Saturday, August 22, 2015

حیدرآباد میں کنڈا مافیہ سرگرم


بہت خراب لکھا ہوا ہے۔ اور ایڈیٹنگ بھی ٹھیک سے نہیں کی گئی ہے۔

حیدرآباد میں کنڈا مافیہ سرگرم
محمد حماد
پوراملک بجلی کے بحران میں مبتلا ہے۔بجلی کے بحران نے شہریوں،صنعت کاروں،تاجروں اوردکانداروں کو معاشی بحران میں مبتلاکردیا ہے۔ حیدر آباد میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مکین پریشان ہیں۔بجلی کے بحران کا ایک بڑا سبب بجلی کی چوری ہے، جس کو حیسکو اور دیگر ڈسکو کمپنیاں روکنے میں ناکام رہی ہیں۔ 

شہر کے گنجان علاقے ہوں یا کچی آبادیاں اکثر مقامات پر کنڈا سسٹم چلتا ہے۔ حیدرآباد میں ایریگیشن اوربند کی زمینوں پر غیرقانونی بستی آباد ہیں جن کے گھروں میں بجلی کے غیرقانونی کنڈا کنکشن چل رہے ہیں جوکہ مختلف گروہوں نے ماہانہ 300سے لیکر 600روپے تک فی گھر کے حساب سے ان کو جاری کیئے ہیں۔ کافی تعداد میں غیر قانونی کنڈا کنکشن لگنے کی وجہ سے حیسکو کو کافی بھاری نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ 

غیر قانونی کنڈا کنکشن دینے میں چند لوگ ملوث ہیں ۔اور یہی لوگ اس کام کو سرانجام دے رہے ہیں اور یہ کنڈا مافیہ پورے حیدرآباد میں جگہ جگہ کام کر رہی ہے جس میں لطیف آباد نمبر ,12 ,10,5,11 مہرعلی،حالی روڈ،گجراتی پاڑا،امریکن کواٹر،اسلام آباد، پھلیلی ،پریٹ آباد ، لیاقت کالونی،حسین آباد، پکہ قلعہ ،کرسچن کالونی شامل ہیں۔

حیدرآباد میں بہت سی ایسی جگہ ہیں جہاں غیر قانونی آبادی قا ئم ہے جس کی وجہ سے جو لوگ قانونی طور پر رہ رہے ہیں ان لوگوں کو بھی بجلی کے بحرا ن میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔تقریباً250سے زائد گھر غیرقانونی جگہ پر آباد ہیں جن میں بجلی کے میٹر ہی نہیں ہے ۔گزشتہ ماہ رمضان میں حیسکو کے آپریشن میں معلوم ہوا کہ تقریباً600مکانوں میں سے 18مکانوں میں بجلی کے میٹرلگے ہوئے تھے اور باقی تمام کنڈا کنکشن پر چل رہے تھے۔ کچھ گھروں میں ایئرکنڈیشنر بھی تھے۔ 

ان کنڈا کنکشن اوربجلی چوروں کی وجہ سے جو گھر بجلی کا بل اداکرتے ہیں انہیں کافی مشکلات کا سامناکرنا پڑ رہا ہے کیونکہ حیسکو اپنی ریکوری پوری کرنے کے لئے چوری کی بجلی کے میٹر کے یونٹ شریف قسم کے صارفین کے بلوں میں ڈال دیتا ہے جس سے ان صارفین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔ 

حیدرآباد ڈویژن میں تقریباً 20کروڑ کی بجلی استعمال ہوتی ہے اور اس کی ریکوری تقریباً12سے 14کروڑہوتی ہے جسکی وجہ سے ریکوری کو پورا کرنے کے لئے بجلی کے یونٹ بڑھاکر ریکوری کو پورا کیا جاتا ہے۔

صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ جولوگ ایمانداری سے بل ادا کرتے ہیں وہ لوگ اپنے پورے علاقے میں ایک ٹیم تشکیل دیں ۔جس سے وہ لوگ جو غیر قانونی کنڈا کنکشن ملوث ہیں ان کے خلاف فوراًحیسکوہیلپ لائن پراطلاع دی جائے تا کہ ایسے لوگوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور ان کے ساتھ سختی 
سے نمٹا جائے ۔
بہت خراب لکھا ہوا ہے۔ اور ایڈیٹنگ بھی ٹھیک سے نہیں کی گئی ہے۔
2k13/MC/69
------ ------------------------------------FIRST VERSION------------------------------------------------
آرٹیکل چھوٹا ہے۔ ایک سو ڈیڑھ سو الفاظ اور بڑھاؤ۔ اور صرف لطیف آباد کیوں؟ باقی شہر کا بھی حوالہ دو۔ صرف ایک ایریا کو ٹارگیٹ کرنا اچھا نہیں۔
ye bijli mafia nhe kund amafia kahlati hae
محمد حماد 2k13/MC/69
بجلی مافیہ لطیف آباد میں سرگرم
یہ حقیقت ہے کہ پوراملک بجلی کے بحران کے عذاب میں گھراہواہے۔بجلی کے بحران نے شہریوں،صنعت کاروں،تاجروں اوردکانداروں کو معاشی بحران میں مبتلاکردیا ہے ایسے ہی لطیف آباد نمبر5میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے کافی تعداد میں علاقہ مکین پریشانی میں مبتلا ہے ایریگیشن کی اوربند کی زمین پر جوغیرقانونی بستی آباد ہے ان کے گھروں میں بجلی کے غیرقانونی کنڈہ کنکشن جارہے ہیں جوکہ مختلف گروہوں نے ماہانہ 300سے لیکر 600روپے تک فی گھر کے حساب سے وصولی کی جارہی ہے اس علاقے میں کافی تعداد میں غیر قانونی کنڈہ کنکشن لگے ہوئے ہیں جس سے حیسکو کو کافی بھاری نقصان ہورہا ہے اورجب لوڈزیادہ ہوتا ہے تو200 Kvکا بڑاٹرانسفرپھٹ جاتا ہے جس کی وجہ سے کئی دن تک لوگ بجلی سے محروم ہوجاتے ہیں اور یہ غیر قانونی کنڈہ کنکشن دینے میں کچھ لوگ ملوث ہیں جوکہ بجلی کے غیر قانونی کنڈہ کنکشن دیتے ہیں ۔لطیف آباد میں یہ ایک مافیہ ہے جو کہ اس کامیں ملوث ہے ان کے مختلف لوگ اس کام کو سرانجام دے رہے ہیںیہ ایک کچی بستی ہے جو کہ غیر قانونی ہے جس کی وجہ سے جو لوگ لیگل رہ رہے ہیں ان کو بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔تقریباً250سے زائد گھر اس غیرقانونی جگہ پر آباد ہیں جن کا میٹر ہی نہیں ہے ۔گزشتہ رمضان المبارک میں حیسکو نے آپریشن کیا تھاجس میں تقریباً600مکان میں سے 18گھروں کے میٹرلگے ہوئے تھے باقی سب کے سب کنڈہ کنکشن پر چل رہے تھے کچھ گھروں میں زیادہ ترتعداد میں ایئرکنڈیشن لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے لوڈ زیادہ تھااور حیسکو کی ریکوری بہت کم تھی ان کنڈہ کنکشن اوربجلی چوروں سے جو گھروہاں بجلی کا بل اداکرتے ہیں وہ کافی مشکلات میں ہیں کیونکہ حیسکو اپنی ریکوری پوری کرنے کے لئے چوری کی بجلی کے میٹر کے یونٹ ان کے بلوں میں ڈال دیے جاتے ہیں جس سے ان لوگوں کے چہروں پر ایسا سخت ری ایکشن نظر آتا ہے جیسے یہ ابھی سارے غیر قانونی کنڈہ کنکشن کاٹ دینگے اس سب ڈویژن میں20کروڑ کی بجلی استعمال ہوتی ہے اور ان کی ریکوری تقریباً12سے 14کروڑہوتی ہے جسکی وجہ سے ریکوری کو پورا کرنے کے لئے بجلی کے یونٹ میں گڑبڑھ کرکے ریکوری کو پورا کیا جاتا ہے۔
ان تمام حالات پر قابو پانے کے لئے ایک ہی طریقہ ہے کہ جولوگ بل ادا کرتے ہیں پوری ایمانداری سے وہ لوگ اس پورے علاقے میں ایک ٹیم تشکیل دی جائے ۔جیسے ہی جو لوگ غیر قانونی کنڈہ کنکشن لگائیں ان کے خلاف فوراًحیسکوہیلپ لائن پراطلاع دی جائے تاکہ ایسے لوگوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور ان سے سختی سے نمٹا جائے تاکہ ایسے عناصر اور بجلی چوروں کا خاتمہ کیا جائے تاکہ عوام الناس کو مشکلات کا سامنانہ کرنا پڑے۔

No comments:

Post a Comment