Tuesday, September 15, 2015

سندھ مین رہ کر انگریزی بولنے کا رجحان Referred back


Referred back
U should also write what are losses of not learning Sindhi and also benefit of learning Sindhi. Make it in points: Loss No:1... 2:... ec. First para about imporatnce of english be made small. 
 Please send file with proper file name, Avoid sending two pieces in one file. if two pieces are in same file it should be mentioned in the email msg.

آرٹیکل:- کائنا ت مبشر MC-2K13

رول نمبر 53
سندھ مین رہ کر انگریزی بولنے کا رجحان
انگریزی (English)انگلستان سمیت دنیا بھر میں بولی جانے والی ایک وسیع زبان ہے جومتعدد ممالک میں بنیادی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے ۔دنیاکے کئی ممالک میں سب سے ذیادہ بڑھتی اور سمجھی جانے والی زبان ہے جبکہ یہ دنیا بھر میں رابطہ کی زبان سمجھی جاتی ہے۔ انگریزی زبان کو اکثرلوگ تا نو ی یارابطے کی زبان کے طورپر بولتے ہیں جس کی بدولت دنیا بھر میں انگریزی بولنے والے افراد کی تعداد ایک ارب سے زیارہ ہوگئی ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً35کروڑ40لاکھ افراد کی مادری زبان انگریزی ہے جبکہ نانوی زبان کی حیثیت سے انگریزی بولنے والوں کی تعداد 15کروڑسے ڈیڑھ ارب کے درمیان ہے۔انگریزی مواصلات ،تعلیم ،کاروبار،ہوابازی، تقریح،سفارت کاری اور انڑنیٹ میں سب سے برتربین الااقوامین زبان ہے۔ انگریزی بنیادی طورپرمغربی حیرمینک زبان ہے جوقدیم انگلش سے بنی ہے ۔ انگریزی بولنے کارجحان وقت کے ساتھ ساتھ انتابڑھ گیاہے کہ لوگ اب اپنی قومی زبان کوبھول کر انگریزی کو قائم کر بیٹھے ہیں۔ 

پاکستان کے چار صوبے ہیں۔ سندھ ، پنجاب،خیبرپختواہ، بلوجستان ہرصوبے میں سندھی کے بجائے انگریزی بولنے کو ذیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ہالانکہ سندھ ہماری ثقافت ہے۔ہمیں سندھ میں رہ کر اپنی صوبہ کی زبان کی پیووی کرنی چاہیے مگرہم سندھی نہیں بولتے بلکہ انگریزی زبان کو اہمیت دیتے ہیں۔ان سب کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں بچوں کو جس طرح اردو کی "خوشخطی" سکھرائی جاتی ہے اس طرح سندھی زبان کی "اکر"نہیں سکھائی جاتی کچھ تعلیمی اداروں میں دورہ کرنے کے بعد ہمیں یہ معلوم ہوا کہ کچھ اسکولوں میں سندھی ٹیچراسیے منعقد کیئے گئے ہیں جن کو خود سندھی بولنیاور سمجھنی نہیں آتی وہ بچوں کی کتابوں پر سندھی کے اردومعٰنی ترجمعہ کی طرح لکھ دیتے ہیں ۔ان وجوہات کی بناپر بچوں کو سندھی بولنی اور سمجھنی نہیں آتی بجائے سندھی کو اہمیت دینے کہ تعلیمی اداروں میں انگریزی بولی جاتی ہے اور سکھائی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ صوبہ سندھ میں رہنے والے لوگوں کو سندھی بولنی اور سمجھنی نہیں آتی جو زبان ہمیں ہمارے صوبے کی پہچان کرواتیہے وہی زبان ہم بولنے اور سیکھنے سے پرہیز کرتے ہیں اسی وجہ سے ہم اپنی ثقافت سے دورہوتے جارہے ہیں۔سندھی زبان کو سیکھنے کی تلقین بھی کرنے ہیں یہ بھی ایک طرح کا تفاد ہے جس میں کچھ ہماری اپنی غلطیاں ہیں، کچھ معاشرے کی غلطیاں ہیں اور کچھ تعلیمی اداروں کی غلطیاں ہیں اگر ہم اپنی ثقافت ک بھرپور طریقے سے اپنا نے کا ارادہ کر لیں گیں تو کبھی بھی صوبہ سندھ میں رہنے والے لوگ اپنی صوبائی زبان کو بولنا نہیں بھولیں گے۔

No comments:

Post a Comment