Saturday, September 12, 2015

Unregistered schools In Latifabad Referred back

Referred back, There is nothing about Latifabad except  put its name two places. How many schools are there? Number of students? How can u say unregistered? Why its so etc etc 
Article
Muhammad Hammad khan                                                        MC-68-2k13
Article: Unregistered local schools In Latifabad.

Education means instructing, culturing and schooling the minds which are empty. It is an essential in Islam to be educated and to educate people who have thirst for knowledge. It brings awareness and prosperity in societies and illuminates the minds with the light of wisdom. A man (both Male & Female) is allowed to get basic education. Today the technological advancement has compelled everyone to accelerate the pace of advancement and improvement which can only be done with the help of education.
 Now if we talk about the private education everyone prefers that private education is much better then government education. Advantage is being took by some private schools. Private schools are run and own by non-government entities. These schools are providing high quality of education after paying them huge amount of money in form of fees. They hire teachers who can serve their purposes accurately. If we differentiate between public and private schools, public schools have huge enrollments of students in one class. Larger numbers of students are taught by one teacher who provides same level and quality of education. While on the other side, in private schools there is less number of students in one class. It’s easy to teach less number of students. Second is quality of education in both schools depending on number of students in classroom as well as on learning environment which is created by teachers .Third point is teaching and learning methodology are different in both schools which include syllabus, courses, recreational activities, physical structures, rewards in schools & future differ.
Mostly in public school learning and teaching methodology is in Urdu language even their course in English where as in private schools learning and teaching methodology is in English language. According to report on Pakistan Education Statistics (2013-2014) number of public schools are 72% and number of private schools are 28% in Pakistan.28% private schools are only those which are registered but those private schools which are located in congested areas also creates a large amount which are not being included in this 28% of private schools of Pakistan.

Today a thought has been developed in our minds that education is only a source of earning and this thought has spoiled the real sense of education. The same scenario is being created in Hyderabad by private schools where they have made this a profession. In Hyderabad above 150 private schools are there in which a large amount consists of unregistered private schools which are located in streets and in congested areas of Latifabad. And now if we focus on unregistered schools so basically they are located at main commercial areas of Latifabad. If we focus on unregistered schools that why education ministry is not taking action against those, just because those are situated in residential and congested areas of Latifabad whereas registered schools are located on main commercial areas.

Now government should focus on the registered schools which are operating in residential areas so that government can shut down this business.




سعدعلی سے انٹرویو


نظر ثانی شدہ

محمد اسد عباسی 2k13/MC/65 3rd Piece

ڈی جے سعد علی سے انٹرویو

تعارف:

سعد علی ایف ایم 101 پر تقریباً 14 سال سے بحیثیت ڈی جے کام کررہے ہیں۔ سعد علی 6جون 1988 کو حیدرآباد کے کھا ئی روڈ کے علاقے میں پیدا ہوئے۔ آپ نے جامع سندھ سے اسلامک اسٹڈی میں ماسٹرس کیا ۔ انہوں نے بچپن سے ہی ریڈیو سے تعلق ہونے کی وجہ سے انٹر کے بعد ریڈیو کے سیمی چینل ایف ایم میں بطور ڈی جے کام کرنا بہتر سمجھا۔ 

س ڈی جے کسے کہتے ہیں؟

جواب ڈسک جو گی کو کہتے ہیں جس نے سب سے پہلے ایف ایم 101کو متعارف کرایا اس لیے اس کا نام ڈی جے دیا۔ ڈی کا مطلب لوگوں کو انٹر ٹینمنٹ فراہم کرنا ۔ مثال کے طور پر کرنٹ افےئرز کے ٹاپکس پر بات کرنا ۔ 


س ڈی جے اور آر جے میں کیا فرق ہے ؟

جواب ڈی جے کہتے ہیں ڈسک جو گی کو اور آرجے کہتے ہیں ریڈیو جوگی کو ریڈیو جوگی کے تمام پروگرام اسکرپٹ ہو تے ہیں کیونکہ وہ ایک سرکاری ادارہ ہے ۔ 

س آپ ڈی جے کیسے بنے؟

جواب میں نے اپنا آغاز بچوں کے پروگرام پھول واری سے کیا اور اس پروگرام میں ایک سیگمینٹ ہوا کرتا تھا سائنس کی دنیا جس میں میں بچوں کی پڑھائی کی اصلاح کرتا تھا ۔ اس کے بعد میں نے ڈومیسٹک کھیلوں کی خبریں پڑھی اورکھیلوں کے پروگرام کیے ۔انٹر کے بعد میں نے ایف ایم 101 پر اپنا پہلا پروگرام کیا ۔

س ڈی جے کو کن کن باتوں کا خیال رکھنا چاہئے؟

جواب سب سے پہلے آپکو پتہ ہونا چاہئے کہ آپ کس ٹائم پر پروگرام کررہے ہیں ۔ ڈی جے کے پاس 4 طرح کے وقت ہوتے ہیں۔ اس کو ان وقتوں کے مطابق پروگرام کرنا چاہئے۔ ڈی جے جس ٹاپک پر بات کاررہا ہے اس کو اس ٹاپک کے بارے میں مکمل معلومات ہونی چاہئے۔ ایک ڈی جے کو لفظوں کا تناؤ اچھی طرح آنا چاہئے۔ 



س ڈی جے بننے میں کتنا وقت درکار ہوتا ہے؟

جواب ایک اچھا ڈی جے بننے کے لئے خود کی محنت ضروری ہوتی ہے۔ اسکو اپنا سیلف مطالعہ اچھا کرنا چاہئے تا کہ وہ تمام ٹاپکس میں کھل کر بول سکے ۔آج سے دس بارہ سال پہلے ایف ای کے ڈی جے کو بہت سے مسائل ہوا کرتے تھے ۔ کیونکہ پاکستان میں چند سنگر ہوا کرتے تھے اور سال میں اپنا ایک ایلبم نکالا کرتے تھے ۔ اس لیے لسنر کی فرمائش کو پورا کرنا مشکل ہوتا تھا ۔لیکن اب کمپیوٹر سے پلے کیے جا تے ہیں تو دو مہینوں کی ٹریننگ بہت ہے ۔ 



