Tuesday, August 18, 2015

لوکل بسّو ں میں کمی Revised

Revised 
بلال حسن رول نمبر 2k13/MC/28 2nd writing piece
آرٹیکل لوکل بسّو ں میں کمی (لطیف آباد)
سفر انسان کی زندگی کا اہم ترین حصّہ اور ضرورت ہے۔اگرذریعہ سفر پرنظرڈالی جائے تو ماضی میں بہت ہی کم زریعے نظر آتے ہیں لوگ زیادہ تر پیدل اور اونٹ پر سفر کیا کرتے تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں جدّت اور ترقی ہوتی گئی اور موجودہ دور میں لوگ بس ،ٹرین ، جہاز اور اپنی زاتی سواری میں سفر کرتے ہیں اگر یہ ذریعے کم یا پھر ختم ہو جائیں لوگوں کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ایسا ہی کچھ حال لطیف آبا د کا ہے جہاں لوکل بسیں نہ ہو نے کے برابر ہیں۔

اگر حیدرآبا د میں بسّوں کی تا ر یخ پر نظر ڈا لی جائے تو 1960 میں بسّوں کے سفرکاآغاز ہوااور اس وقت صرف گورنمٹ کی بس چلا کرتی تھیں جس کا کرایہ ایک آنہ تھا پھر اسکے کچھ عرصے بعد ڈبل ٹیکر بسیں چلنے لگی جو کہ اس وقت کی مشہور بس تھی اور اس میں کافی تعداد میں مسافر سفر کرتے تھے اوراس بس کا کرا یہ صرف 2آنے تھا اور یہ دونوں بسیں لطیف آباد نمبر9 7,سے لیکر کچہ قلعہ،اسٹیشن اور مارکیٹ تک جاتی تھیں پھر 1971کے بعد ڈبل ٹیکر بسیں چلنا بند ہو گئیں اسکے بعد A1 بسیں چلنا شروع ہوئی جو کہ آج تک چل رہی ہیں۔

اب حیدر آبا د میں موجودہ بسّوں کی تعداد پر نظر ڈالی جائے تو 1998 میں بسّوں کی تعداد ۱150 سے زائد تھی جس میں 108 لطیف آبادکی اور باقی سٹی ایریااور قاسم آباد کی تھیں اور۱س وقت بھی 150 سے زائدہیں مگر ا س کے باوجودحیدرآباد میں لوکل بسیں سڑکوں پر کم نظر آرہی ہیں۔ کئی علاقے مثلا پھلیلی، پریٹ آباد، ہالہ ناکہ ، فقیر کا پڑ، سستی سفری سہولیات سے محروم ہیں۔ حسین آباد، جی او آر کالونی کے رہائشیوں کو کوٹری کی بس کا سہارا ہے۔ شہر سے قاسم آباد تک کوئی بس نہیں چلتی۔ یہاں بسنے والے لاکھوں لوگوں کو سوزکیوں یا رکشاء کے ذریعے شہر آنا پڑتا ہے جو ان کی آمدن کے حساب سے گراں گزرتا ہے۔ یہی صورتحال لطیف آباد کی ہے جبکہ لطیف آباد کی آبادی 7لاکھ سے زائد ہے۱سکی موضوع پر بس ڈرائیور سے بات کی گئی تو بہت ساری وجوہات سامنے آئی۔ شہر میں ناجائز تجاوزات بڑھنے کی وجہ سے سڑکوں کا تنگ ہونا، بھتہ خوری، سی این جی کی قلت ،کم کرایہ، پبلک سواری میں اضافہ جس میں سوزوکی ،منی ٹیکسی،چنچی اور موٹر سا ئیکل وغیرہ شامل ہے لیکن ایک اور اہم وجہ جس پر ایک بس کے مالک اقبال علی نے بہت زور دیا اور وہ وجہ تھی سی این جی رکشہ اسکا کہنا تھا کہ ان رکشوں کی وجہ سے بسّوں کے مسافروں پر بہت اثر پڑا ہے کیونکہ یہ سی این جی رکشے بسّوں کے مسافرو ں کو اپنی جانب کھنچ رہے ہیں ویسے تو رکشے ذاتی سواری کے طور پر استعمال ہو تے ہیں مگر سی این جی رکشوں میں بڑھتے ہوئے اضافے کے بعد مسافر کم ہو گئے ہیں اور رکشے کو پبلک سواری بنا لیا ہے اور کرایہ صرف10 سے 15روپے فی سواری ہے مگر اس سے لوکل بسّو ں پر بہت اثر پڑا ہے۔

لوکل بسّو ں کے مالکان کا مطالبہ ہے کے سب سی پہلے سی این جی رکشوں کو پبلک سواری کے طور پر چلانے کی پابندی لگائی جائے ۔  

------------------------------------------------------------------------------------------------

OLD VERSION

بلال حسن رول نمبر

2 k13/MC/28 2nd writing piece

Do not  confine this issue to Latifabad.  Make it for Hyd, means old city area and Qasimabad also.  Population of Latifabad, Old city area, and Qasimabad, What problems are created in absence of buses? Issue of four-seaters, suzukies, increasing number of motorcycles. 
Alos mention old routes of govt buses, and doyble decker buses, 
Un edited
آرٹیکل لوکل بسّو ں میں کمی (لطیف آباد)
یہ سچ ہے کہ سفر انسان کی زندگی کا اہم ترین حصّہ اور ضرورت ہے۔اگر زریعہ سفر پرنظرڈالی جائے تو ماضی میں بہت ہی کم زریعے نظر آتے ہیں لوگ زیادہ تر پیدل اور اونٹ پر سفر کیا کرتے تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں جدّت اور ترقی ہوتی گئی اور موجودہ دور میں لوگ بس ،ٹرین ، جہاز اور اپنی زاتی سواری میں سفر کرتے ہیں اگر یہ زریعے کم یا پھر ختم ہو جائیں لوگوں کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ایسا ہی کچھ حال لطیف آبا د کا ہے جہاں لوکل بسیں نہ ہو نے کے برابر ہیں۔

 

اگر حیدرآبا د میں بسّوں کی تا ر یخ پر نظر ڈا لی جائے تو 1960 میں بسّوں کے سفرکاآغاز ہوااور اس وقت صرف گورنمٹ کی بس چلا کرتی تھیں جس کا کرایا 1 آنہ تھا پھر اسکے کچھ عرصے بعد ڈبل ٹیکر بسیں چلنے لگی جو کہ اس وقت کی مشہور بس تھی اور اس میں کافی تعداد میں مسافر سفر کرتے تھے اواس بس کا کرا یہ صرف 2آنے تھا پھر 1971 کے بعد ڈبل ٹیکر بسیں چلنا بند ہو گئیں اسکے بعد A1 بسیں چلنا شروع ہوئی جو کہ آج تک چل رہی ہیں۔
اب لطیف آبا د کی بسّو ں کا رخ کیا جائے تویہاں بسّوں کی تعداد نہ ہونے کے برابرہے ۔ 1998 میں لطیف آباد میں بسّوں کی تعداد 108تھی اور۱ب صرف 35ہے جن میں سے صرف 12 لوکل چل رہی ہیں باقی چند بند ہیں اورکچھ یونیورسٹی کے لیے چل رہی ہیں ۔ ۱سکی وجہ جاننے کے لیے جب کچھ بس ڈرایور سے اس سلسلے میں بات کی گئی تو بہت ساری وجوہات سامنے آئی جیسا کہ سی این جی کی قللت ،کم کرایا، بسّوں میں کمی ،لیکن اہم وجہ جس پر ایک بس کے مالک اقبال علی نے بہت زور دیا اور وہ وجہ تھی سی این جی رکشہ اسکا کہنا تھا کہ ان رکشوں کی وجہ سے بسّوں کے مسافروں پر بہت اثر پڑا ہے کیونکہ یہ سی این جی رکشے بسّوں کے مسافرو ں کو اپنی جانب کھنچ رہے ہیں ویسے تو رکشے ذاتی سواری کے طور پر استعمال ہو تے ہیں مگر سی این جی رکشوں میں بڑھتے ہوئے اضافے کی وجہ سے رکشوں کے مسافر کم ہو گئے ہیں اسی وجہ سے رکشوں کے مالکوں نے رکشوں کو پبلک سواری بنا لیا ہے اور کرایا صرف10 سے 15روپے فی سواری ہے مگر اس سے لوکل بسّو ں پر بہت اثر پڑا ہے۔

 

لوکل بسّو ں کے ملکان کا مطلبہ ہے کے سب سی پہلے سی این جی رکشوں کو پبلک سواری کے طور پر چلانے کی پابندی لگائی جائے پھر لطیف آباد کی وہ لو کل بسیں جو یونیورسٹی کے لیئے چلتی ہیں انکا پرمٹ منسوخ کیا جائے کیوں کہ یہ بسیں دن میں یونیورسٹی کے لیئے چلتی ہیں اور رات میں لوکل مگر ان کے پاس پرمٹ صرف لوکل چلانے کا ہے اور یہ بھی لوکل بسّو ں میں کمی کی ایک وجہ ہے اگراس پربر وقت قابو نہ پایا گیا تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ لطیف آباد میں لوکل بسیں ختم ہوجائیں گی۔ 
August 2015 

This practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi

No comments:

Post a Comment