Monday, August 17, 2015

پروفائیل: شبیر تابش

اچھا لکھا ہوا ہے۔ کچھ ایڈیٹنگ کی ضرورت ہے۔ اور تھوڑا سا طویل بھی ہے۔ پیراگرافنگ نہیں تھی جو کردی ہے۔ پروفائل والی شخصیت کی فوٹو چاہئے.
 Un -edited
محمد مہد ، رول نمبر 122، بی ایس پارٹ 3
پروفائیل: شبیر تابش حیدرآباد کی تاریخ کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہیں

شبیر احمد تابش حیدرآباد میں اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے اپنا مقام آپ رکھتے ہیں۔ اس بات کا ثبوت انہوں نے کچھ اس طرح سے دیا کہ وہ حیدرآباد سے کتنا پیار کرتے ہیں شبیر احمد تابش نے حیدرآباد کی تاریخ کو بے پناہ پڑھااور حیدرآباد کی ایک ایک گلی،ٹنڈوز،چوراہوں کی تاریخ کو اس طرح سے ڈھونڈا اور مکمل ریسرچ کی جس کی وجہ سے شبیر احمد تابش حیدرآباد کی تاریخ کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہیں۔انہوں نے لاتعداد فیچرز ،ڈرامے،افسانے ،کالم مختلف ٹی وی چینلزاور اخباروں کے لئے لکھیں۔اس کے علاوہ پی ٹی وی،بی بی سی،نیشنل جیوگرافک اور ڈسکوری جیسے بڑے ٹی وی چینلز کے لئے بھی ڈاکیومینٹری لکھی ہیں۔۔
آپ انتہائی سادہ طبیعت کے مالک ہیں اور لوگوں کے ساتھ محبت سے پیش آتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں بے حد مقبول ہیں۔
13 اگست 1965کوحیدرآباد کے علاقے سرفراز کالونی میں پیدا ہوئے۔ان کے والد نصیرالدین حکمت کے پیشے سے وابستہ تھے۔ بنیادی تعلیم کالونی میں واقع مدرستہ السلام سے حاصل کی۔ اس اسکول میں داخلے کے لئے ایک دلچپ واقع ہوا۔اور وہ واقع یہ تھا کہ جب اس وقت اسکولوں میں داخلہ دیا جاتا تھا تو بچے کی عمر کم سے کم پانچ سال ہونا شرط ہوتی تھی۔ تعلیم حاسل کرنے کا اس حد تک شوق تھا کہ جس کی وجہ سے اسکول میں داخلہ لینے ازخود ہی پہنچ گئے جبکہ اس وقت ان کی عمر چار سال تھی ۔ماسٹر نے پوچھا کہ عمر کتنی ہے؟ کم عمر ہونے کی وجہ سے انہیں داخلے دینے سے منع کر دیا اور کہا کہ پانچ سال کے ہو جاؤ تو آجانا۔مگر آپکو تعلیم کا بے حد شوق تھا تو تعلیم حاصل کرنے کے حصول کے لئے آپ دو یاتین ہفتے بعد پھر سے چلے گئے اور یقین تھا کہ وہی سوال پھر سے کیا جائے گا،اور وہی سوال ہواتو آپ نے جھوٹ بولا کہ آپکی عمر پانچ سال ہے اور یہ آپکی زندگی کا پہلا جھوٹ تھا اور وہیں سے زندگی میں جھوٹ کی شروعات ہوئی۔
پرائمری تعلیم حاصل کرنے کے بعدتلک چاڑہی پر واقع جامعہ عربیہ ہائی اسکول سے میٹرک پاس کیا۔ہائی اسکول کی تعلیم کے زمانے میں ان کے والد مختلف اخبارات گھرلے کر آتے تھے۔ اس وقت جنگ اخبار میں ٹارزن کی کہانی شائع ہوتی تھی جو وہ بہت شوق سے پڑھتے۔ان کے ذہن میں ہمیشہ ایک ہی سوال جنم لیتا تھا کہ ایک اکیلا انسان جنگل کس طرح زندہ رہتا ہے اور وہ مرتا کیوں نہیں ہے۔ آٹھویں جماعت میں ہی آپ نے اپنی پہلی تحریر لکھی جس کا عنوان سچ پر تھاجو کہ جنگ میں شائع ہوئی اور اس طرح وہاں سے انہوں نے لکھنے کا آغاز کیا ۔