س ایک ریڈیو کے ڈی جے اور پرائیوٹ چینل کے ڈی جے میں کتنا فرق ہوتا ؟

جواب ڈی جے میں کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ لیکن رولز اور ریگولیشن مختلف ہوتے ہیں۔ کیونکہ ایف ایم 101ایک سیمی گورنمنٹ ادارہ ہے جس میں آپ پاکستان کے علاوہ کسی اور کنٹری سانگ پلے نہیں کرسکتے۔ پہلے کی نسبت ہمیں بہت آسانیاں ہوگئیں ہیں کیونکہ پچھلے وقتوں میں چند ایک سنگر ہوا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے ایک سانگ کو بار بار پلے کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن اب نیو آنے والے سنگرز نے آسانیاں کردی ہیں۔ 


س ڈی جے کو لسنرز کی کن باتوں کا خیال رکھنا چائے؟

جواب سب سے پہلے ڈی جے کو لسنرز کے موڈ کا پتا ہونا چائے کہ وہ کیا سننا پسند کرتے ہیں۔ ہمارے پاس UN نمبرز ہوتے ہیں جس سے ہم لاؤ کال لیتے ہیں اور لسنرز کے ریکویسٹ پر سانگ پلے کرتے ہیں۔ 

بی ایس پارٹ تھری سیکنڈ سیمسٹر،

ستمبر 2015 
Key words: FM 
Hyderabad, DJ Saad Ali, Muhammed Asad Abbasi, Sohail Sangi,
This practical work was carried under supervision of Sir Sohail Sangi


------------------ FIRST VERSION ---------------------------

Refer back
Kaprra amrket ka elaqa? Specify, Bachpan se Q shoq tha? koi wajh? D.J aur RJ main kia farq hota hae? 
محمد اسد عباسی 2k13/MC/65 3rd Piece

ڈی جے سعد علی (انٹرویو)

تعارف:

سعد علی ایف ایم 101 میں تقریباً 14 سال سے ڈی جے کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔ سعد علی 6جون 1988 کو حیدرآباد کے علاقے کپڑا مارکیٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے جامع سندھ سے اسلامک اسٹڈی میں ماسٹر کیا اور بچپن سے ہی ریڈیو سے تعلق ہونے کی وجہ سے آپ نے انٹر کے بعد ریڈیو کے سیمی چینل ایف ایم میں بطور ڈی جے کام کرنا بہتر سمجھا۔ 



س ڈی جے کسے کہتے ہیں؟

جواب ڈسک جو گی کو کہتے ہیں جس نے سب سے پہلے ایف ایم 101کی بنیاد رکھی اس کا نام ڈی جے تھا۔ ڈی کا مطلب لوگوں کو انٹر ٹینمنٹ فراہم کرنا ۔ مثال کے طور پر کرنٹ افےئرز کے ٹاپکس پر بات کرنا ۔ 



س آپ ڈی جے کیسے بنے؟

جواب میں نے اپنا آغاز بچوں کے پروگرام پھول واری سے کیا اور اس کے بعد ایک پروگرام کرتا تھا سائنس کی بنیاد۔ اس وقت میں میٹرک کلاس میں تھا۔ اور بچوں کے کھیلوں کے پروگرام کیا کرتا تھا۔ انٹر کے بعد میں نے اپنا پہلا شو ایف ایم پر کیا۔ 



س ڈی جے کو کن کن باتوں کا خیال رکھنا چاہئے؟

جواب سب سے پہلے آپکو پتہ ہونا چاہئے کہ آپ کس ٹائم پر پروگرام کررہے ہیں ۔ ڈی جے کے پاس 4 طرح کے وقت ہوتے ہیں۔ اس کو ان وقتوں کے مطابق پروگرام کرنا چاہئے۔ ڈی جے جس ٹاپک پر بات کاررہا ہے اس کو اس ٹاپک کے بارے میں مکمل معلومات ہونی چاہئے۔ ایک ڈی جے کو لفظوں کا تناؤ اچھی طرح آنا چاہئے۔ 



س ڈی جے بننے میں کتنا وقت درکار ہوتا ہے؟

جواب ایک اچھا ڈی جے بننے کے لئے خود کی محنت ضروری ہوتی ہے۔ اسکو اپنا سیلف مطالعہ اچھا کرنا چاہئے تا کہ وہ تمام ٹاپکس میں کھل کر بول سکے ۔




س ایک ریڈیو کے ڈی جے اور پرائیوٹ چینل کے ڈی جے میں کتنا فرق ہوتا ؟

جواب ڈی جے میں کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ لیکن رولز اور ریگولیشن مختلف ہوتے ہیں۔ کیونکہ ایف ایم 101ایک سیمی گورنمنٹ ادارہ ہے جس میں آپ پاکستان کے علاوہ کسی اور کنٹری سانگ پلے نہیں کرسکتے۔ پہلے کی نسبت ہمیں بہت آسانیاں ہوگئیں ہیں کیونکہ پچھلے وقتوں میں چند ایک سنگر ہوا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے ایک سانگ کو بار بار پلے کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن اب نیو آنے والے سنگرز نے آسانیاں کردی ہیں۔ 



س ڈی جے کو لسنرز کی کن باتوں کا خیال رکھنا چائے؟

جواب سب سے پہلے ڈی جے کو لسنرز کے موڈ کا پتا ہونا چائے کہ وہ کیا سننا پسند کرتے ہیں۔ ہمارے پاس UN نمبرز ہوتے ہیں جس سے ہم لاؤ کال لیتے ہیں اور لسنرز کے ریکویسٹ پر سانگ پلے کرتے ہیں۔ 

علي اڪبر راهمون سان ڳالهه ٻولهه

انٽرويو  Ok
12.09.2015
علي اڪبر راهمون
ڳالهه ٻولهه
ڌرمداس مهاراج ٽيون سال رول نمبر31
علي اڪبر راهمون سائين جن جو اصل تعلق ڳوٺ ٿرپارڪر جي ڳوٺ تڙدوس سان آه يسائين جو جنم 18 نومبر 1974ع ۾ تڙدوس ۾ ٿيو. ۽ هن وقت سائين جن عمرڪوٽ شهر ۾ رهائيش پذير آهن.علي اڪبر راهمون جي شروعاتي تعليم اباڻي ڳوٺ تڙ دوس ۾ حاصل ڪئي ۽ ان کان پوءِ ڇهين کان ٻارهين ڪلاس شهر عمرڪوٽ ۾ تعليم حاصل ڪئي ،جنهن کان پوءِ سنڌ يونيورسٽي ۾ ڪمپيوٽر ٽيڪنالاجي جي شعبي ۾ داخلا ورتي جتي 6 مهينا پڙهڻ کان پوءِ مهراڻ يونيورسٽي جي اليڪٽرانڪ انجنئيرنگ جي شعبي ۾ داخلا ورتي. 

اتي به ڪجهه عرصو پڙهڻ بعد سندن سوچيو ته مان صرف هڪ انجنيئير ئي ٿيندس ۽ ڪنهن اداري ۾ محدود ٿي ويندس ،سائينجن جي دل ۾ ٿر جي ماروئڙن جي محبت جي ڪري هن انهن جي خدمت ڪرڻ لاءِ هنن سڀ کان  بهترين شعبو صحافت جو چونڊ ڪيو اهو  صحافت جو جنهن ڪري انهن پارٽ ٽائيم ريڊيو پاڪستان جي لاءِ اڍائي سالن تائين ٽائيم ڏنو ان کان پوءُ ڪوشش اخبار جوائن ڪئي ڪجهه عرصو اتي ڪم ڪيو بعد ۾ سنڌ اخبار کي جوائن ڪيو جتي سائين جن تقريبن  8 مهينا ڪم ڪيو انهي ساڳي اخبار ۾ هڪ صفحو شايع ٿيندو هو جنهن جو نالو ه سماجي سٽ ۽ سائين ان صفحي جا انچارج مقرر هئا جنهن  ۾ مختلف اين جي اوز جا ماڻهون مختلف مسئلن ته لکندا هئا، ان دوران سائين جن هڪ اين جي اوز جي ماڻهون سان ڳالهائي اين جي اوز جوائن ڪئي ،ان کان پوءِ سائين جن صحافتي دنيا کي ڇڏي سماجي ڀلائي جي ڪمن ۾ اين جي اوز ۾ ٿر جي ماڻهن جي مسئلن کي اجاگر ڪيو۽ اين جي اوز جي دنيا ۾ داخل ٿي ويا. ان کان پوءِ 18 آگسٽ 2000ع ۾ آءِ ڊي ايس نالي هڪ اين جي اوز جوائن ڪئي ۽ اين جي اوز جي دنيا ۾ وڌيڪ سفر شروع ڪيو ،اڄ به سائينجن اين جي اوز ۾ ڪم ڪري رهيا آهن ،3نومبر 2009 ع تي اويئر نالي اداري ۾ ڪم شروع ڪيو ۽ هن وقت اويئر اداري جا پاڻ هيڊ آهن .

س. توهان جي نظر ۾ ٿر جي ترقي ۾ اين جي اوز جو ڪهڙو ڪردار آهي؟
ج. اصل ۾ ڪنهن به علائقي جي ترقي جي ذميوار اتي جي حڪومت جي هوندي آهي، ۽ اين جي اوز جو ڪم آه ڪجهه هن ۾ حصو ڏيڻ ۽ ماڻهن کي سماجي طور شعور ڏيڻ خاص طور تي ڳالهه ڪجي ٿر تي ته بلڪل ڪنهن حد تائين ته ٿرين کي شعور ڏيڻ لاءِ اين جي اوز ۽ ميڊيا جو واضح ڪردار رهيو آهي پر اصل ۾ اهو ڪم حڪومت جو آهي ته مسئلن کي حل ڪري ۽ انهوند کي ختم ڪري.

س.گذريل ڪجهه ڏهاڪن کان ٿر جي تعليم ۾ سڌارو آيو آهي ڇا انهي ۾ ڪنهن اين جي اوز جو ڪردار آهي؟
ج. تعليم ٻه قسمن جي ٿيندي آهي هڪڙي فارمل ۽ ٻي انفارمل  فارمل مان مرد ته جيڪا اسين تعليم ادارن ۾ تعليم حاصل ڪندا آهيون ٻي انفارمل جيڪا اسان صرف مختلف سيمينارن ،ورڪشاپ ۽ ٻين ذريعن سان ماڻهن ۾ شعور پيدا ٿئي.سائين اڄڪلهه اسان وٽ اين جي اوز جو ڪردار انفارمل تعليم ته  آهي باقي فارمل تعليم ۾ به اين جي اوز جو ڪردار آهي.

س. ٿر ۾ مختلف اين جي اوز ڪم ڪري رهيو آهن توهان جي نظر ۾ ڪهڙين تنظيمن جو ڪردار مثبت آهي؟
ج. جي سائين اهو چوڻ ته بلڪل مناسب نه آهي ته ڪهڙي اين جي اوز جو مثبت ڪردار آهي جيڪي به تنظيمون ڪم ڪري
رهيون آهن اهي بهتر نموني ڪري رهيون آهن.

س. ڇا ٿر ۾ مختلف اين جي اوز اچڻ جي ڪري بي روزگاري ۾ ڪنهن قسم جي گهٽتائي آئي آهي ؟
ج. اين جي اوز جو ڪم جيڪو آي اهو والينٽيئر باقي رهيل ڳالهه ته ڪنهن اين جي اوز جي ڪري ٿر ۾ بيروزگاري ۾ گهٽتائي ٿي آهي يا ٿيندي اهو تواقع ڪرڻ  بلڪل غلط آهي ته ڪو تنظيم اچي ۽ ماڻهن کي روزگار مهيا ڪري روزگار ڏيڻ حڪومت جو ڪم آهي.

س. ايندڙ مسقبل ۾ اين جي اوز کي ڪيئن ٿا ڏسو  ۽ اين جي اوز جي ڪري ٿر ۾ ڪنهن قسم جيي ترقي ايندي ؟
ج. ٿر ۾ اين جي اوز جي حوالي سان مختلف ڪردار رهيو آهي ۽ اهو ڪردار هميشه وڌندو رهي. اين جي اوز جو ڪردار مثبت هئڻ کپي.

س. نوجوان ڊگري يافته جيڪي سرڪاري نوڪري نه ملڻ ڪري اين جي اوز جوائن ڪندڙ لاءِ ڪو صلاح؟
ج. ها بلڪل انهن لاءِ آئون صرف اهو ئي چوندس ته اگر ڪو نوجوان اين جي اوز جوائن ڪري ته ڀلي ڪري پر جيڪڏهن انهن جي دلچسپي آهي نه ته اهي ادراه صرف ٽائيم اڳتي ڌڪڻ وارو ڪم آهي اين جي اوز ۾ اچي زندگي جو مقصد ڪونه حاصل ٿيندو.

س. مختلف سماجي براين جي خاتمي جي حوالي سان اين جي اوز جو ڪهڙو ڪردار آهي؟
ج. هر ڪنهن جو پنهنجو ڪم هوندو آهي ڪنهن جي ريلي ڪڍڻ ۽ مظاهرو ڪرڻ سان اها شيءِ ختم ڪونه ٿيندي آهي، باقي اين جي اوز جو ڪم آهي مسئلن بابت آگاهي ڏيڻ سماجي براين کي ختم ڪرڻ لاءِ قانون ٺهيل آهن انهن جو استمعال ڪري ان سان
ممڪن آهي خاتمو ٿي وڃي.

س. توهان ڪهڙي سماجي ڀلائي جي شخصيت مان متاثر ٿي اها فيلڊ جوائن ڪئي؟
ج. مون ڪنهن خاص ماڻهون کان متاثر ٿي اها فيلڊ ڪون جوائن ڪئي ٿر جي رهواسي هئڻ جي ناتي سان هتي جي ڏکن کان گهڻو ويجهڙائي سان ڏسي چڪو آهيان ۽ هتي جي هر تڪليف ۾ مان پاڻ گذري چڪو آهيان ان شيءِ کي نظر ۾ رکندي ٿرين جي خدمت ڪرڻ جو شوق جاڳي پيو.

س. سوشل ايڪٽيويٽس جي ناتي سان توهان اسان جي پڙهندڙن لاءِ ڪهڙو پيغام ڏيڻ چاهندا؟

ج.مان انهن کي بس اهو ئي چوندس ته جنهن سان جيترو ٿي سگهي اهو هن سماجي ڀلائي جي ڪمن ۾ حصو ڏين .مثال طور 
توهان جيڪڏهن روڊ تي پيل هڪ پٿر هٽايو ٿا ته توهان ڀلائي ۾ شمار ٿيو ٿا، اهڙي طرح سماج ۾ بريون ختم ٿي سگهن ٿيون .  

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi

انٽرويو محمد خان سانگي

انٽرويو 
محمد خان سانگي
محمد خان سانگي جو تعلق ضلعي بدين جي تعلقي ماتلي جي شهر ٽنڊو علام علي سان آهي.سندس جنم 26 جنوري 1970ع ۾ ٿيو سندس پرائمري تعليم پنهنجي شهر ٽنڊو غلام علي جي اسڪول مان پرائي انٽر گورنمينٽ ڪاليج ماتلي ۾ ڪئي،اعلي تعليم لاءِ ڄامشوري جو رخ ڪيو ۽ اچي سنڌ يونيورسٽي ۾ انگلش جي شعبي ۾ داخلا ورتائين ۽ جنهن کان پوءِ هن ليڪچراري جي ٽيسٽ پاس ڪري ساڳئي شعبي ۾ خدمتون ڏيڻ شروع ڪيون هُن جي  17 سالن جي محنتن کي مُد نظر رکندي سائين جن کي پروموشن ڏئي شعبي جي چيئرمين ڪيو ويو ۽ هن وقت به سائين ٽي سالن کان  چيئرمين طور فرض انجام ڏئي رهيا آهن،ان دوران ٻه ٽينور ٿيا آهن هڪ ڊيڊ سال ۽ ٻيو هئينر جاري آهي.سائين جن پاڻ ايم فل ۽ پي ايڇ ڊي جي شاگردن کي پڙهندا آهن.

س.معاشري ۾ انگريزي ٻولي کي ٻين ٻولين کان وڌيڪ اهميت ڏني ويندي آهي ڇا انهي جا ڪي سبب آهن؟
ج. معاشري ۾ گذريل 60،65 سالن کان وٺي انگريزي ٻولي کي بيوروڪريسي تمام گھڻي اهميت ڏني آهي،ڇاڪاڻ ته عالمي دنيا ۾ پنهنجي ملڪ جو معيار مٿي ڪرڻ گهرجي ۽ ٻئي اها به ڳالهه آهي ته ڪجهه خاص قسم جا ماڻهون جيڪي اڪثر ڪري ٻاهر رهندا آهن اهي گهڻو  استعمال ڪندا آهن جنهن جي ڪري انگريزي ٻولي کي وڌيڪ  امپوز ڪيو ويو آهي هالانڪي ائين نه هئڻ  کپي پنهنجي دفترن ۾ پنهنجي ٻولي استمعال ڪئي وڃي.

س. موجوده دوٰر ۾ شاگردن جو انگريزي ادب ڏانهن لاڙو گھٽ هجڻ جا ڪهڙا سبب آهن؟
ج. اڄڪلهه جا شاگرد وقت جي اهميت کي نه ٿا سمجهن ۽ پڙهائي کي صحيح طريقي سان وقت نه ٿا ڏين جنهن جي ڪري هو مايوس ٿين ٿا ۽ اڄ دنيا ترقي جي طرف وڌي وڃي رهي آهي انهن کي گهرجي ته انهي شيءِ کي سمجهن ۽ سبجيڪٽ سان گڏ ٻين ادبي ڪتابن، رسالن کي به ٽائيم ڏين جئين مايوس ٿيڻ کان بجاءِ اڳتي وڌن.

س. انگريزي سکڻ جي لاءِ ڪهڙا اپاءِ ورتا وڃن ؟
ج. انگريزي سکڻ جي لاءِ ضروري آهي ته شاگرد جي دلچسپي نصاب سان هجڻ ۽ رڳو لکڻ پڙهڻ سان ٻولي کي سکي نه سگهبو آهي انهي جي لاءِ ان کي هر هنڌ ته اها ٻولي ڳالهائي نه صرف ڪلاسن ۾ جئين روزمره جي زندگي ۾ استعمال ڪجي.

س.لسانيات ۽ ادب ۾ ڪهڙو فرق آهي؟
ج. لسانيات معنيٰ ٻولي جي باري ۾ معلومات ۽ ان ۾ جيڪي تبديليون آڻجن ان کي  لسانيات چئبو آهي. ادب ان کي چئبو آهي جيڪو ٻولي کي خوبصورت بڻائي ۽ معاشري ۾ مثالن کي  ۾ سمجهائي.

س.انگريزي ادب ۾ معاشري جو ڪهڙو ڪردار آهي؟
ج.معاشري جو ڪردار اهو هوندو آهي ته انگريزي ادب پڙهندڙ هوشيار ۽ چالاڪ هوندا آهن،جيڪي ڊراما لکڻ  ۽ تحقيق ۾ سڀني کان اڳڀرا هوندا آهن جئين ناسا وارا آهن.



س.جيڪي شاگرد ڳوٺن کان اچن ٿا انهن کي گهڻيون انگريزي ۾ مشڪلاتون ٿين ٿيون انهن جي حل لاءِ استادن کي ڇا ڪرڻ گهرجي؟
ج. انهن شاگردن کي  وڌيڪ محنت ڪرڻ گهرجي ۽ ٻين جي ڀيٽ ۾ يونيورسٽي جا چار سال وڏي معنيٰ خيز ٿين ٿا.استادن کي گهرجي ته انهن شاگردن جي لاءِ وڌيڪ محنت ڪرڻ گهرجي ۽ انهن جي لاءِ وڌيڪ ٽائيم ڏين ته جئين  هو انهي معيار جهڙا ٿي سگھن.

س. توهان کي پڙهائڻ دوران ڪڏهن مايوسي ٿي؟
ج. ها بلڪل شاگردن مان وڏيون اميدون هونديون آهن ،پر جڏهن رزلٽ ايندي آهي ته شاگرد انهي معيار مطابق نه ٿا لهن ڪجھ اهڙا به شاگرد هوندا آهن جيڪي پڙهائي ۾ تمام سست هوندا آهن ۽ رزلٽ سٺي ڏيندا آهن.جيڪا تمام گهڻو مايوس ڪندي آهي.

س. توهان انگريزي ادب ۾ ڪهڙيون خدمتون سرانجام ڏنيون آهن؟
ج. آئون ڪلاس ڪنڊڪٽ ڪندو آهيان .ايم فل ۽ پي ايڇ ڊي جا باقي اڄ ڏينهن تائين ڪو به ڪتاب وغيره ڪونه لکيو آهي.

س. انگريزي ادب کي ايتري اهميت ڏيڻ ۽ ٻين ٻولين کي تباهه ڪرڻ جي شازش ته نه آه؟
ج. شازش جو ذمو خاص اداران جو  آهي،ان کي ڪيتري اهميت ڏين ٿا ،باقي پنهنجي مادري ٻولي کي انگريزي ٻولي کان  تمام 
گھڻي اهميت ڏيڻ کپي جئين اتي جي ماڻهن لاءِ سمجهڻ ۾ سهولت پيدا ڪري.

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi

عمرڪوٽ ۾ وڌندڙ هاسٽلن جو رجحان

Dharamdas
عمرڪوٽ شهر ۾ وڌندڙ هاسٽلن جو رجحان......!!!

عمرڪوٽ جنهن کي امرڪوٽ توڙي امراڻو به چيوويندوآهي جيڪو هن وقت هڪ عروج تي پهتل شهر بڻجي چڪو آهي تاريخ لحاظ کان هي شهر تمام ئي پراڻو جنهن جي شاهدي هن شهر ۾ موجود هڪ جهونو قلعو ڏئي ٿو هن شهر کي ٿر جو گيٽ جو  سڏيو ويندو آهي ڇاڪاڻ ته ٿر جا اڪثر ماڻهو پنهنجي روز مره توڙي ڪاروبار  جون شيون  هتان کان ئي خريد ڪري ويندا آهن هن وقت هن شهر جي گتيل آبادي سبب ڪيترائي ڪاروباري مرڪزکُلي چڪا آهن.وقت جي ڦيرندڙ چرخي  هتي جي رهندڙ ماڻهن جي ذهنن کي به تبديل ڪري ڇڏيو آهي ۽ هنن ماڻهن۾ تعليمي شعور ويتر وڌندو ويو آهي ۽ نتيجي جي طور تي هن وقت هن شهر جي تعليم جو معيار تمام ئي  بهتر ٿي وئي  پر ڪو وقت هو جو هتي رهندڙ ماڻهو پرائيوٽ اسڪول توِڙِي هاسٽل جي نالي کان به واقف  نه هو
۽ اهي پنهنجن ٻارن کي صرف سرڪاري اسڪولن ۾ داخلائون وٺي  ڏيندا هئا .جئين ته هن شهر ۾ هن وقت ڪيتيريون ئي  اسڪولون ۽ ڪاليجون کُلي چڪيون  آهن  جن جي تعليم تمام ئي  معياري آهي تنهن ڪري هر ڪو چاهي ٿو ته اسان جو اولاد سٺن تعليمي ادارن ۾ علم حاصل ڪري ۽ نتيجي جي طور تي هتي جي تعليم جو معيار تمام ئي وڌي ويو آهي ۽ آس پاس جي ڳوٺن توڙي پري وارن علائقن کان شاگرد هتي اچي ڪري تعليم حاصل ڪندا آهن . ٻهراڙي جي علائقن کان ايندڙ شاگردن  کي هتي سڀ کان وڏو مسئلو پيش اچي ٿو اهو آهي رهائش جو ۽ ان مسئلي کي مُنهن ڏيڻ لاءِ هتي جي ساڃاهه وندن ۽ سرهندي وارن ماڻهن هن شهر ۾ پرائيوٽ بوائز هاسٽلن جو نظام متعارف ڪرايو ته جيئن مختلف ڳوٺن کان ايندڙ شاگردن کي گھٽ خرچ ۾ رهائش ۽ کاڌ خوراڪ ملي سگھي هن وقت هن شهر ۾8 کان 10 پرائيوٽ بوائز هاسٽلون هلي رهيون آهن جن ۾ مختلف ڳوٺن کان واسطو رکندڙ ڪيترائي شاگرد رهائش پذير آهن هر هڪ هاسٽل ۾ شاگردن جو تعداد 20 کان 30 جي لڳ ڀڳ آهي جيڪي 6 کان 8 ڪمرن تي مشتمل آهن جنهن ۾ شاگرد  بلڪل آرام سان رهي سگھن ٿا انهن هاسٽلن ۾ شاگردن لاءِ رهائش توڙي کاڌي پيتي جي هر سهولت موجود آهي ۽ انهن هاسٽلن جو ماهانه خرچو به تقريبن ساڳيون ئي  آهي ۽ اهو خرچو ڪنهن غريب ماڻهون جي پهچ کان ڪو خاص پري نه آهي جنهن حد تائين مون انهن هاسٽلن جو سروي ڪيو انهن هاسٽلن جو ماهانه خرچو هر هڪ شاگرد تي 5 کان 6 هزارن جي اندر آهي هن وقت شهر عمرڪوٽ ۾ اهي هاسٽلون هلي رهيون آهن جنهن ۾ سچل بوائز هاسٽل ، انڊس بوائز هاسٽل ، جناح بوائز هاسٽل ، شاهه لطيف بوائز هاسٽل ، ڀٽائي بوائز هاسٽل ، علامه اقبال بوائز هاسٽل ، صفه بوائز هاسٽل ۽ المهراڻ بوائز هاسٽل.....
علامه اقبال بوائز هاسٽل
هي هاسٽل عمر ڪوٽ شهر جي افغان محله ۾ واقعه آهي ۽ هي هاسٽل سنڌ ڪاليج جي هڪ ليڪچرار رمضان سميجو جي نگراني هيٺ هلي رهي آهي، سائين جن سنڌ ڪاليج ۾ ڪيمسٽري جي ليڪچرار آهن، هن هاسٽل ۾ شاگردن لاءِ هر بنيادي  سهولت موجود آهي جنهن ۾ بجلي پاڻي انٽرنيٽ، جنريٽر ۽ شآگردن جي خدمت لاءَ هڪ سرونٽ به آهي هن هاسٽل ۾ ٽوٽل شاگردن جو تعداد 30 آهي ۽ هي هاسٽل 6 ڪمرن تي مشتمل آهي هر هڪ ڪمري  5 شاگرد رهن ٿا، هر شاگرد کي پنهنجي ذاتي الماري، ۽ فوم وارو بسترو مليل آهي هن هاسٽل ۾ عمرڪوٽ جي تمام ئي پري وارن علائقن سان واسطو رکندڙ شاگردن جو تعداد تمام گهڻو آهي  جنهن کاريو فضل، ويراڙو، کئنسر ، رڙياڙو، ۽ ٻيا ڳوٺ شامل آهن، هن  هاسٽل ۾ شاگردن کان هر هڪ شاگرد کان 6 هزار روپيه ماهانه فيس وصول ڪئي ويندي آهي، جنهن ۾ صبع جو ناشتو . منجهند جي ماني ، شآم جي چانهه ۽ رات جي ماني سميت ڪپڙن جي ڌُهلائي اچي وڃي ٿي. هن هاسٽل ۾ اڪثر  يارهين ، ٻارهين ۽ انٽري ٽيسٽ جا شاگرد شامل آهن هنن شاگردن سان ڳالهه ٻولهه دوران معلوم ٿيو ته اهي شاگرد مقرر ڪيل ماهانه فيس ۾ سڀ سهولتون حاصل ڪري رهيا آهن ۽ هتي جي آس پاس جي ماحول کان به تمام گھڻا مطمئن آهن شاگردن جو چيوڻ هو ته سان هتي تمام ئي بهتر نموني سان هڪ تجربيڪار استاد جي نگراني هيٺ علم پرائي رهيا آهيون ۽ هتي جي پڙهائي وارو ماحول به تمام ئي بهترين آهي .
صفه بوائز هاسٽل

هي هاسٽل عمرڪوٽ لڳ وهرو روڊ تي واقح آهي هي هڪ هتي جي مقامي ماڻهو حافظ نور محمد نهڙي نالي شخص جي آهي هن هاسٽل ۾ ڪل ڪمرن  جو تعداد 8 آهي ۽ هن هاسٽل ۾ 23 شاگرد  رهن ٿا ، جن ۾ ڇهين ڪلاس کان ٻارهين ڪلاس جا شاگرد  رهن ٿا جن ۾ ڪجه شاگرد انٽري ٽيسٽ جا به آهن . هن هاسٽل ۾ ڇور ، ڪيتار ،ڇاڇرو ۽ ٻين ڳوٺن جا شاگرد  رهن ٿا . هي هاسٽل ٻن سالن کان به مٿي عرصي کان هلي رهي آهي هن هاسٽل جي ماهانه فيس 5هزار مقرر ڪيل آهي پر غريب ۽ بي پهچ شاگرد کان رعايت ڪئي  ويندي آهي ۽ جيڪي شاگرد اهي فيس نٿا ادا ڪري سگھن انهن کان ڪجهه گھٽ فيس ادا ڪئي  ويندي آهي مٿي ڄاڻايل فيس ۾ شاگرد کي ماني سميت ڪپڙن جي ڌلائي جون سهولتون پڻ ڏنيون وينديون آهن هن هاسٽل ۾ اڃا تائين انٽر نيٽ جي ۽ ڪمپيوٽر جي سهولت موجود نه آهي هاسٽل جي انچارج مطابق اها سهولت به شاگرد  کي جلد ئي ڏني ويندي هنن ظلعي جي اعلي عملدارن کي عرض ڪيو آهي ته هنن جي هاسٽل ڏي ڌيان ڏئي هنن جي ساهتا ڪئي  ووڃي ته جيئن شاگردن کي هر سهولت ملي سگھي.عمرڪوٽ شهر ۾ وڌندڙ هاسٽل جي تعداد سان اندازو لڳائي سگھجي ٿو ته هن ظلعي جي تعليم ڪيتري معياري ٿي چڪي آهي هتي حڪومت توڙي سرهندي وارن ماڻهن جو فرض ٿئي ٿو ته هاسٽلن ۾ پڙهندڙ شاگردن لاءِ ڪي خاص پاليسيون جوڙي شاگردن لاءِ گھٽ خرچ ۾ تمام سهولتون مهيا ڪرڻ لاءِ ڪي جوڳا قدم کنيا وڃن  
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi

پروفائل:پروفیسر ڈاکٹر صادق میمن


پروفائل:۔ پروفیسر ڈاکڑ صادق میمن:۔

تحریر: عبدلرافع سہیل:۔

2k13/MC/03

ڈاکٹر مریضوں کا علاج کرتے ہیں اور دکھی انسان ذات کی خدمت کرتے ہیں۔اس لیے انہیں مسیحا کہاجاتا ہے۔لوگ اس مرتبے کی بہت عزت کرتے ہیں اور یہ سچ ہے کہ آج کل ایسے بھی نامی گرامی لوگ اس دنیا میں موجود ہیں جو ڈاکٹروں کے نام پر سیاہ دھبہ ہیں ۔بہر حال تمام ڈاکٹر جعلی یا نا اہل نہیں ہوتے اور چند ایسے ڈاکٹر اور طبیب لوگ موجود ہیں جو ہمیں ہمارے معاشرے میں نظرآتے ہیں جو اپنی محنت جستجو اور کوششوں کے دم سے پہچانے جاتے ہیں۔
انہیں میں سے ایک پروفیسر ڈاکٹر صادق میمن ہیں جو26جنوری 1969 ؁میں پاکستان کے شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔والد کا نام عبدلعزیز میمن تھا ۔ انکے والد ایک نہایت ہی سادہ زندگی گزار پسند آدمی تھے انکا تعلق بھارت کے شہر کاٹھیاوار سے تھا 1947 ؁ء میں تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے شہر حیدرآباد آگئے اور یہیں پناہ لینے میں اپنی آفیت جانی۔ڈاکٹر صادق میمن نے اپنی ابتدائی تعلیم ایک سرکاری اسکول سے حاصل کی اور انٹر میڈیٹ گورمنٹ کالج کالی موری سے پاس کیا۔تعلیم کو ہی اپنا ہتھیار سمھجتے ہوئے ہار نہ مانی ڈاکٹر بنے کا شوق تو بچپن ہی سے تھا اور خواب تھا کہ غریبوں اور مستحکوں کی مدد کروں۔
اپنی اس امید کوقائم رکھتے ہوئے ہار نہ مانی اور 1987 ؁ء میں لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل ہیلتھ اینڈ سائنس میں داخلہ لے لیا اور یہیں سے اپنے کیریئر کا آغاز شروع کیا۔اتنے وسائل درپیس نہ ہونے کی صورت میں آپ نے ڈاکٹر کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ محنت میں شرم محسوس نہ کی اور کلاتھ مارکیٹ حیدرآباد میں ایک کپٹرے کی دکان پر بطور ملازمت اپنی خدمات سر انجام دیں اور اسکے ساتھ 
ساتھ بچوں کو گھر گھر جا کر ٹیوشن پڑہاتے اور اپنی میڈیکل کی پڑہائی کو بھی جاری رکھے ہوئے تھے اپنی اس محنت کی کمائی کی رقم سے اپنی پڑہائی کے اخراجات خود اٹھاتے والد کو کسی قسم کی پریشانی نہیں دیتے۔
1992 ؁ء میں آپ نے اپنا ایم۔ بی۔ بی ۔ایس مکمل کرلیا اور ڈاکٹر کا لقب اپنے نام کے ساتھ جوڑ لیا۔
لیکن MBBS کرنے کے بعدانہوں نے کسی ایک مرض میں مہارت حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی اور پھر ماہر امراض معدہ وجگر کی تعلیمی اسناد حاصل کر چکے ہیں اور اپنے فن میں اتنے ماہر ہوچکے ہیں کہ پورے ملک اور بیرون ممالک میں جانے اور پہچانے جاتے ہیں پہلے انکا ایک چھوٹا سا کلینک ہوا کرتا تھا لیکن مریضوں کے مرض اور علاج کے لیے اپنا خود کا ہسپتال شروع کیا اور آج انکا ہسپتال ملک کے چند بہترین ہسپتالوں میں شمار ہوتا ہے۔ آپ دیگر ممالک کے بھی دورے کرتے ہیں اور جگر کے مریضوں کو اللہ کی مدد سے شفاء یاب بھی کرتے ہیں بھارتی ڈاکٹروں نے جو جگر کا پہلا ٹرانسپلانٹ کیا تھا آپ بھی اس میں شریک ہوئے تھے ۔جس مریض کا علاج یہاں ممکن نہیں ہوتاتو یہ دیگر ممالک کے ڈاکٹروں سے رجوع کرتے
ہیں جس میں بھارت کا نام سرفہرست ہے۔
جگر کے مریض کا ایک علاج جسے ای۔آر۔سی۔پی کہا جاتا ہے جو کہ آغا خان میں 60ہزار سے 1لاکھ تک ہوتا سے وہی علاج آپ کے ہسپتال میں 5سے10ہزار میں کیا جاتا ہے اور اگر جو مریض علاج کا خرچہ نہیں اٹھا سکتا تو آپ اسکا علاج بطور انسانیت مفت میں کرتے ہیں۔
آج کل دنیا میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو اپنی ذات سے کسی دوسرے کو فائدہ پہنچاتے ہیں مگر آج بھی ہمارے معاشرے میں بہت سے اچھے لوگ مل ہی جاتے ہیں جیسے کہ پروفیسر ڈاکٹر صادق میمن ہیں انکی شخصیت کو دیکھ کر انتہائی خوشی ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنی اس زندگی میں پیسہ کو ہی اپنا سب کچھ نہ سمجھا بلکہ اپنی عزت اور شہرت کو اونچائی پر رکھا۔
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi

ڀڳت ڀاڳچند profile

See it, if u can more
Profile by Rasool Bux Bodani
رسول بخش بوداڻي
ڀڳت ڀاڳچند

سنڌ جا ماڻهو هميشه موسيقي جا عاشق رهيا آهن جنهن  جون نشانيون موئن جي دڙي مان پڻ ملن ٿيون، يا وري قاضي قادن ۽ شاهه لطيف يا ٻيا شاعر به ان شي جو اهڃاڻ آهن ته سنڌ صدين کان موسيقي سان واڳيل رهي آهي، ائين سنڌي ادب ۾ نثر کان نظم ۽ شاعري پڻ  وڏي اهميت رکي ٿي ان جي ڪري شاعري جيڪا راڳي مختلف محفلن توڙي يا ميڙاڪن ۾ شاعرن کان خوب داد حاصل ڪري پنهنجي فن جو مظاهرو ڪندا آهن. هڪ ته شاعر کي به داد ڏيڻ گهرجي پر ان کان مڃتا ڏيارڻ ۾ راڳي جو اهم ڪردار هوندو آهي، شاعر جي شآعري کي مختلف سازن سان ڌُنون ٺاهي ان کي راڳ ۾ ڳائيندو آهي ، تنهن جي ڪري شاعر توڙي راڳي کي عوام ۾ مڃتا ملي ٿي ان مان ظاهر ٿئي ٿو  ته هن سڄي مانڊاڻ کي مچائڻ ۾ راڳي جو اهم ڪردار هوندو آهي.
ان ئي راڳي جي پيشي۽ هڪ غريب هيٺين طبقي سان واسطو رکندڙ ڀڳت ڀاڳچند جو به انهن راڳين مان هڪ آهي جيڪو سنڌڙي جي تعلقي کپرو ۾ 1965ع ڌاري جنم ورتو هن کي ننڊي هوندي کان ئي موسيقي سان بيحد چاهت هئي ان  ڪري هن ننڍي عُمِر ۾ اٽي جي  چڪي هلائيندي  ان مان ڪيترائي سُر ٺاهيندو هو.  ڪيترن ئي قسمن جا راڳ   چهيڙي ويهندو هو ته ڪڏهن وري ان چڪي جي آوازن کي ساز سمجهي پاڻ کي ان ۾ پنهنجي هستي کي گُم ڪري ڇڏيندو هو ته اتان کان هي شخص متاثر ٿيو ۽ وڃي سازن جي  دنيا وسايائين .
ائين ئي مختلف سازن سِکڻ جو هن ۾ شوق جاڳيو ان ڪري هن گهانگهر جي وڄائڻ کان شروعات ڪئي ۽ لوهه جا ڊٻا پڻ وڄائي پنهنجو شوق پورو ڪندو هو. ائين آهستي آهستي باجو، يڪتارو، بينجو ۽ ٻيا ڪيترائي ساز سکيائين ۽ استاد تارا چند کان باقائدي ڳائڻ جي سکيا ورتائين اتان کان ئي صوفي موسيقي سان شروعات ڪيائين جيڪو اڄ ڏينهن تائين جاري و ساري  آهي. هن پنهنجي ڳائڻ جي شروعات مختلف درگاهن کان ڪئي ۽ تائين به درگاهن تي ڳائيندو رهي ٿو، هن پنهنجو فن صرف پنهنجي پاڻ تائين محدود نه رکيو پر فن کي امانت سمجهي ٻين شاگردن کي به  ڏيندو اچي ، پنهجي هن فن سان ڪيترائي شاگرد تيار ڪيا آهن جيڪو اڄ تائين جاري رکيو اچي .
هن پوءِ پنهنجي پراڻي ڳوٺ کي ڇڏي شاهپور چاڪر وسايائين سن 2000ع ۾ هن اتي اچي رهائش اختيار ڪئي اڃا تائين اتي ئي پيو رهي . هن پنهنجي ميڊيا تي ڳائڻ جي شروعات خيرپور جي ريڊيو اسٽيشن تان ڪئين ، اُتي هن کي ڪرم علي ٽالپر متعارف ڪرايو ، جنهن کي هي روحاني مُرشد پڻ ڪري مڃي ٿو،
خيرپور ريڊيو اسٽيشن تان هن فقير جو هنن اکرن کان شروعات ڪئي
فقير جو مظهر الله جو مظهر
فقير مليو ته الله مليو
پوءِ هن سچل کي ڳايو“ قلب اندر قابو ڏٺوسين مڪي وڃڻ ڪهڙو ڪم” ائين هي پنهنجي هن فن سان ڪيترن ئي شاعرن کي سُرن ۾ چهڙيو آهي جن ۾ روحل فقير، مراد فقير، فقير درياءَ خان، بيدل سائين ، سچل سائين، ولي محمد لغاري، ڀڳت ڪبير، انور سائين ۽ حُضور سائين کان ويندي هن هن دور جي شاعر مانجهي فقير تائين پنهنجا سُر وکيريا آهن.
هن جو پسنديدهه صوفي شاعر روحل فقير آهي اڄ به به ڪرم سائين جي واکاڻ ڪندو رهي ٿو ۽ هن ڪرم سائين جا ڪيترائي ڪلام ڳائي چڪو آهي ، روحل سائين کي پسند جو شاعر هئڻ ڪري اڄ تائين هي ان فقير جون هي سٽون سدائين چوندو رهندو آهي ڇو ته روحل فقير هفت زبان شاعر آهي.
  صحيع سڃاڻي پاڻ اٿئي سندو قطرو،
ڪوري ڪڍ قُلوب مان مدائي وارو ماڻ،
پري نِهارڻ  پِر کي سندو ڄٽن ڄاڻ ،
سائين توسان ساڻ رات ڏينهن روحل چوي.

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi