Showing posts with label لطیف آباد. Show all posts
Showing posts with label لطیف آباد. Show all posts

Tuesday, August 25, 2015

فیچر: شاہین آرکیڈ : طلحہ شیخ

طلحہ شیخ 2k13/MC/111 (Revised)
شاہین آرکیڈ (فیچر )
موجودہ دور فیشن کا دور ہے ۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ ایک دوسرے اچھا دکھے ۔ اور بظاہر اچھا دکھنے کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ہے ان میں کپڑے ،جیولری، لڈیز بیگز ،جوتے اور سینڈل شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے دن بہ دن نت نئے فیشن لوگوں کے درمیان متعاورف کروائے جارہے ہیں ۔ لیکن ہمارے ملک زیادہ تر طبقہ ایسا ہے جو آجکل کے مہنگا ترین فیشن تک رسائی نہیں کرسکتا۔ لیکن اس کے باوجود حیدرآباد میں ایک ایسی مارکیٹ موجود ہے جہاں ہر فیشن کے کپڑے ، جیولری، اور سینڈل شوز وغیرہ رعایتی داموں میں مل جاتے ہیں۔ اور یہ مارکیٹ آج کل لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

جی ہاں آج ہم حیدرآباد کی شاہین آرکیڈ کی بات کررہے ہیں۔ شاہین آرکیڈ یونٹ8میں واقع ہے ۔ اس مارکیٹ کا قیام 1998میں کیا گیا تھا۔ یہ لطیف آباد کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ یہاں کپڑوں کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں با آسانی مل جاتی ہیں۔ یہ مارکیٹ 2حصوں پر مشتمل ہے ایک طرف کپڑوں اور جوتوں کی دکانیں ہیں تو دوسری طرف موبائل مارکیٹ ۔اس مارکیٹ میں صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ۔ اس مارکیٹ کے عقب میں لذیز کھانوں کے ہوٹلز اور بریانی کے اسٹالز بھی موجود ہیں۔ بات کی جائے مارکیٹ کی تو یہاں کم و بیش 50دکانیں موجود ہیں۔ اس مارکیٹ کے اندر درزیوں نے بھی وقت کے ساتھ ساتھ اپنا ڈیرہ جمع لیا ہے کیونکہ یہاں پر کپڑوں کی اسٹیچنگ اور آلٹر کرنے کا کا کام عروج پر ہے۔ یہاں کی مقبول ترین دکانیں میں ایڈوانس جینٹس گارمینٹس، الفیصل گارمینٹس، لوک مسٹراور کلاسک گارمینٹس فور جینٹس اینڈ چائیلڈ وےئر ہیں۔

شاہین آرکیڈ کے علاوہ شہر میں دوسری بڑی مارکیٹ بھی موجود ہیں جن میں گل سینٹر، صدر، ریشم گلی، کلاتھ مارکیٹ شامل ہیں۔ اگر ان مارکیٹوں سے شاہین آرکیڈ کا موازنہ کیا جائے تو ہمیں واضح فرق نظر آتا ہے کیونکہ اگر دوسری مارکیٹوں میں کپڑے اچھے ہیں تو مہنگے بھی بہت ہیں جو کہ مڈل کلاس لوگوں کی پہنچ سے باہرہیں اور جہاں کپڑوں کے دام کم ہیں وہاں پرانے فیشن اور بیکار ورائٹی نے اپنا ڈیرا ڈال رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ایسی چیز لینا چاہتے ہیں کہ جب وہ کسی اور کو دکھائیں تو انہیں اچھا فیڈ بیک ملے۔

دکان داروں کا کہنا ہے وہ ہر طرح کسٹمر کو ڈیل کرنا بخوبی جانتے ہیں اور ان کی سائیکی بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں اور انہی ریٹس میں کام کرتے ہیں جن میں انہیں فائدہ ہو اور خریدار کو بھی کسی قسم کا کوئی نقصان نہ ہو کیونکہ اس سے مارکیٹ کا نام خراب ہوتا ہے اور دکان کی value میں کمی واقع ہوتی۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں دکانیں میں آپس میں کافی کمپیٹیشن پایا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی خریدار کو اپنا کسٹمر بنانا چاہتا ہے اور ایسی چیز دینا چاہتا ہے جس کو دیکھ کر اسے اس دکان پر دوبارہ آنے کا من کرے۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس مارکیٹ کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اس بات کا اندازہ آپکو یہاں پر ہونے والے رش سے بخوبی ہوسکتا ہے۔

Saturday, August 22, 2015

حیدرآباد میں کنڈا مافیہ سرگرم


بہت خراب لکھا ہوا ہے۔ اور ایڈیٹنگ بھی ٹھیک سے نہیں کی گئی ہے۔

حیدرآباد میں کنڈا مافیہ سرگرم
محمد حماد
پوراملک بجلی کے بحران میں مبتلا ہے۔بجلی کے بحران نے شہریوں،صنعت کاروں،تاجروں اوردکانداروں کو معاشی بحران میں مبتلاکردیا ہے۔ حیدر آباد میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مکین پریشان ہیں۔بجلی کے بحران کا ایک بڑا سبب بجلی کی چوری ہے، جس کو حیسکو اور دیگر ڈسکو کمپنیاں روکنے میں ناکام رہی ہیں۔ 

شہر کے گنجان علاقے ہوں یا کچی آبادیاں اکثر مقامات پر کنڈا سسٹم چلتا ہے۔ حیدرآباد میں ایریگیشن اوربند کی زمینوں پر غیرقانونی بستی آباد ہیں جن کے گھروں میں بجلی کے غیرقانونی کنڈا کنکشن چل رہے ہیں جوکہ مختلف گروہوں نے ماہانہ 300سے لیکر 600روپے تک فی گھر کے حساب سے ان کو جاری کیئے ہیں۔ کافی تعداد میں غیر قانونی کنڈا کنکشن لگنے کی وجہ سے حیسکو کو کافی بھاری نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ 

غیر قانونی کنڈا کنکشن دینے میں چند لوگ ملوث ہیں ۔اور یہی لوگ اس کام کو سرانجام دے رہے ہیں اور یہ کنڈا مافیہ پورے حیدرآباد میں جگہ جگہ کام کر رہی ہے جس میں لطیف آباد نمبر ,12 ,10,5,11 مہرعلی،حالی روڈ،گجراتی پاڑا،امریکن کواٹر،اسلام آباد، پھلیلی ،پریٹ آباد ، لیاقت کالونی،حسین آباد، پکہ قلعہ ،کرسچن کالونی شامل ہیں۔

حیدرآباد میں بہت سی ایسی جگہ ہیں جہاں غیر قانونی آبادی قا ئم ہے جس کی وجہ سے جو لوگ قانونی طور پر رہ رہے ہیں ان لوگوں کو بھی بجلی کے بحرا ن میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔تقریباً250سے زائد گھر غیرقانونی جگہ پر آباد ہیں جن میں بجلی کے میٹر ہی نہیں ہے ۔گزشتہ ماہ رمضان میں حیسکو کے آپریشن میں معلوم ہوا کہ تقریباً600مکانوں میں سے 18مکانوں میں بجلی کے میٹرلگے ہوئے تھے اور باقی تمام کنڈا کنکشن پر چل رہے تھے۔ کچھ گھروں میں ایئرکنڈیشنر بھی تھے۔ 

ان کنڈا کنکشن اوربجلی چوروں کی وجہ سے جو گھر بجلی کا بل اداکرتے ہیں انہیں کافی مشکلات کا سامناکرنا پڑ رہا ہے کیونکہ حیسکو اپنی ریکوری پوری کرنے کے لئے چوری کی بجلی کے میٹر کے یونٹ شریف قسم کے صارفین کے بلوں میں ڈال دیتا ہے جس سے ان صارفین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔ 

حیدرآباد ڈویژن میں تقریباً 20کروڑ کی بجلی استعمال ہوتی ہے اور اس کی ریکوری تقریباً12سے 14کروڑہوتی ہے جسکی وجہ سے ریکوری کو پورا کرنے کے لئے بجلی کے یونٹ بڑھاکر ریکوری کو پورا کیا جاتا ہے۔

صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ جولوگ ایمانداری سے بل ادا کرتے ہیں وہ لوگ اپنے پورے علاقے میں ایک ٹیم تشکیل دیں ۔جس سے وہ لوگ جو غیر قانونی کنڈا کنکشن ملوث ہیں ان کے خلاف فوراًحیسکوہیلپ لائن پراطلاع دی جائے تا کہ ایسے لوگوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور ان کے ساتھ سختی 
سے نمٹا جائے ۔
بہت خراب لکھا ہوا ہے۔ اور ایڈیٹنگ بھی ٹھیک سے نہیں کی گئی ہے۔
2k13/MC/69
------ ------------------------------------FIRST VERSION------------------------------------------------
آرٹیکل چھوٹا ہے۔ ایک سو ڈیڑھ سو الفاظ اور بڑھاؤ۔ اور صرف لطیف آباد کیوں؟ باقی شہر کا بھی حوالہ دو۔ صرف ایک ایریا کو ٹارگیٹ کرنا اچھا نہیں۔
ye bijli mafia nhe kund amafia kahlati hae
محمد حماد 2k13/MC/69
بجلی مافیہ لطیف آباد میں سرگرم
یہ حقیقت ہے کہ پوراملک بجلی کے بحران کے عذاب میں گھراہواہے۔بجلی کے بحران نے شہریوں،صنعت کاروں،تاجروں اوردکانداروں کو معاشی بحران میں مبتلاکردیا ہے ایسے ہی لطیف آباد نمبر5میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے کافی تعداد میں علاقہ مکین پریشانی میں مبتلا ہے ایریگیشن کی اوربند کی زمین پر جوغیرقانونی بستی آباد ہے ان کے گھروں میں بجلی کے غیرقانونی کنڈہ کنکشن جارہے ہیں جوکہ مختلف گروہوں نے ماہانہ 300سے لیکر 600روپے تک فی گھر کے حساب سے وصولی کی جارہی ہے اس علاقے میں کافی تعداد میں غیر قانونی کنڈہ کنکشن لگے ہوئے ہیں جس سے حیسکو کو کافی بھاری نقصان ہورہا ہے اورجب لوڈزیادہ ہوتا ہے تو200 Kvکا بڑاٹرانسفرپھٹ جاتا ہے جس کی وجہ سے کئی دن تک لوگ بجلی سے محروم ہوجاتے ہیں اور یہ غیر قانونی کنڈہ کنکشن دینے میں کچھ لوگ ملوث ہیں جوکہ بجلی کے غیر قانونی کنڈہ کنکشن دیتے ہیں ۔لطیف آباد میں یہ ایک مافیہ ہے جو کہ اس کامیں ملوث ہے ان کے مختلف لوگ اس کام کو سرانجام دے رہے ہیںیہ ایک کچی بستی ہے جو کہ غیر قانونی ہے جس کی وجہ سے جو لوگ لیگل رہ رہے ہیں ان کو بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔تقریباً250سے زائد گھر اس غیرقانونی جگہ پر آباد ہیں جن کا میٹر ہی نہیں ہے ۔گزشتہ رمضان المبارک میں حیسکو نے آپریشن کیا تھاجس میں تقریباً600مکان میں سے 18گھروں کے میٹرلگے ہوئے تھے باقی سب کے سب کنڈہ کنکشن پر چل رہے تھے کچھ گھروں میں زیادہ ترتعداد میں ایئرکنڈیشن لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے لوڈ زیادہ تھااور حیسکو کی ریکوری بہت کم تھی ان کنڈہ کنکشن اوربجلی چوروں سے جو گھروہاں بجلی کا بل اداکرتے ہیں وہ کافی مشکلات میں ہیں کیونکہ حیسکو اپنی ریکوری پوری کرنے کے لئے چوری کی بجلی کے میٹر کے یونٹ ان کے بلوں میں ڈال دیے جاتے ہیں جس سے ان لوگوں کے چہروں پر ایسا سخت ری ایکشن نظر آتا ہے جیسے یہ ابھی سارے غیر قانونی کنڈہ کنکشن کاٹ دینگے اس سب ڈویژن میں20کروڑ کی بجلی استعمال ہوتی ہے اور ان کی ریکوری تقریباً12سے 14کروڑہوتی ہے جسکی وجہ سے ریکوری کو پورا کرنے کے لئے بجلی کے یونٹ میں گڑبڑھ کرکے ریکوری کو پورا کیا جاتا ہے۔
ان تمام حالات پر قابو پانے کے لئے ایک ہی طریقہ ہے کہ جولوگ بل ادا کرتے ہیں پوری ایمانداری سے وہ لوگ اس پورے علاقے میں ایک ٹیم تشکیل دی جائے ۔جیسے ہی جو لوگ غیر قانونی کنڈہ کنکشن لگائیں ان کے خلاف فوراًحیسکوہیلپ لائن پراطلاع دی جائے تاکہ ایسے لوگوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور ان سے سختی سے نمٹا جائے تاکہ ایسے عناصر اور بجلی چوروں کا خاتمہ کیا جائے تاکہ عوام الناس کو مشکلات کا سامنانہ کرنا پڑے۔

Tuesday, August 18, 2015

باشاہی بنگلہ

بلال حسن رول نمبر 2  k13/MC/28  
فیچر باشاہی بنگلہ حیدرآباد

 Unedited
 fotos will be required
قد یم مقامات ہر شہر کے تاریخی ورثے ہوتے ہیں۔اور ان مقاما ت کے ساتھ بہت سی یادیں اور تہذیب وابستہ ہوتی ہیں ایسے ہی حیدرآباد کے چند قدیم مقاما ت جو کہ حیدرآباد کی تاریخی تعمیرات کا ایک دلکش نمونہ ہیں جس میں کچا قلعہ ،ٹالپور کے مقبرے،مکھی ہاوس او ر بھی بہت سی تعمیرات جس میں سے ایک بادشاہی بنگلہ بھی ہے جسکو میروں کی حویلی بھی کہا جاتا ہے او ر یہ بنگلہ لطیف آبا د نمبر 4ٹنڈر تالپور میں واقع ہے۔


اگر بادشاہی بنگلہ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بنگلہ 1863میں میر نصیر خان تالپور نے اپنے آخری حکمران فرزند میر حسن تالپور کے لیے کروایا تھااور 1970میں سابق وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کی جانب سے چند سالوں کے لیے اس بنگلہ پرپابندی لگائی گئی پھر کچھ عرصے بعد ہٹا دگئی یہ شاندار محل نہ حکومت کی طرف سے بحا ل کیا اور نہ ہی اسکے مالکان کو اس کو برقراررکھنے کی اجازت دی گئی پھر بعد میں بعض وزرات کی ؂جانب سے ان کے مالکان کو واپس کیا گیا اور اس کے موجودہ مالک بہت سے ہیں جس میں میرفتح تالپور،میر حیدر تالپوروغیرہ شامل ہیں۔


اب اس بنگلے کی خوبصورتی اور نقش ونگار کی بات کی جائے تو کیا ہی دلکش منظر زہن میں آتا ہے کہ اس کے عتراف میں چاروں طرف ہریالی اور باغات اس کی اس کی شان و شوکت بڑھا دیتے ہیں اور جیسے ہی اس کے عتراف میں قدم رکھتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم بادشاہو ں کے دور میں آگئے ہوں اور اسکے نقش و نگار اور بناوٹ اس کے حسن کی گواہی دیتے ہیں ۔ یہ بنگلہ تین منزلوں پر مشتمل ہے اس کی بناوٹ اور سجاوٹ میں زیادہ تر استعمال لکڑی اور شیشے کا کیا گیا ہے۔محل میں لگی رنگ برنگی شیشے کی کھڑکیاں اس کو اور زیادہ خوبصورت بنا دیتی ہیں اور دیواروں پرہوا شیشے کا کام بنگلہ کی اندرونی خوبصورتی کو اورسنوار دیتا ہے۔ اور بہت سی قیمتی اور علیشان چیزیں ،جنھوں نے اس محل کی ذینت کو آج بھی قائم رکھا ہوا ہے۔

ایسی ہی بہت سی تاریخی تعمیرات اور مقاما ت جو حیدرآبادکا حصّہ ہیں اور حیدرآباد کو ایک الگ اور منفردپہچان دیتی ہیں جنہیں دیکھنے کے ساتھ ساتھ لوگ ان کی تاریخ سے بھی واقف ہوتے ہیں اور یہ سچ ہے کے یہی تاریخی نشانیاں ہمیں ماضی کو یاد رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

Bilal Hassan    k13/MC/28  
Second semester BS-III 

August 2015 
Practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi 

لوکل بسّو ں میں کمی Revised

Revised 
بلال حسن رول نمبر 2k13/MC/28 2nd writing piece
آرٹیکل لوکل بسّو ں میں کمی (لطیف آباد)
سفر انسان کی زندگی کا اہم ترین حصّہ اور ضرورت ہے۔اگرذریعہ سفر پرنظرڈالی جائے تو ماضی میں بہت ہی کم زریعے نظر آتے ہیں لوگ زیادہ تر پیدل اور اونٹ پر سفر کیا کرتے تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں جدّت اور ترقی ہوتی گئی اور موجودہ دور میں لوگ بس ،ٹرین ، جہاز اور اپنی زاتی سواری میں سفر کرتے ہیں اگر یہ ذریعے کم یا پھر ختم ہو جائیں لوگوں کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ایسا ہی کچھ حال لطیف آبا د کا ہے جہاں لوکل بسیں نہ ہو نے کے برابر ہیں۔

اگر حیدرآبا د میں بسّوں کی تا ر یخ پر نظر ڈا لی جائے تو 1960 میں بسّوں کے سفرکاآغاز ہوااور اس وقت صرف گورنمٹ کی بس چلا کرتی تھیں جس کا کرایہ ایک آنہ تھا پھر اسکے کچھ عرصے بعد ڈبل ٹیکر بسیں چلنے لگی جو کہ اس وقت کی مشہور بس تھی اور اس میں کافی تعداد میں مسافر سفر کرتے تھے اوراس بس کا کرا یہ صرف 2آنے تھا اور یہ دونوں بسیں لطیف آباد نمبر9 7,سے لیکر کچہ قلعہ،اسٹیشن اور مارکیٹ تک جاتی تھیں پھر 1971کے بعد ڈبل ٹیکر بسیں چلنا بند ہو گئیں اسکے بعد A1 بسیں چلنا شروع ہوئی جو کہ آج تک چل رہی ہیں۔

اب حیدر آبا د میں موجودہ بسّوں کی تعداد پر نظر ڈالی جائے تو 1998 میں بسّوں کی تعداد ۱150 سے زائد تھی جس میں 108 لطیف آبادکی اور باقی سٹی ایریااور قاسم آباد کی تھیں اور۱س وقت بھی 150 سے زائدہیں مگر ا س کے باوجودحیدرآباد میں لوکل بسیں سڑکوں پر کم نظر آرہی ہیں۔ کئی علاقے مثلا پھلیلی، پریٹ آباد، ہالہ ناکہ ، فقیر کا پڑ، سستی سفری سہولیات سے محروم ہیں۔ حسین آباد، جی او آر کالونی کے رہائشیوں کو کوٹری کی بس کا سہارا ہے۔ شہر سے قاسم آباد تک کوئی بس نہیں چلتی۔ یہاں بسنے والے لاکھوں لوگوں کو سوزکیوں یا رکشاء کے ذریعے شہر آنا پڑتا ہے جو ان کی آمدن کے حساب سے گراں گزرتا ہے۔ یہی صورتحال لطیف آباد کی ہے جبکہ لطیف آباد کی آبادی 7لاکھ سے زائد ہے۱سکی موضوع پر بس ڈرائیور سے بات کی گئی تو بہت ساری وجوہات سامنے آئی۔ شہر میں ناجائز تجاوزات بڑھنے کی وجہ سے سڑکوں کا تنگ ہونا، بھتہ خوری، سی این جی کی قلت ،کم کرایہ، پبلک سواری میں اضافہ جس میں سوزوکی ،منی ٹیکسی،چنچی اور موٹر سا ئیکل وغیرہ شامل ہے لیکن ایک اور اہم وجہ جس پر ایک بس کے مالک اقبال علی نے بہت زور دیا اور وہ وجہ تھی سی این جی رکشہ اسکا کہنا تھا کہ ان رکشوں کی وجہ سے بسّوں کے مسافروں پر بہت اثر پڑا ہے کیونکہ یہ سی این جی رکشے بسّوں کے مسافرو ں کو اپنی جانب کھنچ رہے ہیں ویسے تو رکشے ذاتی سواری کے طور پر استعمال ہو تے ہیں مگر سی این جی رکشوں میں بڑھتے ہوئے اضافے کے بعد مسافر کم ہو گئے ہیں اور رکشے کو پبلک سواری بنا لیا ہے اور کرایہ صرف10 سے 15روپے فی سواری ہے مگر اس سے لوکل بسّو ں پر بہت اثر پڑا ہے۔

لوکل بسّو ں کے مالکان کا مطالبہ ہے کے سب سی پہلے سی این جی رکشوں کو پبلک سواری کے طور پر چلانے کی پابندی لگائی جائے ۔  

------------------------------------------------------------------------------------------------

OLD VERSION

بلال حسن رول نمبر

2 k13/MC/28 2nd writing piece

Do not  confine this issue to Latifabad.  Make it for Hyd, means old city area and Qasimabad also.  Population of Latifabad, Old city area, and Qasimabad, What problems are created in absence of buses? Issue of four-seaters, suzukies, increasing number of motorcycles. 
Alos mention old routes of govt buses, and doyble decker buses, 
Un edited
آرٹیکل لوکل بسّو ں میں کمی (لطیف آباد)
یہ سچ ہے کہ سفر انسان کی زندگی کا اہم ترین حصّہ اور ضرورت ہے۔اگر زریعہ سفر پرنظرڈالی جائے تو ماضی میں بہت ہی کم زریعے نظر آتے ہیں لوگ زیادہ تر پیدل اور اونٹ پر سفر کیا کرتے تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں جدّت اور ترقی ہوتی گئی اور موجودہ دور میں لوگ بس ،ٹرین ، جہاز اور اپنی زاتی سواری میں سفر کرتے ہیں اگر یہ زریعے کم یا پھر ختم ہو جائیں لوگوں کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ایسا ہی کچھ حال لطیف آبا د کا ہے جہاں لوکل بسیں نہ ہو نے کے برابر ہیں۔

 

اگر حیدرآبا د میں بسّوں کی تا ر یخ پر نظر ڈا لی جائے تو 1960 میں بسّوں کے سفرکاآغاز ہوااور اس وقت صرف گورنمٹ کی بس چلا کرتی تھیں جس کا کرایا 1 آنہ تھا پھر اسکے کچھ عرصے بعد ڈبل ٹیکر بسیں چلنے لگی جو کہ اس وقت کی مشہور بس تھی اور اس میں کافی تعداد میں مسافر سفر کرتے تھے اواس بس کا کرا یہ صرف 2آنے تھا پھر 1971 کے بعد ڈبل ٹیکر بسیں چلنا بند ہو گئیں اسکے بعد A1 بسیں چلنا شروع ہوئی جو کہ آج تک چل رہی ہیں۔
اب لطیف آبا د کی بسّو ں کا رخ کیا جائے تویہاں بسّوں کی تعداد نہ ہونے کے برابرہے ۔ 1998 میں لطیف آباد میں بسّوں کی تعداد 108تھی اور۱ب صرف 35ہے جن میں سے صرف 12 لوکل چل رہی ہیں باقی چند بند ہیں اورکچھ یونیورسٹی کے لیے چل رہی ہیں ۔ ۱سکی وجہ جاننے کے لیے جب کچھ بس ڈرایور سے اس سلسلے میں بات کی گئی تو بہت ساری وجوہات سامنے آئی جیسا کہ سی این جی کی قللت ،کم کرایا، بسّوں میں کمی ،لیکن اہم وجہ جس پر ایک بس کے مالک اقبال علی نے بہت زور دیا اور وہ وجہ تھی سی این جی رکشہ اسکا کہنا تھا کہ ان رکشوں کی وجہ سے بسّوں کے مسافروں پر بہت اثر پڑا ہے کیونکہ یہ سی این جی رکشے بسّوں کے مسافرو ں کو اپنی جانب کھنچ رہے ہیں ویسے تو رکشے ذاتی سواری کے طور پر استعمال ہو تے ہیں مگر سی این جی رکشوں میں بڑھتے ہوئے اضافے کی وجہ سے رکشوں کے مسافر کم ہو گئے ہیں اسی وجہ سے رکشوں کے مالکوں نے رکشوں کو پبلک سواری بنا لیا ہے اور کرایا صرف10 سے 15روپے فی سواری ہے مگر اس سے لوکل بسّو ں پر بہت اثر پڑا ہے۔

 

لوکل بسّو ں کے ملکان کا مطلبہ ہے کے سب سی پہلے سی این جی رکشوں کو پبلک سواری کے طور پر چلانے کی پابندی لگائی جائے پھر لطیف آباد کی وہ لو کل بسیں جو یونیورسٹی کے لیئے چلتی ہیں انکا پرمٹ منسوخ کیا جائے کیوں کہ یہ بسیں دن میں یونیورسٹی کے لیئے چلتی ہیں اور رات میں لوکل مگر ان کے پاس پرمٹ صرف لوکل چلانے کا ہے اور یہ بھی لوکل بسّو ں میں کمی کی ایک وجہ ہے اگراس پربر وقت قابو نہ پایا گیا تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ لطیف آباد میں لوکل بسیں ختم ہوجائیں گی۔ 
August 2015 

This practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi