استعمال کر کے پھےنک دےتے ہےں جو اےک عمل کے تحت جمع ہو کر کباڑی تک پہنچتی ہےں جےسے اگر ذرےعے کی بات کی جائے تو 60% ضےاع چےزےں ہماری روز مرہ کی استعمال شدہ چےزےں سے آتی ہےں ۔ جےسے پلاسٹک کی بوتل ، ڈھکن، چپس اور کنفےکشنری بےگ ، شاپنگ بےگ، جوس کے ڈبے ، بسکٹ کے پےکٹ، کارٹنز ، اخبار ، کاپےز ، کاغذ ، اسٹےشنری کا سامان، وعےرہ شامل ہےں۔ اور باقی 40% کارخانے ہسپتال اور دےگر ذرائعے مےں استعمال ہونے والی چےزوں سے آتی ہے۔ 
بےن الاقوامی سطح پر ضےاع چےزوں کو جمع کرنے پر نظر ڈالےں تو وہاں اےک منظم اور بہترےن اقدام نظر آتا ہے وہاں کی سوسائےٹی مےں سڑکوں اور بازاروں مےں کچرے کے ڈبے موجود ہوتے ہےں اور تمام ضےاع چےزےں ان ڈبو مےں جمع ہوتے ہےں پھر اےک کچرے کی گاڑی اسکو ہر ہفتے جمع کر کے رےسائےکلنگ کے لئے لےجاتے ہےں اور اس کچرے مےں سے پلاسٹک لوہا اور کاغذ اور دےگر کار آمد چےزوں کو جمع کر کے اسکرےپ ڈےلر کو دی جاتی ہے پھر وہ اےک عمل کے تحت اس کو رےسائےکل کرتے ہےں۔ جب کہ پاکستان پر نظر ڈالی جائے تو ےہاں اس چےز کا الگ نظام نظر آتا ہے ےا ہم اگر پورے اےشےاءکی بات کرےں تو رےسائےکلنگ کا نظام باقی ملکوں سے کافی مختلف ہے۔ 
اب گھروں سے ضےاع چےزےں جمع کرنے کی بات کی جائے تو عموماً گھرےلو صارفےن اپنے گھرون کی بےکار اور ضےاع چےزےں سستے دام مےں کباڑی کو بےچ دےتے ہےں اور بازار اور سڑکوں کی بات کی جائے تو سڑک پر چلتے پھرتے کچڑا بےننے والے جنہےں ہم عموماً کوہلی بھی کہتے ہےں ےہ بازاروں اور سڑکوں سے گتا، پلاسٹک، لوہاوغےرہ جمع کر کے کباڑی کو بےچ دےتے ہےں اب کارخانوں کا رخ کےا جائے تو عموماً کباڑےوں کا تعلق ان کارخانوں سے ہوتا ہے کے جتنا کارخانوں کا ضےاع اور بےکار سامان بچتا ہے وہ کارخانے والے کباڑی کو سستے دام مےں بےچ دےتے ہےں۔اب ہسپتالوں کا رخ کےا جائے تو ےہاں کی بچی ہوئی ضےاع چےزےں جو کہ عموماً فضلا کے نام سے جانی جاتی ہےں جےسے کہ استعمال شدہ سرنج کی بوتل ، ڈرپ کی بوتل ، دوائےوں کی بوتل وغےرہ شامل ہے۔ مگر ےہ ضےاع سامان عموماً کباڑی نہےں لےتے کےونکہ اس سے بےماری اور جراثےم پھےلنے کا خدشہ لےتا ہے ۔ ےہ ضےاع سامان چند کباڑی لےتے ہےں جن کا فارمےسی کمپنےوں سے اشتراک ہوتا ہے جو کہ ےہ ہسپتالوں سے لےکر ان کمپنےوں کو بےچ دےتے ہےں ۔ اب ضےاع چےزوں کی شرح پر نظر ڈالی جائے تو گھروں سے 20% ، سڑکوں اور بازاروں سے 15%، ہسپتالوں سے 20%، اور کارخانوں سے 45% فےصد جمع کےا جاتا ہے۔                

      
گھر 
بازار /سڑکےں 
ہسپتال 
کارخانے 
دےگر 
20%
15%
20%
40%
5%

اب دوسری طرف دےکھا جائے تو ےہ ضےاع چےزےں کاروبار کرنے کا بھی بہترےن ذرےعہ ہے ۔ معاشرے کی نظر مےں ےہ اےک گندگی اور بےکار چےز ہے مگر ےہی رےسائےکلنگ لاکھوں لوگوں کا ذرےعہ معاش فراہم کرتی ہے۔ ان ضےاع چےزوں کی خرےدو فروخت کی قےمتوں پر نظر ڈالی جائے تو ہر چےز کے مختلف دام نظر آتے ہےں۔ پلاسٹک کی بات کی جائے تو پلاسٹک مےں تےن سے ذائد اقسام موجود ہےں جس مےں رنگےن پلاسٹک سفےد پلاسٹک ، سےاہ پلاسٹک شامل ہے ۔ اور ان کے دام بھی مختلف ہےں کباڑی عموماً اسکی خرےد 20 روپے فی کلو سے لےکر 35روپے فی کلو تک کرتے ہےں۔ اور کباڑی اس کو آگے 30 سے لےکر 50 روپے فی کلو تک فروخت کرتے ہےں ۔ اسی طرح لوہے کی بات کی جائے تو موجودہ قےمت 20 روپے سے لےکر 35 روپے کلو تک ہے ۔ اور کباڑی ان کو 40 روپے فی کلو سے لےکر 60روپے فی کلو تک فروخت کرتے ہےں اور اب کاغذ ےا ردی پر نظرڈالی جائے تو اس کی موجودہ قےمت 10 سے 12روپے فی کلو ہے اور کباڑی اس کو15 سے 20 روپے فی کلو فروخت کرتے ہےں۔ اور ےہ سب ضےاع چےزےں جمع کر کے کباڑی بڑے اسکرےپ ڈےلر تک پہنچا دےتے ہےں جہاں سے پھر رےسائےکلنگ کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے ۔                      
© © © © ©کس طرح استعمال شدہ چیزوں کو دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جاتا ہے اور جس عمل کے تحت انہیں بنایا جاتا ہے اسے ہم ری سائیکلنگ کہتے ہیں۔       © ©                         
ری سائےکلنگ سے مراد وہ عمل جس مےں وہ تمام چےزےں جنہےں ہم ناکارہ اور ناقابل استعمال سمجھ کر اپنے گھروں کے کوڑا دانوں سڑکوں گلی کے کونوں ﷲر رکھے ہوئے کوڑا دانوں مےں ےہ سمجھ کر پھےنک دےتے ہےں کہ شاےد ان کی منزل صرف کوڑا دان ہی ہےں، در اصل اےسا بلکل نہےں ہے بلکہ ان تمام اشےاءکو دوبارہ استعمال کے قابل بناےا جاسکتا ہے، اور اس عمل کو ری سائےکلنگ کےا جاتا ہے۔ 
ابتداءمےں مختلف ذرائع سے جمع شدہ مواد جس مےں پلاسٹک، ردی، اسکرےپ شامل ہوتا ہے، اس مواس کو علےحدہ علےحدہ کر کے بنڈل بنا کر مختلف ری سائےکلنگ فےکٹرےوں مےں منتقل کردےا جاتا ہے۔ 
پلاسٹک ری سائےکلنگ ۔
پلاسٹک ری سائےکلنگ فےکٹری مےں آنے والے پلاسٹک کو سب سے پہلے چھانٹنے کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے، اس مرحلے مےں پلاسٹ کو اس کی کوالٹی، قسم اور رنگت کی بنےاد پر الگ الگ کےا جاتا ہے، پلاسٹک بنانے والی کمپنےوں نے پلاسٹک کو 1 سے 7تک مختلف درجہ بندےوں مےں تقسےم کےا ہے، اور ہر پلاسٹک کی نشاندہی کے لےے اےک نشان ( ) مقرر کےا ہے، جو پلاسٹک سے بننے والی اشےاءپشت کر چھاپ دےا جاتا ہے، جس سے پلاسٹک کو پہچانے مےں مدد ملتی ہے۔ دوسرے مرحلے مےں چھانٹے جانے والے پلاسٹک کو فلٹر مشےن سے گزارہ جاتا ہے، جہاں بوتلوں اور پلاسٹک مےں لگا کر صاف ہو جاتا ہے، اس کے بعد پلاسٹک کو گرےنڈ کر کے اس کے چھوٹ ¸ چھوٹ ¸ ٹکڑے کر لئے جاتے ہےں جس کو بعد ازاں پانی مےں کےمےکل (Coustic Soda) ڈال کر اچھی طرح دھوےا جاتا ہے، تا کہ اس مےں کوئی مےل باقی نہ رہے، اس مرحلے کے بعد اسے کچھ دےر خشک ہونے کے لےے رکھ دے اجاتا ہے، جس کے اسے (Heated Mixture) مےں ڈالا جاتا ہے تا کہ رہ جانے والی نمی کو مکمل ختم کر کے خشک کے سکے، پلاسٹک کا اگلا قدم (Mother Baby) مشےن ہوتا ہے، جس مےں پلاسٹک کے ٹکڑوں کو اےک خاص درجہ حرارت پر پگھلاےا جاتا ہے، پگھلا ہوا پلاسٹک تاروں کی شکل مےں مش ¸ن سے باہر آتا ہے، اور پانی سے ہوتا ہوا (Cutter Machine) مےں چلا جاتا ہے، پانی کا کام پلاسٹک کے درجہ حرارت کو کم کرنا ہوتا ہے، کٹر مشےن مےں پلاسٹک کی تاروں کے چھوٹے چھوٹ ¸ ٹکڑے کئے جاتے ہےںجنہےں ہم عام زبان مےں جانا کہتے ہےں اس دانے کے ذرےعے آپ پلاسٹ کہ بہت سی اشےاءبنا سکتے ہےں۔ 

پےپر ری سائےکلنگ 
پےپر سائےکلنگ فےکٹری مےں آنے والے استعمال شدہ کاغذ کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کے لئے مختلف مرحلوں سے گزارنا پڑتا ہے، اس عمل کی شروعات جمع شدہ پےپر کو چھانٹنے سے ہوتی ہے۔ جےسے اخبارات کمپےوٹر پر نئے مےں استعمال ہونے والا سفےد کاغذ اور دےگر رنگےن کاغذوں کو علےحدہ کےا جاتا ہے، اس دوران کاغذ کو دےگر غےر ضروری اشےاءپن ، پلاسٹک وغےرہ سے پاک کےا جاتا ہے، دوسرے مرحلے مےں چھانٹے جانے والے کاغذ کو بڑے بڑے ڈرم نماں برتنوں مےں ڈالا جاتا ہے، جس مےں موجود پانی اور دےگر کےمےکل کاغذ کو گودے ےعنی (Pulp) مےں تبدےل کردےتے ہےں، جس کے بعد گودے کو (Heating Mixture) جس کا اےک خاص درجہ حرارت ہوتا ہے وہ کاغذ کے گودے کو رےشوں مےں تبدےل کردےتا ہے، تےسرے مرحلے مےں گودے کو (Pulp CLeaning Machine) سے گزارہ جاتا ہے جس مےں بنے چھوٹے چھوٹ ¸ سوراخوں سے گودہ بہتا ہے اور غےر ضروری اشےاءعلےحدہ ہوجاتی ہےں جس سے گودہ مزےد صاف ہوجاتا ہے، اگلے مرحلے مےں گودے ےعنی (pulp) کو اےک اور عمل سے گزارا جاتا ہے جس مےں مختلف کےمےکل کے ذرےعے (Ink) سےاہی کو ختم کےا جاتا ہے جس کے نتےجے مےں گودہ مزےد صاف و شفاف اور دوبارہ استعمال کے قابل بن جاتا ہے، رنگےن کاغذ گودے مےں مختلف رنگ اتارنے والے کےمےکل دڈالے جاتے ہےں، جس کے بعد ہمےں براﺅن کاغذ ملتا ہے جبکہ سفےد کاغذ کے گودے کی (Bleaching)، hydrogen peroxide) ےار (Chlorine dioxide کے ذرےعے کی جاتی ہے جس کے ذرےعے کاغذ صاف اور چمکدار بنتا ہے، آخری مرحلے مےں گودے کو پےپر مشےن مےں ڈالا جاتا ہے، جس مےں گودے (pulp) مےں موجود پانی علےحدہ ہو کر بہہ جاتا ہے جبکہ رےشے مل کر شےت بناتے ہےں، اور شےت کو بڑے (Press roller) سے گزارہ جاتا ہے، جہاں باقی رہ جانے والے پانی کو بھی نچوڑ لےا جاتا ہے، اور بڑی پےپر شےٹ تےار ہوجاتی ہے۔ 

دھاتوں کی ری سائےکلنگ :
استعمال شدہ دھاتوں، لوےا اسٹےل، تانبہ اور اےلومنےن وعےرہ کو دوبارہ استعمال کے قابل بناےا جاتا ہے، اےک سوئی سے لےکر کار اور مشےن سے لےکر ہوائی جہاز تک کے دھاتوں کو دوبارہ استعمال کے قابل بناےا جاسکتا ہے، ابتدائی مرحلے مےں گھروں ، فےکترےوں اور کارخانوں سے جمع شدہ اسکرےپ کو اس کی کوالٹی اور قسم کی بنےاد پر علےحدہ علےحدہ کےا جاتا ہے، لوےا، اسٹےل، اےلومنےم وعےرہ جس کے بعد علےحدہ کردہ دھاتوں کو (Squashed Machine) سے گزارہ جاتا ہے جہاں اےک خاص دباﺅ کے ذرےعے دھاتوں کو سوکےڑ کر ان کا آکار (سائز) چھوٹا کےا جاتا ہے، اور بعد مےں (Crushing Machine) کے ذرےعے ان کے چھوٹے ٹکڑے کئے جاتے ہےں۔ اگلا مرحلہ دھاتوں کو پگھلانے کا ہوتا ہے، دھاتوں کو بڑی بڑی بھٹےوں مےں ڈال کر پگھلا نے کا عمل ہوتا ہے جہاں اےک خاص درجہ حرارت پر دھاتوں کو پگھلاےا جاتا ہے اور دھاتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بھٹےوں کو تشکےل دےا جاتا ہے جس کو پگھلاتے ہےں جےسے لوہے اور اسٹےل کو 1500oC درجہ حرارت جبکہ اےلمونےم مےں موجود (impurities) ےعنی غےر ضروری اشےاءکو مختلف طرےقوں سے نکال کر پےور کےا جاتا ہے جس کے بعد اےلمونےم کی شےت جبکہ دےگر دھاتوں ےعنی لوہا، اسٹےل وعےرہ کے بنڈل بنا کر فےکٹرےوں کو بھجوا دئےے جاتے ہےں جہاں انہےں نئی شکل دی جاتی ہے

       استعمال شدہ چیزوں سے بننے والی اشیاء 
(Poly ethylene teraphatale) PET اس کے ذرےعے پولسٹر فائبر مسڑوبات اور پانی وغےری کی بوتلےں بنائی جاتی ہےں اس کے علاوہ فرنےچر کارپےٹ شےٹ اور نئی بوتلےں بنائی جاتی ہےں جب کہ HDPE (High Denstiy Poly Ethylene) کے ذرےعے بوتلےں سامان کے لئے استعمال ہونے والے شاپر کوڑا دان اور دےگر گھرےلو سامان کی چےزےں بنائی جاتی ہےں۔ اس کے علاوہ دےگر اہم پلاسٹکوں مےں PVC (Poly Vinyl Chloride) جس کے ذرےعے بچوں کے کھلونے وغےرہ بنائے جاتے ہےں جبکہ LDPE (Low Density Poly Ethylene) کے ذرےعے لےبارٹری مےں استعمال ہونے والے آلات اور دےگر لےبارٹری مےں استعمال ہونے والا معےاری سامان بناےا جاتا ہے۔

استعمال شدہ دھاتوں سے بننے والی چےزےں۔ 
استعمال شدہ دھاتوں کو کس طرح استعمال کے قابل بناےا جاتا ہے ۔ استعمال شدہ دھاتےں جےسے لوہا ،اےلومنےم، تانبا اور اسٹےل وغےرہ کو دوبارہ استعمال کے قابل بنا کر مختلف نئی اشےاءبنائی جاسکتی ہےں اس کے دوبارہ استعمال کے ذرےعے نہ صرف غےر ضروری اشےاءکو استعمال کے قابل بناےا جاتا ہے بلکہ انہےں کم کر کے دوبارہ استعمال کےا جاسکتا ہے اس کے استعمال کے ذرےعے ہمےں نئی دھاتوں کو حاصل کر نے کے لئے مزےد کھدائی نہےں کرنی پڑتی۔ اور ہم استعمال شدہ چےزوں کے ذرےعے نا صرف گھر مےں استعمال ہونے والی چےزےں بلکہ فےکٹرےوں اور کارخانوں مےں استعمال ہونے والے پرزے وغےرہ بھی بنا سکتے ہےں جو ہمارے لئے نہاےت کار آمد ثابت ہوسکتے ہےں۔ استعمال ہونے والی اشےاءکے ذرےعے ہم نےا مواد بنا سکتے ہےں جےسے گھروں کی تعمےر کے دوران استعمال ہونے والا سرےا اور دےگر سامان بناےا جاتا ہے اس کے علاوہ کار، ٹرک اور جہاز تک کے لئے پرزے اسی استعمال شدہ ددھاتوں کے ذرےعے بنائے جاتے ہےں ۔ آئل ٹےنکر اور دےگر اہم ضرورت کی اشےاءبھی انہی دھاتوں کے ذرےعے بنائی جاتی ہے۔ اےلومنےم اور اسٹےل کے استعمال شدہ اسکرےپ کے ذرےعے مشروبات کی پکجنگ کے لئے کےن اور دےگر جےسے گھی اور آئل کے لئے بھی ان ہی استعمال شدہ اسٹےل اور اےلمونےم سے بناےا جاتا ہے ۔
رےسائےکل دھاتوں سے بنی مصنوعات مےں شامل ہےں سڑکےں، رےلوے، عمارتوں کے بنےادی ڈھانچے اور انکے مواد، بجلی کے آلات، کےن اور کنٹےنرز، گاڑےوں اور آمدو رفت کے استعمال مےں آنے والی دےگر ذرائے کے پرزے، دفتری سامان اور ہارڈوےئرجےسے بولٹس ، نٹس ، پےنچ وغےرہ۔ 

پےپر 
% in 2015
2015
2014
2013
2012
2011
2010
Type
12.3%
3219
3254
3211
3349
3455
3680
Newsprint Paper
32.7%
8576
8420
8765
9547
9120
11501
Printing / Communication Paper
3.4%
880
871
901
904
786
1010
Packaging paper 
6.7%
1747
1766
1780
1792
1776
1805
Hygienic paper 
2.9%
760
755
789
794
695
831
Other
57.9%
15181
15067
15446
16387
15832
18828
Paper total
33.6%
8805
8637
8811
8647
8212
9219
Cardboard base paper 
6.1%
1597
1614
1696
1673
1637
1819
Paper vessel board
2.5%
657
638
658
656
587
761
Other
42.1%
11059
10890
11163
10977
10436
11800
Paper Board total 
100.0%
26240
25957
26609
27363
26268
30627
Paper and board total 

سفےد کاعذ ، اخبارات، گتے اور دےگر رنگےن کاغذ جو ہمارے استعمال کے قابل نہےں ہوتے ہےں ہم ردی کے بھاﺅ بےچ دےتے ہےں جس کو کاغذ بنانے والی فےکٹرےوں مےں بھجواےا جاتا ہے۔ جہاں ان کو دوبارہ استعمال کے قابل بناےا جاتا ہے۔ کاغذ بنانے والی فےکٹرےاں مختلف قسم کے کاغذ بناتی ہےں جو کہ استعمال شدہ کاغذ کے ذرےعے بنائے جاتے ہےں جس مےں سفےد کاغذ tissue پروڈکٹس اخبارات کے استعمال ہونے والا کاغذ ، کاغذ کے بنے تھےلے، پےنٹنگ کے لئے استعمال ہونے والا گتا، امتحان گتے اور دےگر کاغذ و غےر بنائے جاتے ہےں ےہ اےک دوبارہ استعمال کے قابل اور سستے پےپر ہوتے ہےں جنہےں عام عوام لےنا پسند کرتی ہے جو انہےں آسانی اور سستے مل جاتے ہےں۔ ےہ تمام کاغذ (pulpeg) کے ذرےعے بنائے جاتے ہےں۔ ےہ کاغذ کے لئے مختلف طرح سے (puppling) کی جاتی ہے کاغذ کو دوبارہ استعمال کرنے پر اس کے رشتے مزےد چھوٹے ہوجاتے ہےں جس کے باعث ہم استعمال شدہ کاغذوں کے ذرےعے صرف 6 سے 7 مرتبہ کاغذ تےار کرسکتے ہےں۔ جو ہمارے لےے نہاےت مفےد ہےں۔ 

Generation & Recovery of Metal, Plastic & Paper 
%
Paper Recovered
Paper Generated
%
Plastic Recovered
Plastic Generated
%
Metal Recovered
Metal Generate
Year
16.94%
5.08
29.99
-
-
0.39
1.48%
0.1
6.72
1960
15.28%
6.77
44.31
-
-
2.90
1.25%
0.16
12.74
1970
21.28%
11.74
55.16
0.293%
0.020
6.83
4.96%
0.75
15.13
1980
27.82%
20.23
72.73
2.16%
0.370
17.13
20.08%
2.63
13.10
1990
42.81%
37.56
87.74
5.79%
1.48
25.55
22.55%
2.88
12.77
2000
62.50%
44.57
71.31
7.99%
2.50
31.29
27.15%
3.13
11.53
2010
65.55%
45.90
70.02
8.35%
2.66
31.84
27.64%
3.17
11.47
2011
64.65
44.36
68.65
8.82%
2.80
31.75
27.66%
3.20
11.57
2012

اگر رےسائےکلنگ کے فوائد کی بات کی جائے تو ےہ بات بہت واضح ہے کہ ےہ ہمارے معاشرے مےں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے قدرتی وسائل (مثلاً اےندھن، دھاتےں، وغےرہ) جس خطرناک مقدار سے استعمال کےا جارہا ہے لوگ اس خطرے سے دو چار ہےں کہ آنے والے وقت مےں ےہ مقدس نہ ہوجائے۔ 
اب اگر رےسائےکلنگ سے توانائی اور قدرتی وسائل کو بچانے کی بات کی جائے تو رےسائےکلنگ کی افادےت کا بہتر انداہ ہوتا ہے ۔ صنعتےں کسی بھی چےز کی تشکےل کرتی ہےں آےا وہ اےک کمےز ہو کاغذ کا ٹکڑا اس کے لئے خام مادے مےں سے بہت سارے وسائل کو استعمال کےا جاتا ہے۔ جس مےں سر فہرست آب، درخت، جےوشےم اےندھن اور کوئلہ وغےرہ کرنا پڑتا ہے ۔ جس کی وجہ سے زمےن پر سے وسائل کی کمی کا خطرہ لاحق ہے۔ جبکہ رےسائےکلنگ کے ذرےعے ہم نا صرف ہم اپنے خام وسائل کو بچا سکتے ہےں بلکہ اس کے ذرےعے ماحولےاتی آلودگی کو بھی کم کرسکتے ہےں۔ 
رےسائےکلنگ کاغذ بمقابلہ نےا کاغذ 
توانائی کی کھپت کی بات کی جائے تو اےک ٹن کاغذ بنانے مےں 33 ملےن BTU (British Thermal Unit) لگتی ہے۔ برعکس اسکے اگر کاغذ کی رےسائےکلنگ کی جائے تو کھپت 33 فےصد کم ہو کر 22 ملےن BTU ہوجاتی ہے۔ 
اےک ٹن کاغذ بناتے ہوئے گرےن ہاﺅس گےسز 5,601پاﺅنڈز خارج ہوتی ہے اگر اتنا ہی پےپر رےسائےکلڈ کےا جائے تو ےہ اخراج 3,533 پاﺅنڈز ہوجائے گا ۔ جو کہ 37% فےصد کم ہے۔ 
اےک ٹن کاغذ کو بنانے کے لئے 24درخت درکار ہوتے ہےں اگر اتنا ہی کاغذ رےسائےکلنگ سے بناےا جائے تو ےہ مقدار 24درخت سے صفر درخت ہوجاتی ہے ۔ جو کہ پورے 100%بچت کے برابر ہے ۔ 
گلوبل وارمنگ اور اوزون لےئر کو نقصان پہچانے والی گےسز بھی سب سے زےادہ صنعتوں سے خارج ہوتی ہےں ، سن 1800 جو کہ صنعتوں کی ترقی کا صدی کہا جاتا ہے، اس مےں اوزون لےئر کو سب سے زےادہ نقصان پہنچاےا گےا۔ صنعتوں مےں سے گرےن ہاﺅس گےسز کے اخراج کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو کاربن ڈائی اکسائےڈ (CO2) جو کہ جےواشم اےندھن کے استعمال سے خارج ہوتی ہے۔ 

چھ گرےن ہاﺅس گےسز مقدار 
گےس 
زرےعہ 
عالمی اخراج کا تناسب مےں 
کاربن ڈائی آکسائےڈ(CO2) 
ےہ حےاتےاتی اےندھن کو جلانے سے وجود مےں آتی ہے اور درختوں کی کٹائی سے 
76.7%اور 56.6% حےاتےاتی اےندھن سے 
مےتھےن(CH4)
زراعتی سرگرمےوں، توانائی کی پےداوار اور فضلہ سے 
14.3%
نٹرس آکسائےڈ (N2O)
زےادہ تر زراعتی سرگرمےوں سے 
7.9%
ہائےڈرو فلورو کاربن(HFCS)
اوزون لےئر کو ختم کر کے وجود مےں آتی ہے 
1.1%
سلفر ہےگزا فلورائےڈ (SF6)
صنعتی عمل اور بجلی کے آلات کی وجہ سے 


گرےن ہاﺅس گےسز (GHG) اخراج مےں چائےنہ ، امرےکااور انڈےا سر فہرست ہےں اور پاکستان اس مےں 304.85 مےٹرک ٹن جو کہ پاکستان کا 0.7% ہے۔ 
پبلک رےسائےکلنگ آفےشلز آف پےنی پنسلوانےا کے مطابق ہر اےک تن پےپر جو رےسائےکلڈ کےا جاتا ہے مندرجہ ذےل خام وسائل کو بچانے کی وجہ سے بنتا ہے۔ 
٭ 275پاﺅنڈ زسلفر کے 
٭ 350پاﺅنڈز چونا پتھر کے 
٭ 900 پاﺅند بھاپ کے۔ 

٭ 60,000گےلنز پانی کے 
٭ 225 کلو واٹ گھنٹے 
٭ 3.3کےوبک ےارڈز زمےن کی جگہ 

معاشی فائدے 
پاکستان جےسے ممالک جو پہلی ہی معاشی مسائل سے پرےشان ہےں ۔ اےسے ممالک رےسائےکلنگ کے کارخانوں کو لگانے کے لئے نوجوانوں کی پذےرائی کرےں تو ےہ نا صرف ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے مےں فائدہ مند ہوگا بلکہ روزگار پےدا کرنے مےں بھی فائدہ مند ہوگا۔ 

ہم اپنے مستقبل کی نسلوں کو ےہ پےغام دےنا چاہتے ہےں کہ رےسائےکلنگ آچ کی دنےا مےں دنےا مےں بہت اہم کردار رکھتی ہے۔ اور ےہ ہمارے معاشرے کے لئے بہت ضروری ہے اور ہمارے ملک کی حکومت کو اس کی آگاہی کے لئے اےسے اقدامات عمل مےں لانے چاہئےں کہ جس سے پاکستان مےں زےادہ سے زےادہ رےسائےکلنگ کے کام کو ترجےح دی جائے کےونکہ آج بھی دےکھا جائے تو پاکستان مےں کاغذ کی رےسائےکلنگ کی شرح بہت کم ہے اور پاکستان آج بھی دوسرے ملکوں سے روز مرہ کے استعمال کے لئے کاغذ برآمد کرتا ہے۔ اور اسی طرح دوسری چےزےں جےسے پلاسٹک لوہا اور دےگر دھاتےں جن کی پاکستان مےں رےسائےکلنگ کی شرح کافی کم ہے تو حکومت کو چاہئے کہ وہ معاشرے مےں اےسی آگاہی کو برپا کرےں جس سے معاشرے مےں رےسائےکلنگ کو اچھی چےز سمجھا جائے۔ 

پروفائل 
اس تحقےق کے سلسلے مےں جب اےک کباڑی نظام درباری سے بات کی گئی جو کہ اس پےشے مےں پچھلے 28 سال سے کام کررہے ہےں تو انہوں نے اپنی پےشہ ورانہ زندگی سے بہت سی اےسی باتےں بتائےں جو کہ ہمارے معاشرے کو اور بہتر بنانے مےں بہت کام آسکتی ہےں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے مےں اس کو اےک گندی اور بےکار چےز سمجھا جاتا ہے جبکہ ےہ بات سچ ہے کہ قدرت نے کوئی چےز بےکار نہےں بنائی ہر اےک ذرہ اہمےت کا حامل ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ رےسائےکلنگ اےک اےسا کام ہے جو کچرے کو قابل استعمال بناتا ہے اگر رےسائےکلنگ کو روک دےا جائے تو چند دنوں مےں ہم کچڑوں کے ڈھےر کے درمےان ہونگے جو کہ اےک صحت مند معاشرے کی نشانی نہےں ہے۔ اور ان کا کہنا تھا کہ ےہ اےک کاروبار کا بھی بہترےن ذرےعہ ہے ۔ 
    جہاں ہمارا ملک دوسرے کئی شعبوں میں دیگر ترقی یافتہ ممالک سے الگ تھلگ تنہا کھڑا نظر آتا ہے وہیں ہمیں ری سائیکلنگ کے شعبے میں بھی تنہائی کا سامنا ہے ہمارے ملک میں وسائل کی بھرمار ہوتے ہوئے بھی ہم ان وسائل کو استعمال کرنے سے قاصر ہیں ہمارے ہمسائے ممالک ہم سے کہیں زیادہ اس صنعت کو فروغ دے چکے ہیں بلکہ اس صنعت کا ان کی معیشت میں بھی اہم کردار ہے اگر ہمارے حکمران بھی اس پر توجہ دیں تو ہم بھی اس سے اپنی معیشت کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

The work was carried under supervision of Sir Sohail Sangi 

Wednesday, September 9, 2015

محمد موسی بھٹو انٹرویو



بلال حسن رول نمبر 2k13/mc/28 4th Writting piece محمد موسی بھٹو (انٹرویو)

محمد موسی بھٹو 1951 شکار پور میں پیدا ہوئے ان کا شمار سندھ کے مشہور مصنفوں میں کیا جاتا ہے۔ اور یہ اردو اور سندھی کے بہترین مصنف ہیں جنہوں نے اردو اور سندھی میں بہت سی کتابیں لکھیں ان کی تحریر فکر اور حکمت کا دلکش نمونہ ہے اور یہ سندھ نیشنل اکیڈمی ٹرسٹ کے سربراہ بھی ہیں۔ اور یہ اس وقت حیدرآباد لطیف آباد نمبر 4 میں قیام پذیر ہیں۔ 


سوال آپ نے اپنے لکھنے کا آغاز کب اور کیسے کیا؟
جواب میرے لکھنے کا سفر مارچ 1970ء سے شروع ہوا جس میں الوحید کے نام سے ایک اخبار تھا جس میں میرے مختلف موضوع پر مضامین شائع ہوتے تھے اس کے بعد فروری 1971 ء میں جسارت اخبار میں لکھنا شروع کیا۔ تو لکھنے کے سفر کا بقاعدہ آغاز صحافت سے ہوا۔ 



سوال آپ نے اپنی تحریر کے ذریعے جو فکر و حکمت پیش کی اس کا اصل مقصد کیا ہے؟
جواب در اصل انسان کی شخصیت میں 4 چیزیں موجو دہیں ۔ روح، دل، نفس اور دماغ۔ ان چار چیزوں کے مجموعے کا نام انسان ہے۔ اگر ہم دیکھیں جب انسان مر جاتا ہے تو انسان کا وجود تو رہتا ہے مگر نہ وہ بول سکتا ہے نہ سن سکتا ہے اور نہ ہی کوئی عمل کرنے کے قابل رہتاہے تو اس بات سے یہ ثابت کہ جب انسان کی روح جسم سے نکل جائے تو وہ کسی کام کا نہیں رہتا اور یہی مثال ان چاروں چیزوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ تو ہماری فکر یہ ہے کہ ان چیزوں کی تسکین اور ان کا اطمینان کا پورا توازن کے ساتھ فکر و حکمت کی جائے۔ 



سوال آپ کی پہلی تحریر کونسی تھی؟
جواب میری ابتدائی تحریر سندھ کے موضوع پر تھی جس میں سندھ کے حالات اور واقعات بیان کئے تھے اور میں نے اپنی ابتدائی تحریر میں سندھ کے مسائل پر بھی روشنی ڈالی تھی ۔ 



سوال قومی تعمیر و زوال میں نظام تعلیم کا کردار بتائیں؟
جواب اگر موجودہ دور کی بات کی جائے تو ہر قوم کی تعمیر زوال کا شکار ہے جس میں بہت سارے مسئلے مسائل ہمارے معاشرے کو متاثر کررہے ہیں جس میں سے ایک مسئلہ تعلیم کا بھی ہے ۔ تو ہم نے اس مسئلے کے حوالے سے معاشرے میں تعلیم کے نظام پر روشنی ڈالی ہے۔ کہ ہمارا تعلیمی نظام اس طرح ہونا چاہئے کہ جس میں بچوں کو شعور کے ساتھ ساتھ ان کی سوچ اور فکر پر بھی کام کیا جائے تاکہ وہ ہمارے معاشرے کی ہر چیز کو صحیح ڈھنگ سے دیکھیں اور صحیح اور غلط کی پہچان کرسکیں۔ 



سوال آپ کی ایک مشہور کتاب جدید سندھ کے مسائل کو لکھنے کا اصل مقصد کیا تھا چند مسائل بھی بتائیں؟ 
جواب در اصل بات یہ ہے کہ سندھ شدید احساسات کا شکار ہے اور اس کے بہت سے اسباب ہیں یہاں میں کچھ مسائل بیان کرتا ہوں کہ ماضی کی کچھ سر گرمیوں نے سندھ کو بہت متاثر کیا جس میں ون یونٹ کا مسئلہ رہا کہ پنجا ب نے کسطرح سندھ کی حثیت کو دبانے کی کو شش کی کہ چھوٹے چھوٹے کام کے لیے سندھ کو پنجا ب کے پاس جانا پڑتا ۔ اس کے بعد ایک اور مسئلہ سند ھی زبا ن کا تھا ایوب خان کے دور میں سندھی زبان کی سرکاری اہمیت کو ختم کردیا جبکہ سندھی زبان سندھ میں صدیو ں سے بولی جاتی ہے۔ اسی طرح کے مسائل میں نے اپنی کتاب میں قلم بند کیئے ہیں ۔



سوال نوجوانوں کے لیے کو ئی خا ص پیغام ؟
جواب نوجوانوں کے لیے یہی پیغام ہے کہ اپنی فکر کو منفی فکر سے بچائیں اور اپنی سوچ کو تعمیری بنائیں اور نوجوانو ں کو چاہیے لذت زندگی کو بھلاکر ضرورت زندگی پر دیہان دیں اور یہی دستور زندگی ہے۔

Tuesday, September 1, 2015

پروفائل لیاقت علی : بلال حسن weak

Weak
بلال حسن رول نمبر 2k13/MC/28 3rd writing piece

پروفائل لیاقت علی(سوشل ورکر)
یہ سچ ہے کہ دنیا میں ایسے لو گ بھی موجود ہیں جنہوں نے انسانیت کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی اوران لوگوں کی قربانی اور جدوجہد آج بھی تاریخ پر رقم ہے۔ جیسا کہ عبدالستار ایدھی،رمضان چھیپا،انصار برنی اور بہت سی عظیم شخصیات جس میں ایک نام لیاقت علی کا بھی ہے کہنے کو تو یہ ایک عام سا شخص ہے مگرانکی خدمات انسانیت کی بہترین مثال پیش کرتی ہیں کہ کس طرح اس شخص نے انسانیت کی خدمت اور فلاحی کاموں کے لیے اپنا گھر چھوڑ کر جگہ جگہ سفر کیا۔ 



لیاقت علی 1970میں ضلع خیر پور میں پیدا ہوئے انھوں نے ابتدائی تعلیم ایک سرکاری اسکول سے حاصل کی اور 15 سال کی عمر میں حیدرآباد آگئے پھر اپنی بقیہ تعلیم کو حیدرآباد آکر جاری رکھا اگر انکی شخصیت پر نظرڈالی جائے تو کافی پر سکون اور خوش مزاج انسان ہیں اور ہر کسی سے مسکرا کر پیش آتے ہیں بہت ہی سادہ لباس پہننا پسند کرتے ہیں اور ان کی شخصیت عاجزی اورانکساری کی بہترین مثال ہیں۔


لیاقت علی کی اگر خدمات پر نظر ڈالی جائے تو ان کو بچپن سے ہی دوسرں کی مدد کرنے کا شوق رہا اور آہستہ آہستہ یہ شوق جنون بن گیااور انہوں سے1990کے بعد سے فلاحی کاموں کا باقائدہ آغازکیا جس میں یہ اپنے دوستوں کے ہمراہ ضرورت مندوں کی مدد کیا کرتے تھے اوریہ چند دوستوں کے ساتھ مل کر اپنے زاتی اخراجات میں سے ہر ماہ ضرورت مندوں میں راشن تقسیم کیاکرتے تھے پھر چندسال بعد کچھ فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر بلاکسی معاوضہ انسانیت کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنی خدمات کی وجہ سے شہروں شہروں سفرکیا او ر اسی جدوجہد میں انہیں ملک سے باہر بھی جانا پڑا ا ور اپنا آرام وسکون بھلاکر انسانوں کے دکھ دردکو ترجیح دی ۔ا یسے شخص آج کے دورمیں بہت ہی کم نظر آتے ہیں جب لیاقت علی سے گھر چھوڑ نے کی وجہ پر بات کے گئی تو ان کا کہنا تھا کہ اصل زندگی کا مقصد دوسروں کے لیے جینا ہی ہے جب لوگ اپنے مفاد اور کاروبار کے لیے ملک چھوڑ سکتے ہیں تو میں نے تو صرف انسانیت کے لیے اپناگھر چھوڑاہے اور انکا کہنا تھا کہ اگر ہر فرد انسانیت کی خدمت کے لیے اپنا تھوڑا تھوڑا کردار ادا کرئے تومعاشرے میں مفلسی کے مسائل میں واضح کمی آئے گی ۔ اگر انکی موجو دہ خدمات پر نظر ڈالی جائے تواس وقت یہ سیلاب زدگان کی خدمت میں مصروف ہیں ان تمام خدمات میں عملی کردار بہت واضح ہے اور ان کا یہ عملی کردارانسانیت کی خوبصورت مثال ہے۔


یہی وہ لوگ ہیں جو ہمارے معاشرے کا اثاثہ ہیں اور انہی کی وجہ سے انسانیت زندہ ہے جن کا کردار ہمارے معاشرے کے لیے زخم پر مرہم کی طرح ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو دوسرں کے لیے جیتے ہیں اور یہی انسان کی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ 
-------------- -----------------------------------------------------
بلال حسن رول نمبر 2k13/MC/28 3rd writing piece

اسپیلنگ مسٹیکس بہت ہیں۔ اور اسکو پانچ سو الفاظ تک ہونا چاہئے۔ ایڈیٹنگ میں پچاس الفاظ کٹ جائیں گے۔ 

پروفائل لیاقت علی(سوشل ورکر)
یہ سچ ہے کہ دنیا میں ایسے لو گ بھی موجود ہیں جنہوں نے انسانیت کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی اوران لوگوں کی قربانی اور جدوجہد آج بھی تاریخ پر رقم ہے۔ جیسا کہ عبدالستار ایدھی،رمضان چھیپا،انصر برنی اور بہت سی عظیم شخصیات جس میں ایک نام لیاقت علی کا بھی ہے کہنے کو تو یہ ایک عام سا شخص ہے مگرانکی خدمات انسانیت کی بہترین مثال پیش کرتی ہے کہ کس طرح اس شخص نے انسانیت کی خدمت اور فلاحی کاموں کے لیے اپنا گھر چھوڑ کر جگہ جگہ سفر کیا۔ 



لیاقت علی 1970میں ضلع کھیر پور میں پیدا ہوئے انھوں نے ابتدائی تعلیم ایک سرکاری اسکول سے حاصل کی اور 15 سال کی عمر میں حیدرآباد میں آگئے اور اپنی بقیہ تعلیم کو حیدرآباد آکر جاری رکھا اگر انکی شخصیت پر نظرڈالی جائے کو کافی پر سکون اور خوش مزاج انسان ہیں ہر کسی سے مسکرا کر پیش آتے ہیں بہت ہی سادہ لباس پہننا پسند کرتے ہیں عاجزی اورانکساری بہترین مثال ہیں۔



لیاقت علی کی اگر خدمات پر نظر ڈالی جائے تو انکو بچپن سے ہی دوسرں کی مدد کرنے کا شوق رہا اور آہستہ آہستہ یہ شوق جنون بن گیااور انہوں سے1990کے بعد سے فلاحی کاموں کا باقائدہ آغازشروع کیا جس میں یہ اپنے دوستوں کے ہمراہ ضرروت مندوں کی مدد کیا کرتے تھے اوریہ چند دوستوں کے ساتھ مل کر اپنے زاتی اخراجات سے ہر ماہ ضرورت مندوں میں راشن تقسیم کیاکرتے تھے پھر چندسال بعد کچھ فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر بلاکسی معافضہ انسانیت کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصًہ لیا اور اسی خدمات کی وجہ سے شہروں شہروں سفرکر تے اورسکوں بھلاکر دوسروں دکھ دورکرنے والاشخص آج کے دورمیں بہت ہی کم نظر آتے ہیں جب لیاقت علی سے گھر چھوڑ نے کی وجہ پر بات کے گئی تو انکا کہنا تھا کہ اصل زندگی کا مقصد دوسروں کے لیے جینا ہی ہے جب لوگ اپنے مفاد کے لیے ملک چھوڑ سکتے ہیں تو میں نے تو انسانیت کے لیے گھر چھوڑاہے اگر انکی موجو دہ خدمات پر نظر ڈالی جائے تواس وقت یہ سیلاب زدگان کی خدمت میں مصروف ہیں ان تمام خدمات میں عملی کردار بہت واضح ہے اور ان کا یہ عملی کردارانسانیت کی خوبصورت مثال ہے۔



یہی وہ لوگ ہیں جو ہمارے معاشرے کا اساسہ ہیں اور انہی کی وجہ سے انسانیت زندہ ہے جن کا کردار ہمارے معاشرے کے لیے زخم پر مرہم کی طرح ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو دوسرں کے لیے جیتے ہیں اور یہی انسان کی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ 

Thursday, August 20, 2015

حیدرآبا د میں لوکل بسّو ں میں کمی

بلال حسن رول نمبر 2k13/MC/28 2nd writing piece
آرٹیکل لوکل بسّو ں میں کمی

سفر انسان کی زندگی کا اہم ترین حصّہ اور ضرورت ہے۔اگرذریعہ سفر پرنظرڈالی جائے تو ماضی میں بہت ہی کم زریعے نظر آتے ہیں لوگ زیادہ تر پیدل اور اونٹ پر سفر کیا کرتے تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں جدّت اور ترقی ہوتی گئی اور موجودہ دور میں لوگ بس ،ٹرین ، جہاز اور اپنی زاتی سواری میں سفر کرتے ہیں اگر یہ ذریعے کم یا پھر ختم ہو جائیں لوگوں کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ایسا ہی کچھ حال لطیف آبا د کا ہے جہاں لوکل بسیں نہ ہو نے کے برابر ہیں۔


اگر حیدرآبا د میں بسّوں کی تا ر یخ پر نظر ڈا لی جائے تو 1960 میں بسّوں کے سفرکاآغاز ہوااور اس وقت صرف گورنمٹ کی بس چلا کرتی تھیں جس کا کرایہ ایک آنہ تھا پھر اسکے کچھ عرصے بعد ڈبل ٹیکر بسیں چلنے لگی جو کہ اس وقت کی مشہور بس تھی اور اس میں کافی تعداد میں مسافر سفر کرتے تھے اوراس بس کا کرا یہ صرف 2آنے تھا اور یہ دونوں بسیں لطیف آباد نمبر9 7,سے لیکر کچہ قلعہ،اسٹیشن اور مارکیٹ تک جاتی تھیں ۔

  ۔ 1971کے بعد ڈبل ٹیکر بسیں چلنا بند ہو گئیں اسکے بعد A1 بسیں چلنا شروع ہوئی جو کہ آج تک چل رہی ہیں۔


اب حیدر آبا د میں موجودہ بسّوں کی تعداد پر نظر ڈالی جائے تو 1998 میں بسّوں کی تعداد ۱150 سے زائد تھی جس میں 108 لطیف آبادکی اور باقی سٹی ایریااور قاسم آباد کی تھیں اور۱س وقت بھی 150 سے زائد ہیں مگر ا س کے باوجودحیدرآباد میں لوکل بسیں سڑکوں پر کم نظر آرہی ہیں۔ کئی علاقے مثلا پھلیلی، پریٹ آباد، ہالہ ناکہ ، فقیر کا پڑ، سستی سفری سہولیات سے محروم ہیں۔ حسین آباد، جی او آر کالونی کے رہائشیوں کو کوٹری کی بس کا سہارا ہے۔ 

شہر سے قاسم آباد تک کوئی بس نہیں چلتی۔ یہاں بسنے والے لاکھوں لوگوں کو سوزکیوں یا رکشاء کے ذریعے شہر آنا پڑتا ہے جو ان کی آمدن کے حساب سے گراں گزرتا ہے۔ یہی صورتحال لطیف آباد کی ہے جبکہ لطیف آباد کی آبادی 7لاکھ سے زائد ہے۱سکی موضوع پر بس ڈرائیور سے بات کی گئی تو بہت ساری وجوہات سامنے آئی۔ شہر میں ناجائز تجاوزات بڑھنے کی وجہ سے سڑکوں کا تنگ ہونا، بھتہ خوری، سی این جی کی قلت ،کم کرایہ، پبلک سواری میں اضافہ جس میں سوزوکی ،منی ٹیکسی،چنچی اور موٹر سا ئیکل وغیرہ شامل ہے  

ایک اور اہم وجہ جس پر ایک بس کے مالک اقبال علی نے بہت زور دیا اور وہ وجہ تھی سی این جی رکشہ اسکا کہنا تھا کہ ان رکشوں کی وجہ سے بسّوں کے مسافروں پر بہت اثر پڑا ہے کیونکہ یہ سی این جی رکشے بسّوں کے مسافرو ں کو اپنی جانب کھنچ رہے ہیں ویسے تو رکشے ذاتی سواری کے طور پر استعمال ہو تے ہیں مگر سی این جی رکشوں میں بڑھتے ہوئے اضافے کے بعد مسافر کم ہو گئے ہیں اور رکشے کو پبلک سواری بنا لیا ہے اور کرایہ صرف10 سے 15روپے فی سواری ہے مگر اس سے لوکل بسّو ں پر بہت اثر پڑا ہے۔

لوکل بسّو ں کے مالکان کا مطالبہ ہے کے سب سی پہلے سی این جی رکشوں کو پبلک سواری کے طور پر چلانے کی پابندی لگائی جائے ۔

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi

Tuesday, August 18, 2015

باشاہی بنگلہ

بلال حسن رول نمبر 2  k13/MC/28  
فیچر باشاہی بنگلہ حیدرآباد

 Unedited
 fotos will be required
قد یم مقامات ہر شہر کے تاریخی ورثے ہوتے ہیں۔اور ان مقاما ت کے ساتھ بہت سی یادیں اور تہذیب وابستہ ہوتی ہیں ایسے ہی حیدرآباد کے چند قدیم مقاما ت جو کہ حیدرآباد کی تاریخی تعمیرات کا ایک دلکش نمونہ ہیں جس میں کچا قلعہ ،ٹالپور کے مقبرے،مکھی ہاوس او ر بھی بہت سی تعمیرات جس میں سے ایک بادشاہی بنگلہ بھی ہے جسکو میروں کی حویلی بھی کہا جاتا ہے او ر یہ بنگلہ لطیف آبا د نمبر 4ٹنڈر تالپور میں واقع ہے۔


اگر بادشاہی بنگلہ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بنگلہ 1863میں میر نصیر خان تالپور نے اپنے آخری حکمران فرزند میر حسن تالپور کے لیے کروایا تھااور 1970میں سابق وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کی جانب سے چند سالوں کے لیے اس بنگلہ پرپابندی لگائی گئی پھر کچھ عرصے بعد ہٹا دگئی یہ شاندار محل نہ حکومت کی طرف سے بحا ل کیا اور نہ ہی اسکے مالکان کو اس کو برقراررکھنے کی اجازت دی گئی پھر بعد میں بعض وزرات کی ؂جانب سے ان کے مالکان کو واپس کیا گیا اور اس کے موجودہ مالک بہت سے ہیں جس میں میرفتح تالپور،میر حیدر تالپوروغیرہ شامل ہیں۔


اب اس بنگلے کی خوبصورتی اور نقش ونگار کی بات کی جائے تو کیا ہی دلکش منظر زہن میں آتا ہے کہ اس کے عتراف میں چاروں طرف ہریالی اور باغات اس کی اس کی شان و شوکت بڑھا دیتے ہیں اور جیسے ہی اس کے عتراف میں قدم رکھتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم بادشاہو ں کے دور میں آگئے ہوں اور اسکے نقش و نگار اور بناوٹ اس کے حسن کی گواہی دیتے ہیں ۔ یہ بنگلہ تین منزلوں پر مشتمل ہے اس کی بناوٹ اور سجاوٹ میں زیادہ تر استعمال لکڑی اور شیشے کا کیا گیا ہے۔محل میں لگی رنگ برنگی شیشے کی کھڑکیاں اس کو اور زیادہ خوبصورت بنا دیتی ہیں اور دیواروں پرہوا شیشے کا کام بنگلہ کی اندرونی خوبصورتی کو اورسنوار دیتا ہے۔ اور بہت سی قیمتی اور علیشان چیزیں ،جنھوں نے اس محل کی ذینت کو آج بھی قائم رکھا ہوا ہے۔

ایسی ہی بہت سی تاریخی تعمیرات اور مقاما ت جو حیدرآبادکا حصّہ ہیں اور حیدرآباد کو ایک الگ اور منفردپہچان دیتی ہیں جنہیں دیکھنے کے ساتھ ساتھ لوگ ان کی تاریخ سے بھی واقف ہوتے ہیں اور یہ سچ ہے کے یہی تاریخی نشانیاں ہمیں ماضی کو یاد رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

Bilal Hassan    k13/MC/28  
Second semester BS-III 

August 2015 
Practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi 

لوکل بسّو ں میں کمی Revised

Revised 
بلال حسن رول نمبر 2k13/MC/28 2nd writing piece
آرٹیکل لوکل بسّو ں میں کمی (لطیف آباد)
سفر انسان کی زندگی کا اہم ترین حصّہ اور ضرورت ہے۔اگرذریعہ سفر پرنظرڈالی جائے تو ماضی میں بہت ہی کم زریعے نظر آتے ہیں لوگ زیادہ تر پیدل اور اونٹ پر سفر کیا کرتے تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں جدّت اور ترقی ہوتی گئی اور موجودہ دور میں لوگ بس ،ٹرین ، جہاز اور اپنی زاتی سواری میں سفر کرتے ہیں اگر یہ ذریعے کم یا پھر ختم ہو جائیں لوگوں کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ایسا ہی کچھ حال لطیف آبا د کا ہے جہاں لوکل بسیں نہ ہو نے کے برابر ہیں۔

اگر حیدرآبا د میں بسّوں کی تا ر یخ پر نظر ڈا لی جائے تو 1960 میں بسّوں کے سفرکاآغاز ہوااور اس وقت صرف گورنمٹ کی بس چلا کرتی تھیں جس کا کرایہ ایک آنہ تھا پھر اسکے کچھ عرصے بعد ڈبل ٹیکر بسیں چلنے لگی جو کہ اس وقت کی مشہور بس تھی اور اس میں کافی تعداد میں مسافر سفر کرتے تھے اوراس بس کا کرا یہ صرف 2آنے تھا اور یہ دونوں بسیں لطیف آباد نمبر9 7,سے لیکر کچہ قلعہ،اسٹیشن اور مارکیٹ تک جاتی تھیں پھر 1971کے بعد ڈبل ٹیکر بسیں چلنا بند ہو گئیں اسکے بعد A1 بسیں چلنا شروع ہوئی جو کہ آج تک چل رہی ہیں۔

اب حیدر آبا د میں موجودہ بسّوں کی تعداد پر نظر ڈالی جائے تو 1998 میں بسّوں کی تعداد ۱150 سے زائد تھی جس میں 108 لطیف آبادکی اور باقی سٹی ایریااور قاسم آباد کی تھیں اور۱س وقت بھی 150 سے زائدہیں مگر ا س کے باوجودحیدرآباد میں لوکل بسیں سڑکوں پر کم نظر آرہی ہیں۔ کئی علاقے مثلا پھلیلی، پریٹ آباد، ہالہ ناکہ ، فقیر کا پڑ، سستی سفری سہولیات سے محروم ہیں۔ حسین آباد، جی او آر کالونی کے رہائشیوں کو کوٹری کی بس کا سہارا ہے۔ شہر سے قاسم آباد تک کوئی بس نہیں چلتی۔ یہاں بسنے والے لاکھوں لوگوں کو سوزکیوں یا رکشاء کے ذریعے شہر آنا پڑتا ہے جو ان کی آمدن کے حساب سے گراں گزرتا ہے۔ یہی صورتحال لطیف آباد کی ہے جبکہ لطیف آباد کی آبادی 7لاکھ سے زائد ہے۱سکی موضوع پر بس ڈرائیور سے بات کی گئی تو بہت ساری وجوہات سامنے آئی۔ شہر میں ناجائز تجاوزات بڑھنے کی وجہ سے سڑکوں کا تنگ ہونا، بھتہ خوری، سی این جی کی قلت ،کم کرایہ، پبلک سواری میں اضافہ جس میں سوزوکی ،منی ٹیکسی،چنچی اور موٹر سا ئیکل وغیرہ شامل ہے لیکن ایک اور اہم وجہ جس پر ایک بس کے مالک اقبال علی نے بہت زور دیا اور وہ وجہ تھی سی این جی رکشہ اسکا کہنا تھا کہ ان رکشوں کی وجہ سے بسّوں کے مسافروں پر بہت اثر پڑا ہے کیونکہ یہ سی این جی رکشے بسّوں کے مسافرو ں کو اپنی جانب کھنچ رہے ہیں ویسے تو رکشے ذاتی سواری کے طور پر استعمال ہو تے ہیں مگر سی این جی رکشوں میں بڑھتے ہوئے اضافے کے بعد مسافر کم ہو گئے ہیں اور رکشے کو پبلک سواری بنا لیا ہے اور کرایہ صرف10 سے 15روپے فی سواری ہے مگر اس سے لوکل بسّو ں پر بہت اثر پڑا ہے۔

لوکل بسّو ں کے مالکان کا مطالبہ ہے کے سب سی پہلے سی این جی رکشوں کو پبلک سواری کے طور پر چلانے کی پابندی لگائی جائے ۔  

------------------------------------------------------------------------------------------------

OLD VERSION

بلال حسن رول نمبر

2 k13/MC/28 2nd writing piece

Do not  confine this issue to Latifabad.  Make it for Hyd, means old city area and Qasimabad also.  Population of Latifabad, Old city area, and Qasimabad, What problems are created in absence of buses? Issue of four-seaters, suzukies, increasing number of motorcycles. 
Alos mention old routes of govt buses, and doyble decker buses, 
Un edited
آرٹیکل لوکل بسّو ں میں کمی (لطیف آباد)
یہ سچ ہے کہ سفر انسان کی زندگی کا اہم ترین حصّہ اور ضرورت ہے۔اگر زریعہ سفر پرنظرڈالی جائے تو ماضی میں بہت ہی کم زریعے نظر آتے ہیں لوگ زیادہ تر پیدل اور اونٹ پر سفر کیا کرتے تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں جدّت اور ترقی ہوتی گئی اور موجودہ دور میں لوگ بس ،ٹرین ، جہاز اور اپنی زاتی سواری میں سفر کرتے ہیں اگر یہ زریعے کم یا پھر ختم ہو جائیں لوگوں کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ایسا ہی کچھ حال لطیف آبا د کا ہے جہاں لوکل بسیں نہ ہو نے کے برابر ہیں۔

 

اگر حیدرآبا د میں بسّوں کی تا ر یخ پر نظر ڈا لی جائے تو 1960 میں بسّوں کے سفرکاآغاز ہوااور اس وقت صرف گورنمٹ کی بس چلا کرتی تھیں جس کا کرایا 1 آنہ تھا پھر اسکے کچھ عرصے بعد ڈبل ٹیکر بسیں چلنے لگی جو کہ اس وقت کی مشہور بس تھی اور اس میں کافی تعداد میں مسافر سفر کرتے تھے اواس بس کا کرا یہ صرف 2آنے تھا پھر 1971 کے بعد ڈبل ٹیکر بسیں چلنا بند ہو گئیں اسکے بعد A1 بسیں چلنا شروع ہوئی جو کہ آج تک چل رہی ہیں۔
اب لطیف آبا د کی بسّو ں کا رخ کیا جائے تویہاں بسّوں کی تعداد نہ ہونے کے برابرہے ۔ 1998 میں لطیف آباد میں بسّوں کی تعداد 108تھی اور۱ب صرف 35ہے جن میں سے صرف 12 لوکل چل رہی ہیں باقی چند بند ہیں اورکچھ یونیورسٹی کے لیے چل رہی ہیں ۔ ۱سکی وجہ جاننے کے لیے جب کچھ بس ڈرایور سے اس سلسلے میں بات کی گئی تو بہت ساری وجوہات سامنے آئی جیسا کہ سی این جی کی قللت ،کم کرایا، بسّوں میں کمی ،لیکن اہم وجہ جس پر ایک بس کے مالک اقبال علی نے بہت زور دیا اور وہ وجہ تھی سی این جی رکشہ اسکا کہنا تھا کہ ان رکشوں کی وجہ سے بسّوں کے مسافروں پر بہت اثر پڑا ہے کیونکہ یہ سی این جی رکشے بسّوں کے مسافرو ں کو اپنی جانب کھنچ رہے ہیں ویسے تو رکشے ذاتی سواری کے طور پر استعمال ہو تے ہیں مگر سی این جی رکشوں میں بڑھتے ہوئے اضافے کی وجہ سے رکشوں کے مسافر کم ہو گئے ہیں اسی وجہ سے رکشوں کے مالکوں نے رکشوں کو پبلک سواری بنا لیا ہے اور کرایا صرف10 سے 15روپے فی سواری ہے مگر اس سے لوکل بسّو ں پر بہت اثر پڑا ہے۔

 

لوکل بسّو ں کے ملکان کا مطلبہ ہے کے سب سی پہلے سی این جی رکشوں کو پبلک سواری کے طور پر چلانے کی پابندی لگائی جائے پھر لطیف آباد کی وہ لو کل بسیں جو یونیورسٹی کے لیئے چلتی ہیں انکا پرمٹ منسوخ کیا جائے کیوں کہ یہ بسیں دن میں یونیورسٹی کے لیئے چلتی ہیں اور رات میں لوکل مگر ان کے پاس پرمٹ صرف لوکل چلانے کا ہے اور یہ بھی لوکل بسّو ں میں کمی کی ایک وجہ ہے اگراس پربر وقت قابو نہ پایا گیا تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ لطیف آباد میں لوکل بسیں ختم ہوجائیں گی۔ 
August 2015 

This practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi