Monday, August 17, 2015

عرس مبارک لعل شہباز قلندر Revised

Ur feature was too long (1500 words) I tried to edited and put into feature form. Still it is long for publication in Roshni. we can publish it on web site or Blog.  We will need some photos of Mela.
For filing interview, deadline has expired, no piece is accepted after deadline. 
 I am sending u edited piece also 
 There are lot of proof mistakes

محمد مہد:رول نمبر 122:بی ایس پارٹ 3

فیچر: عرس مبارک حضرت لعل شہباز قلندر

بزرگان دین کے مزارات پر منعقدہ عرس کی تقاریب صوبے کی اس ثقافت کا جزو ہے جس میں راواداری ،تحمل،برداشت کو بنیادی حثیت و اہمیت حامل ہے۔رواں سال لعل شہباز قلندرؒ کے عرس کی تقریب کی میڈیا کوریج کا موقعہ ملا۔ کوریج کے لئے ہم لوگ سینئر پروڈیوسر محمد عارف کے ہمراہ ریڈیو سے ایک دن پہلے
ہی را ت کو سہون کے لئے نکل گئے ۔
لعل شہباز آذربائجان کے علاقے مروند میں 538 ؁ ہجری میں پیدا ہوئے۔ آپ سندھ کے ان بزرگان دین میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی صوفی منش طبیعت لیکن قلندرانہ کیفیت کے باعث جلالی مزاج کے حامل ہیںآپکی وفات21 شعبان بمطابق 637 ؁ ہجری کو ہوئی اور وہ سیہون میں مدفون ہیں۔۔فیروز شاہ تغلق کے عہد میں رکن الدین عرف ملک اختیار الدین نیان کا روضہ تعمیر کرایا ۔ آج تک ہر سال عرس کی تقریب 20,19,18 شعبان کو منعقد کی جاتی ہے ۔



ہم جسے ہی سہون شہر میں داخل ہوئے تو اس وقت رات کے چار بج رہے تھے مگر دن کا سا سماء تھا۔ سندھ میں ہر عرس کی تقریب تقریباایک جیسی ہی ہوتی ہے عرس میں درگاہ کو رنگین بتیوں سے سجایا ہوا تھا درگاہ کے برابر میں میٹھایوں سمیت کئی چھوٹے بڑے اسٹال لگائے ہوئے تھے۔پورے شہر میں میلے کا سا سماء لگ رہا تھا مختلف اقسام کے جھولے لگے ہوئے تھے جس سے لوگ خوب لطف اندوز ہو رہے تھے ۔



جب ہم ہماری رہائش کی جانب جا رہے تھے تو پولیس والوں نے ہمیں روک دیا اور ہمارے بارہا کہنے کے بعد بھی کہ ہم ریڈیو پاکستان کی جانب سے ہیں ہمیں اندر نہیں جانے دیاجبکہ اس وقت وہاں سے کئی گاڑیاں گزر رہیں تھں۔ مجھے بہت افسوس ہوا اور سوچ رہا تھا کہ ہم واقع ہی ایک آزاد ملک میں رہتے ہیں جہاں اپنا کام شروع کرنے سے پہلے بھی اجازت لینی پڑتی ہے۔ 



صبح ہوتے ہی ہم درگاہ گئے جہاں مشیر اوقاف نے چادر چڑھا کر عرس کا باقاعدہ افتتاح کیا ۔جبکہ عرس شروع ہونے سے پہلے ہی پاکستان سمیت دنیا بھر سے لاکھوں عقیدت مند حاضری کے لئے آئے ہوئے تھے اور مزید بھی قافلوں کی شکل میں آرہے تھے ۔ ہر گھنٹے میں ہزاروں لوگ مزار پر چادر چڑھاتے اور دعا مانگتے تھے اور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ۔کئی لوگ دھمال ڈال کر اپنی عقیدت کا اظہار کرتے نیاز و لنگر کرتے جس سے کئی آنے والے ظاہرین کے لئے کھانے کا اہتمام ہو جاتا تھا ۔



عرس میں تینوں دن تقاریب منعقد کی گئی تھیں۔ایک ایکسپو سینٹر کا بھی انعقاد کیا گیا۔ ہم لوگ وہاں انفارمیشن دیپارٹمینٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے ساتھ کوریج کے لئے گئے تو وہاں مختلف اشیاء کے اسٹال لگے ہوئے تھے جو کہ سندھ کی تاریخ اور ثقافت ک عکاسی کرتے اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے جس سے لوگوں کو دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا۔ اس کا افتتاح ممبر صوبائی اسمبلی فقیر داد کھوسو نے کیا اور سب اسٹال پر جا کر اسٹال کا جائزہ لیا اور میدیا سے گفتگو کی۔

زائرین کی تفریح کے لئے سندھ اور پنجاب کی ثقاف کو اجاگر کرتا کھیل ملاکڑے کا انعقاد بھی کیا گیا جس کا افتتاح ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر ملک اسد سکندر نے کیا۔ جس میں مخلتف ملہہ پہلوانوں نے حصہ لیا اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کر کے جیتنے والے کھیلاڑیوں کو لعل شہباز قلندر شیلڈ دی گئی ۔
سب پروگرام کی کوریج کرنے کے بعد ہم نے تمام فائلوں کو ایف ٹی پی کر دیا۔
دوسرے دن بھی شام میں ملاکڑے کا انعقاد کیا جاتا ہے پھر رات کے وقت لوگوں کے لئے پروگرام سگھڑن کی کچیری کا انعقاد کیا گیا تھاجس کا افتتاح شرمیلہ فاروقی کو کرنا تھا جو کہ مصروفیات کی وجہ سے نہیں آسکیں جس کہ باعث انکے سیکریٹری نے پروگرام سگھڑن جی کچھیری کا افتتاح کیا جس میں ملک بھر کے سگھڑوں نے حصہ لیا اور اپنی شاعری جو کہ لطیفوں کی شکل میں تھی اس سے لوگوں پر ایسا جادو کر دیا کہ لوگ ہسی سے لوٹ پوٹ ہو نے پر مجبور ہوگئے اور ہم نے اس پروگرام کی بھی کوریج کرنے کے بعد فائل ٹرانسفر کر دیا ۔سگھڑوں نے اپنی شاعری کر کے لوگوں سے تالیوں کی شکل میں داد وصول کی ۔اور اس پر بھی بہترین سگھڑ کو لعل قلندر شیلڈ پیش کی گئی تھی ۔ 



سگھڑن کی کچھری کے دوران ہی دپٹی کمشنر جامشورو نے وہاں کا دورہ کیا جس پر ہمارے ایک صحافی دوست نے ہی انہیں روک لیا اور انتظام کے حوالے سے بات کرنے لگا کہ میں نے اس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس دے دیا جو کہ بہت میلا ہو رہا تھا جس پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ یہ ہماری مجبوری ہے اور میں خود ہی پانی پی کر آیا ہوں۔



تیسرے روز بھی عرس کو اپنے منطقی انجام تک پہچانے کے لئے بھی وزیراعلی سندھ کو 4 بجے تک آنا تھا اور اس وقت کے متابق ہمیں اور دیگر میڈیا والے بھی کوریج کرنی تھی۔ مگر موسم خراب ہونے کے باعث انہیں دیر ہو گئی اور وہ شام 7 بجے پہنچ ہی گئے ۔ ان کے آمد سے پہلے سارے مزار کو خالی کر والیا گیا ۔
وزیراعلیٰ سندھ نے چادر چڑھائی اور فاتحا خوانی کرکے 3 روزہ عرس کا اختتام کردیا ۔

میڈیا والوں کے اصرار پر وزیراعلی سندھ نے میڈیا سے گفتگو کی اور اس وقت میں نے سب ریکارڈنگ کر لی اور پھر جاتھ ہوئے ڈپٹی کمشنر جامشورو کو تمبع کی کہ درگاہ کے دروازوں کو بڑا کیا جائے۔
میلہ تو رسمی طور پر ختم ہوگیا لیکن لوگوں کی تھکن میں کمی کرنے کے لئے آخری رات ایک شاندار محفل موسیقی کا احتتمام کیا گیا تھا جس کے کنوینئراسسٹنٹ کمشنر جامشورو تھے جس میں تاج مستانی،طفیل سنجرانی سمیت نامور گلوکاروں اور کئی فنکاروں نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور کئی گانوں پر لوگوں سے خوب داد وصول کی ۔ اور رقص کرتے تھے۔
سب کی کوریج کر کے ایف ٹی پی کر دی اور ہمارے پروڈیوسر نے رپورٹ بنا کر رات گیارہ بجے پروگرام تاروں بھری رات میں چلا دی اور پھر عرس کے آخر میں عرس کو منعقد کرنے والی کمیٹی میں کام اور حصہ لینے والوں کوبہترین کام کرنے پر میلا کمیٹی کی طرف سے لعل شہباز قلندر شیڈ دی گئی اور اس طرحمحفل موسیقی سے عرس کا اختتام کر دیا ۔


This practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi
Key words: Qalandar Mela, Sehwan, Mahad , Sohail Sangi,
-------- FIRST VERSION --------

آپ کا ٹاپک تھا سیہون میلے کی کوریج۔ آپ نے سہون، قلندر کی زندگی پر لکھا ہے۔ اس کا تھوڑا سا حوالہ اور میلے کا ذکر اور پھر کوریج کیسے کی یہ ہونا چاہئے۔ اس کو جمعرات تک ٹھیک کر کے دیں۔
مہد: رول نمبر 122:بی ایس پارٹ 

 Unedited


فیچر: عرس مبارک لعل شہباز قلندر۔۔
حیدرآباد سے دادو کی طرف چلیں تو سہون کا تاریخی شہر آتا ہے پہاڑی سلسلے اوردریائے سندھ سے ملحقہ کچے کے علاقے سمیت کئی حوالوں سے مشہور ہے۔ وادی مہران میں یوں تو سینکڑوں بزرگ مدفون ہیں لیکن سچل ،قلندراور بھٹائی کو خصوصی مقام حا صل ہے۔سیوہن ا کی اصل شناخت حضرت لعل شہباز قلندرؒ کا وجود کی و جہ سے ہے جو یہاں مدفون ہیں۔اوربرضغیر ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں نمایاں شہرت کے حامل ہیں۔سندھ سوارنا ،سہوستان ،سدوسان اور سدو مانیا سے سہون تک کے سفر میں اس شہر نے تاریخ کے کئی رخ دیکھے لیکن اسے شہرت بارہویں صدی عیسوی میں ہی ملی جب حضرت لعل شہباز قلندر ؒ نے اسے اپنا مسکن بنایا۔آپ آذربائجان کے علاقے مروند میں 538 ؁ ہجری میں پیدا ہوئے ،آپ کے والد کا نام سید ابراہیم کبیرالدین تھے جو اپنے زمانے کے صاحب کمال شخصیت بیان کئے جاتے ہیں۔ آپ سندھ کے ان بزرگان دین میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی صوفی منش طبیعت لیکن قلندرانہ کیفیت کے باعث جلالی مزاج کے حامل ہیںآپ کے کشف و کرامات کے درجنوں واقعات مشہور ہیں۔کہتے ہیں کہ آپ کے دم کردہ پانی سے بیمار شفایاب ہوئے تبلیغ کا انداز سادہ لیکن اندازگفتگو متاثر کن تھا ۔جس کی سبب آپ کی شہرت دور دور تک پہلی اور لاکھوں لو گوں نے اسلام قبول کیا۔آپکی وفات21 شعبان بمطابق 637 ؁ ہجری کو ہوئی اور سہون میں ہی مدفون ہوئے۔فیروز شاہ تغلق کے عہد میں رکن الدین عرف ملک اختیار الدین نے آپ کے روضہ اقدس تعمیر کرایا جو آج بھی خاص و عام ہے۔ اور جب سے آج تک ہر سال عرس کی تقریب 20,19,18 شعبان کو منعقد کی جاتی ہے ۔اور بزرگان دین کے مزارات پر منعقدہ عرس کی تقاریب صوبے کی اس ثقافت کا جزو ہے جس میں راواداری ،تحمل،برداشت کو بنیادی حثیت و اہمیت حامل ہے۔ اور سندھ میں ہر عرس کی تقریب تقریباایک جیسی ہی ہوتی ہے عرس میں درگاہ کو رنگین بتیوں سے سجایا جاتا ہے درگاہ کے برابر میں میٹھایوں سمیت کئی چھوٹے بڑے اسٹال لگائے جاتے ہیں۔جبکہ عرس شروع ہونے سے پہلے ہی سہون شہر کو بھی مختلف رنگوں کی بتیاں سے سجایا جاتا ہے اور پورے شہر میں میلے کا سا سماء لگتا ہے مختلف اقسام کے جھولے لگائے جاتے ہیں جس سے لوگ خوب لطف اٹھاتے ہیں۔اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے لاکھوں عقیدت مند حاضری کے لئے آتے ہیں اور مزار پر چادر چڑھاتے اور دعا مانگتے ہیں او ردھمال ڈال کر اپنی عقیدت اور محبت کو ظاہر کرتے ہیں نیاز و لنگر کرتے ہیں جس سے کئی آنے والے ظاہرین کے لئے کھانے کا اہتمام ہو جاتا ہے ۔اور عرس میں تینوں دن تقاریب منعقد کی جاتی ہیں جبکہ گورنر سندھ چادر چڑھا کر عرس کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہیں اور عرس کے موقع پر مختلف اشیاء کے اسٹال لگے ہوتے ہیں جو کہ سندھ کی تاریخ اور ثقافت کو اجاگر کرتے ہیں اور لوگوں کے لئے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے اس کے بعد دنیا بھر سے آنے والے لوگوں کے لئے تفریحی حاصل کرنے کے لئے سندھ اور پنجاب کی ثقاف کو اجاگر کرتا کھیل ملاکڑے کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں ملک بھر سے کھیلاڑی حصہ لیتے ہیں اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کر کے جیتنے والے کھیلاڑیوں کو لعل شہباز قلندر شیلڈ دی جاتی ہے۔اور دوسرے دن بھی شام میں ملاکڑے کا انعقاد کیا جاتا ہے پھر رات کے وقت لوگوں کے لئے پروگرام سگھڑن کی کچیری کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں ملک بھر سے سگھڑ حصہ لیتے ہیں اور اپنی شاعری جو کہ لطیفوں کی شکل میں ہوتی ہے لوگوں کو ہسی سے لوٹ پوٹ ہو نے پر مجبور کر دیتی ہے اور لوگوں سے تالیوں کی شکل میں داد وصول کرتے ہیں اور اس پر بھی بہترین سگھڑ کو لعل قلندر شیلڈ پیش کی جاتی ہے۔اور پھر تیسرے روز بھی عرس میں لوگوں کی تفریحی محیا کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ چادر اور فاتحا خوانی کرکے 3 روزہ عرس کا اختتام کر دیتے ہیں۔مگر اختتام کرنے کے بعد بھی لوگوں کی تھکن اور پریشانی میں کمی کرنے کے لئے آخری رات ایک شاندار محفل موسیقی کا احتتمام کیا جاتا ہے جس میں نامور گلوکار سمیت کئی فنکار بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں جسے لوگ بے حد پسند کرتے ہیں اور موسیقی سے خوب محزوز ہوتے ہیں۔اور پھر آخر میں عرس میں منعقدہ تقاریب میں حصہ اور بہترین کام کرنے والوں کو میلا کمیٹی کی طرف سے لعل شہباز قلندر شیڈ دے کر عرس کا اختتام کر دیا جاتا ہے۔۔



No comments:

Post a Comment