انہوں نے سندھ کامرس آف کالج سے بی کام کی ڈگری حاصل کی۔اس دوران آپ کے لکھنے کا آغاز روزنامہ جنگ اور چٹان سمیت مختلف اخباروں سے لکھتے رہے۔آپ نے روزنامہ انقلاب میں ضیاالحق کے دور میں بھی کام کیا کہ جب خبریں سنسر ہوتی تھیں۔ ایک خبر کی جگہ دوسری خبر شائع نہیں ہوسکتی تھی اور خالی جگہ کے ساتھ اخبار شائع ہوجاتے تھے۔ اس دور میں بھی کام کیا۔
پھر میگزن کی طرف بھی مائل ہوئے کیوں کہ جب شوبز کا دور تھااور فلمیں چلا کرتی تھیں تو فلمیں دیکھنے کا بھی بہت شوق تھا وہید مراد اور ندیم کی فلمیں سب سے زیادہ دیکھیں جس کے گانے آج تک آپکو یاد ہیں۔اسکے علاوہ ماہانامہ میگزین میں صبح روپ ،اجالا ،روزنامہ عوام اور اسی طرح کے میگزین اور اخبارات کے لئے فلمی خبریں لکھا کرتے تھے۔
آپ شوبیز کی خبریں اس لئے بھی لکھا کرتے کہ اس میں کوئی لڑائی جھگڑا اور کسی کے خلاف بات نہیں ہوتی تھیں۔ اس کے علاوہ آپ نے کئی مضامین بھی لکھے،آپ نے فیچر نگاری کرنی شروع کر دی جس میں آپکے استاد اس وقت کے اخبار جہاں کے سینئر ایڈیٹر غلام محی الدین تھے جنہوں نے آپکی ہمیشہ رہنمائی کی۔
آپکو شاعری کا بہت شوق تھا آپ نے کئی غزلیں بھی لکھیں جبکہ شاعری میں آپکے استاد الیاس شاہد تھے اور ان کے استاد جناب احسان دانش تھے جو کہ شاعر مزدو ر بھی رہے جنہیں گورنمنٹ آف پاکستان نے ستارہ امتیاز بھی دیاتو وہ میرے پر استاد رہے۔
محمد خان جونیجو کے دور حکومت میں ریڈیو سے بھی وابستگی رہی اور ادبی پروگرام مجلہ میں بھی اسکرپٹ لکھے اور شاعری کی اور ڈرامے بھی لکھے آپ کے پہلا ڈرامہ روشنی کے نام سے نشر ہوا ۔اس کے ساتھ ساتھ مختلف شہروں کی تاریخ اور شخصیات کے حوالے سے کرنٹ افیئر کے پروڈیوسر محمد عارف نے حوصلہ افزائی کی اور ان کی وجہ سے اندرون سندھ دیکھنے ،سمجھنے اور لکھنے کا موقع ملا جسے ضامعین نے بے حد سراہااس بات کا اندازہ ضامعین کے خطوط سے لگایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے پی ٹی وی،بی بی سی ، ڈسکوری اور نیشنل جیو گرافک جیسے بڑے ٹی وی چینلز کے لئے بھی ڈاکیومینڑی لکھیں ہیں اور ایک نئی ڈاکیومینٹری ڈسکوری کے لئے استاد جی کے نام سے لکھ رہے ہیں۔ جبکہ آپ کو زیادہ پزیرائی میڈوک کی وجہ سے ملی ۔ آپ کا کہنا ہے کہ وہ جہاں رہتے تو ان پر لازم ہے کہ آپ حیدرآباد کی تاریخ ،تہذیب،تمدن ،صخافت اور اد ب کے حوالے سے لکھیں،جبکہ آپ کا کہنا ہے کہ حیدرآباد کا نام جو شہرت کا حامل تھا اس کی شناخت دوبارہ بحال کی جائے۔۔۔

 
محمد مہد ، رول نمبر 122، بی ایس پارٹ 3 سیکنڈ سیمسٹر
This practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi

اگست  2015

No comments:

Post a Comment