Tuesday, August 18, 2015

پروفائل : پی ایچ ڈی سکالر ماروی کنول ٹالپر

 Unedited
 photo will be required
پروفائل : پی ایچ ڈی سکالر ماروی کنول ٹالپر
تحریر : محسن علی ٹالپر
ارادے جن کے پختہ نگاہ جن کی منزل پہ ہو
طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے
سندھ یونیورسٹی میں موجود ’نیشنل سینٹر آف ایکسیلینس اِن اینالائٹکل کیمسٹری ‘ جو کہ کیمسٹری میں اسی سینٹر کے طلبہ کو ریسرچ اور ڈاکٹیریٹ کی ڈگری دیتا ہے ان ہی طلبہ میں سندھ کے ایک چھوٹے مگر علمی حیثیت سے ایک معتبر شہر ٹنڈو جان محمد سے تعلق رکھنے والی ہونہار اور پر عزم ماروی کنول بھی شامل ہے۔
ماروی کنول ۱۷ آکٹوبر ۱۹۸۸ کو ایک متوسطہ گھرانے میں جنم لیا ، شروع میں ہی پڑھائی سے رغبت رکھنے کی وجہ سے پانچویں کلاس تک عمدہ نمبرں میں امتحان پاس کیا، محدود وسائل کے باوجود انتھک محنت اور علم سے محبت کی وجہ سے میٹرک کا امتحان "A1" کے امتیازی نمبروں میں پاس کر کے انڈرمیڈیٹ ’’ بائیولاجی‘‘ میں "A" گریڈ حاصل کیا ۔ کیونکیہ وسائل کی ایک بہت بڑی رکاوٹ تھی میڈیکل ٹیسٹ میں اور داخلہ میں تو آپ نے اپنے عزم کو کم نہ ہونے دیا اور ثابت کرنا چاھتی تھی کی کہ انسان اگر کامیابی کا پختہ ارادہ کر لے تو کوئی بھی رکاوٹ اور دیوار صلاحیت کے دریا کی فروانی کے آگے بند نہیں باندھ سکتی۔
ماروی نے زندگی اور مستقبل کیلئیے سندھ یونیورسٹی میں کیمسٹری کے شعبے کو منتخب کر کے اپنے گھر سے طلبِ علم کے لیئے باھر نکلنے کی بنیاد رکھی اور یہاں بھی پئے در پئے کامیابیاں سمیٹنے کا سلسہ جاری رہا BS کیمسٹری میں فرسٹ کلاس میں پاس کر کے اپنا آپ منوایا، لیکن کامیابیوں کا یہ سلسہ اُس عزم کے سامنے شاید کچھ بھی نہ تھا بقول شاعر:
پہنچائے گا بلندی پہ اک دن میر ا علم مجھ کو
پاؤں تلے سیڑھیاں مجھے اچھی نہیں لگتی
اور اینالائیٹیکل سینٹر میں ایم فل کی داخلہ ٹیسٹ کو کامیابی سے پاس کر کے اپنے علمی سفر کو ایک قدم آگے بڑھایا جلد ہی ایم فل کا امتحان پاس کر کے اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر کے لقب والے خواب کو جلد ہی شرمندہِ تعبیر کر دیں گی اور وہ دن دور نہیں جب وہ علمی حلقوں میں ڈاکٹر ماروی کنول ٹالپر کے نام سے جانی اور پھچانی جائے گی۔ماروی نے جلد ہی سندھ پبلک سروس کمیشن میں لیکچرار کے امتحان میں کامیابی کے روشن ستارے کو اپنی پیشانی پر سجا کر لیکچرار کا عہدہ حاصل کیا اور آج کل اپنی قابلیت کوآنے والے روشن مستقبل رکھنے والے طالب علموں تک منتقل کرنے کے لیئے ’نذرت گرلس کالیج حیدرآباد‘ میں تدریسی فرائض بخوبی احسن سر انجام دینے میں مصروفِ عمل ہیں۔
ماروی کنول سے میری مختصر سی ملاقات میرے اندر حوصلے ، ولوے اور لگن پیدا کر رہی تھی اور مجھے اقبال کا یہ شعر بخوبی سمجھ میں آنے لگا
نگاہ بلند ، سخن دلنواز ، جاں پر سوز
یہی ہے رختِ سفر میر کارواں کیلئے 

Mohsin Talpur
August 2015 
This practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi

No comments:

Post a Comment